Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

سیرت یہ کیا حالت بنائی ہوئی ہے تم نے امی تمھارا پوچھ رہی تھیں شیریں جو سیرت کو دیکھنے کے لیے جا رہی تھی اسے سامنے سے آتے دیکھا تو گھورتے ہوئے پوچھا۔
میں تو آم توڑنے گئی تھی لیکن بارش شروع ہو گئی تو میں واپس آگئی۔سیرت نے جلدی سے کہا وہ سچ بتانا نہیں چاہتی تھی۔
اور تم نے اپنی حالت دیکھی ہے سب لوگ تمہیں گھور کر دیکھ رہے ہیں۔
یہ لو چادر شیریں نے ایک بلیک کلر کی شال سیرت کے سامنے کرتے کہا جس نے جلدی سے شال کو اوڑھ لیا تھا۔
چچی کہاں ہیں؟ سیرت نے ارد گرد دیکھتے پوچھا۔وہ سامنے دیکھو تمہیں ہی ڈھونڈ رہی ہیں میں نے کہا کہ تم وہ سامنے والی دکان کی طرف گئی تھی تو وہی تمہیں دیکھنے گئی ہیں۔
چلو مجھے گھر جانا ہے شیریں نے اس کا ہاتھ پکڑتے کہا اور اسے اپنی ماں کے پاس لے گئی۔
لیکن سیرت ابھی بھی اُس اجنبی کے بارے میں سوچ رہی تھی۔اُس کے لہجے کا سرد پن محسوس کرتے ہی اس کے جسم میں کپکپی طاری ہو گئی تھی۔
💜 💜 💜 💜
کہاں گئی تھیں تم؟ ابتسام نے شیریں کے راستے میں آتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھا۔
وہ بھائی سیرت نے شاپنگ کرنی تھی تو اُس کے ساتھ گئی تھی۔
شیریں نے گھبرائے ہوئے لہجے میں اپنے سر کا ڈوپٹہ ٹھیک کرتے کہا۔
آئندہ تم میری اجازت کے بغیر گھر سے باہر قدم نہیں نکالو گی سمجھ گئی؟ابتسام نے ایک دم شیریں کے قریب آتے کہا۔
جس سے شیریں دو قدم ابتسام سے دور کھڑی ہوئی تھی۔
ابھی میری شادی آپ سے نہیں ہوئی تو میں کیوں آپ کی بات مانو؟ شیریں نے ابتسام کو دیکھتے کہا جبکہ یہ وہی جانتی تھی کہ کس طرح اس کا دل سوکھے پتے کی مانند کانپ رہا تھا۔
تم اب مجھے سمجھاؤ گی کہ مجھے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں؟ میرا حکم ماننا تمھارا فرض ہے چاہے اس میں تمھاری مرضی ہو یا نا ہو سمجھی ابتسام نے شیریں کو بازو بسے دبوچتے ہوئے کہا۔
بھائی آپ کو بابا سائیں بلا رہے ہیں سیرت جو وہاں سے گزر رہی تھی اس نے ابتسام اور شیری کو دیکھا تواس کے پاس آتے کہا۔
ابتسام نے ایک نظر شیریں کے سہمے ہوئے چہرے پر ڈالی اور وہاں سے چلا گیا۔
تم ٹھیک ہو؟ سیرت نے شیریں کے سامنے آتے پوچھا۔
جس نے اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔
تم نے پیپرز پر سائن کیوں کیے شیریں ؟ سیرت نے سنجیدگی سے پوچھا۔
تو کیا کرتی میں؟ بابا سائیں نے کہا کہ مجھے سائن کرنے ہیں تو میں نے کر دیے تم جانتی ہو میں اُن کو منع نہیں کر سکتی تھی شیریں نے نظریں چراتے کہا۔
اور ابھی جو تھوڑی دیر پہلے بھائی جو کچھ تمہیں کہہ کر گیا ہے کیا اُس کے ساتھ سارے زندگی گزار لو گی؟ کیونکہ تمھارے بابا سائیں ابتسام بھائی سے تمھاری شادی کروانا چاہتے ہیں۔سیرت نے سرد لہجے میں کہا۔
سیرت کتنی بار کہا ہے آہستہ بولا کرو اگر کسی نے سن لیا تو شیریں نے ارد گرد دیکھتے کہا۔
بس کر دو تم شیری تمھاری پوری زندگی کا معاملہ ہے۔اور تمہیں ہوش نہیں ہے چھوڑو میرا ہاتھ سیرت نے غصے سے شیریں کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلی گئی۔شیریں نے بےبسی سے اسے جاتے ہوئے دیکھا تھا۔
اب وہ کیسے اسے سمجھاتی کہ یہ سب اتنا آسان نہیں ہے جتنا سیرت سمجھ رہی ہے۔
💜 💜 💜 💜
تم نے طلاق نامہ بھجوا دیا؟ سکندر نے اپنے چھوٹے بھائی کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
جی بھائی میں نے بھجوا دیا تھا لیکن مجھے نہیں لگتا وہ اتنی آسانی سے میری بیٹی کو رہا کرے گا۔شاہ نواز نے سنجیدگی سے کہا۔
ہاں میں جانتا ہوں دونوں بھائی بہت ضدی ہیں۔لیکن ہم لوگ بھی چپ نہیں بیٹھے گئے۔
سکندر نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
اور تمھارے بیٹے کی کوئی خبر آئی؟ اُسے کہو اب گھر واپس آجائے بہت ہو گیا۔
تمھارا بیٹا اور ابتسام اس گھر کے وارث ہے اور دونوں کا یہاں پر ہونا ضروری ہے۔سکندر نے شاہ نواز کو دیکھتے کہا۔
وہ بہت ضدی ہے بھائی اگر میری بات مانتا ہوتا تو یہاں سے جانے کی غلطی نا کرتا لیکن اب کچھ نا کچھ کرنا پڑے گا۔شاہ نواز نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتے کہا۔
سکندر اور شاہ نواز دو بھائی تھے۔ان کی ایک چھوٹی بہن بھی تھی جو اچانک کہی غائب ہو گئی تھی اور آج تک اُس کا پتہ نہیں چل سکا۔
سکندر کا باپ اس گاؤں کا سرپنج تھا اُن کی وفات کے بعد یہ ذمہ داری سکندر نے سنبھالی تھی۔
گاؤں کے سبھی لوگ ان کے پاس اپنے مسئلے لے کر آتے تھے لیکن آج بھی اس گاؤں میں بہت سی ایسی رسومات تھیں۔جو غلط تھی لیکن کسی میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ اس کے خلاف آواز اٹھا سکے۔
ان دو بھائیوں کا پورے گاؤں پر اتنا روب تھا کہ سب لوگ ان سے ڈرتے تھے یہ لوگوں کو راتوں رات غائب کروا لیتے اور کسی کو پتہ نا چلتا اور سب سے بڑی مثال تو ان کی اپنی بہن کی تھی جو ناجانے کہاں چلی گئی تھی۔
💜 💜 💜💜
تم نے اچھی طرح سوچ لیا ہے نا؟ حسن نے طالش کو دیکھتے پوچھا جو چہرے پر سنجیدگی لیے بیٹھا ہوا تھا۔
میں ایک بار سکندر صاحب سے بات کرنا چاہتا ہوں اگر وہ مان گئے تو ٹھیک پھر مجھے دوسرا رستہ اختیار کرنا پڑے گا جو میرے لیے مشکل تو بلکل بھی نہیں ہے۔طالش نے سامنے سڑک کو دیکھتے ہوئے کہا۔
ٹھیک ہے حسن کہتے ہی باہر نکل گیا۔
انکو دور سے ہی کچھ لوگ کھڑے نظر آئے تھے۔
جانتے ہو وہاں کیا ہو رہا ہے؟ حسن نے سامنے دیکھتے طالش سے پوچھا۔
جس نے ناسمجھی سے حسن کی طرف دیکھا تھا سامنے انصاف ہو رہا ہے میں بھی دیکھنا چاہتا ہوں کہ اس گاؤں کے لوگ انصاف کے کتنے پکے ہیں حسن نے کہتے ہی اُس ہجوم کی طرف اپنے قدم بڑھا لیے طالش بھی اس کے پیچھے چل پڑا تھا۔
بڑے بڑے درختوں کے چاروں طرف چارپائیاں بچھی ہوئی تھیں۔
درمیان والے تختے پر سکندر براجمان تھا ساتھ والی کرسی پر شاہ نواز بیٹھا ہوا تھا۔
اکمل کیسا مرد ہے تو تیری بیوی کسی اور مرد کے ساتھ رنگ ریلیاں منا رہی ہے اور تو بےغیرت بنا بس تماشہ دیکھ رہا یے تجھے چاہیے تھا اُسی دن اپنی بیوی کا گلا دبا دیتا۔سکندر نے غصے سے اکمل کو دیکھتے کہا۔
جو چہرہ جھکائے کھڑا تھا اس کی بیوی بھی وہی پر موجود تھی۔
آپ سب لوگ بنا میری بات سنے کیسے مجھ پر الزام لگا سکتے ہیں اکمل کی بیوی نے چلاتے ہوئے کہا۔
اپنی زبان بند رکھو لڑکی تمھاری ہمت کیسے ہوئی ہمارے سامنے اونچی آواز میں بات کرنے کی شاہ نواز نے غصے سے کھڑے ہوتے کہا۔
طالش اور حسن بھی وہاں کھڑے تھے۔
مجھے بھی صفائی دینے کا پورا حق ہے جب میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا تو کیوں میں خاموش رہ کر آپ سب لوگوں کی زیادتی برداشت کروں؟ میرا کسی کے ساتھ کوئی چکر نہیں چل رہا جس لڑکے کو گاؤں والوں نے میرے ساتھ دیکھا اُس نے صرف میری مدد کی تھی۔
کچھ لڑکے گاؤں کے باہر مجھے تنگ کر رہے تھے تو وہ مجھے گھر چھوڑنے آیا تھا۔
وہ میرے شوہر سے بھی ملا اور اُس نے ساری بات اُسے بتا دی تھی لیکن ان گاؤں والوں نے نجانے کیوں چھوٹی سی بات کو اپنی عزت کا مسئلہ بنا لیا ہے اکمل کی بیوی نے وہاں کھڑے لوگوں کی طرف دیکھتے کہا۔
کیا یہ سب لوگ پاگل ہیں طالش نے حیرانگی سے حسن کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
پاگل نہیں ہیں بس جاہل ہیں جو صحیح اور غلط میں فرق نہیں کر پاتے اور ہمیشہ عورت کو ہی برا بھلا کہتے ہیں چاہے اُس کی غلطی ہو یا نا ہو حسن نے طنزیہ لہجے میں کہا۔
سکندر چہرے پر سرد تاثرات لیے وہاں بیٹھا ہوا تھا۔
اکمل اپنی بیوی کو اسی وقت طلاق دو یا خود بھی اس گاؤں سے اس کے ساتھ نکل جاؤ۔
تھوڑی دیر بعد سکندر کی آواز گونجی تھی۔
لیکن سائیں میری بیوی بے قصور ہے گاؤں والوں کو غلط فہمی ہوئی ہے۔اکمل نے بےبسی سے کہا کیونکہ نا وہ اپنی بیوی کو چھوڑ سکتا تھا نا وہ کسی دوسری جگہ جا سکتا تھا۔
ایک منٹ گاؤں والے جو سکندر کو دیکھ رہے تھے حسن کی آواز پر سب نے اس کی طرف مڑ کر دیکھا۔گاؤں والے بھی جانتے تھے کہ کیا فیصلہ ہو گا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ سکندر کبھی کسی عورت کے حق میں فیصلہ نہیں سنائے گا چاہے وہ سچی ہو یا جھوٹی
حسن کو دیکھتے ہی شاہ نواز اور سکندر کے چہرے پر سایہ سا آکر گزرا تھا۔
گاؤں والے تو حسن کو دیکھتے ہی پیچھے ہو گئے تھے کیونکہ اُس کی شخصیت ہی ایسی تھی کہ سب لوگ خودبخود خاموشی سے پیچھے کھڑے ہو گئے۔
کیسے بےحس لوگ ہو تم سب جب اُس کا شوہر کہہ رہا ہے کہ اُس کی بیوی نے کچھ نہیں کیا تو کیسے تم سب لوگ دونوں میاں بیوی کے ساتھ ناانصافی کر سکتے ہو۔
حسن نے سکندر اور شاہ نواز کے چہروں کی طرف دیکھتے سرد لہجے میں کہا۔
تم ہوتے کون ہو ہمارے گاؤں کے معاملات میں دخل اندازی کرنے والے؟ ابتسام جو وہاں آیا تھا اس نے غصے سے حسن کو دیکھتے کہا۔
میں کون ہوں؟ یہ بات تم اپنے باپ اور چچا سے پوچھو اور تم تو میرے منہ مت ہی لگو تو زیادہ بہتر ہے۔
سکندر صاحب آپ کے گاؤں میں مہمانوں کو گھر بلانے کا رواج نہیں ہے کیا؟ ابتسام کو جواب دینے کے بعد حسن نے سکندر کو دیکھتے پوچھا۔
گاؤں والوں کی نظریں سکندر کے چہرے پر جمی تھیں۔
ہاں ہاں کیوں نہیں ابتسام ان کو حویلی لے کر جاؤ یہ دونوں ہمارے مہمان ہیں سکندر نے ابتسام کو دیکھتے جلدی سے کہا۔جو حیرانگی سے اپنے باپ کو دیکھ رہا تھا۔
اور اکمل آئندہ تم سے یا تمھاری بیوی سے ایسی کوئی غلطی نا ہو خیال رکھنا اس بات کا سکندر نے وہاں سے اٹھتے ہوئے کہا۔
گاؤں والے ایک دوسرے کے کان میں سرگوشیاں کرنے لگے تھے کیونکہ ایسا پہلی بار ہوا تھا۔
شاہ نواز نے بڑی مشکل سے اپنے غصے کو کنٹرول کیا تھا۔
چلو حویلی چلتے ہیں حسن نے طالش کو دیکھتے کہا جو ہنس پڑا تھا۔
💜 💜 💜 💜
کیا ڈھونڈ رہی ہے آپ بی بی جی؟ ملازمہ نے سیرت کو کچھ ڈھونڈتے ہوئے دیکھا تو پوچھا۔
کچھ نہیں سیرت نے جلدی سے کہا کیونکہ وہ اپنا ڈائجسٹ ڈھونڈ رہی تھی۔اگر ملازمہ کو بتا دیتی تو اُس نے سیدھا جا کر بڑے سائیں کو بتا دینا تھا۔
سیرت سیدھی شیریں کے کمرے میں گئی۔
شیری پتہ نہیں میں نے اپنا ڈائجسٹ کہاں رکھ دیا ہے اگر کسی کے ہاتھ لگ گیا تو سیرت نے ناخن کو دانتوں میں لیتے کہا۔
تمہیں میں نے کتنی بار منع کیا ہے اب پتہ نہیں کہاں پر ہے؟ اگر کسی کے ہاتھ لگ گیا تو؟ شیریں نے بھی پریشانی سے کہا۔
نا تو اس حویلی میں موبائل ہے اور نا ٹی وی تو میں سارا دن کیا کروں ناول پڑھ کر ہی گزارا کرنا پڑتا ہے سیرت نے اردگرد دیکھتے کہا۔
اس کے علاوہ بھی بہت سے کام ہے کرنے کو شیریں نے کہا تو اتنے میں ملازمہ وہاں آئی۔
بی بی جی بڑے سائیں نے سختی سے منع کیا ہے کہ آپ دونوں باہر نہیں آئے گی اُن کے کچھ مہمان آئے ہیں ملازمہ نے نظریں جھکا کر کہا۔
ٹھیک ہے سیرت نے سنجیدگی سے کہا۔
ملازمہ وہاں سے چلی گئی تھی۔
ایسا بھی کون آیا ہے میں تو ضرور دیکھوں گی سیرت نے مسکراتے ہوئے کہا۔
سیرت کبھی تو بات مان لیا کرو تم کہی نہیں جاؤ گی شیریں نے جلدی سے کہا۔
میں نہیں بلکہ ہم دونوں باہر جائیں گئے سیرت نے کہا اور بنا شیریں کا جواب سنے اسے ہاتھ سے پکڑ کر کمرے سے باہر لے گئی۔
سیرت اگر کسی نے دیکھ لیا تو چلو کمرے میں شیریں نے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا۔
تم دونوں کو منع کیا تھا نا کمرے باہر نہیں آنا ابتسام نے دونوں کو دیکھتے سنجیدگی سے کہا۔
بھائی کیا ہوا؟ ہمیں تو کسی نے نہیں بتایا ٹھیک ہے ہم واپس جا رہے رہے ہیں۔سیرت نے جلدی سے کہا اور وہاں سے شیریں کا ہاتھ پکڑے جانے لگی۔
ابتسام نے شیریں کا ہاتھ پکڑ کر اسے روک لیا تھا۔
تم جاؤ وہ آتی ہے ابتسام نے سیرت کو دیکھتے کہا۔
لیکن بھائی سیرت نے کچھ کہنا چاہا لیکن ابتسام نے روک دیا تھا۔
میں نے کہا نا جاؤ یہاں سے ابتسام نے سنجیدگی سے کہا۔
سیرت خاموش رہی اور وہاں سے چلی گئی تھی۔
جب تک وہ لوگ یہاں پر ہیں تم باہر نہیں آؤ گی سمجھ گئی؟ ابتسام نے شیریں کو دیکھتے کہا۔
حسن اندر چلا گیا تھا لیکن طالش شیریں اور سیرت کو دیکھتے وہی رک گیا تھا۔ابتسام نے طالش کو نہیں دیکھا تھا۔
ایسا کون آیا ہے جو آپ سب لوگ اتنا پریشان ہو گئے ہیں؟ شیریں نے حیرانگی سے پوچھا۔
ابتسام نے سرد نظروں سے شیریں کو دیکھا تھا۔