No Download Link
Rate this Novel
Episode 7
ڈاکٹر میرا بیٹا کیسا ہے؟ سکندر نے بےتابی سے پوچھا۔
وہ اب ٹھیک ہے لیکن ابھی بےہوش ہے تھوڑی دیر تک اُن کو ہوش آجائے گا۔ڈاکٹر نے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
گاؤں کے لوگوں نے ابتسام کو خون میں لت پت زمین پر ہڑا دیکھا تو اسے ہسپتال لے کر آئے تھے لیکن سکندر کو سمجھ نہیں آرہی تھی۔کہ اس کے بیٹے کا یہ حال کون کر سکتا ہے کس میں اتنی ہمت آگئی جو سکندر کے بیٹے کو ہاتھ لگا سکے۔
بھائی آپ پریشان مت ہوں ابتسام ٹھیک ہو جائے گا اور ہمیں وہی بتا سکتا ہے کس نے اس کی یہ حالت کی شاہ نواز نے سنجیدگی سے کہا۔
جس نے بھی میرے بیٹے کی یہ حالت کی ہے اُسے میں جان سے مار ڈالوں گا سکندر نے ہاتھوں کو آپس میں پیوست کرتے بھاری لہجے میں کہا۔
دوسری جانب گھر میں سب لوگ پریشان تھے سوائے ایک بندی کے اور وہ تھی سیرت جس نے ابتسام کے ہسپتال میں ہونے کا سن کر بھی کوئی خاص ردعمل ظاہر نہیں کیا تھا۔
سیرت تیرے بابا سائیں مجھے یہ موبائل دے کر گئے ہیں فون کر کے اپنے بھائی کی خیریت معلوم کر نیلم نے چھوٹا سا موبائل سیرت کے آگے کرتے کہا۔
نگین بھی وہی موجود تھی۔
سیرت نے پہلے اپنی ماں کے چہرے کو دیکھا پھر موبائل کو پکڑا اور اسے زور سے زمین پر دے مارا۔
نیلم نے حیرانگی سے اپنے منہ پر ہاتھ رکھے ٹوٹے ہوئے موبائل کو دیکھا تھا۔
آج کس طرح آپ کے شوہر یہ موبائل آپ کو پکڑا کر چلے گئے؟ اور فکر مت کریں برے لوگ دوسروں کی جانیں عذاب بنانے کے بعد ہی مرتے ہیں اور آپ کا بیٹا بہت ڈھیٹ ہے اتنی جلدی نہیں مرے گا۔سیرت نے بدتمیزی سے اپنی ماں کو جواب دیتے کہا۔
نیلم کی آنکھوں میں آنسو جمع ہو گئے تھے۔
امی وہ ٹھیک ہو گا اگر اُسے کچھ ہوتا تو بابا سائیں کے آدمیوں نے آکر بتا دینا تھا۔
سیرت نے اس بار تھوڑا نرم لہجے میں کہا۔ اس کا مقصد اپنی ماں کو تکلیف پہنچانا تو بلکل بھی نہیں تھا۔سیرت وہاں سے چلی گئی۔ جب ملازمہ نے نیلم اور نگین کو حسن اور طالش کے آنے کی اطلاع دی۔
نگین جلدی سے وہاں سے باہر گئی تھی تاکہ طالش سے شیریں کی خیریت معلوم کر سکے۔
السلام علیکم!
آنٹی کیسی ہیں آپ؟ طالش نے کھڑے ہوتے احتراماً نگین اور نیلم کو دیکھتے پوچھا۔حسن نے بھی سلام کیا تھا۔
میں ٹھیک ہوں بیٹا شیریں کیسی ہے؟ نگین نے جلدی سے پوچھا۔
اس کے لہجے کی بے تانی کو محسوس کرتے طالش مسکرا پڑا تھا اسنے اپنے موبائل پر ایک نمبر ڈائل اور موبائل کو نگین کی طرف بڑھایا آپ خود شیریں سے بات کرکے معلوم کر لیں طالش نے مسکرا کر کہا۔
نگین نے ایک نظر نیلم کو دیکھا جس نے موبائل لینے کا اشارہ کیا تھا۔
موبائل لیتے ہی نگین نے کان سے لگایا جس میں سے شیریں کی آواز ابھری تو نگین اپنی بیٹی سے باتیں کرنے لگی۔
آنٹی آپ کے شوہر کہاں ہیں؟ ہم اُن سے بات کرنے آئے ہیں حسن نے دھیمے لہجے میں پوچھا۔
وہ بیٹا سب تو ہسپتال میں ہیں پتہ نہیں کس نے میرے بیٹے کو جان سے مارنے کی کوشش کی پتہ نہیں وہ کیسا ہو گا۔نیلم نے پریشانی سے کہا۔
تو آپ کال کرکے پتہ کر لیں حسن نے سنجیدگی سے کہا۔
بیٹا سائیں مجھے ایک موبائل تو دے کر گئے تھے لیکن سیرت نے اُسے توڑ دیا۔اب وہ خود جب تک نہیں آتے اُس وقت تک معلوم نہیں ہو سکتا کہ میرا بیٹا کیسا ہے؟
میں بھی باتوں میں لگ گئی میں تم دونوں کے لیے کچھ کھانے کو لاتی ہوں نیلم نے وہاں سے اٹھتے ہوئے کہا۔
نگین تو کچھ فاصلے پر کھڑی شیریں سے بات کر رہی تھی۔
یہ کون ہے جس نے سکندر کے بیٹے کی ایسی حالت کی کہ وہ ہسپتال پہنچ گیا؟ طالش نے اپنے لہجے میں حیرانگی لیے حسن کو دیکھتے پوچھا۔
جو ہلکا سا مسکرا پڑا تھا جو بھی ہے لیکن بندے میں دم تو ہے اور ابتسام کے ساتھ جو بھی ہوا ٹھیک ہوا ہے یہ اس سے زیادہ کا حقدار ہے۔
لیکن ابھی ہم نکلتے ہیں گھر کے مردوں سے بات کرنے میں مزا ہی الگ ہے یہاں کی عورتیں تو بہت معصوم ہیں حسن نے وہاں سے کھڑے ہوتے کہا اتنے میں نگین بھی وہاں آگئی اور اس نے موبائل طالش کی طرف بڑھایا۔
تمھارا بہت بہت شکریہ بیٹا نگین نے مسکراتے ہوئے کہا ان کے چہرے پر اب اطمینان تھا جو طالش کو اچھا لگا تھا۔
ارے تم لوگ جا رہے ہو؟ نیلم نے وہاں آتے پوچھا۔
جی آنٹی ہمیں آپ کے شوہر سے بات کرنی تھی لیکن ابھی وہ گھر پر نہیں ہے تو ہم پھر کبھی آجائیں گئے۔حسن نے اپنی گلاسز پکڑتے کہا۔
بچوں یہ تمھارا بھی گھر ہے رک جاؤ تھوڑی دیر نیلم نے کہا تو حسن نے گہرا سانس لیا تھا۔
آنٹی آپ غلط بول رہی ہیں یہ گھر کبھی ہمارا نہیں تھا۔حسن نے کہا تو نیلم نے آگے بڑھ کر دونوں کے سروں پر پیار دیا تھا۔کیونکہ وہ اس بات کو مزید بڑھانا نہیں چاہتی تھی۔
دونوں وہاں سے نکلے تھے جب حسن کی نظر سیرت پر پڑی۔
تم گاڑی میں جا کر بیٹھو میں آتا ہوں حسن نے سیرت کو دیکھتے کہا۔
طالش اثبات میں سر ہلائے وہاں سے چلا گیا تھا۔
حسن چلتا ہوا سیرت کے پاس جاکر کھڑا ہو گیا۔جو نجانے کس خیال میں گم کھڑی تھی۔
آپ پر گلاسز سوٹ کر رہی ہیں حسن نے گھمبیر لہجے میں کہا۔
سیرت اپنے قریب کسی اجنبی کی آواز سنتے ایک دم اچھل پڑی تھی۔
آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟ سیرت نے اپنی حیرت پر قابو پاتے پوچھا۔
آپ کے بابا سائیں سے ایک ضروری بات کرنی تھی لیکن وہ یہاں پر موجود نہیں ہیں تو سوچا آپ سے ہی کر لی جائے حسن کہتے ہی سیرت کے کان کے پاس جھکا جو ڈر کے مارے پیچھے ہونے لگی تھی لیکن حسن نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈالتے اس کے ارادے کو ناکام بنا دیا۔
تمہیں بہت جلد اپنی زندگی میں شامل کرنے والا ہوں میری ہونے کے لیے تیار ہو جاؤ
حسن نے سیرت کی گلاسز کے پیچھے سہمی ہوئی آنکھوں کو دیکھتے پرسرار لہجے میں کہا۔
سیرت کے ماتھے پر پسینہ آگیا تھا۔
حسن نے اس کا چہرہ دیکھا تو ہنس پڑا
جا رہا ہوں پھر آؤں گا اپنا خیال رکھنا۔حسن نے مسکراتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
یہ آج کل میرے ساتھ ہو کیا رہا ہے؟ حسن کے جانے کے کچھ دیر بعد سیرت نے ہوش میں آتے اپنے ماتھے کے پسنے کو صاف کرتے کہا۔
سب سے پہلے اس نے ارد گرد دیکھا تھا کہ کہی کوئی دیکھ تو نہیں رہا لیکن وہاں پر کوئی نہیں تھا۔
جو بھی آتا ہے اپنا ہی حق جماتا ہے اب یہ میاں پتہ نہیں کیا کرنے والے ہیں سیرت نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلی گئی۔وہ نہیں جانتی تھی کہ اس کی زندگی میں کیا عذاب آنے والا ہے۔
💜 💜💜 💜 💜
ابتسام کے آدمی زبیر کے ہاتھ پیر باندھنے کے بعد اسے پانی میں پھینک کر چلے گئے تھے۔
کچھ لوگوں نے زبیر کو دیکھا تو اسے باہر نکلا جس کی نبض ہلکی ہلکی چل رہی تھی۔
اسے میری گاڑی میں لیٹا دو میں اسے ہسپتال لے جاتا ہوں ان میں سے ایک آدمی نے کہا جو کپڑوں سے اچھے گھر کا لگ رہا تھا۔
زبیر کو تین دن بعد ہوش آیا تو اس نے خود کو ہسپتال کے بستر پر پایا۔
مجھے یہاں کون لایا تھا؟ زبیر نے نرس سے پوچھا تو اُس نے بتایا کہ ایک آدمی اسے یہاں لایا تھا۔اور روزانہ وہ اسے ملنے آتا تھا۔ابھی بھی اُس آدمی کے کچھ لوگ باہر کھڑے تھے۔
اچانک اس کی نظروں کے سامنے شبنم کا چہرہ لہرایا تھا۔
آج پہلی بار زبیر کی آنکھوں میں آنسو آئے تھے۔وہ جانتا تھا کہ اُس کے ساتھ کیا سلوک ہوا ہو گا۔
حیرت ہے تم مرد ہو کر رو رہے ہو؟ وہ آدمی جو ابھی کمرے میں داخل ہوا تھا زبیر کو دیکھتے اس نے سنجیدگی سے کہا۔
جب مرد کو تکلیف ہوتی ہے تو وہ بھی روتا ہے اور میں نے تو اپنا سب کچھ کھو دیا ہے ۔
زبیر نے بھاری لہجے میں اُس آدمی کو دیکھتے کہا۔
فلحال ابھی تم ٹھیک ہو جاؤ پھر اس بارے میں بعد میں بات کریں گئے اُس آدمی نے کہا اور وہاں سے جانے لگا۔
آپ کون ہیں اور آپ نے میری جان کیوں بچائی؟ زبیر کے سوال پر اُس آدمی کے قدم وہی تک گئے تھے۔
بہت جلد بتا دوں گا۔اُس آدمی نے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
زبیر پھر سے آنکھیں بند کیے شبنم کے بارے میں سوچنے لگا تھا۔
💜 💜 💜 💜
وہ آدمی کراچی کے شہر کا جانا مانا بزنس مین تھا جو زبیر کا چچا بھی تھا۔
جو چھوٹے ہوتے ہی کچھ بننے کی چاہ میں شہر بھاگ آیا تھا اور یہاں آکر غلط لوگوں کے ہاتھ لگ گیا۔
زبیر کے باپ نے کبھی اپنے بھائی کے بارے میں اپنے بیٹے کو نہیں بتایا تھا بس یہی کہا تھا کہ ایک حادثے میں اُس کی موت ہو گئی۔
یہ دو ہی بھائی تھے۔زبیر کا باپ اکثر اپنے چھوٹے بھائی کو ملتا تھا۔
اور مزمل جو زبیر کے باپ کا چھوٹا بھائی تھا اس نے کافی بار اپنے بھائی کو کہا کہ زبیر کو لے کر کراچی آجائے لیکن زبیر کے باپ نے ایک نا سنی لیکن مزمل زبیر پر نظر رکھتا تھا اور جب اسے پتہ چلا کہ زبیر کو حویلی والوں نے جان سے مارنے کی کوشش کی تو عین وقت پر وہ وہاں پہنچا اور زبیر کو پانی سے باہر نکالا۔
یہ سب باتیں وہ زبیر کو بتا رہا تھا۔جسے یہ جان کر بلکل بھی حیرت نہیں ہوئی تھی کہ سامنے بیٹھا انسان اس کا چچا ہے۔کیونکہ اب اسے لگتا تھا کہ اس دنیا میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔
اگر تم چاہو تو میں اُن لوگوں سے بدلہ لے سکتا ہوں مزمل نے زبیر کو دیکھتے کہا۔
نہیں چچا بدل میں خود لوں گا لیکن کچھ وقت بعد زبیر نے کچھ دیر سوچنے کے بعد کہا۔
ٹھیک ہے ابھی تم آرام کرو تمھارا چچا تمھارے ساتھ ہے مزمل نے زبیر کے کندھے کو تھپتھپاتے ہوئے کہا اور وہاں سے اٹھ کر چلا گیا۔
زبیر نے آنکھیں موند لی تھی اور آگے کا سوچنے لگا۔
💜 💜 💜 💜
تم لوگوں نے حویلی پر نظر رکھنی ہے جب وہ لڑکی باہر نکلے مجھے بتانا ہے بہت ہو گیا۔چودھری کے بیٹے نے غصے سے کہا۔
صاحب حویلی کی عورتیں بہت کم حویلی سے باہر آتی ہیں ان میں سے ایک آدمی نے کہا۔
اگر تم لوگوں کو پورا سال بھی حویلی کے باہر کھڑے ہونا پڑے تو کھڑے رہو سمجھے وہ لوگ کبھی نا کبھی تو باہر آئے گی اور گاؤں کی شادی میں حویلی کی عورتیں ضرور آتی ہیں۔
میں نے ایک گھر کو سجے سنورے دیکھا تھا۔پتہ لگاؤں کب ہے شادی حویلی کی عورتیں بھی آئے گی ہمارا کام آسان ہو جائے گا۔
چودھری کے بیٹے نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
اسکے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ آگئی تھی اب پتہ نہیں وہ اپنے ارادے میں کامیاب ہونے والا تھا یا نہیں
لیکن ان سب میں اگر کوئی بری طرح پھنسنے والی تھی تو وہ سیرت تھی۔
💜 💜 💜 💜 💜
کیا کر رہی ہو؟ گرنے کا ارادہ ہے کیا؟ اور حویلی والے سمجھے گئے کہ میں نے اُن کی بیٹی پر ظلم کیا۔
طالش جو ابھی واپس آیا تھا اس نے شیریں کو سیڑھیوں سے نیچے جھکے ہوئے دیکھا تو اس کے پاس آتے پوچھا۔
جو جلدی سے سیدھی ہوئی تھی وہ میری رنگ نیچے گر گئی میں وہی دیکھ رہی تھی۔شیریں نے طالش کو دیکھتے کہا جو خاموشی سے شیریں کا ہاتھ پکڑے نیچے لے گیا اور وہاں زمین پر گری رنگ اٹھائی۔
اگر رنگ گر گئی تھی تو نیچے آکر اٹھا لیتی جس طرح تم دیکھ رہی تھی رنگ نے خود ڈر کر تو تمھارے پاس نہیں آجانا تھا۔طالش نے شیریں کا سفید ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے کہا میٹھا سا طنز کرتے کہا جو ایک دم گھبرا سی گئی تھی۔
طالش نے شیریں کے ہاتھ میں رنگ پہنائی
یہ کس نے دی تھی؟ طالش نے شیریں کی رنگ پر انگوٹھا پھیرتے گھمبیر لہجے میں پوچھا۔
وہ مجھے ابتسام بھائی نے دی تھی انہوں نے سختی سے منع کیا تھا کہ اسے نہیں اتارنا
شیریں نے معصومیت سے کہا لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ انجانے میں ہی اس نے طالش کے غصے کی ہوا دے دی ہے۔
طالش نے اس رنگ کی طرف دیکھا اور اسے اتار کر کھڑکی سے باہر پھنک دیا۔
یہ کیا کیا آپ نے؟ شیریں نے اپنی حیرت پر قابو پاتے پوچھا۔
تمھارا نکاح کس سے ہوا تھا؟ طالش نے شیریں کو بازو سے پکڑ کر خود کے قریب کرتے دانت پیستے پوچھا۔
آپ سے شیریں نے اپنا حلق تر کرتے کہا۔کیونکہ طالش کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر اسے اتنا تو پتہ چل گیا تھا کہ اس نے ضرور کچھ غلط بول دیا ہے۔
پھر تم نے اُس شخص کی دی ہوئی رنگ ابھی تک کیوں پہنی ہے طالش نے تپے ہوئے لہجے میں پوچھا۔
وہ انہوں نے منع کیا تھا۔کہ اس سے پہلے شیریں کچھ کہتی طالش نے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا تھا۔
آج ہم شاپنگ کے لیے جا رہے ہیں تم آج سے وہی چیزیں پہنو گی جو میں لے کر دو میں گا۔
طالش نے شیریں کے ہونٹوں پر نظریں گاڑھتے دھیمے لہجے میں کہا۔
شیریں ایک دم کپکپا سی گئی تھی۔
چلو میرے ساتھ طالش نے شیریں کا ہاتھ پکڑتے کہا اور اسے وہاں سے لے گیا۔
وہ آج کافی تھکا ہوا تھا اور آرام کرنا چاہتا تھا۔لیکن اب اس کے لیے اپنی بیوی کو شاپنگ کروانا زیادہ ضروری تھا۔
💜 💜 💜 💜
سر میڈم کی کال آئی تھی۔وہ آپ سے بات کرنا چاہتی ہیں آپ کا نمبر بند جا رہا تھا۔
ملازم نے نائل کو دیکھتے کہا۔
جو اپنے کمرے میں اندھیرا کیے بیٹھا ہوا تھا۔
وہ ٹھیک تو ہے؟ کوئی مسئلہ تو نہیں؟ نائل نے پوچھا لیکن نظریں ابھی بھی سامنے دیوار پر ٹکی ہوئی تھیں۔
جی سر سب ٹھیک ہے۔بس وہ آپ سے بات کرنا چاہتی تھیں ملازم نے کہا اور نظریں جھکا لیں۔
ٹھیک ہے تم جاؤ اور میرے لیے کافی لے کر آؤ نائل نے کہا تو ملازم اثبات میں سر ہلاتے وہاں سے چلا گیا تھا۔
نائل نے شہریار کا نمبر ڈائل کیا اور فون کان سے لگایا۔
پری کی کال آئی تھی معلوم کرو وہ ٹھیک ہے؟ نائل نے سنجیدگی سے کہا۔
وہ ٹھیک ہے لیکن اُس نے ضد پکڑی ہوئی ہے کہ پاکستان واپس آنا چاہتی ہے۔
شہریار نے اکتائے ہوئے لہجے میں کہا۔
میری شادی کے بعد اُسے یہاں لے آنا نائل نے مسکراتے ہوئے کہا۔
اور تمہیں کیا لگتا ہے وہ تمھارا شادی کے پیچھے چھپا مقصد جان کر تمہیں پھولوں کا ہار نہیں پہنائے گی۔شہریار نے دانت پیستے کہا۔
نائل کی آنکھوں میں چمک آگئی تھی۔
بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی اُسے کہو کچھ دیر انتظار کر لے پھر وہ پاکستان آسکتی ہے۔نائل بے کہتے ہی فون بند کر دیا اور آنکھیں بند کیے سیرت لے بارے میں سوچنے لگا۔
💜 💜 💜 💜
ابتسام تمھاری یہ حالت کس نے کی؟ ابتسام کو جب ہوش آیا تو سکندر نے بےتابی سے اپنے بیٹے کو دیکھتے پوچھا۔جو سفید پٹیوں میں پڑی طرح جکڑے لیٹا ہوا تھا۔
بابا سائیں آپ کو زبیر تو یاد ہی ہو گا وہ کمینہ زندہ ہے ابتسام نے غصے سے کہا۔اس کا چہرہ بھی سوجھا ہوا تھا۔
کیا اُس نے تمھاری یہ حالت کی ہے؟ شاہ نواز نے اپنے لہجے میں نے یقینی لیے پوچھا۔
جی وہ واپس آیا ہے ہم سب سے بدلہ لینا چاہتا ہے ابتسام نے کہا تو شاہ نواز کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے تھے۔
اُس سالے کی اتنی ہمت اُسے تو ہم دیکھ لیں گئے لیکن پہلے تم ٹھیک ہو جاؤ اپنے ہاتھوں سے اُس کی جان لینا شاہ نواز نے غصے سے کہا۔
تو ابتسام خاموش ہو گیا تھا اسے ایک بات سمجھ نہیں آرہی تھی کہ ایسا بھی کون سا خزانہ زبیر کے ہاتھ لگ گیا جو وہ اتنا امیر ہو گیا تھا۔
