Jaane Bewafa By Rimsha Hayat Readelle50132 Episode 25
No Download Link
Rate this Novel
Episode 25
طالش اور شہریار اُسی جگہ پہنچے تو نائل زمین پر اُندھے منہ گرا پڑا ہوا تھا۔
طالش اور شہریار بھاگتے ہوئے نائل کے پاس گئے۔نائل گاڑی سے دور کھڑا تھا اس لیے جب دھماکا ہوا تو زمین گرنے کی وجہ سے ایک پڑا بڑا سا پتھر اس کے ماتھے پر لگ گیا تھا جس کی وجہ سے وہ غنودگی میں تھا۔
پولیس بھی اسی وقت وہاں آگئی تھی۔
نائل طالش نے اس کی گال کو تھپتھپاتے ہوئے اس کا نام پکارا جس نے بمشکل اپنی بند ہوتی آنکھوں کو کھولا تھا۔
طالش اور شہریار اسے وہاں سے اٹھا کر اپنی گاڑی کی طرف لے گئے تھے۔
نائل کی گاڑی کل ہی ریپیئر ہو کر آئی تھی شاید اُسی وقت کسی نے اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تھی۔
دونوں نائل کو ہسپتال لے گئے تھے جہاں اس کے ماتھے کی پٹی کی گئی اور اب وہ بہتر تھا۔
نائل شکر ہے کہ تم گاڑی کے اندر نہیں تھے۔شہریار نے پریشانی سے کہا۔
جس نے بھی یہ کیا وہ اچھے سے جانتا تھا کہ میں اُسی راستے سے گزرتا ہوں اور میری گاڑی کا وہاں خراب ہونا۔اور پھر اچانک دھماکا ہونا۔تم لوگ معلوم کرو کہ کہی اُس شاپ والے نے تو میری گاڑی کے ساتھ کچھ چھیڑ چھاڑ نہیں کی جس کے پاس میں نے اپنی گاڑی ریپیئر ہونے کے لیے بھیجی تھی۔
اور ڈاکٹر سے پوچھو میں کب تک گھر جاسکتا ہوں نائل نے اُٹھ کر بیٹھتے ہوئے کہا۔
طالش اثبات میں سر ہلانے کے بعد وہاں سے چلا گیا تھا۔
نائل مجھے لگتا ہے تمھارا دشمن بہت خطر ناک ہے جو اس حد تک جا سکتا ہے وہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔تمہیں سنبھل کر رہنا ہو گا۔
شہریار نے سنجیدگی سے کہا۔
دشمن تو ہوتا ہی خطرناک ہے شہریار لیکن یہ جو کوئی بھی ہے بہت جلد پتہ چل جائے گا۔
نائل نے گہرا سانس لیتے کہا۔
اُس دشمن کا جلدی سامنے آنا ضروری ہے ورنہ وہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔کہی یہ کام ابتسام کا تو نہیں؟ شہریار نے پر سوچ انداز میں کہا۔
ہو بھی سکتا ہے۔لیکن دیکھتے ہیں آگے کیا کرنا ہے۔نائل نے کہا۔
شہریار بھی یہی سو رہا تھا کہ ہو سکتا ہے یہ کام حویلی والوں کا ہو۔
💜 💜 💜 💜
آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟
زبیر نے اپنے گھر میں مزمل کو دیکھا تو سنجیدگی سے پوچھا۔
بیٹا میں تم سے معافی مانگنے آیا ہوں۔مجھے معاف کر دو مجھے ایسا نہیں بولنا چاہیے تھا۔مجھے احساس ہو گیا ہے کہ میں تمھارے ساتھ غلط کر رہا تھا۔
میں آج ہی تمھارے ساتھ اُن لوگوں کے گھر جاؤں گا۔مزمل نے چہرے پر دکھی تاثرات لیے کہا۔
آپ سچ کہہ رہے ہیں؟ زبیر نے مزمل کو دیکھتے پوچھا۔
بلکل میں سچ بول رہا ہوں میرے بیٹے کی خوشی میرے لیے زیادہ ضروری ہے تم مجھے آج ہی اُس لڑکی کے گھر لے جاؤ میں اُس کے بھائیوں سے بات کرتا ہوں۔
مزمل نے کہا تو زبیر نے خوشی سے مزمل کو اپنے گلے لگایا تھا۔
تھیک یو سو مچ چچا جان میں تیار ہو کر آتا ہوں۔مزمل نے خوشی سے کہا اور اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔
زبیر کے جاتے ہی مزمل آرام سے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھ گیا تھا۔
مجھے معلوم تھا کہ تم مجھے معاف کر دو گے۔مزمل بے مسکراتے ہوئے کہا۔
زبیر تیار ہو کر نیچے آیا اور مزمل کے ساتھ شبنم کے گھر کے لیے نکل گیا تھا۔
اس نے شہریار کو کال کرکے اپنے آنے کی اطلاع دی تو اس نے اپنے دوسرے گھر کا ایڈریس زبیر کو دے دیا کیونکہ سب لوگ وہی پر موجود تھے۔
نائل گھر آچکا تھا اس کے ماتھے پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔
کیا ہوا تمہیں بیٹا؟ اور یہ چوٹ؟ نگین نے پریشانی سے نائل کو دیکھتے پوچھا۔
کچھ خاص نہیں آنٹی چھوٹا سا ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا۔نائل نے کہا اس نے اصل بات نہیں بتائی تھی۔
اللہ کا شکر ہے زیادہ نقصان نہیں ہوا جاؤ بیٹا اسے کمرے میں لے جاؤ اسے آرام کی ضرورت ہے نگین نے سنجیدہ کھڑی سیرت کو دیکھتے کہا۔جس نے آگے بڑھ کر نائل کو بازو سے تھاما جسکے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی۔
سیرت اور نائل کمرے میں چلے گئے تھے۔
شہریار نے اپنی ماں کو زبیر کے بارے میں بتا دیا تھا کہ وہ اپنے چچا کے ساتھ آرہا ہے۔
شبنم جانتی تھی کہ زبیر کیوں آرہا ہے لیکن ابھی گھر کا ماحول دیکھتے اسے شادی کی بات کرنا ٹھیک نہیں لگ رہا تھا لیکن زبیر کو ابھی اس بارے میں علم نہیں تھا۔
زبیر اپنے چچا کے ساتھ نائل کے گھر میں آیا تو مزمل کو گھر کافی پسند آیا تھا۔
گھر کو دیکھ کر ہی یہاں رہنے والے لوگوں کی حیثیت کا پتہ چل رہا تھا۔
دونوں اندر داخل ہوئے تو شہریار ان سے ملا۔اور ان کو بیٹھنے کا کہا۔
نگین بھی وہاں آگئی تھی۔اس نے زبیر کو اتنے سالوں بعد دیکھا تو اسے دیکھ کر حیران ہوئی تھی کیونکہ وہ کافی تبدیل ہو گیا تھا۔
کیسی ہیں آپ آنٹی؟ زبیر نے خوشدلی سے نگین کے سامنے جھکتے ہوئے پوچھا۔
زبیر تم تو بہت بدل گئے ہو بیٹا۔نگین نے خوشی سے زبیر کے سر پر پیار دیتے کہا۔
آپ بھی پہلے سے زیادہ حسین ہو گئی ہیں۔زبیر نے مسکراہٹ دباتے کہا تو نگین نے اسے گھور کر دیکھا پھر خود بھی مسکرا پڑی۔
نیلم آنٹی کیسی ہیں؟ زبیر نے پوچھا تو نگین کے چہرے کی مسکراہٹ ایک پل میں غائب ہوئی تھی۔
تمہیں شہریار نے نہیں بتایا کچھ دن پہلے ہی اُب کا انتقال ہو گیا ہے۔نگین نے درد بھرے لہجے میں کہا۔
کیا؟ لیکن کیسے؟ زبیر نے بے یقینی سے پوچھا۔مزمل خاموشی سے بیٹھا دونوں کی باتیں سن رہا تھا۔شہریار نائل کو بلانے کے لیے گیا تھا۔
تم تو اچھی طرح جانتے ہو حویلی کے لوگوں کو نگین نے تیکھے لہجے میں کہا۔تو زبیر نے بات کو سمجھتے ہوئے گہرا سانس لیا تھا۔
ایم سوری آنٹی زبیر نے کہا۔
نگین خاموش ہو گئی تھی۔
تھوڑی دیر بعد کمرے میں شہریار داخل ہوا اس کے پیچھے ہی نائل اور طالش اور بھی کمرے میں داخل ہوئے تھے لیکن جب مزمل نے دونوں کو دیکھا تو اس کے چہرے پر ایک سایہ سا آر گزرا تھا۔طالش اور نائل اچھے طریقے سے مزمل سے ملے تھے۔یہ کیسا اتفاق تھا۔
ایم سوری مجھے نیلم آنٹی کا معلوم نہیں تھا اگر مجھے معلوم ہوتا تو میں رشتے کی بات کرنے نا آتا زبیر نے چہرے پر شرمندگی لیے کہا۔
ارے تمہیں شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
میری غلطی ہے کہ مجھے بتا دینا چاہیے تھا۔لیکن بس یاد نہیں رہا۔شہریار نے جلدی سے کہا۔
مزمل تو سکتے کے عالم میں بیٹھا ہوا تھا۔
آپ کو کیا ہوا ہے؟ زبیر نے نائل کے سر پر بندھی پٹی کو دیکھتے پوچھا۔
کچھ نہیں چھوٹا سا ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا۔
نائل نے ہلکا سا مسکرا کر کہا۔
باقی سب باتیں کرنے لگے تھے۔لیکن نائل غور سے مزمل کو دیکھ رہا تھا۔
اور یہ بات مزمل نے بھی نوٹ کی تھی۔
💜 💜 💜 💜
مزمل نے واپس آتے پریشانی سے احمر کو کال کی۔جو تھوڑی دیر بعد ہی مزمل کے پاس بیٹھا سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا۔
تم جانتے ہو کہ جس لڑکی کو زبیر پسند کرتا ہے اُس کے بھائی کون ہیں؟ مزمل نے احمر کو دیکھتے مزید کہا۔
اُس کے بھائی نائل حسن اور طالش ہیں جن کو مارنے کا میں نے تمہیں کہا تھا۔
اور آج جو تم نے دھمکا کروایا اُس میں سے نائل بچ گیا ہے بلکہ ٹھیک ہے وہ مزمل نے پریشانی سے کہا۔
تو آپ پریشان کس بات پر ہو رہے ہیں؟
احمر نے حیرانگی سے پوچھا۔
نائل حسن مجھے پہچانتا ہے اور جہاں تک مجھے لگتا ہے وہ سب جانتا بھی ہے کہ میں کیا کام کرتا ہوں اگر اُس نے زبیر کو بتا دیا تو پھر وہ کبھی میری بات نہیں مانے گا۔
مزمل نے کہا تو کچھ دیر سوچنے کے بعد احمر نے جواب دیا۔
اس سے پہلے وہ زبیر کو کچھ بتائے آپ اس رشتے کو ختم کر دیں۔احمر نے حل بتاتے کہا۔
لیکن میں کیسے اس رشتے کو ختم کر سکتا ہوں؟ زبیر کبھی نہیں مانے گا۔مزمل نے پریشانی سے کہا۔
زبیر منع نہیں کرے گا لیکن وہ لڑکی تو کر سکتی ہے نا آپ اب ویسا ہی کریں جیسا میں آپ کو کہتا ہوں وہ لڑکی خود زبیر سے نکاح کرنے سے منع کر دے گی۔
احمر کہتے ہی اپنا پلان بتانے لگا جسے مزمل غور سے سن رہا تھا۔
💜 💜 💜 💜
زبیر اور مزمل کے جانے کے بعد نائل اپنے کمرے میں آگیا تھا۔
اس کے سر میں درد تھا۔سیرت کمرے میں آئی تو اس نے نائل کو آنکھیں موندے بیڈ سے ٹیک لگائے بیٹھے دیکھا۔
وہ نائل کے لیے سوپ لے کر آئی تھی۔
یہ چچی نے آپ کے لیے سوپ بھجوایا ہے۔
سیرت نے نائل کو دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔
نائل نے آنکھیں کھولے سیرت کو دیکھا تھا۔
ابھی مجھے بھوک نہیں ہے لے جاؤ اسے نائل نے کہتے ہی آنکھیں بند کر لیں۔
چچی کہہ رہی ہیں آپ نے صبح سے کچھ بھی نہیں کھایا ہے۔سیرت نے پھر سے کہا۔
نائل نے آنکھیں کھولے پھر سے سیرت کی طرف دیکھا تھا۔
تمھاری چچی کو میری فکر ہے بس تمہیں میری فکر نہیں ہے اگر وہ سوپ نا بھیجتی تو میرا نہیں خیال کہ رات کو بھی تم نے کمرے میں آنا تھا۔نائل نے میٹھے لہجے میں طنز کرتے کہا۔
آپ کو اس سے کیا لگے میں جہاں مرضی سوؤں۔سیرت نے غصے سے کہا اور سوپ وہاں پر رکھ کر جانے لگی۔
اسے یہاں سے لے جاؤ سیرت اور اپنی شکل بھی گم کرو ورنہ میں غصے میں کچھ ایسا کر دوں گا جو تمہیں اچھا نہیں لگے گا نائل نے سرد لہجے میں کہا۔
صبح سے وہ اسے اگنور کر رہی تھی۔
ایک بار بھی آکر اس نے نائل کی خیریت نہیں پوچھی تھی اور وہ تپا ہوا بیٹھا تھا۔
سیرت نے بھی ڈھٹائی سے سوپ اٹھایا اور وہاں سے چلی گئی۔
نائل نے گھور کر دروازے کی طرف دیکھا تھا جیسے وہاں سیرت کھڑی ہو۔نجانے وہ کیوں اس سے خفا تھی۔نائل کو سمجھ نہیں آرہی تھی۔
سیرت سوپ کو واپس لے کر گئ تو نگین نے حیرانگی سے پوچھا کہ تم سوپ کو واپس کیوں لے آئی تو سیرت نے بتایا کہ نائل کہہ رہا ہے ابھی اسے بھوک نہیں ہے۔
ارے بیٹا وہ تو ایسے ہی کہے گا۔اُس نے میڈیسن لینی ہے تو جاؤ اور اُسے سوپ پلاؤ نگین نے ڈپٹتے ہوئے کہا تو ناچاہتے ہوئے بھی سیرت کو دوبارہ کمرے میں آنا پڑا تھا۔
آپ پلیز اسے پی لیں ورنہ چچی مجھے ڈانٹے گی۔سیرت نے نائل کے سامنے سوپ رکھتے اکتائے ہوئے لہجے میں کہا۔
نائل نے آنکھیں کھول کر سیرت کو دیکھا اور اسے بازو سے پکڑ کر اپنے سامنے بیٹھایا جو اس کے پاس ہی کھڑی تھی۔
تم چاہتی کیا ہو؟ کیوں مجھے اگنور کر رہی ہو؟ نائل نے سنجیدگی سے اسے دیکھتے پوچھا۔
کیونکہ آپ کی وجہ سے میں نے اپنی امی کو کھویا ہے۔سیرت نے سرد لہجے میں کہا۔
میری وجہ سے؟ نائل نے حیرانگی سے اسے دیکھتے پوچھا۔
نا آپ مجھے اغوا کرتے نا باقی سارے مسئلے ہوتے اور اس وقت میں حویلی میں ہوتی تو اپنی ماں کو بچا سکتی تھی۔آپ کی وجہ سے میں نے امی کو کھویا ہے۔
سیرت نے آنسوؤں سے بھری آنکھوں سے نائل کو دیکھتے کہا۔
جو بے یقینی سے سیرت کو دیکھ رہا تھا۔کتنا بڑا الزام وہ بنا سوچے سمجھے اس پر لگا چکی تھی۔
ہاں وہ جانتا تھا کہ جو کچھ اس نے سیرت کے ساتھ کیا وہ غلط تھا لیکن نیلم کی موت میں اس کا ہاتھ نہیں تھا۔
نائل نے جو سیرت کے ہاتھ کو پکڑا تھا اُسے چھوڑ دیا۔اور اپنی جگہ سے اٹھا اور مڑ کر اس نے سیرت کی طرف دیکھا۔
اتنا بھی برا نہیں ہوں میں جتنا تم سمجھ بیٹھی ہو تمھارے الفاظ خنجر کی طرح سیدھے یہاں پر لگتے ہیں۔
نائل نے اپنے دل کی طرف اشارہ کرتے کہا۔کیا کچھ نہیں تھا اس وقت اس کے لہجے میں بےبسی، تکلیف اور اذیت
نائل پھر وہاں رکا نہیں تھا وہاں سے سٹڈی روم کی طرف چلا گیا۔پیچھے سیرت وہی بیٹھی ہوئی تھی۔
💜 💜 💜 💜
یہ کس لڑکی کا فون آپ کے موبائل پر بار بار آرہا ہے؟ شیریں نے طالش کا موبائل پکڑے اس دیکھتے پوچھا۔جو شاور لے کر باہر نکلا تھا۔
طالش نے جلدی سے آگے بڑھ کر موبائل کو پکڑا اور ٹیریس کی طرف جانے لگا۔
طالش آپ نے میری بات کا جواب نہیں دیا۔شیریں نے حیرانگی سے طالش کو دیکھتے کہا۔
شیریں میری اجازت کے بغیر تم نے کال اٹینڈ کیوں کی؟ طالش نے تھوڑا سرد لہجے میں مڑ کر پوچھا۔
طالش میں آپ کی بیوی ہوں اور مجھے نہیں لگتا کہ مجھے آپ کی آجازت کی ضرورت ہے۔ اور ایسی بھی یہ کون ہے جس کی خاطر آپ مجھ سے سخت لہجے میں بات کر رہے ہیں؟
شیریں نے دو قدم چلتے طالش کے پاس آتے پوچھا۔
یہ جو کوئی بھی ہے آئندہ تم کسی کی بھی کال اٹینڈ نہیں کرو گی۔
طالش نے کہا اور ٹیریس کی طرف چلا گیا۔
پیچھے شیریں نے اپنے آنسوؤں کو باہر نکلنے سے روکا تھا۔لیکن پھر بھی وہ باہر آگئے تھے۔
شیریں نے اپنے آنسوؤں کو صاف کیا۔اور باہر ٹیریس کی طرف گئی۔طالش کوئی نمبر پریشانی سے ڈائل کر رہا تھا۔
شیریں نے طالش کے ہاتھ سے موبائل پکڑا اور اُسے زور سے زمین پر دے مارا تھا۔
طالش کو سمجھ نہیں آئی کہ اچانک ہوا کیا۔ میری ایک بات یاد رکھیں گا اگر کسی بھی لڑکی کا چکر ہوا اور مجھے پتہ چلا اُسی دن میں آپ کو چھوڑ کر چلی جاؤں گی اور اب کریں بات شیریں نے غصے سے طالش کے موبائل کی طرف دیکھتے کہا اور وہاں سے چلی گئی یہ طالش کی دی ہوئی ہمت ہی تھی کہ آج وہ ایسے بات کر رہی تھی۔
پیچھے طالش نے گہرے سانس لیتے اپنے غصے کو کم کیا ورنہ اس کا دل کر رہا تھا ابھی جاکر شیریں کو اچھا سبق سکھائے۔
💜 💜 💜 💜
ابتسام اور شاہ نواز نے بہت کوشش کی تھی لیکن سکندر کو ضمانت نہیں ملی تھی۔
ابتسام بہت پریشان تھا۔
شاہ نواز نے سوچا کہ وہ احمر سے بات کرتا ہے ہو سکتا ہے کہ وہ اس کی مدد کر سکے۔
شاہ نواز نے احمر کو کال کی اور ساری بات اسے بتائی۔
اُس نے کہا آپ پریشان نا ہوں میں کچھ نا کچھ کرتا ہوں۔
شاہ نواز کو اس کی بات سے کافی حوصلہ ملا تھا۔
نہیں تو وہ کافی پریشان تھا۔ایک بھائی کا ہی تو اب اسے سہارا تھا ورنہ باقی سارے اسے چھوڑ کر چلے گئے تھے۔
ابتسام نے سوچ لیا تھا ایک بار اس کا باپ باہر آجائے سب سے بدلے لے گا کسی کو معاف نہیں کرے گا۔
💜 💜 💜 💜
زبیر واپس اپنے گھر آکر کافی خوش تھا۔نائل نے کہا تھا کہ نیلم آنٹی کے چالیسوے کے بعد وہ زبیر اور شبنم کا نکاح کروا دے گا۔
اس نے شبنم کا نمبر ڈائل کیا جس نے تیسری بیل پر اٹھا لیا تھا۔
کیسی ہو؟ زبیر نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
کیسی ہو سکتی ہو؟ شبنم نے لب دانتوں تلے دباتے الٹا سوال کیا۔
میں نے کتنی بار کہا ہے کہ یہ حرکت مت کیا کرو۔زبیر نے شرارتی لہجے میں کہا تو فوراً شبنم نے اپنے دانتوں سے اپنے لب کو آذاد کیا تھا۔
آپ کو کیسے پتہ چل جاتا؟ شبنم نے حیرانگی سے پوچھا۔
کیونکہ میں آپ کی عادتوں سے اچھی طرح واقف ہوں۔زبیر نے کہا تو شبنم کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی۔
مجھے نیند آرہی ہے۔شبنم نے جلدی سے کہا۔
لیکن مجھے نہیں آرہی تھوڑی دیر مجھ سے باتیں کر لو زبیر نے کہا تو اس کی بات پر شبنم ہنس پڑی تھی۔
ٹھیک ہے صرف پانچ منٹ اس کے بعد میں موبائل بند کر دوں گی۔شبنم نے مسکراہٹ دباتے کہا۔
جو آپ کا حکم زبیر نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھتے کہا۔
پانچ منٹ مزید بات کرنے کے بعد زبیر نے خود ہی فون بند کر دیا تھا اور سکون سے آنکھیں بند کیے لیٹ گیا۔آج اسے سکون کی نیند آنی تھی۔
آگے دن زبیر کو مزمل کے گھر جانا تھا اُس نے کوئی ضروری بات کرنی تھی۔
صبح زبیر تیار ہوتے گھر سے نکل گیا تھا اس نے ناشتہ بھی ابھی نہیں کیا تھا۔
زبیر مزمل کے گھر پہنچا جو شاید اسی کا انتظار کر رہا تھا۔
آؤ بیٹا پہلے ناشتہ کر لیتے ہیں پھر کام کی بات کریں گئے۔ مزمل نے زبیر کو دیکھتے کہا اور دونوں ناشتہ کرنے لگے۔
زبیر نے ابھی جوس ہی پیا تھا کہ ایسے ایسا لگا جیسے اس کا دماغ گھوم رہا ہےاس نے کافی بار اپنے سر کو جھٹکا بھی تھا لیکن آنکھوں کے سامنے اندھیرا گہرا ہوتا جا رہا تھا۔
کیا ہوا بیٹا تم ٹھیک ہو؟ مزمل نے اپنے لہجے میں پریشانی لیے پوچھا۔
پتہ نہیں میرا سر چکرا رہا ہے۔زبیر نے اپنے سر کا تھامتے ہوئے کہا۔
تم ایسا کرو تھوڑا اپنے کمرے میں جا کر آرام کر لو اتنا تو کام کرتے ہو تھک گئے ہو گئ جاؤ سر کو ان کے کمرے تک لے جاؤ مزمل نے پاس کھڑے ملازم کو اشارہ کرتے کہا۔
جو زبیر کو وہاں سے اُس کے کمرے میں لے گیا تھا۔
زبیر کمرے میں جاتے ہی بیڈ پر گر گیا۔بلکہ بے ہوش ہو گیا تھا۔
مزمل نے اُسی وقت مہک کو کال کی۔
آجاؤ تم مزمل نے کہتے ہی فون بند کر دیا۔
تھوڑی دیر بعد ہیل کی ٹک ٹک کی آواز آئی تھی۔
زبیر کہاں ہے؟مہک نے مزمل کو دیکھتے پوچھا۔جس نے گھٹنوں تک آتی سرخ رنگی کی میکسی پہنی ہوئی تھی۔
اپنے کمرے میں ہے اور کام ہو جانا چاہیے مزمل کہہ کر وہاں سے چلا گیا۔مہک زبیر کے کمرے کی طرف چلی گئی تھی جہاں وہ بیڈ پر بےہوش پڑا تھا۔
تم پر بلیک کلر بہت جچتا ہے مائی لو مہک نے زبیر کو دیکھتے مسکرا کر کہا اور دروازہ بند کرتے چلتی ہوئی اس کے پاس آئی۔مہک نے اپنے اپنے بیگ سے لپ سٹک نکالی اور اسے لگانے لگی۔
اور دوبارہ چلتی ہوئی زبیر کے پاس آئی اور جھک کر اس نے زبیر کی گال ہر ہونٹ رکھ دیے۔
