Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

کر لیا ناشتہ؟ نائل نے کمرے میں داخل ہوا ہوتے سیرت کو دیکھتے پوچھا۔
جس نے اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔
لیکن نظریں ناجانے کیوں وہ نائل سے ملا نہیں پا رہی تھی۔
نائل سیرت کے سر پر کھڑا تھا۔سیرت نے نظریں اٹھا کر نائل کی طرف دیکھا۔
جب تم مجھے سڑک پر ملی تو کس سے بچ کر بھاگ رہی تھی؟ نائل نے سنجیدگی سے پوچھا۔
ابتسام بھائی مجھے چودھری کے بیٹے کے حوالے کرکے کے چلا گیا تھا میں اُسی سے بچ کر بھاگی تھی۔
سیرت نے نظریں جھکا کر کہا۔
تمھارا بھائی تو میری سوچ سے بھی زیادہ گھٹیا نکلا نائل نے سرد لہجے میں کہا۔
اگر تمھارے بھائی کو میں جان سے مار دوں تو؟ نائل نے سیرت کے سامنے بیٹھتے پوچھا۔
جس نے آنکھیں پھاڑے نائل کی طرف دیکھا تھا۔جو مارنے کی بات اتنے آرام سے کر رہا تھا۔
ایسے کیوں دیکھ رہی ہو؟ ایک آسان سا سوال پوچھا ہے۔نائل نے عام سے لہجے میں کہا۔
آپ کون ہیں؟ سیرت نے خوفزدہ لہجے میں پوچھا۔
تمھارا شوہر میری جان نائل نے مسکراہٹ دباتے کہا۔سیرت نے اس کی بات پر نظریں پھیر لی تھیں۔
تمہیں ایک بات بتاؤں تمھارے کمرے میں جو انسان آیا تھا اور جو تمہیں مارکیٹ کے باہر ملا تھا جانتی ہو وہ کون تھا؟
نائل نے گہری نظروں سے سیرت کو دیکھتے پوچھا۔
جیسے شوکڈ پر شوکڈ لگ رہا ہے تھا۔
وہ میں ہی تھا۔نائل نے سیرت کے کان کے پاس جھک کر سرگوشی کرتے کہا۔
سیرت نائل کی گرم سانسوں کی تپش سے کانپ سی گئی تھی۔
آپ کو ہو کیا گیا ہے؟ آپ پیچھے رہ کر بات نہیں کر سکتے سیرت نے نائل کے سینے پر ہاتھ رکھتے اسے پیچھے کرتے کہا۔
جس نے سیرت کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھے اسے اپنی طرف کھنچا تھا۔
کیوں میرے قریب آنے پر تمہیں ڈر ہے کہی مجھ سے پیار نا ہو جائے؟ نائل نے سیرت کی آنکھوں میں دیکھتے پوچھا۔
مجھے کیوں آپ سے پیار ہونے لگا اور جو آپ نے میرے ساتھ کیا میں آپ کو کبھی معاف نہیں کرو گئی۔سیرت نے کہا تو نائل ہنس پڑا۔
کون کمبخت کہہ رہا ہے کہ تم مجھے معاف کرو میں تو یہی چاہتا ہوں کہ تم مجھے معاف نا کرو لیکن مجھے تم اپنے قریب آنے سے روک بھی نہیں سکتی۔
نائل نے مسکراتے ہوئے سیرت کو دیکھتے کہا۔
آپ کو اپنے دماغ کا علاج کروانا چاہیے۔
سیرت نے غصے سے کہا۔
شادی کے بعد تو آدمی کا دماغ ویسے بھی خراب ہو جاتا ہے۔
نائل نے کہا تو سیرت نے حیرانگی سے اس کی طرف دیکھا۔
مجھے آرام کرنا ہے سیرت نے کہا تو نائل مسکراتا وہاں سے کھڑا ہو گیا۔
میڈیسن لے لینا اور کل رات کے بارے میں ضرور سوچنا نائل نے آخری بات شرارتی لہجے میں کہی اور وہاں سے چلا گیا۔
سیرت نے اسے جاتے ہوئے دیکھا اور گہرا سانس لیتے پیچھے ٹیک لگائے بیٹھ گئی۔
💜 💜 💜 💜
بھابھی شکر ہے آپ کو ہوش آگیا ہے۔نگین نے نیلم کو دیکھتے خوشی سے کہا جیسے اب ہوش آیا تھا۔
نگین بچیاں ٹھیک ہیں؟
نیلم نے ہوش میں آتے ہی اُن کا پوچھا۔
جی بھابھی وہ ٹھیک ہے آپ پریشان مت ہوں نگین نے جلدی سے کہا۔اس نے بھی جھوٹ بولا تھا کیونکہ اسے بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ دونوں ٹھیک ہیں بھی یا نہیں
اتنے میں دروازہ ناک ہوا اور شہریار اندر آیا۔
نگین نے مڑ کر دروازے کی طرف دیکھا تو ایک پل کے لیے تو نگین کو لگا وہ خواب دیکھ رہی ہے۔
کیسی ہیں امی آپ؟ شہریار نے اپنی ماں کے پاس آتے خوشگوار لہجے میں پوچھا حیران تو نیلم بھی ہوئی تھی۔
نگین تو پہلے حیرانگی سے کھڑی شہریار کو دیکھتی رہی پھر ایک زور دار تھپڑ شہریار کے چہرے پر دے مارا۔
جو بلکل بھی حیران نہیں ہوا تھا بلکہ ہنس پڑا تھا بلیو جینز اور وائیٹ شرٹ میں نظر کی گلاسز لگائے کافی ہینڈسم لگ رہا تھا۔
شہریار نے اپنی ماں کو دیکھا اور نگین کو سینے سے لگایا۔
جو بیٹے کو اتنے سالوں بعد دیکھ کر اپنے آنسو کو روک نہیں پائی تھی اور اس کے سینے لگی رونے لگی۔
امی یار رونا بند کریں شہریار نے اپنی ماں کے ہاتھوں کو چومتے ہوئے کہا۔
تائی جان آپ کیسی ہیں؟ شہریار نے نیلم کے پاس آتے پیار سے پوچھا۔
میں ٹھیک ہوں بیٹا تم کیسے ہو؟ نیلم نے پوچھا۔
آپ دونوں کے سامنے ہوں اور میں آپ دونوں کو بھی اپنے ساتھ لے کر جا رہا ہوں شہریار نے ایک دم سنجیدہ ہوتے کہا۔
نگین جو مسکرا رہی تھی شہریار کی بات سن کر پریشان ہو گئی۔
نہیں بیٹا ہم لوگ کہی نہیں جائیں گئے نگین نے کہا تو شہریار نے اپنی ماں کی طرف دیکھا۔
آپ کیا چاہتی ہیں آپ کے شوہر آپ کو جان سے مار دیں پھر آپ دونوں اُسے چھوڑے گی؟ وہ دونوں جلاد ہیں۔شہریار نے غصے سے کہا۔
شہریار وہ تمھارے بابا سائیں ہیں تمیز سے بات کرو نگین نے کہا تو شہریار طنزیہ لہجے میں ہنس پڑا۔ باپ ایسا ہوتا ہے باپ
اس بارے میں ہم بعد میں بات کرتے ہیں ابھی آپ دونوں بتائیں آپ دونوں کیسی ہیں اور میرے پاس آپ دونوں کے لیے ایک سرپرائز بھی ہے شہریار نے بات بدلتے دونوں کو دیکھتے کہا۔
سرپرائز وہ کیا ہوتا؟ نگین نے ناسمجھی سے پوچھا۔
مطلب کہ آپ دونوں کے لیے میرے پاس ایک تحفہ ہے جیسے دیکھ کر آپ خوش ہو جائیں گی۔شہریار نے مسکراتے ہوئے کہا۔
اچھا اچھا ٹھیک ہے پھر تو مجھے انتظار رہے گا تمھارے سرپرائز کا نگین نے کہا تو شہریار کے ساتھ نیلم بھی مسکرا پڑی۔
پھر شہریار لندن کے بارے میں بتانے لگا تھا۔
نگین کو تو ابھی بھی یقین نہیں آرہا تھا کہ ان کا بیٹا ان کے سامنے بیٹھا ہوا ہے۔
💜 💜 💜 💜
سیرت کیسی ہے؟ حسن بھائی، پری نے نائل کو دیکھتے پوچھا جو طالش سے ملنے یہاں آیا تھا۔
حسن پری کی بات سن کر ہنس پڑا تھا.
وہ بلکل ٹھیک ہے۔حسن نے ہنستے ہوئے کہا۔
ویسے کتنی بری بات ہے کسی نے مجھے کچھ نہیں بتایا۔پری نے خفی سے کہا۔
سرپرائز دینا چاہتا تھا شہریار تمہیں اور یہ اُس کا ہی پلان تھا۔
ہاں یاد آیا طالش اور شیریں میں سب ٹھیک یے؟ حسن نے پوچھا تو پری نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
طالش کہاں ہے؟ حسن نے پوچھا تو پری اسے بتانے لگی کہ وہ کمرے میں ہے۔
ٹھیک ہے حسن کہہ کر جانے لگا جب پری نے اسے آواز دے کر روکا تھا۔
مجھے مارکیٹ جانا ہے کیا آپ کے ڈرائیور کو لے جاؤں؟ پری نے پوچھا۔
ہاں لے جاؤ جلدی واپس آجانا اور اپنا خیال رکھنا اگر کوئی مسئلہ ہو تو مجھے کال کر لینا حسن نے کہا اور اوپر کی طرف چلا گیا۔
پری نے مسکرا کر حسن کو جاتے ہوئے دیکھا تھا۔بےشک حسن اسکا کزن تھا لیکن جس طرح اس نے پری کی مدد کی تھی اسے نہیں لگتا تھا کہ کوئی ایسا کر سکتا تھا اسکے دل میں نائل کے لیے بہت عزت تھی۔
پری اپنی چادر لیے وہاں سے چلی گئی۔ اس نے مرحا سے بھی پوچھا تھا لیکن اُس نے جانے سے منع کر دیا تھا۔
💜 💜 💜 💜
دیکھو حسن اس سے پہلے تم مجھے کچھ بھی کہو میں تمہیں پہلے ہی بتا دیتا ہوں میں شاور لے رہا تھا اور غلطی تمھاری بیوی کے ساتھ میری بیوی کی بھی ہے۔جو بنا بتائے چلی گئی۔
طالش نے حسن کو دیکھتے جلدی سے صفائی دینی چاہی جو سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا۔طالش جتنا بھی ہوشیار ہو لیکن وہ کبھی اپنے بڑے بھائی سے نہیں جیت سکتا تھا، جب نائل غصے میں ہوتا تو یہ بھی اس سے بات نہیں کرتا تھا۔
میری بیوی کو تو سزا مل چکی ہیں۔اور تم شیریں کو بھی اچھی طرح سمجھا دینا کہ اب ایسی کوئی غلطی نا کرے ورنہ انجام ہماری سوچ سے زیادہ برا ہو گا۔حسن نے بیٹھتے ہوئے کہا۔
سیرت کو کیا ہوا ہے؟ وہ ٹھیک ہے؟ طالش نے پریشانی سے پوچھا۔
ہاں اب بہتر ہے لیکن زخم بھرنے میں تھوڑا وقت لگے گا۔حسن نے کہا۔
کیا ہوا اُس کے ساتھ؟ طالش نے ناسمجھی سے اسے دیکھتے پوچھا۔
تو حسن نے ساری بات ادے بتا دی کہ کیسے اسے سیرت ملی تھی۔
اُس کمینے چودھری کو ابھی بھی سکون نہیں ملا ایک بیٹا چل نہیں سکتا اور یہ چاہتا ہے دوسرا بیٹا بھی اس دنیا سے کوچ کر جائے طالش نے غصے س کہا۔
اُس انسان کو تو میں اچھی سزا دوں گا کہ دوبارہ کسی بھی لڑکی کی طرف دیکھنے سے پہلے سو بار سوچے گا۔حسن نے کھڑے ہوتے کہا۔
میں مرحا سے مل لوں پھر نکلتا ہوں اور شہریار کہاں ہے؟ حسن نے پوچھا۔
وہ ہسپتال گیا ہے اپنی امی اور تائی سے ملنے طالش نے بھی کھڑے ہوتے کہا۔
سیرت کی امی اب ٹھیک ہیں؟ حسن نے جانے سے پہلے پوچھا۔
ہاں اب وہ ٹھیک ہیں اُن کو ہوش آگیا ہے۔
طالش نے کہا تو حسن اثبات میں سر ہلاتے وہاں سے چلا گیا۔
پیچھے طالش بھی باہر نکل گیا تھا۔
💜 💜 💜 💜
پری زیادہ دور نہیں گئی تھی پاس والی مارکیٹ ہی گئی تھی۔
اس نے اپنے اور مرحا کے لیے کچھ سامان لینا تھا۔پری وہی لے رہی تھی۔
اس کو ایک گھڑی پسند آئی اس نے سوچا کہ شہریار کے لیے خرید لیتی ہے۔
میڈم یہ گھڑی وہ پسند کر چکے ہیں دکاندار نے پری کو دیکھتے کہا۔
کون؟ پری نے اردگرد دیکھتے پوچھا۔
کیونکہ وہاں کوئی بھی نہیں کھڑا تھا۔
وہ جو آرہے ہیں وہ اپنے سر کو دیکھانے کے لیے گئے تھے۔دکاندار نے دور سے آتے ڈرائیور کی طرف اشارہ کرتے کہا۔
بھائی صاحب اگر وہ یہاں پر کھڑے ہوتے اور گھڑی کو خرید لیتے تو میں مان بھی لیتی انہوں نے ابھی بات کی تو اس کا مطلب یہ تو نہیں نا کہ وہ گھڑی اُن کی ہو گئی اور انہوں نے کون سے آپ کو پیسے دے دیے ہیں؟
اس لیے یہ گھڑی میں ہی لوں گی۔
پری نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
اتنے میں ڈرائیور وہاں آگیا تھا۔
دیکھیں میرے صاحب کو یہ گھڑی پسند آگئی ہے تو پلیز آپ کوئی اور گھڑی خرید لیں میرے صاحب غصے کے بہت تیز ہیں۔
وہ غصہ کریں گئے ڈرائیور نے پری کو دیکھتے کہا۔
اگر تمھارے صاحب غصہ کریں گئے تو کرتے رہیں میں تو یہی گھڑی لے کر جاؤں گی۔
بھائی اس کو پیک کر دیں۔پری نے کہا تو دوکاندار نے ایک نظر ڈرائیور پر ڈالی اور گھڑی کو پیک کرنے لگا ڈرائیور وہاں سے چلا گیا تھا۔
زبیر آج ہی واپس آیا تھا وہاں بھی اس کا دل نہیں لگا تو واپس پاکستان آگیا تھا۔
سر وہ گھڑی ایک لڑکی لے گئی ہے۔وہ کافی بول رہی تھی۔ڈرائیور نے آتے زبیر کو کہا جس کی گھڑی خراب ہو گئی تھی تو اس نے ڈرائیور کو لینے بھیجا تھا۔
وہ گھڑی میں نے پسند کی تھی تو وہ لڑکی کیسے لے کر چلی گئی؟ اور تم منہ اٹھا کر واپس آگئے چلو میرے ساتھ زبیر نے گاڑی سے باہر نکلتے غصے سے کہا۔
کہاں ہیں وہ لڑکی؟ زبیر نے مارکیٹ میں داخل ہوتے پوچھا۔
ڈرائیور نے اُس دکان کی طرف دیکھا اب وہاں کوئی نہیں تھا۔
سر وہ بلیک کلر کی شال والی لڑکی ہے۔
ڈرائیور نے جلدی سے پری کی طرف اشارہ کرتے کہا جو اب مارکیٹ سے باہر نکل رہی تھی۔
زبیر اُس کے پاس گیا۔اور سرد لہجے میں کہا۔
مس کیا آپ تھوڑی دیر مجھ سے بات کر سکتی ہیں؟ زبیر نے سنجیدگی سے پری کو دیکھتے پوچھا۔
جس کے پاؤں زبیر کی آواز سن کر وہی تھم گئے تھے۔اس آواز کو وہ کیسے بھول سکتی تھی۔
مس میں آپ سے بات کر رہا ہوں زبیر نے اس بار تھوڑا غصے سے کہا۔
پری کو ایسا لگا کہ وہ ابھی گر جائے گی اسے اپنے قدموں تلے زمین کھسکتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔
کسی ایسے انسان کا اچانک سامنے آجانا جس کے بارے میں آپ نے سوچا نا ہو تو وہ آپ کو شوکڈ ضرور کر دیتا ہے۔
اس سے پہلے پری پیچھے مڑتی اسے دور سے ابتسام نظر آیا تھا۔پری نے گھبرا کر جلدی سے اپنے چہرے کو کور کیا اور وہاں سے باہر بھگاتے ہوئے نکل گئی۔لگتا تھا آج سارے اتفاق اد کے ساتھ ہی ہونے تھے۔
زبیر نے حیرانگی سے پری کو وہاں سے بھاگتے ہوئے دیکھا۔
یہ لڑکی پاگل ہے کیا۔زبیر نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا اور خود بھی اسکے پیچھے چلا گیا۔
پری بس جلدی سے گاڑی میں بیٹھنا چاہتی تھی جب کسی نے پیچھے سے آکر اس کو بازو سے پکڑا پری کو تو اپنی جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی تھی اسے لگا ابتسام نے اسے دیکھ لیا ہے۔پیچھلی بار تو وہ بچ گئی تھی۔
اس بار تو ابتسام نے اسے نہیں چھوڑنا تھا۔
زبیر جو اسکے پیچھے آیا تھا اس نے پری کو بازو سے پکڑ کر اس کا رخ اپنی طرف کیا جس سے اس کی چادر سر سے سرک کر کندھوں تک آگئی تھی۔
آپ اس سے پہلے زبیر کچھ کہتا پری کو دیکھتے ہی اس کی زبان کو بریک لگی تھی۔
پری نے بھی زبیر کو اپنے سامنے زندہ سامنے دیکھا تو نظریں پلٹنا بھول گئی۔
ابتسام کا خوف اور زبیر کا زندہ اس کے سامنے آنا۔اسے لگا کہ اسکا دماغ گھوم رہا ہے۔
یہ کیسے ہو سکتا ہے پری نے منہ میں بڑبڑاتے کہا اس سے پہلے وہ زمین بوس ہوتی زبیر نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اس خود کے قریب کرتے گرنے سے بچایا تھا۔
وہ تو ابھی بھی شوکڈ کھڑا پری کے بند آنکھوں کو دیکھ رہا تھا اس نے کانپتے ہاتھوں سے پری کے چہرے کو چھوا۔
یہ تو سچ میں میری شبنم ہے زبیر نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔