Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

سیرت کی آنکھ کھلی تو اس نے اپنے سامنے بیٹھے نائل کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔سیرت اسے دیکھتے ہی جلدی سے اُٹھ کر بیٹھ گئی تھی۔
ڈر اس کے چہرے پر عیاں تھا۔نائل ابھی بھی اسے آرام سے بیٹھا دیکھ رہا تھا۔
ڈر کیوں رہی ہو؟ تمہیں اُن لوگوں سے بچا کر لے آیا ہوں تمہیں تو میرا شکرگزار ہونا چاہیے
نائل نے گھمبیر لہجے میں سیرت کو دیکھتے کہا جس کے چہرے پر پہلے حیرت پھر غصے کے تاثرات ابھرے تھے۔
آج اس مقام پر مجھے پہنچانے والے بھی آپ ہی ہیں اور آپ کہہ رہے ہیں میں آپ کا شکریہ ادا کروں؟ میرے گھر والوں کے سامنے آپ نے مجھے دو کوڑی کا کر کے رکھ دیا وہ کیا سوچ رہے ہوں گئے کہ میں کتنی بےشرم لڑکی ہوں جو کسی لڑکے کے ساتھ بھاگ گئی اور اُس کے ساتھ راتیں گزار کر واپس آگئی؟ میری ماں کی نظریں شرمندگی سے جھک گئی تھیں صرف آپ کی وجہ سے سیرت نے غصے سے چلاتے ہوئے کہا۔
اور وہاں سے اُٹھ گئی ابھی بھی اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا آرہا تھا۔
نائل نے سیرت کی ساری بات آرام سے سنی تھی اور اُٹھ کر کھڑا ہو گیا۔
کہاں جا رہی ہو؟ نائل نے سیرت کو دروازے کی طرف جاتے دیکھا تو اسے بازو سے پکڑتے روک کر پوچھا۔
کہی بھی چلی جاؤں گی لیکن یہاں نہیں رہوں گی آپ جیسے انسان کے ساتھ تو بلکل بھی نہیں سیرت نے نائل کا ہاتھ جھٹکتے کہا۔
حویلی جاؤ گی؟
نائل نے سینے پر ہاتھ باندھتے پوچھا۔
جہنم میں بھی چلی جاؤں گی لیکن یہاں آپ کے گھر نہیں رہوں گی۔
سیرت نے اپنی گال پر بہتے آنسوؤں کو صاف کرتے کہا۔
میری اجازت کے بغیر تم یہاں سے باہر قدم نہیں نکال سکتی اس لیے کوشش کرنا بیکار ہے باقی تمھارا اپنا گھر ہے جہاں جانا چاہو جا سکتی ہو میں جانتا ہوں میں نے تمھارے ساتھ غلط کیا اور نا میں تم سے معافی مانگو گا بس یہی کہوں گا اگر یہاں رہو گی تو محفوظ رہو گی ورنہ تمھارا باپ بھائی تمہیں مار ڈالے گا۔
اور باہر ڈوپٹے کے بغیر مت آنا میں یہاں اکیلا نہیں ہوتا میرے دو عدد بھائی بھی یہی پر ہوتے ہیں نائل نے ڈوپٹے کے بغیر کھڑی سیرت کو دیکھتے کہا جس کا دھیان اب اپنی طرف گیا تھا۔نائل نے پھر ایک نظر بھی اس پر نہیں ڈالی اور وہاں سے چلا گیا۔
پیچھے سیرت نے جلدی سے اپنا ڈوپٹہ لیا تھا۔
💜 💜 💜 💜
ہاں پری سب خیریت؟ شہریار نے موبائل فون ہان سے لگاتے پوچھا۔
مرحا کو ہوش آگیا ہے پری نے کہا تو شہریار ایک کے قدم وہی ٹھہر گئے تھے۔
کیا کہا تم نے؟ تم سچ بول رہی ہو؟ شہریار نے بے یقینی سے پوچھا،ل۔
ہاں بھائی میں آپ سے ایسا مزاح کیوں کروں گی؟
پری نے کہا تو شہریار کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی میں جلدی آنے کی کوشش کرتا ہوں تم مرحا کا خیال رکھنا۔شہریار نے کہتے ہی فون بند کر دیا۔
کیا ہوا؟ کس کا فون تھا؟ اتنے خوش کیوں ہو رہے ہو؟ نائل نے شہریار کو دیکھتے ہی اتنے سوال پوچھ ڈالے کیونکہ یہ انسان بہت کم مسکراتا تھا۔اور آج مسکرا رہا تھا تو کوئی خاص ہی وجہ ہو گی۔
مرحا کو ہوش آگیا ہے شہریار نے خوشی سے نائل کے گلے لگتے ہوئے کہا۔
تم سچ کہہ رہے ہو؟ نائل نے بے یقینی سے پوچھا۔
ہاں یار پری کی کال آئی تھی وہ کہہ رہی تھی کہ مرحا کو ہوش آگیا ہے۔اور میں بس نکل رہا ہوں شہریار نے خوشی سے کہا۔
میں بھی تمھارے ساتھ چلتا ہوں طالش کو یہی بلا لیتا ہوں وہ شیریں کے ساتھ یہی آجائے گا۔
نائل نے کہتے ہی اپنا موبائل نکالا اور طالش کو کال کرنے لگا وہ بہت خوش تھا کہ اس کی بہن ہو ہوش آگیا ہے۔
💜 💜 💜 💜
تم نے سیرت کی بھاگنے میں مدد کی ہے؟ نا جواب دو؟ سکندر نے نیلم کو بالوں سے جھگڑتے دھاڑتے ہوئے پوچھا۔جو تکلیف سے کراہ رہی تھی۔
سائیں اُس کمرے کی چابی آپ کے پاس تھی تو میں یا کوئی اور اُس کمرے میں کیسے جا سکتا ہے؟ نیلم نے بےبسی سے کہا۔
تو کمرے سے وہ کیسے غائب ہو گئی؟
سکندر نے نیلم کو دھکا دیتے کہا جو زمین پر جا گری تھی۔
بھائی صاحب مجھے لگتا ہے کہ کوئی نا کوئی ایسا راستہ ضرور ہے کمرے میں جہاں سے وہ سیرت کو لے گیا ورنہ کمرے سے نکلنا مشکل ہے شاہ نواز نے سکندر کو دیکھتے کہا۔
مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے لیکن پہلے ہمیں گاؤں والوں کو سنبھالنا ہو گا اُس لڑکے کی وجہ سے گاؤں والے ہمیں غلط سمجھ رہے ہیں میں چھوڑوں گا نہیں اُس کمینے کو اور ایک رستہ ہے جس سے سیرت کو یہاں بلایا جا سکتا ہے۔
سکندر نے اپنے دماغ میں آتے خیال کو سوچتے مسکرا کر کہا اسکی نظریں زمین پر بیٹھی نیلم ہر پڑی تھی۔
اگر سیرت کو یہ خبر ملے کہ اُس کی ماں مر گئے ہے تو وہ بھاگتی ہوئی یہاں آئے گی اور ایک بار وہ اس حویلی میں آجائے اُس کا اپنے ہاتھوں سے گلہ دبا دوں گا۔سکندر نے غصے سے کہا۔
نیلم کی آنکھیں خوف سے پھیل گئی تھی وہ جانتی تھی سامنے کھڑے جلاد جو کہہ رہے ہیں وہ کر گزرے گئے۔
بھائی صاحب آپ کا خیال اچھا ہے اور بھابھی کی جھوٹی موت سے کام آسان ہو سکتا ہے۔شاہ نواز نے ہامی بڑھتے کہا۔
تمہیں کس نے کہا کہ میں جھوٹی خبر پھیلاؤں گا؟ سکندر نے کہا تو شاہ نواز نے حیرانگی سے اسے دیکھا تھا۔جو ناجانے کیا کرنے والا تھا۔
💜 💜 💜 💜
میں پوری کوشش کروں گا کہ مرحا اور پری کو یہی لے کر جلدی آجاؤ لیکن پیچھے میری بیوی کا بھی خیال رکھنا ویسے بھی شیریں یہاں آگئی ہے سیرت کا دل لگ جائے گا لیکن ہمارا نکاح کیسے ہوا یہ تم اپنی بیوی کو خود ہی سمجھا دینا۔
نائل نے طالش کو دیکھتے کہا جو خاموشی سے وہاں کھڑا اُسے دیکھ رہا تھا۔
پھر مجھ سے کسی قسم کے جھوٹ کی امید نا رکھنا کہ میں شیریں کو جھوٹ بولوں گا میں یہی کہوں گا کہ تم نے اُس سے زبردستی نکاح کیا ہے۔طالش نے کندھے اچکاتے کہا۔
تم سے جھوٹ بولنے کو کوئی کہہ بھی نہیں رہا وہی کہنا اُسے جو سچ ہے نائل نے اپنی گلاسز لگاتے سنجیدگی سے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
عجیب انسان ہے یہ طالش نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو پیچھے شیریں کھڑی تھی جو ابھی آئی تھی۔
اب آپ مجھے بتانا پسند کریں گئے کہ یہ کس کا گھر ہے اور ہم یہاں کیوں آئے ہیں؟ شیریں نے سنجیدگی سے پوچھا کیونکہ طالش نے اسے ابھی سیرت کے بارے میں نہیں بتایا تھا۔
وہ اوپر والے کمرے میں تمھاری بہن ہے جاؤ اُس سے مل لو طالش نے اوپر کمرے کی طرف اشارہ کرتے کہا۔
سیرت یہاں ہر ہے؟ شیریں نے حیرانگی سے پوچھا۔
نہیں یہاں نہیں ہے اوپر کمرے میں ہے طالش نے کہا تو شیریں نے اپنی نیلی آنکھوں سے اسے گھور کر دیکھا تھا۔
مجھے ایسے مت گھورا کرو مجھے یہاں پر کچھ کچھ ہوتا ہے طالش نے شیریں کے قریب آتے اپنے دل پر ہاتھ رکھتے گھمبیر لہجے میں کہا۔
آپ میں کیا اچانک جن آتے ہیں؟ شیریں نے گھبرائے ہوئے لہجے میں طالش سے دور ہوتے کہا۔
ہاں ایک حسین اور جمیل چڑیل کو دیکھ کر مجھ میں جن آجاتا ہے۔طالش نے کہا تو شیریں نے اسے ناسمجھی سے دیکھا تھا۔
میں نے تو سنا ہے چڑیلیں خوفناک ہوتی ہیں شیریں نے کہا تو طالش نے مسکراہٹ دبائی تھی۔
بلکل ٹھیک سنا ہے تم نے لیکن یہ تو دیکھنے والی آنکھ پر ہوتا ہے کہ اُسے چڑیل بھی خوبصورت لگتی ہے بےشک وہ بدصورت ہی کیوں نا ہو۔طالش نے مسکراہٹ دباتے کہا۔
اس کا مطلب آپ مجھے چڑیل کے ساتھ بدصورت بھی کہہ رہے ہیں؟ شیریں نے پوچھا تو طالش ہنس پڑا۔
بحرحال بدصورت تو نہیں کہا میں نے تمہیں ہاں چڑیل ضرور کہا ہے لیکن ساتھ خوبصورت بھی کہا مسز وہ آپ کو سنائی نہیں دیا۔
طالش نے تھوڑا جھک کر کہا تو شیریں کو اس کی بات پر بہت غصہ آیا تھا۔
آپ بھی کوئی آسمان سے اترے ہوئے شہزادے نہیں ہیں کبھی آپ نے اپنی شکل آئینے میں دیکھی ہے جنوں کے سردار لگتے ہیں شیریں نے پیر پٹختے طالش کو دیکھتے حساب برابر کرتے کہا اور وہاں سے چلی گئی۔پیچھے طالش حیران سا کھڑا تھا۔
💜 💜 💜 💜
میرے خیال سے تم مجھے نہیں پہچانتی پری نے مرحا کو دیکھتے کہا جو بیڈ سے ٹیک لگائے بیٹھی ہوئی تھی۔
شاید میں نے آپ کو دیکھا ہو لیکن ابھی مجھے یاد نہیں آرہا مرحا نے کہا تو پری ہنس پڑی کوئی بات نہیں
یہ بتاؤ تم ٹھیک ہو نا یا ڈاکٹر کو بلاؤں؟ میں نے شہریار بھائی کو فون کیا ہے وہ کل تک یا رات تک یہاں پہنچ جائیں گئے پری نے کہا تو شہریار کے نام پر پڑی ایک دم سنجیدہ سی ہوگئی تھی۔
نہیں میں ٹھیک ہوں ڈاکٹر کو بلانے کی ضرورت نہیں ہے۔
کیا میں تھوڑی دیر جے لیے اس کمرے سے باہر جا سکتی ہوں مرحا نے پری کو دیکھتے پوچھا،
ہاں کیوں نہیں چلو دونوں چلتے ہیں پری نے اٹھتے ہوئے کہا۔
تو مرحا پری کا ہاتھ پکڑے کھڑی ہوئی تھی۔اور پھر دونوں کمرے سے باہر چلی گئیں۔
💜 💜 💜 💜 💜
سیرت تم یہاں کیا کر رہی ہو؟ شیریں نے سیرت کو دیکھتے حیرانگی سے پوچھا جو یہاں پر کسی اپنے کو دیکھ کر پہلے تو شوکڈ ہوئی پھر شیریں کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
سیرت تم مجھے پریشان کر رہی ہو؟ کیا ہوا ہے؟ سب ٹھیک ہے نا؟
شیریں نے پریشانی سے پوچھا۔
نائل نے مجھ سے زبردستی نکاح کیا ہے سیرت نے ہچکی لیتے کہا اور خود گزری آب بیتی شیریں کو سنانے لگی۔شیریں منہ پر ہاتھ رکھے سیرت کی بات سن رہی تھی۔
سیرت اگر نائل بھائی نے تمہیں حویلی ہی چھوڑنا تھا تو پھر وہ تمہیں اُس کمرے سے چھپ کر لے کر کیوں آئے؟ شیریں نے اپنی حیرانگی پر قابو پاتے پوچھا۔
میں نہیں جانتی لیکن مجھے اُس انسان سے شدید نفرت ہے سیرت نے روتے ہوئے کہا اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔
تم نے کچھ کھایا؟ شیریں نے سیرت کے بال کان کے پیچھے کرتے پیار سے پوچھا۔جس نے نفی میں سر ہلا دیا تھا۔
میں تمھاری لیے کھانا لاتی ہوں پھر بات کرتے ہیں شیریں نے کہا اور کمرے سے باہر چلی گئی۔
طالش بیٹھا ٹی وی دیکھ رہا تھا۔
آپ کے بھائی نے میری بہن کے ساتھ زبردستی نکاح کیوں کیا ؟اور گھر والوں کے سامنے اُسے ذلیل بھی کیا کیوں؟ شیریں نے طالش کو دیکھتے دو ٹوک الفاظ میں پوچھا۔
مسز مجھے اس بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں ہے کیونکہ بھائی تو وہ میرا ہے لیکن کیا کرتا رہتا ہے یہ مجھے بھی معلوم نہیں ہے اس لیے وہ کچھ دنوں تک واپس آجائے گا پھر خود ہی اُس سے پوچھ لینا اور میرے لیے ایک کب کافی بنا دو میں کمرے میں ہوں طالش نے وہاں سے اٹھتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
سب کچھ معلوم ہوتا ہے پھر بھی مجھ سے جھوٹ بول رہے ہیں شیریں نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا اور کچن کی طرف چلی گئی۔
💜 💜 💜 💜 💜
بھائی مرحا نے نائل کو دیکھا تو اس کے گلے جا لگی دونوں باہر بیٹھی ہوئی تھیں ۔
نائل ابھی آیا تھا جب اسے سامنے مرحا نظر آئی شہریار ابھی باہر ہی تھا۔
مجھے یقین نہیں آرہا چھوٹی کہ تم میرے سامنے صحیح سلامت کھڑی ہو۔بہت تنگ کیا ہے تم نے مجھے نائل نے مرحا کو دیکھتے کہا جو ہلکا سا مسکرا پڑی تھی۔
اب اگر تم ہمیں چھوڑ کر کہی بھی گئی تو میں تم سے سخت والا ناراض ہو جاؤں گا۔نائل نے کہا تو مرحا ہنس پڑی۔
اب میرا کہی جانے کا ارادہ نہیں ہے۔
مرحا نے کہا اتنے میں شہریار بھی اندر آگیا تھا۔وہ شاید خود میں ہمت پیدا کر ریا تھا کہ مرحا کا سامنا کر سکے لیکن جب اس کی نظر مرحا پر پڑی تو دیکھتا ہی رہ گیا۔
اس نے کتنی دعائیں مانگی تھیں کہ مرحا ٹھیک ہو جائے اور اب وہ اس کے سامنے کھڑی تھی۔
السلام علیکم!!! پری نے وہاں آتے سلام کیا تو شہریار ہوش میں آیا۔
کسی ہو پری؟ سلام کا جواب دیتے نائل نے مسکرا کر پوچھا۔
میں ٹھیک ہوں آپ لوگ اندر آجائیں دروازے کے پاس کیوں کھڑے ہیں پری نے کہا تو نائل مرحا کو لیے اندر چلا گیا۔
آپ بھی اندر تشریف لے آئیں پری نے شہریار کو دیکھتے کہا تو وہ بھی اندر چلا گیا۔
اس کی نظریں مرحا کے چہرے پر ٹکی ہوئی تھی جو اب شہریار کی نظروں سے کنفیوز سی ہو رہی تھی۔
اُس کا بھائی پاس ہی بیٹھا ہے آپ کی آنکھیں باہر نکالنے میں ایک سکندر بھی نہیں لگائے گا۔
پری نے شہریار کی طرف تھوڑا جھک کر سرگوشی کرتے کہا۔
شہریار نے اسے گھور کر دیکھا تھا۔
تو کب واپس جانا ہے؟ نائل نے پری اور مرحا کو دیکھتے پوچھا۔
میں تو تیار ہوں اب مجھے یہاں نہیں رہنا۔اکیلی رہتے ہوئے میں تو تنگ آگئی ہوں۔
پری نے کہا تو مرحا ہنس پڑی۔
نائل تم دونوں کو اپنے ساتھ پاکستان لے جاؤ۔
شہریار نے کہا۔
تم نہیں آؤں گئے نائل نے پوچھا تو مرحا نے بھی شہریار کی طرف دیکھا تھا۔
میں تمہیں پہلے بھی بتا چکا ہوں نائل میں یہی رہوں گا۔
شہریار نے مرحا کو دیکھتے کہا۔
یہاں اکیلے کیا کرو گئے؟ نائل نے الٹا سوال کیا۔
اکیلا ہی تو رہنا چاہتا ہوں۔
خیر پری تم لوگ پیکنگ کر لو کل تم لوگوں نے جانا ہے شہریار نے وہاں سے اٹھتے ہوئے کہا۔
نائل نے مزید کچھ نہیں کہا تھا اور پھر خاموش ہو گیا۔
💜 💜 💜 💜
چاچو میں لندن جا رہا ہوں۔کچھ دنوں بعد واپس آجاؤں گا لیکن ابھی مجھے تھوڑا سکون چاہیے۔زبیر نے اپنے ماتھے کو دو انگلیوں سے دباتے مزمل کو کہا۔
ٹھیک ہے بیٹا جیسی تمھاری مرضی اور تم نے حویلی والوں کے بارے میں کیا سوچا ہے؟
مزمل نے پوچھا تو زبیر سیدھا ہو کر بیٹھا۔
لندن سے واپس آتے پی اُن لوگوں کو بھی ویسے ہی تڑپا تڑپا کر موت دوں گا جس طرح انہوں نے میرے پیار کو تکلیف دی۔
زبیر نے کرخت لہجے میں کہا۔
ٹھیک ہے اپنا خیال رکھنا مزمل نے وہاں سے اٹھتے ہوئے کہا۔
پیچھے زبیر نے گہرا سانس لیا تھا۔
کاش تم زندہ ہوتی شبنم مزمل نے ٹھنڈی آہ بڑھتے ہوئے خود سے کہا۔
لیکن آگے کیا ہونے والا تھا اس سے سب انجان تھے۔
💜 💜 💜 💜