Jaane Bewafa By Rimsha Hayat Readelle50132 Episode 26
No Download Link
Rate this Novel
Episode 26
💜 💜 💜 💜 ☠️☠️☠️☠️
زبیر کی آنکھ کھلی تو اسے اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہوا تھا۔اس کی شرٹ کے بٹن بھی کھلے ہوئے تھے۔
مجھے کیا ہوا تھا؟ زبیر نے اپنے چکراتے سر کو تھامتے ہوئے خود سے کہا اور لڑکھڑا ہوا شاور لینے کے لیے واشروم کی طرف اپنے قدم بڑھائے۔
لیکن جب واشروم میں جاتے اس کی نظر اپنے شرٹ کے کھلے بٹن اور سینے پر پڑی تو ایک پل میں وہ ہوش میں آیا تھا اس کی گال اور سینے پر بھی لپ سٹک کے نشان موجود تھے۔
مہک نے صرف تصاویر لینے کے لیے یہ سب کیا تھا اور کچھ تصاویر اپنے پاس رکھی اور کچھ مزمل کو دے دی تھیں۔
زبیر نے بہت کوشش کی اپنے دماغ پر زور ڈالنے کی لیکن اسے یاد نہیں آیا کہ اس کے ساتھ ہوا کیا تھا۔
کہی یہ سب چچا نے تو نہیں کروایا؟ لیکن ان ان سب کے پیچھے اُن کا کیا مقصد ہو سکتا ہے؟ زبیر نے اپنا سر تھامتے ہوئے کہا۔
اس نے شاور لیا جس کے بعد وہ خود کو بہتر محسوس کر رہا تھا۔
باہر آکر اس نے اپنے قدم مزمل کے کمرے کی طرف بڑھا دیے۔چہرے پر سرد تاثرات تھے۔
مزمل کے کمرے میں جاتے ہی اسے معلوم ہوا کہ اس کا چچا گھر پر نہیں ہے۔
بہت برا کیا آپ نے چچا بہت برا اب آپ چاہتے کیا ہیں؟
زبیر نے غصے سے مٹھیاں بھینچتے ہوئے کہا اور گھر سے نکل گیا اس نے سوچ لیا تھا کہ اب اسے کیا کرنا ہے۔
💜 💜 💜 💜 💜
طالش نے نائل کو بہت روکا تھا۔
کہ آج آفس نا جائے لیکن نائل کسی کی بات سن لے ایسا ہو سکتا ہے بھلا اور کچھ اُسے اپنا دماغ بھی فریش کرنا تھا ورنہ سیرت کی کہی ہوئی باتوں سے اسے اپنا دماغ پھٹتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔
نائل آفس سے واپس آرہا تھا۔جب اس کی نظر سیرت پر پڑی چونکہ پارک گھر کے سامنے ہی تھا۔تو صاف نظر آتا تھا۔
سیرت آج اکیلی پارک آئی تھی جب احمر نے اسے دیکھا جو کافی دنوں سے اسکا انتظار کر رہا تھا لیکن وہ آ نہیں رہی تھی لیکن آج سیرت کو دیکھ کر وہ خوش ہو گیا تھا۔
احمر چلتا ہوا سیرت کے پاس آیا سیرت نے احمر کو دیکھا وہ اسے پہچان چکی تھی۔اس سے پہلے احمر کچھ کہتا اسکی نظر سیرت کے ہاتھ پر پڑی تو پریشانی سے اس نے سیرت کا ہاتھ پکڑ کر پوچھا جہاں سے خون نکل رہا تھا۔
آپ کے ہاتھ پر کیا ہوا؟ احمر نے پریشانی سے پوچھا۔
اور یہ منظر نائل غصے سے دیکھ رہا تھا۔
سیرت نے پہلے حیرانگی سے اپنے ہاتھ کی طرف دیکھا جہاں پھول توڑنے کی وجہ سے کانٹے لگ گئے تھے۔اور وہاں سے ہلکا سا خون نکل رہا تھا۔پھر اس نے احمر کی طرف دیکھا جسے نا وہ جانتی تھی لیکن اس کے پریشان ہونے پر حیران ہوئی تھی۔
عین اسی وقت نائل اپنی گاڑی سے نکل کر تن فن کرتا سیرت کے پاس آیا اور اسے بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کھنچا۔
سیرت تو نائل کو دیکھ کر پریشان ہو گئی تھی۔
لیکن سب سے بڑا جھٹکا احمر کو لگا تھا۔
جان تمہیں معلوم ہے نا میں جب بھی گھر آؤ تو سب سے پہلے تمہیں ہی دیکھتا ہوں۔اور تم یہاں پارک میں اپنے بھائی کے ساتھ موسم انجوائے کر رہی ہو؟ نائل نے سیرت کی طرف دیکھتے دانت پیستے کہا۔
احمر ابھی بھی کھڑا تھا اس لیے اس نے نائل کی بات پر دھیان نہیں دیا۔
اور آپ آئندہ میری بیوی کے آس پاس نظر آئے تو آپ کے لیے اچھا نہیں ہو گا۔نائل نے سنجیدگی سے احمر کو دیکھتے کہا اور سیرت کو بازو سے پکڑے وہاں سے لے گیا۔
اس کا مطلب زبیر جس لڑکی کو پسند کرتا اُس کا بھائی نائل حسن ہے اور اُس کی بیوی میری سویٹ ہارٹ ہے۔
احمر نے نائل کے جاتے ہی ہوش میں آتے پرسوچ انداز میں خود سے کہا۔
یہ کیسا اتفاق ہے۔مجھے نہیں معلوم تھا کہ تم شادی شدہ ہو لیکن مجھے فرق بھی نہیں پڑتا میں نائل کو جان سے مار دوں گا پھر تمہیں میری ہونے سے کوئی روک نہیں پائے گا۔اب تو معاملہ تھوڑا پرسنل ہو گیا تھا۔
احمر نے مسکراتے ہوئے کہا اور اپنی پینٹ کی پاکٹ میں ہاتھ ڈالے وہاں سے چلا گیا۔
💜 💜 💜 💜
نائل سیرت کو گھر لاتے ہی اپنے کمرے میں لے گیا تھا۔شکر تھا سب اس وقت اپنے کمروں میں تھے۔
کمرے میں جاتے ہی نائل نے سیرت کا ہاتھ چھوڑا۔
وہ لڑکا کون تھا سیرت؟ نائل نے ماتھے پر سخت تیور لیے سیرت کو دیکھتے پوچھا۔
میں نہیں جانتی سیرت نے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا۔
اُس کمینے نے تمھارا ہاتھ پکڑا تم نے کوئی مزاحمت نہیں کی تو میں اس کا کیا مطلب سمجھوں؟ نائل نے دانت پیستے پوچھا غصے سے اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔
میں اُسے نہیں جانتی اگر آپ کو زیادہ مسئلہ ہے تو خود جاکر پوچھ لیں۔سیرت نے غصے سے کہا اور وہاں سے جانے گی۔لیکن نائل نے اسے بازو سے پکڑ کر اپنے سامنے کھڑا کیا تھا۔
اُسے تو میں نہیں چھوڑوں گا۔لیکن آج سے تم ایک قدم بھی گھر سے باہر نہیں نکالو گی سمجھ گئی؟ نائل نے غصے سے سیرت کو دیکھتے کہا۔
آپ مجھ پر شک کر رہے ہیں؟ سیرت نے بے یقینی سے نائل کو دیکھتے پوچھا۔
تمھاری حرکتیں ہی ایسی ہیں کہ کوئی بھی انسان شک کر سکتا ہے۔نائل نے کہا۔
اس وقت وہ غصے میں تھا اس لیے جو منہ میں آرہا تھا بولتا جا رہا تھا۔
اگر آپ کو مجھ پر یقین ہی نہیں ہے تو چھوڑ دیں مجھے میں بھی ایسے انسان کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی جو مجھ پر شک کرتا ہو۔سیرت نے چلاتے ہوئے کہا تو نائل نے اسے گردن سے دبوچا تھا۔
تمھاری زیادہ زبان چلنے لگی ہے میری ہی غلطی ہے جو تمہیں اتنی چھوٹ دی۔
اس لیے جو تمھارے دل میں آتا بول دیتی ہو کر لیتی ہو۔
لیکن اب اور نہیں آج ہی سارے دوسرے گھر میں جا رہے ہیں پہلے میرا ارادہ تمہیں بھی وہی لے کر جانے کا تھا لیکن اب تم یہی رہو گی اور پھر تمھارے ہوش ٹھکانے آئے گئے۔
نائل نے سیرت کی گردن کو چھوڑتے سرد لہجے میں کہا جو زور زور سے کھانسنے لگی تھی۔
اس کی گردن پر بھی نائل کی انگلیوں کے سرخ نشان پڑ گئے تھے۔
نائل کہتے ہی وہاں سے چلا گیا۔
پیچھے سیرت ابھی بھی اپنے گلے پر ہاتھ رکھے کھانس رہی تھی۔
💜 💜 💜💜
مجھے آپ سب سے بات کرنی ہیں؟ رات میں سب ڈائٹنگ ٹیبل پر موجود تھے جب نائل نے سنجیدگی سے کہا۔بھوک تو اسے تھی نہیں اس لیے بات کرنے کے لیے بیٹھا تھا۔
سیرت اپنے کمرے تھی وہ باہر نہیں آئی تھی۔
اور نائل نے بھی کہہ دیا تھا کہ اُس کے سر میں درد ہے کوئی اُسے ڈسٹرب نا کرے۔
کھانے کے بعد ان سب نے جانا بھی تھا۔
آج زبیر میرے آفس آیا تھا وہ کہہ رہا تھا کہ اُسے آفس کے کام کے سلسلے میں کچھ ماہ کے لیے ملک سے باہر جانا ہے تو وہ کہہ رہا تھا اس جمعے کو اگر اس کا نکاح ہو جائے تو وہ شبنم کو بھی ساتھ لے جائے گا۔
تو میں نے بھی ہامی بھر لی تھی کیونکہ اُس کی واپسی پھر پانچ ماہ کے بعد ہونی تھی۔تو آنٹی آپ کو کوئی مسئلہ تو نہیں ہے؟ میں نے معلوم کیا ہے زبیر بہت اچھا لڑکا ہے پری کو خوش رکھے گا۔نائل نے نگین کو دیکھتے پوچھا۔
بات تو تمھاری ٹھیک ہے بیٹا نکاح کرنا تو ہے اس لیے اسی جمعے کو سادگی سے کر لیتے ہیں۔اور زبیر تو میری نظروں کے سامنے بڑا ہوا ہے مجھے پوری امید ہے کہ وہ میری بیٹی کو خوش رکھے گا۔
نگین نے کہا تو شبنم نے مسکرا کر نظریں جھکا لیں تھیں۔
ٹھیک ہے پھر اس جمعے کو یہ مبارک کام بھی سر انجام دے دیتے ہیں۔شہریار نے مسکراتے ہوئے کہا۔
مرحا بھی مسکرا پڑی تھی لیکن جب اس نے شہریار کو دیکھا جو گہری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا تو ایک دم اس نے نظریں جھکا لی تھیں۔
شیریں اور طالش پہلے ہی گھر کے لیے نکل گئے تھے۔شیریں نے دوبارہ طالش سے بات نہیں کی تھی نا طالش نے کی۔
💜 💜 💜 💜 💜
نیلم کو گزرے آج پندرہ دن ہو گئے تھے۔احمر کی وجہ سے سکندر جیل سے واپس آگیا تھا۔لیکن جیل میں رہنے کی وجہ سے کافی کمزور ہو گیا تھا۔
مجبوراً شاہ نواز کو پھر سکندر کو بتانا پڑا تھا کہ اس نے باہر دوسری شادی کی ہوئی ہے اور احمر اسی کا بیٹا ہے جسکی وجہ سے وہ جیل سے باہر آیا ہے۔
سکندر احمر کو دیکھ کر خوش ہوا تھا۔
حویلی پوری سنسان پڑی تھی۔
جب سکندر اور شاہ نواز حویلی میں داخل ہوئے۔تو ابتسام بھی ان کے ساتھ ہی تھا۔
شاہ نواز اور ابتسام مجھے اُن دونوں لڑکوں کی موت چاہیے تمہیں کچھ بھی کرنا پڑے کرو لیکن وہ دونوں بچنے نہیں چاہیے۔
سکندر نے سرد لہجے میں کہا۔
اُن دونوں کی وجہ سے تو آج یہ لوگ اس مقام پر پہنچے تھے۔
آپ فکر مت کریں اور اب دیکھیں آپ میں ان کے ساتھ کیا کرتا ہوں۔ابتسام نے غصے سے کہا۔
بھائی صاحب ہم لوگ دیکھ لیں گئے لیکن آپ ابھی آرام کریں۔
شاہ نواز نے سکندر کی حالت کے زیرِ اثر کہا۔
ابتسام سکندر کو کمرے میں لے گیا تھا۔
پیچھے شاہ نواز حویلی سے باہر نکل گیا۔
💜 💜 💜 💜
رات کو سب کے جانے کے بعد نائل کمرے میں داخل ہوا۔پورا کمرا اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔
نائل جانتا تھا کہ سیرت نے کچھ نہیں کھایا اور اسے بھی اپنے رویے کا احساس تھا وہ غصے میں کچھ زیادہ ہی بول گیا تھا۔
سیرت گردن تک کمبل کو لیے لیٹی ہوئی تھی۔اس کی گال پر آنسوؤں کے نشان موجود تھے۔
شاید وہ روتے ہوئے سوئی تھی۔سائیڈ ٹیبل پر لیپ جل رہا تھا۔
نائل آرام سے سیرت کے پاس ہی بیٹھ گیااور کمبل کو اس کی گردن سے پیچھے کیا۔
جہاں پر ابھی بھی اسکی انگلیوں کے نشان موجود تھے۔
نائل کے چہرے پر شرمندگی واضح نظر آرہی تھی۔
وہ سیرت کو تکلیف دینا نہیں چاہتا تھا۔لیکن اُسے انجانے میں ہی سہی لیکن تکلیف دے چکا تھا۔
نائل نے جھک کر سیرت کی شفاف گردن پر اپنے دیے گئے نشان پر لب رکھ دیے۔
سیرت جسے بھوک کی وجہ سے نیند نہیں آرہی تھی۔اور جب نائل نے اس کی گردن پر اپنے لب رکھے تو اس کی آنکھ کھل گئی تھی۔پہلے تو وہ صورتحال کو سمجھ نہیں پائی پھر اس نے خود پر جھکے نائل کو دیکھا تو اسے کندھے سے پیچھے کرنا چاہا جس نے سیرت کی طرف دیکھا تھا۔سیرت کی نیند سے بوجھل آنکھیں دیکھ کر نائل نے نظریں چرائی تھیں۔
یہ آپ کیا کررہے ہیں؟ سیرت نے گھبرائے ہوئے لہجے میں پوچھا۔
اپنی بیوی کو پیار نائل نے آنکھ دباتے کہا۔
سیرت نے گھور کر دیکھا تھا۔
نائل نے جھک کر سیرت کے ماتھے پر لب رکھے اور پیچھے ہو گیا۔
ایم سوری نائل نے سیرت کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا۔
سیرت خاموش رہی تھی۔
میں جانتا ہوں میں کچھ زیادہ ہی بول گیا تھا مجھے تمہیں تکلیف بھی نہیں دینی چاہیے تھی۔لیکن آئندہ میں خیال رکھوں گا کہ میری وجہ سے تمہیں کوئی تکلیف نا پہنچے۔نائل نے سیرت کے چہرے کی طرف دیکھتے کہا۔
جس نے نظریں جھکا لیں تھیں۔
میں تمھارے لیے کھانا لاتا ہوں میں نے بھی کھانا نہیں کھایا۔نائل گہرا سانس لیتے کہا اور اُٹھ کر کمرے سے باہر نکل گیا تھا۔
سیرت بھی اُٹھ کر بیٹھ گئی تھی۔
💜 💜 💜 💜
اب آپ کیا کریں گئے؟ احمر نے وائن کا گلاس لبوں سے لگاتے ہوئے پوچھا۔
میں جانتا ہوں کہ زبیر کو تھوڑا بہت تو معلوم ہو گیا ہو گا۔
اور میں کل اُس لڑکی کے گھر جاؤں گا اور اُسکے لیے کچھ گفٹس لے کر جاؤں گا۔اُسی میں میں وہ تصاویر بھی رکھ دوں گا۔
مجھے پورا یقین ہے وہ ضرور دیکھے گی کیونکہ سارے گفٹس اُسکے لیے ہیں اور اُسے دیکھنے کے بعد وہ خود منع کر دے گی۔
اور تم بتاؤ کب تک اُن دونوں بھائیوں کا کام تمام کرو گئے؟ مزمل نے سنجیدگی سے پوچھا۔
سر کیا آپ مجھے بتا سکتے ہیں کہ کس نے اُن دونوں کو مارنے کے لیے پیسے دیے ہیں؟ احمر نے پوچھا۔
میں خود بھی اُسے زیادہ نہیں جانتا لیکن اُس کا نام شاہ نواز تھا۔
مزمل نے کہا تو احمر نے اس کی طرف حیرانگی سے دیکھا تھا۔
ڈیڈ نے؟ لیکن ڈیڈ کی اُن دونوں سے کیا دشمنی ہے؟ احمر نے دل میں سوچا۔
سر بہت جلد آپ کا کام ہو جائے گا اور اب مجھے اجازت دیں احمر نے وہاں سے اٹھتے ہوئے کہا جس نے اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔
احمر نے مزمل کے گھر سے نکلتے ہی اپنے باپ کو کال کی اور نائل کے بارے میں پوچھا پھر شاہ نواز نے اُسے بتایا کہ اُن دونوں کی وجہ سے ہی تو وہ لوگ پریشان ہیں۔
اور جن دو لڑکوں کا وہ ذکر کر رہا تھا وہ یہی دونوں تھے۔شاہ نواز نے سب کچھ بتایا تو احمر نے ٹھیک ہے کہہ کر کال بند کر دی تھی۔
تم دونوں کے دشمن تو بہت زیادہ ہیں نائل حسن اور تمھارا سب سے بڑا دشمن تو میں ہوں کیونکہ میری سویٹی تمھارے پاس ہے۔اور اب تو ایک اور رشتہ ہم. دونوں کا. نکل آیا ہے احمر نے مسکراتے ہوئے کہا اور گاڑی کا دروازہ کھولتے اندر بیٹے گیا۔
💜 💜 💜
پاسٹ….
شہریار دوبارہ حویلی آیا اور جس جگہ پر یاور نے کہا تھا وہاں سے پراپرٹی کے پیپرز کو پکڑا یہ وہ پراپرٹی تھی جو یاور کے اصل ماں باپ کی تھی۔
شہریار اس کے بعد نائل اور طالش کے پاس گیا جو اپنے کمرے میں تھے۔اس نے دونوں کو کہا کہ دونوں کو حویلی سے نکلنا ہے۔
تمھارا دماغ ٹھیک ہے؟ نائل نے غصے سے پوچھا۔تم دونوں کے ڈیڈ نے کہا ہے کیا اُن کا بھی کہنا نہیں مانو گئے؟ شہریار نے بوکھلائے ہوئے انداز میں پوچھا۔کیونکہ وہ چاہتا تھا کہ اس کے باپ کے آنے سے پہلے دونوں حویلی سے نکل جائیں۔
شہریار تم کہنا کیا چاہتے ہو؟ ڈیڈ کہاں ہیں؟ طالش نے آگے بڑھتے پوچھا۔
چلو میرے ساتھ میں بتاتا ہوں شہریار نے کہا تو دونوں اس کے ساتھ چل پڑے۔
تم دونوں جاؤ میں مرحا کو لے کر آتا ہوں۔
شہریار کہتا وہاں سے چلا گیا۔
ان دونوں کو سمجھ نہیں آئی کہ شہریار کرنا کیا چاہ رہا ہے۔
شہریار مرحا کے پاس گیا۔جو کچن میں تھی۔
مرحا چلو میرے ساتھ ہمیں یہاں سے نکلنا ہے۔
شہریار نے مرحا کا ہاتھ پکڑتے کہا۔
کیا مطلب؟ مرحا نے حیرانگی سے پوچھا۔
بعد میں بتاتا ہوں چلو میرے ساتھ شہریار نے جلدی سے کہا۔
مجھے کہی نہی جانا مرحا نے شہریار کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے کہا۔
کیوں؟ شہریار نے حیرانگی سے پوچھا۔
یہاں پر سب لوگ میرے اپنے ہیں میرا شوہر بھی یہی پر ہے موم ڈیڈ سب یہی پر ہیں تو میں کیوں آپ کے ساتھ جاؤں؟ مرحا نے صاف انکار کرتے کہا۔
ابتسام تمھارے لائق نہیں ہے میری بات مانو وہ تمہیں کبھی خوش نہیں رکھے کا پلیز میرے ساتھ چلو میں تمہیں سب کچھ بتا دوں گا۔شہریار نے کہا لیکن مرحا نے منع کر دیا کیونکہ وہ ابتسام کو پسند کرتی تھی تو کیسے اُسے چھوڑ کر چلی جاتی اور اسے یہ بھی تھا کہ اس کے ماں باپ بھی یہی پر ہیں۔
مرحا تم بہت پچھتاؤ گی لیکن میں تمہیں واپس لینے آؤں گا۔شہریار نے کہا اور وہاں سے چلا گیا مرحا کا خیال اس کی ماں اور تائی رکھ سکتی تھیں۔اسے اتنا یقین ضرور تھا۔
شہریار یہ کہہ کر وہاں سے چلا گیا تھا۔
مرحا کو تو کچھ سمجھ نہیں آئی اس لیے کندھے اچکاتے دوبارہ کام کرنے میں بزی ہو گئی۔
💜 💜 💜 💜
شیریں یہ کیا حرکت ہے؟ تم اس کمرے میں کیوں سو رہی ہو؟ سب لوگ گھر آگئے ہیں اُن کے سامنے تماشا ضرور بنانا ہے؟
طالش نے شیریں کو دیکھتے غصے سے پوچھا۔
وہ اس کا کمرے میں انتظار کر رہا تھا لیکن جب شیریں نہیں آئی تو ا نے دوسرے کمرے میں جاکر دیکھا میڈم وہاں سونے کی تیاری کر رہی تھیں۔
کسی نے ہمارے کمرے میں آکر نہیں دیکھنا کہ میں وہاں پر ہوں یا نہیں ہوں۔شیریں نے بے نیازی سے کہا۔
طالش نے بنا کوئی جواب دیے جھک کر شیریں کو اپنی بانہوں میں اٹھایا۔
یہ کیا کر رہے ہیں آپ؟ چھوڑیں مجھے طالش
شیریں نے ہاتھ پیر چلاتے دھیمے لہجے چیختے ہوئے کہا۔
تم جب پیار سے بات نہیں مانو گی تو مجھے یہی کرنا پڑے گا۔
طالش نے سنجیدگی سے کہا اور اسے اپنے کمرے میں لے گیا۔
طالش میں آپ کا خون پی جاؤں گی۔شیریں نے دانت پیستے کہا۔
طالش نے کمرے میں جاتے ہی اسے بیڈ پر پھینکا۔
بیوی کا کام صرف شوہر کا خون جلانا ہی تو ہوتا ہے۔طالش نے شیریں کے پاس بیٹھتے اسے بازو سے پکڑ کر خود کے قریب کرتے گھمبیر لہجے میں کہا۔
طالش آپ کیا ہیں؟ میں آپ کو سمجھ نہیں پا رہی۔شیریں نے طالش کو دیکھتے ہوئے دکھی لہجے میں پوچھا۔
میں جو بھی ہوں تمھارے سامنے ہوں شیریں
طالش نے شیریں کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے کہا۔
مجھے نیند آرہی ہے۔شیریں نے اپنا ہاتھ طالش کے ہاتھ سے چھڑواتے ہوئے کہا اور اپنی جگہ پر جاکر لیٹ گئی۔
طالش نے گہرا سانس لیا اور خود بھی لیٹ گیا۔
💜 💜 💜
