Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

آج میں اپنے ہاتھوں سے تمھارا گلہ دبا کر تمھارا قصہ تمام کر دوں گا۔
سکندر نے غصے سے نیلم کی گردن پر اپنی گرفت مضبوط کرتے کہا۔
جس کی آنکھیں باہر کو آگئی تھیں اور ہاتھ سے سکندر کو پیچھے کرنا چاہ رہی تھی۔لیکن سکندر کی سخت ہوتی گرفت سے نیلم کو اپنا سانس بند ہوتا محسوس ہوا تھا۔
وہ جو تکلیف سے اپنے ہاتھ پاؤں چلا رہی تھی۔آہستہ آہستہ اس کا وجود ٹھیلا ہونے لگا۔
اور تھوڑی دیر بعد بلکل ہی بےجان سی اپنے دونوں ہاتھوں کو نیچے گرائے نیلم کا سر ایک طرف جھک گیا تھا۔
سکندر نے فوراً نیلم کی گردن سے ہاتھ پیچھے کیے جو زمین پر جا گری تھی۔
سکندر کے چہرے پر افسوس نہیں تھا بلکہ اُسے اس بات کی فکر تھی کہ اگر کسی نے دیکھ لیا تو کیا جواب دے گا۔
اس لیے اس نے نیلم کو جھک کر اٹھایا اور اپنے کمرے میں لے جاتے باہر کھڑکی سے نیچے گرا دیا اور خود جلدی سے دوبارہ ہال میں آ آکر بیٹھ گیا تھا۔اس نے اپنے ماتھے پر آئے پسینے کو صاف کیا۔
ملازم جنہوں نے باہر نیلم کو دیکھا تھا جلدی سے آکر انہوں نے سکندر کو بتایا جس نے چہرے پر پریشانی کے تاثرات لیے ملازم کو دیکھا اور ان کے ساتھ باہر گیا۔جہاں زمین پر خون پھیلا ہوا تھا اور نیلم وہی اوندھے منہ گری پڑی ہوئی تھی۔
نیلم سکندر چیختے ہوئے اس کے پاس گیا اور اس طرح کا تاثر دینے لگا کہ اسے کافی تکلیف پہنچی ہے۔
سکندر نے نیلم کی نبض چیک کی جو چل نہیں رہی تھی۔
سائیں آپ بیگم صاحبہ کو ہسپتال لے جائیں ملازم نے آگے بڑھتے کہا۔
کوئی فائدہ نہیں میری بیوی مجھے چھوڑ کر جا چکی ہے۔سکندر نے دکھی لہجے میں کہا۔ سب لوگ وہی پر جمع تھے۔
نگین جو ساتھ والے گھر گئی تھی واپس حویلی آئی لیکن سامنے کا منظر دیکھ کر اسے اپنے پیروں تلے زمین نکلتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔
بھابھی نگین نے کہا اور بھاگتے ہوئے نیلم کے بےجان وجود کے پاس آئی۔
یہ تو اچھی بھلی تھیں اچانک ان کو کیا ہو گیا؟ نگین نے روتے ہوئے نیلم کا سر اپنے گود میں رکھتے کہا۔
چھوٹی بی بی بڑی بیگم صاحبہ نے وہ اوپر کھڑی سے کود کر اپنی جان دے دی۔ملازم نے کہا تو نگین نے خونخوار نظروں سے سکندر کو دیکھا تھا۔وہ اس بات پر یقین کر ہی نہیں سکتی تھی کہ نیلم نے خودکشی کی ہے۔
آپ نے مارا ہے نا؟ آپ نے ان کی جان لی ہے آپ ہیں ان کی موت کے ذمہ دار وہ کبھی بھی ایسا نہیں کرسکتی۔نگین نے سکندر کو دیکھتے چلا کر کہا۔
سکندر نے کھا جانے والی نظروں سے نگین کو دیکھا تھا۔
سکندر اس وقت خاموش رہا تھا۔
اس نے اندر جانے کے بعد شاہ نواز کو ساری حقیقت بتا دی تھی۔
اور اُسے کہا تھا کہ وہ نیلم کو دفنانے لگا ہے کیونکہ اگر نائل یا شہریار یہاں آجاتے تو انہوں نے پوری انکوائری کروانی تھی اور سکندر نے پکڑے جانا تھا۔
ابتسام بھی یہاں پر نہیں تھا۔ نگین نے بہت کہا کہ سیرت اور ابتسام کے آنے کے بعد بھابھی کو لے جایا جائے لیکن سکندر نے اس کی ایک نا سنی اور اگلے کچھ گھنٹوں میں وہ نیلم کو دفنانے کے بعد واپس حویلی آگیا تھا۔
پل بھر کا کھیل تھا صبح نیلم زندہ تھی۔ان مٹی کے نیچے جا سوئی تھی۔
حویلی میں ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی اس کے گاؤں کی پولیس جو اس کی اپنی ہی تھی اس لیے معاملہ آگے نہیں بڑھایا گیا۔
بابا سائیں ابتسام نے اپنے باپ کو پکارا جس نے جس نے آنکھیں کھول کر ابتسام کی طرف دیکھا تھا۔
امی جان کو کیا ہوا؟ اور اتنی جلدی؟ آپ نے سب کچھ کیوں کیا میں ایک بار اپنی ماں کا چہرہ ہی دیکھ لیتا؟ ابتسام نے اپنے باپ کو دیکھتے دکھی لہجے میں کہاجو بھی تھا نیلم اس کی ماں تھی اور ابتسام کافی دکھی بھی تھا۔
اُس کی حالت ایسی نہیں تھی کہ اُسے زیادہ دیر رکھا جاتا اس لیے جلدی دفنا دیا اور تمھاری ماں نے خودکشی کی ہے کوئی اچھا کام نہیں کیا جو تم اُس کا چہرہ دیکھنا چاہتے تھے۔میاں بیوی میں جھگڑے تو ہر گھر میں ہوتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ انسان اپنی جان لے لیں۔
سکندر نے ابتسام کو دیکھتے کہا جو اپنے باپ کی بات سن کر بنا جواب دیے حویلی سے نکل گیا تھا تاکہ اپنی ماں کی قبر پر جا سکے۔
💜 💜 💜 💜
سیرت کا دل صبح سے بہت گھبرا رہا تھا۔اسے اپنی ماں کی بھی بہت یاد آرہی تھی۔
اس نے نائل کو کال کی۔جس نے دوسری بیل پر کال اٹھا لی تھی۔
بولو سیرت نائل سمجھ گیا تھا کہ فون پر سیرت ہی ہے اس لیے مصروف سے انداز میں پوچھا۔
کل کی نسبت آج نائل قدر بہتر تھا اور اس کا موڈ بھی کافی خوشگوار تھا۔
آپ اس وقت گھر آسکتے ہیں؟ سیرت نے بےبسی سے پوچھا۔
نائل کے لیپ ٹاپ پر حرکت کرتی انگلیاں ایک دم تھم گئی تھیں۔
کیا ہوا سیرت؟ تم ٹھیک ہو؟نائل نے پریشانی سے پوچھا۔
پتہ نہیں آپ پلیز گھر آجائیں سیرت نے کہتے ہی فون بند کر دیا۔
نائل تو اپنے سارے کام چھوڑتے گھر کے لیے نکل گیا تھا۔
تیز ڈرائیونگ کرتے وہ گھر پہنچا۔
سیرت سامنے ہی بیٹھی ہوئی تھی۔
کیا ہوا سیرت تم ٹھیک ہو؟نائل نے سیرت کو بازو سے پکڑ کر اپنے سامنے کھڑا کرتے پریشانی سے پوچھا۔
مجھے امی سے ملنا ہے پلیز آپ منع مت کیجیے گا میں صرف امی سے مل کر واپس آجاؤ گی۔
سیرت نے ضدی لہجے میں کہا۔
نائل خاموش نظروں سے اس کے بےچین چہرے کو دیکھ رہا تھا۔
میری طرف دیکھو سیرت نائل نے ٹھوڑی سے پکڑ کر سیرت کا چہرہ اوپر کرتے کہا۔
کیا ہوا ہے؟ تم ٹھیک ہو؟یہ سوال پوچھتے ہی سیرت کی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو آگئے تھے۔
مجھے آج امی کی بہت یاد آرہی ہے میرا دل بہت گھبرا رہا ہے مجھے اُن سے ملنا ہے۔
سیرت نے بھاری لہجے میں نائل کو دیکھتے کہا۔
ٹھیک ہے ہم چلتے ہیں تم تیار ہو جاؤ نائل نے کچھ دیر سوچنے کے بعد کہا۔میں تیار ہوں۔سیرت نے اپنے آنسوؤں کو صاف کرتے جلدی سے کہا۔
ٹھیک ہے چادر تو لے آؤں نا پھر چلتے ہیں۔نائل نے کہا تو سیرت اوپر کی طرف بھاگی تھی۔
سیرت کے جاتے ہی نائل کا موبائل رنگ ہوا۔
جس نے موبائل کی طرف دیکھا وہاں شہریار کی کال آرہی تھی۔
شاہ نواز شہریار کو کال کرکے نیلم کا بتا چکا تھا۔
نائل نے کال اٹینڈ کی اور فون کان سے لگایا۔
ہاں شہریار؟ نائل نے پوچھا لیکن جو خبر اس نے دی اُسے سن کر نائل کچھ پل کے لیے وہی پھتر کا بن گیا تھا۔
یہ کیسے ہو سکتا ہے نیلم آنٹی خودکشی کیسے کر سکتی ہیں؟ اور وہ لوگ بنا بیٹی کو بتائے اُس کی ماں کو کیسے دفنا سکتے ہیں؟ نائل نے دھیمے لہجے میں غصے سے پوچھا۔
نائل… اس سے پہلے وہ مزید کچھ کہتا پیچھے سے آتی سیرت کی آواز پر اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تھا۔
جو نائل کو ایسے دیکھ رہی تھی جیسے ابھی گر جائے گی۔
امی کو کیا ہوا؟ وہ ٹھیک ہیں نا؟ ابھی جو آپ نے کہا وہ جھوٹ ہے نا؟ سیرت نے بےبسی سے نائل کو دیکھتے پوچھا۔
جو جلدی سے سیرت کے قریب آیا تھا۔
جو آپ نے کہا وہ جھوٹ ہے نا؟ سیرت نے اٹکتے ہوئے نائل کو دیکھ کر پوچھا۔
اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ سیرت کو کیسے بتائے ویسے تو وہ سب سن چکی تھی۔
سیرت میری طرف دیکھو نائل نے سیرت کے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں میں بھرتے ہوئے کہا۔
جس نے نظریں اٹھا کر نائل بکی طرف دیکھا تھا۔
ہم جارہے ہیں حویلی ٹھیک ہے۔نائل نے کہا۔
لیکن آپ نے ابھی کہا۔سیرت مے کہنا چاہا لیکن نائل نے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھے اسے خاموش کروا دیا تھا۔
ہم چل رہے ہیں۔نائل نے کہا اور سیرت کو بازو سے پکڑے اسے وہاں سے لے گیا۔
سیرت کے دل میں امید جاگی تھی کہ ہو سکتا ہے اُس نے غلط سنا ہو اس لیے خاموشی سے نائل کے ساتھ چل پڑی تھی۔
💜 💜 💜 💜
شاہ نواز واپس آگیا تھا۔
بھائی آپ نے بھابھی کو جان سے کیوں مارا؟ شاہ نواز نے سنجیدگی سے پوچھا۔
وہ جان گئی تھی کہ یاسر اور شمیم کی جان ہم نے لی تھی اور پولیس سٹیشن جانے والی تھی اور جانتے ہو اگر وہ کسی دوسرے پولیس سٹیشن چلی جاتی تو ہمارا بچنا مشکل ہو جاتا۔سکندر نے غصے سے کہا۔شاہ نواز یہ بات سن کر خاموش ہو گیا تھا۔
آگئے آپ شاہ نواز؟ نگین نے سرخ چہرے سے شاہ نواز کو دیکھتے پوچھا۔
ہاں ابھی آیا ہوں۔شاہ نواز نظریں جھکا گیا تھا۔
مجھے آپ لوگ بتانا پسند کریں گئے ایسی بھی کون سی مجبوری آگئی تھی کہ دو گھنٹوں کے اندر آپ نے بھابھی کو دفنا دیا؟ نا بیٹے کو ان کا چہرہ دیکھنے دیا نا بیٹی کو؟ نگین نے سرد لہجے میں شاہ نواز کو دیکھتے پوچھا۔
وہ میری بیوی تھی اور میں تمہیں جواب دینے کا پابند نہیں ہوں سکندر نے غصے سے کہا۔
کیوں نہیں ہیں آپ پابند؟ میں بھابھی کے گلے پر نشان دیکھ چکی تھی آپ نے بھابھی کی جان لی اور دفنا تو اس لیے آپ لوگ نے جلدی دیا کہ سچ کا پتہ نا چل جائے۔کتنے ظالم ہیں آپ لوگ؟لیکن یاد رکھیں گا اب آپ لوگوں کا آخری وقت شروع ہو گیا ہے۔نگین نے چیختے ہوئے کہا اور وہاں سے چلی گئی۔
شاہ نواز اپنی بیوی کو سنبھالو ورنہ یہ بھی جان سے جائے گی۔سکندر نے کرخت لہجے میں کہا۔
بھائی آپ فکر مت کریں میں اُسے سنبھال لوں گا۔شاہ نواز نے کہا اور خود بھی وہاں سے کمرے کی طرف چلا گیا۔
💜 💜 💜 💜
کہاں جا رہے ہو زبیر؟ مزمل نے زبیر کو دیکھتے پوچھا۔جس نے ہاتھ میں بیگ پکڑا ہوا تھا اور کہی جا رہا تھا۔
آپ کے گھر سے دور۔زبیر نے سنجیدگی سے کہا۔
زبیر تم ایسے نہیں جاسکتے۔تم میری نیکی کا یہ صلہ دے رہے ہو؟ مزمل مے غصے سے پوچھا۔
اور آپ میرے ساتھ کیا کرنے جا رہے ہیں اُس بارے میں آپ کو زرا بھی پچھتاوا نہیں ہے؟
آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں شبنم سے کتنی محبت کرتا ہوں پھر بھی آپ میری شادی اُس لڑکی سے کروانا چاہتے ہیں صرف اپنے بزنس کے فائدے کے لیے؟ زبیر نے دھاڑتے ہوئے کہا۔
ٹھیک ہے تمہیں شبنم سے شادی کرنی ہے تو کر لو لیکن تمہیں مہک کے ساتھ بھی شادی کرنی ہو گی۔اور تم تو چار شادیاں کر سکتے ہو نا؟ تو دوسری کرنے میں کیا مسئلہ ہے؟ مزمل نے زبیر کو حل بتاتے ہوئے کہا۔
شبنم میری زندگی میں آئی پہلی اور آخری لڑکی ہے اس کے علاوہ میں کسی دوسری کی طرف دیکھنا بھی گناہ سمجھتا ہوں اور آپ شادی کی بات کر رہے ہیں؟
آپ تو مجھے اچھی طرح جانتے ہیں لیکن پھر بھی ایسی باتیں کر رہے ہیں؟ آپ کے لیے آپ کا بزنس زیادہ عزیز ہے میں نہیں اور سنبھالیں اپنے بزنس کو میں جا رہا ہوں زبیر نے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
زبیر تم بہت پچھتاؤ گئے میری بات یاد رکھنا۔جس لڑکی کی خاطر تم یہاں سے جا رہے ہو وہ بھی تمہیں اکیلا چھوڑ دے گی۔مزمل نے پیچھے سے چیختے ہوئے کہا۔زبیر اس کی بات کو اگنور کرتے وہاں سے چلا گیا تھا۔
💜 💜 💜 💜
نائل سیرت کو حویلی لے جانے کی بجائے قبرستان لے آیا تھا۔
نائل آپ مجھے یہاں کیوں لائے ہیں؟ سیرت نے مضبوطی سے نائل کا ہاتھ پکڑتے پوچھا۔
سیرت دیکھو جو دنیا میں آیا ہے اُسے واپس بھی جانا ہے۔
کوئی جلدی چلا جاتا ہے کوئی دیر سے جاؤ اپنی امی کی قبر پر فاتحہ پڑھ کر آؤ اور رونا نہیں ہے ورنہ اُن کو تکلیف ہو گی۔
نائل نے پیار سے سیرت کو سمجھاتے ہوئے کہا جو ناسمجھی سے نائل کو دیکھ رہی تھی۔
نائل آپ جھوٹ بول رہے ہیں میری امی یہاں کیسے ہو سکتی ہیں وہ تو حویلی میں ہوں گی نا۔پلیز حویلی چلتے ہیں مجھے یہاں ڈر لگ رہا ہے سیرت نے روتے ہوئے نائل کو دیکھتے کہا۔
سیرت اس سے پہلے نائل اسے کچھ کہتا سیرت وہی اس کی بانہوں میں جھول گئی تھی۔
سیرت نائل نے اس کے گال کو تھپتھپاتے کہا۔ اور اسے جلدی سے گاڑی کی طرف لے گیا۔
سکندر تم تو میری سوچ سے بھی زیادہ گھٹیا انسان نکلے۔نائل نے گاڑی ڈرائیو کرتے خود سے اور ایک نظر پیچھے سیٹ پر بےہوش لیٹی سیرت پر بھی ڈال لیتا۔
اس نے موبائل پر شہریار کا نمبر ڈائل کیا۔پہلی بیل پر ہی کال اٹھا لی گئی تھی۔
شہری اگر تم نہیں چاہتے کہ تمھاری امی کا بھی وہی حال ہو جو نیلم آنٹی کا ہوا ہے تو اپنی امی کو وہاں سے لے آؤ نائل نے کہتے ہی موبائل بند کر دیا۔
بس بہت ہو گیا۔آج سے تم لوگوں کے برے دن شروع ہو گئے ہیں۔نائل نے سٹیرنگ پر اپنی گرفت مضبوط کرتے غصے سے کہا۔
💜 💜 💜 💜
شہریار کیا ہوا تم پریشان لگ رہے ہو؟ طالش ابھی آفس سے آیا تھا جب اس نے شہریار کو پریشان دیکھا تو اس سے پوچھا۔
تائی جان کا انتقال ہو گیا ہے۔
مجھے بابا سائیں کی کال آئی تھی۔
شہریار نے اپنے چہرے ہر ہاتھ پھیرتے کہا۔
کیا لیکن کیسے؟ وہ تو اچھی بھلی تھیں۔کیا ہوا اُن کو؟ طالش نے بے یقینی سے اسے دیکھتے پوچھا۔
مجھے پورا یقین ہے کہ تایا سائیں کا ضرور اس میں ہاتھ ہو گا۔پتہ نہیں سیرت پر کیا گزر رہی ہو گی اور نائل کی مجھے کال آئی تھی وہ کہہ رہا ہے کہ میں امی کو وہاں سے لے آؤں شہریار نے پریشانی سے طالش کو دیکھتے کہا۔
تمہیں اُسی وقت جانا چاہیے تھا اور وہاں جا کر معلوم کرو کہ کیا ہوا تھا بلکہ میں بھی تمھارے ساتھ چلتا ہوں چلو میرے ساتھ
طالش نے کہا اور وہاں سے باہر چلا گیا۔
شہریار بھی اس کے پیچھے مردہ قدم اٹھاتے چل پڑا تھا اسے بہت دکھ ہوا تھا لیکن وہاں جانے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔
ابھی پچھلے دنوں ہی تو وہ نیلم سے ملا تھا۔وہ کہی نا کہی

ان سب کا قصوروار خود کو سمجھ رہا تھا اگر وہ حویلی میں ہوتا تو ہو سکتا تھا نیلم آج زندہ ہوتی۔