Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

💜💜💜💜💜💜☠️☠️☠️☠️☠️
میرے آگے سوال جواب مت کیا کرو کتنی بار منع کیا ہے تمہیں جتنا کہا ہے اُتنا کیا کرو جاؤ اندر ابتسام نے شیریں کے بازو کو چھوڑتے ہوئے کہا اور خود اندر چلا گیا۔طالش وہاں سے پیچھے ہٹ گیا تھا۔
ابتسام کے جانے کے بعد طالش شیریں کے راستے میں آیا تھا۔
شیریں نے آنکھوں میں خوف لیے سامنے کھڑے انسان کو دیکھا۔ناجانے کیوں لیکن طالش کو دیکھ کر اسے خوف محسوس ہوا تھا۔
نام کیا ہے تمھارا؟ طالش نے گہری نظروں سے سامنے کھڑی شیریں کو دیکھتے پوچھا۔جو اس کی نظروں سے کنفیوز ہو رہی تھی۔
شیریں نام ہے میرا
شیریں نے اپنی ہاتھ کی انگلیوں کو مڑوڑتے ہوئے نظریں جھکا کر کہا۔
تو تم ہو میری مسز طالش نے مسکرا کر کہا اور شیریں کے مزید قریب آیا۔
میری بیوی ہوتے ہوئے تمھارا وہ آوارہ کزن تمہیں کیسے ہاتھ لگا سکتا ہے؟ طالش نے سرد لہجے میں شیریں کو بازو سے پکڑتے کہا ایک دم اس کا لہجہ تبدیل ہوا تھا جس سے شیریں کو خوف محسوس ہوا۔لیکن حیران تو وہ بیوی کی بات پر ہوئی تھی۔سامنے کھڑا خوبرو انسان اس کا شوہر تھا۔
آج اتنے سالوں بعد آپ کو اپنی بیوی کا خیال آ ہی گیا؟ لیکن میں اب آپ کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی طلاق نامہ تو آپ کو مل ہی چکا ہو گا۔
شیریں نے غصے سے طالش کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے کہا۔کیونکہ اسے طالش پر بہت غصہ تھا جو نکاح کرکے اسے بھول چکا تھا۔اس لیے جو منہ میں آرہا تھا بولتی جا رہی تھی۔
لگتا ہے پورے کا پورا خاندان ہی عقل سے پیدل ہے۔ اور مسز طالش آپ کو دیکھ کر لگا نہیں تھا کہ آپ بولتی بھی ہیں۔طالش نے تھوڑا جھک کر شیریں کی نیلی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے طنزیہ لہجے میں کہا۔
اور جہاں تک بات ہے طلاق نامے کی تو میرا نہیں خیال کے تمھارا باپ سے تمھاری رائے جانی ہو گی بلکہ حکم دیا ہو گا۔اس لیے یہ تو ہرگز مت کہو کہ اس میں تمھاری مرضی بھی شامل تھی طالش نے ہلکا سا مسکرا کر کہا۔
آپ دور رہ کر بات کریں اگر کسی نے دیکھ لیا تو میرے لیے اچھا نہیں ہو گا۔شیریں نے ارد گرد دیکھتے بات بدلتے کہا۔کیونکہ وہ سچ ہی تو کہہ رہا تھا۔
تمھارا کزن تمھارا ہاتھ پکڑ سکتا ہے لیکن شوہر قریب آکر بات بھی نہیں کر سکتا یہ تو غلط بات ہے مسز اور طالش نے شیریں کو بازو سے پکڑ کر خود کے قریب کرتے مزید کہا۔جو اس کے چوڑے سینے سے آ ٹکرائی تھی۔
میں چاہتا ہوں کہ تمھارے گھر والے مجھے دیکھیں طالش نے اپنے لہجے میں سنجیدگی لاتے کہا۔
شکل سے تو آپ ایک سلجھے ہوئے انسان لگتے ہیں۔لیکن شاہد میں نے آپ کے بارے میں غلط اندازہ لگایا ہے۔شیریں سنجیدگی سے کہا۔
کبھی کسی کی شکل دیکھ کر اندازہ مت لگانا کہ وہ کتنا شریف اور اچھا ہے کیونکہ طالش نے شیریں کے کان پر آئے بالوں کو اپنے ہاتھ سے پیچھے کرتے سرگوشی نما انداز میں مزید کہا۔
بعد میں تمہیں اپنے اندازے پر شرمندگی محسوس ہو گی اور میں بلکل بھی اچھا نہیں ہوں اگر آئندہ اُس انسان نے تمہیں ہاتھ لگایا تو اُس کے ساتھ تمہیں بھی ایسی سزا دوں گا کہ تمھاری روح تک کانپ جائے گی اس کی گرفت بھی شیریں کی کمر پر سخت ہو گئی تھی بےبسی سے شیریں کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔
تمھارا باپ تو کبھی نہیں مانے گا اب مجھے دوسرا راستہ اختیار کرنا پڑے گا جو تمھارے لیے تکلیف کا باعث ہو گا۔
ویلکم ٹو مائی ولڈ مسز طالش
اور اس خوش فہمی میں ہرگز مت رہنا کہ میں تمہیں دیکھتے ہی تمھاری محبت میں گرفتار ہو گیا ہوں اس لیے تم پر اپنا حق جما رہا ہوں بلکہ میں تمہیں اپنے فائدے کے لیے استعمال کروں گا۔تم صرف میرے ہاتھوں کی کٹھ پتلی ہوگی جس کی ڈور میرے ہاتھ میں ہو گی۔
طالش نے شیریں کے کان کی لو پر ہلکا سا کاٹتے ہوئے کہا۔جو ایک دم کپکپا سی گئی تھی۔
شیریں کیا ہوا؟ سیرت جو اس کا انتظار کر رہی تھی جب وہ نہیں آئی تو باہر آکر اسے دیکھتے پوچھا۔
وہ شیریں نے سامنے اشارہ کرتے کہا۔
کیا ہے وہاں؟ سیرت نے سامنے دیکھتے پوچھا۔
نہیں کچھ نہیں شیریں نے جلدی سے کہا اور اپنے کمرے کی طرف بھاگ گئ۔
اسے کیا ہوا؟ لگتا ہے اس نے کوئی بھوت دیکھ لیا ہے۔سیرت نے حیرانگی سے اپنے کندھے اچکاتے کہا اور خود بھی وہاں سے چلی گئی۔
💜 💜 💜 💜
تم دونوں یہاں کیوں آئے ہو؟ سکندر نے سنجیدگی سے طالش اور حسن کو دیکھتے پوچھا۔
شاہ نواز اور ابتسام بھی وہی پر موجود تھے۔
آپ کو کیا لگتا ہے ہماری یہاں آنے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ حسن نے تھوڑا آگے کو جھکتے ہوئے پوچھا۔
صاف صاف لفظوں میں بتاؤ کیوں تم لوگ یہاں پر آئے ہو؟ ابتسام نے غصے سے پوچھا۔
میں تمھارے باپ سے بات کررہا ہوں تو بہتر ہے کہ تم درمیان میں نا ہی بولو حسن نے سرد لہجے میں کہا۔ابتسام کو غصہ تو بہت آیا لیکن اپنے باپ کے اشارہ کرنے پر خاموش رہا تھا۔
سیدھی سی بات ہے شاہ نواز صاحب میں اپنی بیوی کو لینے آیا ہوں اب آپ ہمیں بتا دیں کب تک اپنی بیٹی کی رخصتی کرنے کا ارادہ ہے اب پوری زندگی تو اُسے آپ گھر پر نہیں بیٹھا سکتے نا طالش پورے معاملے میں اب بولا تھا۔
کیا تمہیں طلاق نامہ نہیں ملا؟ میری بیٹی تمھارے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تو بہتر یہی ہے کہ تم بھی اس رشتے کو ختم کر دو شاہ نواز نے سنجیدگی سے کہا۔
یہ رشتہ میری ماں نے اپنی خواہش کے پر کیا تھا شاہ نواز صاحب اور آپ کو کیا لگتا ہے میں اتنی آسانی سے اُس طلاق نامے پر دستخط کر دوں گا؟
آپ سب کی بھلائی اسی میں ہے کہ میری بیوی کو میرے حوالے کر دیں ورنہ مجھے دوسرا راستہ اختیار کرنا پڑے گا۔
طالش نے وہاں سے کھڑے ہوتے سنجیدگی سے کہا اور اب ابتسام کو ساری بات سمجھ میں آئی تھی۔
وہ اب میری ہونے والی بیوی ہے اور تمھاری بھلائی بھی اسی میں ہے کہ اُسے طلاق دے دو سمجھے ابتسام نے طالش کے سامنے آتے کہا۔
زبان سنبھال کر بات کرو جس کے ساتھ تم شادی کے خواب دیکھ رہے ہو وہ میری بیوی ہے اور اُس کے خلاف میں کوئی بات برداشت نہیں کروں گا۔
اور یہاں میں آرام سے بات کرنے آیا تھا لیکن لگتا ہے آپ لوگوں کو پیار کی زبان سمجھ میں نہیں آتی اور اب میرا ارادہ تبدیل ہو گیا ہے میں آج اور اسی وقت اپنی بیوی کو اپنے ساتھ لے کر جاؤں گا۔
اگر آپ لوگوں نے منع کیا تو میری ایک کال پر باہر کھڑی پولیس حویلی میں آجائے گی اور آپ لوگوں کو اپنی عزت بہت پیاری ہے مجھے نہیں لگتا ہے آپ لوگ ایسا کچھ ہونے دو گئے۔اس لیے میرے بیوی کو بلائیں ہمیں نکلنا بھی ہے۔طالش نے اپنی جیکٹ کی پاکٹ میں ہاتھ ڈالتے ہوئے کہا۔
تم اب اپنی حد سے زیادہ بڑھ رہے ہو ابتسام نے غصے سے طالش کے گریبان کو پکڑتے کہا۔حسن آرام سے ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا ہوا تھا۔
دوبارہ اگر تمھارے ہاتھ میرے گریبان تک پہنچے تو تمھارا وہ حال کروں گا کہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہو گئے۔طالش نے ابتسام کے دونوں ہاتھوں کو جھٹکتے ہوئے کہا۔
ابھی ہم اپنی بیٹی کی رخصتی نہیں کرنا چاہتے لیکن جب ہمارا ارادہ ہوا ہم تمہیں بتا دیں گئے سکندر نے بات کو.سنبھالتے ہوئے کہا۔
آپ لوگوں کو میں پاگل لگتا ہوں؟ اب تو میں اپنی بیوی کو ایک سکنڈ بھی یہاں نہیں چھوڑ سکتا کیونکہ آپ کے بیٹے کی گندی نظر میری بیوی پر ہے۔جلدی میری بیوی کو لے آئیں میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے طالش نے اپنی کلائی پر بندھی گھڑی کو دیکھتے کہا۔
بھائی ابھی شیریں کو ان کے ساتھ بھیج دیتے ہیں اگر پولیس حویلی میں آگئی تو ہماری عزت دو ٹکے کی رہ جائے گی اور اپنی عزت پر میں ایک حرف بھی نہیں آنے دے سکتا شاہ نواز نے سکندر کو دیکھتے کہا۔
بلکل ٹھیک کہہ رہے ہو تم جاؤ اور اپنی بیٹی کو لے کر آؤ اس معاملے کو ہم بعد میں دیکھتے ہیں۔
سکندر نے کہا تو شاہ نواز باہر چلا گیا۔
ابتسام بھی اپنے چچا کے پیچھے باہر چلا گیا تھا۔
یہ آپ کیا کرنے جا رہے ہیں؟ شیریں کو اُس انسان کے حوالے کرنے والے ہیں؟ ابتسام نے سرد لہجے میں اپنے چچا کو دیکھتے کہا۔
بیٹا شیریں اُس کی بیوی ہے اُن دونوں کا نکاح ہو چکا ہے اور وہ آج حویلی آگیا ہے اور ہمیں دھمکی دے رہا ہے کہ وہ پولیس کو بھی لے کر آیا ہے تو میں ہرگز نہیں چاہتا کہ ایک عورت کی وجہ سے ہماری عزت خراب ہو شاہ نواز نے سنجیدگی سے کہا۔
شاہ نواز اتنا بے حس ہو چکا تھا کہ اسے یہ بھی ہوش نہیں تھا کہ وہ جس کی بات کر رہا ہے وہ اس کی اپنی سگی بیٹی ہے۔
تم فکر مت کرو ہم بعد میں اس بارے میں کچھ نا کچھ سوچ لیں گئے۔شاہ نواز نے ابتسام کے کندھے کو تھپتھپاتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔ابتسام غصے سے حویلی سے نکل گیا تھا۔
💜 💜 💜 💜
یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ میں اپنی بیٹی کو کیسے بھیج سکتی ہوں نگین نے شاہ نواز کے سامنے آتے ہوئے کہا۔
میں نے تم سے رائے نہیں مانگی بلکہ حکم دیا ہے جاؤ اپنی بیٹی کو لے کر آؤ شاہ نواز نے سرد لہجے میں کہا۔
شاہ نواز شیریں آپ کی بیٹی ہے آپ اُس کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہیں۔
یہ کوئی طریقہ نہیں ہے نگین نے بےبسی سے کہا۔
میں اپنی بیٹی کا تم سے بہتر ہی سوچوں گا فکر مت کرو اور وہ اپنے شوہر کے ساتھ جا رہی ہے کسی غیر کے ساتھ میں اُسے نہیں بھیج رہا جاؤ اُسے لے کر آؤ شاہ نواز نے سنجیدگی سے کہا۔
نگین جانتی تھی اس کا بولنا بےکار ہے اس لیے خاموش سے وہاں سے چلی گئی۔
💜 💜 💜💜
امی یہ کیا کر رہی ہیں آپ؟ شیریں نے اپنی ماں کو الماری میں کچھ تلاش کرتے دیکھا تو پوچھا۔سیرت بھی وہی پر موجود تھی۔
تمھارا باپ چاہتا ہے کہ اب تمہیں رخصت کر دیا جائے نگین نے الماری سے ایک سرخ رنگ کی چادر نکالتے اپنا رخ شیریں کی طرف کرتے کہا۔
کیا مطلب؟ امی میں کہی نہیں جا رہی شیری نے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا۔
تمھارا باپ اور بڑے سائیں فیصلہ کر چکے ہیں اب کچھ نہیں ہو سکتا اور ویسے بھی اُن کو اپنی عزت زیادہ عزیز ہے۔
اپنی عزت کی خاطر وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔اس لیے خاموش سے اس چادر کو لو اور میرے ساتھ باہر آجاؤ نگین نے اپنی بیٹی سے نظریں چراتے ہوئے کہا۔
شیریں کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔
سیرت سنجیدگی سے کھڑی دونوں کو دیکھ رہی تھی۔
اور بنا شیریں کو کچھ کہے وہاں سے نکل گئی۔
سیرت اُس کمرے کی طرف گئی تھی جہاں پر طالش اور حسن موجود تھے۔یہاں پر کسی بھی عورت کا آنا منع تھا۔
سکندر وہاں سے اٹھ کر چلا گیا تھا اب دونوں بھائی وہاں پر بیٹھے تھے۔
ہمارا ارادہ آج صرف بات کرنے کا تھا حسن نے طالش کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
ہاں پہلے میرا بھی ارادہ کچھ ایسا ہی تھا لیکن اب تبدیل ہو گیا۔وہ کمینہ انسان میرے سامنے میری بیوی سے شادی کرنے کی بات کر رہا ہے۔طالش نے غصے سے کہا۔
تو اس وجہ سے تم اپنی بیوی کو یہاں سے لے کر جانا چاہتے ہو؟
حسن نے اپنی بیوی پر زور دیتے کہا۔طالش نے گردن ترچھی کیے حسن کو دیکھا تھا۔
جو بھی ہے وہ میری بیوی ہے اور اپنے نام کے ساتھ جڑی کسی چیز کو بھی میں اُس انسان کے حوالے نا کرو اور وہ تو پھر بھی انسان ہے۔
طالش نے گہرا سانس لیتے کہا۔
مجھے لگتا ہے ہمیں مارنے کا پلان بن رہا ہے اس لیے تو سب یہاں سے اٹھ کر چلے گئے ہیں طالش نے ہنستے ہوئے کہا۔
تم نے جو اُن سے مانگا ہے طالش وہ دینا اتنا آسان نہیں ہے بےشک اس گھر کے مردوں کو عورتوں کی پرواہ نہیں ہے۔لیکن تمھاری بیوی کی ماں ہے باقی سب بھی ہیں اُن کے لیے یہ سب کرنا اتنا آسان نہیں ہے اور خاص طور پر تمھاری بیوی کے لیے حسن نے سمجھانے والے انداز میں کہا۔
اس سے پہلے طالش کوئی جواب دیتا سیرت وہاں آئی تھی اس نے شکر ادا کیا کہ بابا سائیں یہاں پر نہیں ہیں۔
طالش اور حسن دونوں نے نظریں اٹھا کر سامنے کھڑی سیرت کو دیکھا تھا۔
آپ دونوں شکل سے تو کافی پڑھے لکھے اور اچھے لوگ لگ رہے ہو لیکن مجھے امید نہیں تھی کہ آپ لوگ بھی ہمارے گھر کے مردوں کی طرح نکلیں گئے۔آپ دونوں میں سے جو بھی شیری کا شوہر ہے مجھے اُس سے کچھ سوال پوچھنے ہیں سیرت نے سنجیدگی سے دونوں کو دیکھتے ہوئے کہا۔
حسن بہت غور سے سیرت کو دیکھ رہا تھا۔اس کی نظروں کی تپش سے سیرت کا دل بہت زور سے دھڑکا تھا لیکن اس نے حسن کو اگنور کیا تھا۔
جی فرمائیں طالش نے کھڑے ہوتے کہا۔
نکاح کے بعد آپ میری بہن کو چھوڑ کر کہاں چلے گئے تھے؟ پیچھے آپ کی بیوی کے ساتھ کیا کچھ ہوا آپ کو کچھ بھی معلوم نہیں ہے۔اور آج اتنے سالوں بعد آکر آپ اپنا حق جما رہے ہیں کیوں؟ جب اُسے آپ کی ضرورت تھی تو آپ ناجانے کہاں تھے لیکن آج آپ کو اپنی بیوی یاد آگئی؟ سیرت نے کرخت لہجے میں کہا۔
حسن کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی۔
اور میں جانتی ہو اگر آپ شیریں کو اپنے ساتھ لے کر جا رہے ہیں تو اس میں بھی آپ کا کوئی نا کوئی اپنا فائدہ ہو گا۔جس طرح اس حویلی کے مرد عورتوں کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرتے ویسے ہی آپ بھی کریں گئے سیرت نے غصے سے کہا۔
محترمہ بہت ہو گا ہم آپ کا لحاظ کر رہے ہیں اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کچھ بھی بولتی جائیں حسن نے سیرت کے سامنے آتے سرد لہجے میں کہا۔
اچھا آپ کسی کا لحاظ بھی کرتے ہیں؟ خیر مجھے معلوم نہیں تھا لیکن میری بہن کہی نہیں جائے گی اگر آپ دونوں کے ارادے نیک ہیں تو انسانوں کی طرح ولیمے کا فنکشن رکھے اور میری بہن کو سارے گاؤں والوں کے سامنے عزت کے ساتھ رخصت کرکے لے جاؤ اگر اس طرح نہیں لے کر جا سکتے تو آپ لوگ یہاں سے جا سکتے ہو سیرت نے طالش کو دیکھتے کہا۔جو خاموشی سے سیرت کی بات سن رہا تھا۔
اگر طالش تمھاری بہن کو آج ہی لے کر جانا چاہیں تو؟ حسن نے ایک قدم سیرت کی طرف بڑھاتے پوچھا۔
تو؟ سیرت نے الٹا سوال کیا۔
تو یہ محترمہ ہم آپ کی بہن کو آج ہی رخصت کرکے کے کر جائیں گئے تم لوگوں کے گاؤں والے کیا سوچتے ہیں اس سے ہمیں فرق نہیں پڑتا حسن نے گہرا سانس لیتے کہا۔
آپ لوگوں کو فرق پڑے گا بھی نہیں اور لوگ تو یہی سمجھے گئے کہ میری بہن میں کوئی نا کوئی کمی تھی اس لیے راتوں رات رخصتی کر دی۔سیرت نے حسن کو گھورتے ہوئے کہا۔
دیکھیں وہ میری بیوی ہے طالش نے کچھ کہنا چاہا لیکن سیرت نے درمیان میں ہی اس کی بات کو ٹوک دیا تھا۔
اب آپ کو یاد آرہا ہے کہ وہ آپ کی بیوی ہے اُس وقت آپ کہاں تھے جب ساتھ والے گاؤں کے چودھری کے بیٹے نے میری بہن کو اغوا کیا تھا؟ سیرت نے غصے سے کہا اسے نہیں معلوم تھا کہ یہ بات اسے بتانی چاہیے تھی یا نہیں لیکن اب تو اس کی زبان سے نکل چکی تھی۔
حسن نے طالش کے چہرے کی طرف دیکھا جس کے تاثرات اچانک سرد ہو چکے تھے۔
💜 💜 💜 💜
نائل تم کیا کرنے والے ہو؟ شہریار نے نائل کو دیکھتے پوچھا۔
شادی اور تمہیں تو خوش ہونا چاہیے کہ تمھارا بھائی شادی کر رہا ہے۔نائل نے مسکراتے ہوئے سگریٹ اپنے لبوں میں دباتے ہوئے کہا۔
تم شادی صرف بدلے کے لیے کر رہے ہو شہریار نے سرد لہجے میں کہا۔
شادی تو شادی ہوتی ہے چاہے بدلے کے لیے ہو یا کوئی اور وجہ ہو نائل نے عام سے لہجے میں کہا۔
تم غلط کر رہے ہو نائل شہریار نے اسے سمجھانا چاہا۔
ہاں جانتا ہوں صحیح کر کے دیکھا تو لوگوں نے کمزور سمجھ لیا اب غلط کر کے دیکھتا ہوں کیا ہوتا ہے۔
تم چھوڑو اس بات کو میں آفس جا رہا ہوں تم نے ہسپتال جانا ہے یا نہیں؟ نائل نے بات کو تبدل کرتے پوچھا۔
ہاں میں بھی تھوڑی دیر تک نکل رہا ہوں۔
شہریار نے کہا۔
نائل نے آج فل بلیک کلر کی ڈریسنگ کی تھی کف کو فولڈ کیے چہرے پر سنجیدگی لیے اس وقت وہ شہریار کے سامنے کھڑا تھا۔
شہریار نے یہ بات قبول کی تھی کہ اس کا بھائی کسی کو بھی اپنا اسیر بنا سکتا ہے اس کی شخصیت ہی کچھ ایسی تھی۔
نائل نے ایک نظر شہریار کو دیکھا اور وہاں سے چلا گیا۔
شہریار کو اس کی ارادے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہے تھے۔