No Download Link
Rate this Novel
Episode 1
مجھے یہاں کون لایا ہے؟ جواب دو؟ سامنے کھڑی لڑکی نے ملازمہ کو دیکھتے چیختے ہوئے پوچھا۔
جب اس کی آنکھ کُھلی اس نے خود کو کمرے میں بند پایا تھا۔اور اب کافی دیر دروازہ کھٹکھٹانے کے بعد ج تھک ہار کر زمین پر بیٹھی تو ملازمہ ہاتھ میں کھانے کی ٹرے پکڑے اندر آئی تھی۔
بی بی جی مجھے اس بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں ہے آپ کھانا کھا لیں ملازمہ نے نظریں جھکا کر کہا۔
مجھے گاؤں واپس جانا ہے میرے گھر والے پریشان ہو رہے ہوں گئے۔آپ سمجھ کیوں نہیں رہی۔پلیز مجھے یہاں سے جانے دیں مقابل نے بےبسی سے ملازمہ کو دیکھتے کہا۔ملازمہ کو دیکھ کر اسے تھوڑی بہت امید نظر آئی تھی۔
بی بی جی بڑے صاحب کل یہاں آجائیں گئے آپ اُن سے بات کر لیجیے گا لیکن ابھی آپ یہاں سے کہی نہیں جا سکتی ملازمہ نے مودبانہ انداز میں کہا۔
بھاڑ میں گئے تمھارے صاحب خون پی جاؤں گی میں تمھارے بڑے صاحب کا لڑکی نے چیختے ہوئے کہا اور اپنے قدم دروازے کی طرف بڑھا دیے۔اس نے جلدی سے باہر جا کر دروازے کو لاکٹ کر دیا تھا۔
بی بی جی ایسی غلطی مت کیجیے گا بڑے صاحب آپ کو معاف نہیں کریں گئے ملازمہ نے دروازے کو پیٹتے ہوئے کہا۔
لیکن وہ ملازمہ کی بات کو نظر انداز کیے وہاں سے بس نکلنا چاہتی تھی اسے اپنے ڈوپٹے کا بھی ہوش نہیں تھا جو شاید کمرے میں ہی رہ گیا تھا۔
اس سے پہلے وہ گھر سے باہر قدم رکھتی کسی نے اسے بازو سے پکڑ کر خود کی طرف کھنچا تھا۔یہ سب کچھ اتنی جلدی ہوا کہ لڑکی کو سمجھ نہیں آیا اور سیدھا مقابل کے چوڑے سینے سے جا ٹکرائی۔
اس کی آنکھیں خوف سے پھیل گئی تھیں جب اس نے سامنے کھڑے انسان کو خود کے بےحد قریب کھڑے دیکھا۔
آپ……. لڑکی کی زبان سے بس یہی الفاظ ادا ہوئے تھے آنکھوں میں بےیقینی تھی۔
تم. مجھے مس کر رہی تھی جانِ من مقابل نے اس کے کان کے پاس جھکتے ہوئے سرگوشی نما انداز میں کہا۔
لیکن وہ تو اپنے سامنے کھڑے انسان کو دیکھ کر وہی پتھر کی بن گئی تھی۔آنکھوں کے سامنے آتے اندھیرے کی وجہ سے وہی وہ مقابل کی بانہوں میں جھول گئی۔
💜 💜 💜 💜
امی جان مجھے یہ سب نہیں سیکھنا سیرت نے منہ بسوڑتے اپنی ماں کو دیکھتے کہا۔
ارے پگلی کیوں نہیں سیکھنا تم نے اور تیری شادی کی عمر بھی ہو رہی ہے۔کل کو تیری شادی ہو گی اور اگر تجھے کچھ نا آیا تو تیری ساس نے تو مجھے تانے دینے ہیں نا کہ ماں نے کچھ سیکھا کر نہیں بھیجا۔
نیلم نے اپنی لاڈلی اور ضدی بیٹی کو دیکھتے ہوئے کہا۔
امی جان آپ دیکھ لینا مجھے اللہ تعالیٰ اتنا اچھا شوہر دے گا کہ وہ مجھے کوئی کام کرنے نہیں دے گا اور میرے حصے کی باتیں بھی وہ اپنی ماں کی سن لے گا۔
اور امی جان سیرت نے اپنی ماں کی طرف جھکتے ہوئے رازداری سے کہا۔
ہو سکتا ہے میری ساس ہی نا ہو سیرت کہتے ہی پیچھے ہٹ گئی۔
کیا فضول بول رہی ہو؟ تمھاری جو یہ زبان قینچی کی طرح چلتی ہے نا کوشش کرنا اپنے باپ بھائی کے سامنے نا کبھی چل پڑے ورنہ وہ تمھاری زبان کاٹنے میں دیر نہیں لگائے گئے۔نیلم نے اپنی بیٹی کو گھورتے ہوئے کہا۔
بیگم صاحبہ بڑے سائیں آگئے ہیں ملازمہ نے آکر اطلاع دی تو دونوں ماں بیٹیوں نے اپنے سر پر ڈوپٹہ ٹھیک کیا اور ادب سے اپنی جگہ پر کھڑی ہو گئی۔
السلام علیکم سائیں!!!
آپ کے لیے پانی لاؤں؟ نیلم نے نظریں جھکا کر پوچھا۔
تمہیں کیا ابھی بھی بتانا پڑے گا؟ ابھی تک تمہیں معلوم نہیں ہوا کہ اس وقت پانی نہیں بلکہ چائے پیتا ہوں۔اتنے سال تمہیں یہاں ہو گئے ہیں لیکن ابھی بھی تم ناسمجھ اور جاہل کی جاہل ہی ہو۔ بڑے سائیں نے غصے سے نیلم کو دیکھتے سرد لہجے میں کہا۔
معاف کر دیں سائیں میں ابھی چائے لاتی ہوں نیلم نے جلدی سے کہا اور سیرت کا ہاتھ پکڑے اسے اپنے ساتھ لے کر جانے لگی۔
نیلم تم نے لگتا ہے اپنی بیٹی کی تربیت بھی اپنے جیسی ہی کی ہے جسے یہ تک ہوش نہیں کہ اپنے بڑے بھائی اور باب کو سلام ہی کر لے بابا سائیں نے سنجیدگی سے سامنے دیکھتے کہا۔ان کے ساتھ والی کرسی پر ابتسام براجمان تھا۔
نیلم نے سیرت کو اشارہ کیا کہ سلام کرو تو سیرت نے آگے بڑھ کر دونوں کو سلام کیا۔
نیلم سیرت کا ہاتھ پکڑے اسے وہاں سے لے گئی تھی کہی وہ کچھ الٹا سیدھا ہی نا بول دے۔
تمھارے چچا جان ابھی تک شہر سے واپس نہیں آئے؟سکندر نے اپنے لاڈلے کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
بابا سائیں وہ کل تک آجائیں گئے اُن کی کال آئی تھی کچھ ضروری کام اُن کو یاد آگیا تھا۔
اور وہ کہہ رہے تھے کہ انہوں نے آپ سے ایک ضروری بات بھی کرنی ہے۔ابتسام نے سنجیدگی سے کہا۔
ٹھیک ہے تم ایسا کرو ایک چکر زمینوں کا لگا آؤ۔اور کسی سے الجھنے کی ضرورت نہیں ہے۔خیال رکھنا اس بات کا بابا سائیں نے کہا تو ابتسام اثبات میں سر ہلاتے وہاں سے چلا گیا۔
💜💜💜💜
تمہیں کیا ہوا ہے؟ سیرت نے شیریں کو دیکھتے پوچھا۔
کچھ نہیں بس ویسے ہی یہاں بیٹھی ہوئی ہوں۔ تم آؤ یہاں بیٹھو شیریں نے ہلکا سا مسکرا کر سیرت کا ہاتھ پکڑتے کہا۔
جانتی ہو گھر میں تمھاری شادی کی بات چل رہی ہے ابتسام بھائی کے ساتھ کیا تم خوش ہو؟ سیرت نے شیریں کے سامنے بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
جس پر شیریں کھوکھلی ہنسی ہنس پڑی تھی۔
میری رضامندی معنی نہیں رکھتی سیرت
ہو گیا وہی جو بابا سائیں اور تایا سائیں چاہیں گئے۔شیریں نے کہتے ہی سیرت کی طرف دیکھا۔
یہ کیا بات ہوئی تمھاری پسند بھی معنی رکھتی ہے زندگی تم نے گزارنی ہے بابا سائیں یا چاچا سائیں نے نہیں سیرت نے سنجیدگی سے کہا۔
سیرت تم اچھے سے جانتی ہو کہ ہمارے ہاں عورت کا کیا مقام ہے اور تمھارے یا میرے منہ سے پسند یا نا پسند کی باتیں اچھی نہیں لگتی۔ اور اگر میری تمھارے بھائی سے شادی ہو جاتی ہے تو کیا تم خوش نہیں ہو گئی؟ شیریں نے الٹا سوال کیا۔
اگر تمہیں میں سچ بتاؤں تو میں نہیں چاہتی کہ تم کبھی بھی میری بھابھی بنو کیوں کہ تم میرے بھائی سے زیادہ اچھے کی حقدار ہو اور تم بھول رہی ہو شیریں کہ تم اس سے پہلے سیرت اپنی بات مکمل کرتی شیریں نے اس کے ہونٹوں پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا۔
سب کچھ ختم ہو گیا ہے سیرت اور وہ ماضی تھا جس سے میرا اب کچھ بھی لینا دینا نہیں ہے اور آہستہ آواز میں بات کیا کروں اگر کسی نے سن لیا تو ہم دونوں کی خیر نہیں۔شیریں نے ارد گرد دیکھتے ہوئے کہا۔
تم اتنا ڈرتی کیوں ہو شیریں ؟ سیرت نے شیری کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے کہا۔
تم بھول گئی ہو کہ تاتا سائیں اور بابا نے میری بہن کے ساتھ کیا کیا تھا؟ اُس کی کیا غلطی تھی صرف اتنی کہ اُسے پیار ہو گیا تھا۔
میں نے اپنی بہن کو اپنی آنکھوں کے سامنے تڑپتے ہوئے دیکھا ہے سسک سسک کر مرتے ہوئے دیکھا ہے سیرت
اور دیکھو کیسی بہن ہوں میں اپنی بہن کو نہیں بچا سکی اور اگر اب میں نے یا تم نے کوئی بھی ایسی حرکت کی تو یہ لوگ ہماری بھی جان لے لیں گئے۔اور میں مرنا نہیں چاہتی سیرت مجھے موت سے بہت ڈر لگتا ہے۔شیریں نے سیرت کے ہاتھ پر اپنی گرفت مضبوط کرتے بھاری لہجے میں کہا۔
سیرت نے بےبسی سے اپنی پیاری سی بہن کو دیکھا تھا۔بےشک دونوں کزنز تھیں لیکن پیار سگی بہنوں کی طرح تھا۔
فکر مت کرو تم پر کوئی مصیبت نہیں آنے دوں گی لیکن مجھے موت سے ڈر نہیں لگتا شیریں میں کوئی ایسی ویسی حرکت نہیں کروں گی جس سے میرے گھر والوں کا نام خراب ہو لیکن جو میرے شوق ہیں وہ میں ضرور پورے کروں گی اگر میری موت اپنے گھر والوں کے ہاتھ سے لکھی ہوئی تو وہی ٹھیک ہے لیکن جب تک میں زندہ ہوں اُس وقت تک تو ہم انجوائے کر سکتے ہیں نا تو چلو شاپنگ پر چلتے ہیں تمھارا موڈ بھی ٹھیک ہو جائے گا۔
سیرت نے شیریں کے آنسو صاف کرتے اسے اپنے سامنے کھڑے کرتے کہا۔
سیرت تم یہ مرنے کی باتیں نا کیا کرو شیریں نے کہا تو سیرت ہنس پڑی
اچھا میری بہن نہیں کرتی اب چلو سیرت نے ہنستے ہوئے کہا۔
سیرت تاتا سائیں ہمیں شہر جانے کی اجازت نہیں دیں گئے اور تم شاپنگ کے لیے وہی جاتی ہو۔شیریں نے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا۔
اس بار میرا موڈ گاؤں کے باہر جو مارکیٹ ہے وہاں جانے کا ہے تو وہاں جانے کی اجازت تو آسانی سے مل جائے گی نا اور ہم چچی جان کو ساتھ لے جاتے ہیں پھر کوئی مسئلہ نہیں ہو گا سیرت نے سوچتے ہوئے کہا تو شیریں کو بھی تھوڑا حوصلہ ہوا تھا کیونکہ وہاں جانے کی اجازت ان کو مل سکتی تھی۔
تم چادر لو میں بھی لے کر آتی ہوں سیرت نے کہا اور وہاں سے چلی گئی۔
سیرت کا رنگ شیریں کی طرح گورا نہیں تھا۔اس کی آنکھوں کا رنگ بھی نیلا تھا اسے دیکھ کر لوگ یہی سمجھتے تھے کہ شیریں خان ہے۔اور سیرت کا رنگ گندمی تھا لیکن اس نین نقش بہت پر کشش تھے۔شیری ہمیشہ اسے کہتی تھی کہ اس کی سمائل بہت پیاری ہے۔سیرت میڈم گلاسز بھی لگاتی تھی کیونکہ کچھ سال سے اس کی نظر بہت زیادہ کمزور ہو گئی تھی۔اور وجہ تھی ناولز پڑھنا سوائے شیری کے کسی کو معلوم نہیں تھا کہ یہ ناولز پڑھتی ہے۔حویلی کی عورتوں پر بہت سی پابندیاں عائد تھیں جو سیرت کو تو بلکل بھی پسند نہیں تھیں۔
💜 💜 💜 💜
یہ کیا بکواس ہے؟ طالش نے ہاتھ میں پکڑے پیپرز کو زمین پر پھینکتے ہوئے سرد لہجے میں کہا۔
کیا ہوا؟ حسن نے طالش کو دیکھتے سنجیدگی سے پوچھا۔
ان لوگوں کو کیا لگتا ہے میں اتنی آسانی سے ان کی بیٹی کا پیچھا چھوڑ دوں گا۔کبھی نہیں اب تو وہ لڑکی میری ضد بن چکی ہے جب تک میں اُسے یہاں اپنے گھر اپنے بیڈ تک اس سے پہلے طالش اپنی بات مکمل کرتا حسن نے اسے ٹوک دیا تھا۔
طالش اپنی بیوی کے بارے میں تم بات کر رہے ہو سوچ سمجھ کر بات کرو حسن نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے سگریٹ سلگاتے اسے ٹوکتے ہوئے کہا۔
تم بھی اچھی طرح جانتے ہو اس لڑکی کے باپ نے میری ماں کے ساتھ کیا کیا تھا۔
جس طرح میں نے تکلیف برداشت کی ہے ویسی ہی تکلیف اُن لوگوں کو بھی دوں گا۔اور یہ لڑکی تو ایک مہرہ ہے میرے لیے
بہت عزیز ہے نا ان کو اپنی عزت اور آنا اگر میں نے ان سب کو برباد نہیں کیا تو میرا نام بھی طالش نہیں۔
طالش نے اپنے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔
یہ پیپرز؟ حسن نے زمین پر گرے پیپرز کو دیکھتے پوچھا چہرے پر اس کے سنجیدگی چھائی ہوئی تھی۔
طلاق نامہ ہے طالش نے حقارت سے زمین پر گرے پیپرز کو دیکھتے کہا۔
اُن لوگوں کو لگتا ہے کہ تم آسانی سے اُن کی بیٹی کا پیچھا چھوڑ سکتے ہو حسن نے طنزیہ لہجے میں کہتے سگریٹ کا دھواں فضا میں چھوڑا۔
یہ تو اُن کی بھول ہے حسن اور اب مجھے لگتا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ میں اپنی بیوی کو اپنے گھر لے آؤں میں بھی تو دیکھوں طالش خانزادہ کی بیوی آخر کیسی ہے۔
طالش نے آنکھوں میں چمک لیے کہا۔ حسن اپنے بھائی کو اچھی طرح جانتا تھا اور وہ بہت کچھ سمجھ گیا تھا لیکن خاموش رہا تھا۔
💜 💜 💜 💜
اب تو بس کر دو گڑیا اور کتنی نیند پوری کرنی ہے؟ تین سال ہونے والے ہیں اور ابھی تک تم سو رہی ہو؟
نائل نے بیڈ پر لیٹے وجود کو دیکھتے کہا جسے دیکھ کر لگ رہا تھا جیسے وہ صدیوں کی بیمار لیٹی ہوئی ہو۔
جانتی ہو میں نے بہت سوچا ہے کہ مجھے کیا کرنا چاہیے اور اب میں اس نتیجے پر پہچا ہوں کہ اُن لوگوں کو بھی ویسے ہی تکلیف دوں گا جیسے اُس لوگوں نے تمہیں اور مجھے دی ہے۔
نائل نے بےبسی سے بیڈ پر لیٹے وجود کو دیکھتے کہا۔
اس کی باتوں سے لگ رہا تھا کہ اس کے ارادے بہت خطرناک ناک ہیں اور اس کے چہرے پر چھائی سنجیدگی کوئی بڑا طوفان لانے والی تھی۔
اس کی حالت میں کوئی بہتری آئی یا نہیں؟ نائل نے شہریار کو دیکھتے پوچھا۔
نہیں شہریار نے بس یہی جواب دیا۔
شہریار میں نے بہت کوشش کی اچھا بننے کی لیکن اب میں اچھا نہیں بننا چاہتا اچھا بن جاؤ تو لوگ ہمیں کمزور سمجھنے لگتے ہیں لیکن نائل کمزور تو بلکل بھی نہیں ہے ہمیں برباد کرکے وہ لوگ کیسے خوش رہ سکتے ہیں۔
نائل نے سرد لہجے میں کہا اتنے میں اس کا موبائل رنگ ہوا نائل نے موبائل پر نظر ڈالی اور وہاں سے کھڑا ہو گیا۔
شہریار خاموش ہی رہا تھا۔
رات پھر سے آؤں گا ٹھیک ہے میری گڑیا نائل نے ہلکا سا مسکرا کر کہا اور شہریار کے کندھے کو تھپتھپانے کے بعد وہاں سے چلا گیا۔
شہریار نے گہرا سانس لیتے بیڈ پر لیٹے وجود کو دیکھا جسے دیکھ کر لگتا تھا وہ معصوم لڑکی سب سے ناراض ہو کر گہری نیند میں جا سوئی ہے۔
💜💜💜💜💜
لڑکیوں ایسی بھی کیا چیزیں لانی تھیں تم دونوں نے کہ اس موسم میں باہر نکلنا پڑا ہے مجھے تو لگتا ہے بارش ہونے والی ہے۔نگین نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
شیریں نے تو اپنی چادر کے پلو سے اپنے چہرے کو کور کیا ہوا تھا اور سیرت نے بھی ایسا ہی کیا تھا لیکن گھر سے باہر آتے ہی اس نے چادر کا پلو چہرے سے پیچھے کر لیا۔
چچی جان آپ موسم تو دیکھیں کتنا اچھا ہو رہا۔اور کتنا ہی اچھا ہو جائے اگر بارش ہو جائے سیرت نے آسمان کی طرف دیکھتے حسرت سے کہا۔
بچیوں جلدی سے جو لینا ہے لو اگر دیر ہو گئی تو تمھارے بابا سائیں غصہ ہوں گئے۔
نگین نے سامنے دیکھتے کہا۔
تینوں مارکیٹ میں پہنچ چکی تھیں یہ ان کے گھر سے تھوڑی ہی دور تھی جہاں یہ لوگ اکثر آتی رہتی تھیں۔
وہ غصہ کب نہیں کرتے سیرت نے منہ بسوڑتے کہا۔شیریں نے اسے کہنی ماری تھی۔
کیا کر رہی ہو شیریں سیرت نے گھورتے ہوئے شیری کو کہا۔
تم نے شاپنگ کرنی تھی نا اب کر کیوں نہیں رہی شیریں نے دانت پیستے پوچھا۔
مجھے شاپنگ نہیں کرنی میں تو موسم کو انجوائے کرنے آئی تھی۔اگر تمہیں بتا دیتی تو تم کبھی نا آتی۔اور شیریں وہ دیکھو سامنے کتنے سارے درخت ہیں وہاں چلیں؟ میرا دل آم کھانے کو کر رہا ہے لیکن میں خود توڑوں گی سیرت نے سامنے دیکھتے ہوئے کہا۔
تمھارا دماغ تو ٹھیک ہے؟ امی کو کیا کہیں گئے اور کسی نے دیکھ لیا تو؟ میں نہیں جا رہی کہی بھی شیریں نے صاف منع کرتے کہا۔
تم نا جاؤ لیکن چچی جان کو سنبھال لینا میں تمھارے لیے بھی آم لے کر جلدی سے آتی ہوں سیرت نے کہا اور وہاں سے چلی گئی۔شیریں اسے روکتے ہی رہ گئی تھی لیکن اس نے نہیں سنی نگین رخ موڑے کھڑی سوٹ دیکھ رہی تھی۔
💜 💜 💜 💜
کتنی بار بکواس کی ہے میں نے کہ میرے سامنے زبان مت چلایا کرو لیکن لگتا ہے تمہیں میری زبان سمجھ میں نہیں آتی۔سکندر نے نیلم کو بالوں سے دبوچتے ہوئے غصے سے کہا۔
میں نے آپ کو کوئی جواب نہیں دیا سائیں میں نے آپ کو حقیقت سے آگاہ کیا ہے نیلم نے کراہتے ہوئے کہا۔
سکندر سیرت کی شادی کی بات طے کرنے والا تھا۔لیکن جس لڑکے کے ساتھ وہ سیرت کو بیانا چاہتا تھا وہ بھی سکندر اور شاہ نواز کی طرح جنگلی تھا اور نیلم نہیں چاہتی تھی کہ اس کی بیٹی بھی وہی سب کچھ برداشت کرے جو اس نے کیا ہے۔
تو اس نے سکندر کو اُس لڑکے کی حقیقت بتائی جو ساتھ والے گاؤں کے چودھری کا بیٹا تھا۔
دو بار تو پولیس سٹیشن بھی جا چکا تھا۔لیکن وہ اس بات پر فخر محسوس کرتا تھا کہ لوگ اس کے سامنے سر جھکا کر چلتے ہیں۔
اب تم مجھے بتاؤ گی کہ اُس لڑکے کی حقیقت کیا ہے؟ سکندر نے ایک زور دار تھپڑ نیلم کی گال پر مارتے ہوئے کہا۔
شاہ نواز آرام سے بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا۔ جیسے یہ روز کا معمول ہو۔
آپ نے مجھے جتنا مارنا ہے مار لیں سائیں لیکن اس بار میں خاموش نہیں رہوں گی۔
اپنی بیٹی کو تو میں اُس جہنم میں بلکل بھی جانے نہیں دوں گی اچھی طرح میری بات کو سمجھ لیں آپ بھی۔نیلم نے سکندر کو دیکھتے چیخ کر کہا اور وہاں سے چلی گئی۔
آج پہلی بار نیلم نے سکندر سے اونچی آواز میں بات کی تھی۔
شاہ نواز کل ہی لڑکے والوں کو بلاؤ میں بھی دیکھتا ہوں کیسے یہ میری فیصلے سے انکار کرتی ہے سکندر نے اپنی کرسی پر بیٹھتے ہوئے غصے سے کہا۔
ٹھیک ہے بھائی لیکن بھابھی کو اپنے قابو میں رکھیں ورنہ کل کو آپ کے لیے مسئلہ بن سکتا ہے اور ہمارے خاندان کی عورتیں اونچی آواز میں بات کرنا تو دور وہ تو اپنے مرد کے سامنے نظریں نہیں اٹھاتی شاہ نواز نے کھڑے ہوتے سنجیدگی سے کہا۔
اس کا بھی میں علاج کرتا ہو سکندر نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔اور جو وہ کرنے کا سوچ رہا تھا یقیناً وہ نیلم کے لیے اچھا نہیں تھا
💜 💜 💜 💜
سیرت نے سفید رنگ کی چادر لی ہوئی تھی جب تک وہ آم کے درختوں کے پاس پہنچی بارش شروع ہو گئی تھی۔
ہائے اتنا اچھا موسم اور اوپر سے یہ بارش سیرت نے اوپر آسمان کی طرف دیکھتے خوشی سے کہا۔
بارش کے ٹھنڈے قطرے اس کے چہرے پر پڑ رہے تھے۔
سیرت ایسے ہی اوپر آسمان کی طرف اپنا چہرہ کیے اپنی بانہیں پھیلائے کھڑی تھی۔
گاڑی روکو نائل جو وہاں سے گزر رہا ہے اس نے سیرت کو دیکھتے کہا جو اس وقت وہاں آس پاس سے بلکل انجان سی کھڑی بارش میں بھیگ رہی تھی۔
اگر تم نے دوبارہ اُس لڑکی کی طرف دیکھا تو تمھاری آنکھیں نکال لوں گا۔ڈرائیور جو گھور کر سیرت کو دیکھ رہا تھا نائل کی آواز پر ہڑبڑا کر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔
سوری سر ڈرائیور نے جلدی سے کہا۔
نائل نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور باہر نکلتے چھوٹے چھوٹے قدم لیتا سیرت سے کچھ فاصلے پر جا کر کھڑا ہو گیا۔
نائل نے سر سے پاؤں تک سیرت کا جائزہ لیا تھا جو بانہیں پھیلائے آنکھیں بند کیے کھڑی تھی۔اس کی سانولی رنگت نے نجانے کیوں نائل کو اپنی جانب متوجہ کیا تھا۔آنکھوں پر چشمہ لگائے ہونٹوں کو ایک دوسرے میں پیوست کیے وہ نائل کو بہت معصوم سی لگے تھی۔
ایک تو اس کی چادر بھی سفید تھی اور دوسرا اس نے اوف وائیٹ کلر کی شلوار قمیض پہنی تھی۔جس سے کافی کچھ نمایا ہو رہا تھا۔
محترمہ اگر آپکو کچھ زیادہ ہی شوق ہے اپنا آپ دکھانے کا تو وہاں جاکر کھڑی ہو جائیں وہاں آپ کو زیادہ لوگ مل جائیں گئے۔نائل نے سیرت کے کپڑوں پر چوٹ کرتے سنجیدگی سے کہا جو اس کے جسم کے ساتھ چپکے ہوئے تھے۔
سیرت نے جب اپنے قریب کسی مرد کی بھاری آواز سنی تو جلدی سے اپنی آنکھیں کھولی اور سامنے والے کو دیکھنے کی کوشش کرنے لگی لیکن اس کی گلاسز پر بارش کا پانی گرنے کی وجہ سے کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔
اس سے پہلے وہ اپنی گلاسز اتار کر سامنے کھڑے انسان کو دیکھتی نائل نے اسے کمر سے پکڑ کر خود کے نزدیک کیا تھا اتنا نزدیک کہ سیرت کو مقابل کی گرم سانسیں اپنے چہرے پر پڑتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔
آج میں تمہیں دیکھنے کے لیے ہی نکلا تھا لیکن دیکھو کتنا حسین اتفاق ہے تم مجھے یہی پر مل گئی۔نائل نے سیرت کے کان کے پاس جھکتے مزید کہا۔
سیرت ڈر کے مارے نائل گرفت میں پھڑپھڑا رہی تھی۔
تم تو بہت دلکش اور حسین ہو میری سوچ سے بھی زیادہ
اور جانتی ہو اب تمھارے ساتھ کھیل کھیلنے میں زیادہ مزہ آئے گا۔تیار رہنا
بہت جلد میں تمہیں ملنے آؤں گا۔
نائل نے گہرے لہجے میں سیرت کے ہونٹوں ہر اپنی نظریں جمائے کہا اور اسے چھوڑ کر وہاں سے چلا گیا۔
سیرت نے جلدی سے اپنی گلاسز اتار کر سامنے دیکھا لیکن وہاں کوئی نہیں تھا۔
یہ یہ کون تھا۔سیرت نے اپنا حلق تر کرتے ارد گرد دیکھتے خود سے کہا۔
لیکن یہاں پر کوئی نہیں تھا۔شیری ٹھیک کہہ رہی تھی مجھے یہاں نہیں آنا چاہیے تھا بھاڑ میں گئے آم مجھے لگتا ہے کوئی جب ہو گا سیرت نے ڈر کے مارے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا اور وہاں سے بھاگ گئی۔ دور گاڑی میں بیٹھا نائل ابھی بھی سیرت کو دیکھ رہا تھا۔
کیسا لگ رہا ہے اتنے سالوں بعد اپنے گاؤں واپس آکر نائل نے سگریٹ سلگاتے سامنے دیکھتے شہریار سے پوچھا جو وہاں موجود ہوتے ہوئے بھی ناجانے کن سوچوں میں کھویا ہوا تھا۔نائل کے گاڑی سے باہر نکلتے ہی اس نے سیٹ کے ساتھ ٹیک لگائی اور آنکھیں موند لی تھیں۔
میرا بچپن یہی پر گزرا ہے نائل
میں نے اس گاؤں کو بہت یاد کیا ہے۔شہریار نے گہرا سانس لیتے کہا۔
تم کہاں گئے تھے؟ شہریار نے نائل کی طرف دیکھتے پوچھا۔
اپنی ہونے والی بیوی سے ملنے نائل نے بھاری لہجے میں کہا۔
واٹ؟ شہریار کی زبان سے یہی الفاظ ادا ہوئے تھے۔
