Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 24

بس میری بچی میں ہوں نا تمھارے پاس۔اب رونا نہیں ہے نگین نے پیار سے سیرت کے بالوں پر بوسہ دیتے کہا جو نگین کو دیکھتے بس اُس کے گلے لگے روتی جا رہی تھی۔
نائل کب سے وہاں بیٹھا سیرت کو روتے ہوئے دیکھ رہا تھا لیکن اب اس کا صبر جواب دے گیا تھا۔
آنٹی آپ زرا ان محترمہ کو بتا دیں جتنے یہ آنسو بہا رہی ہیں اتنی ہی اس کی امی دکھی ہو رہی ہوں گی۔
نائل نے سیرت کے سر پر کھڑا دانت پیستے کہا۔
ہاں بیٹا نائل بلکل ٹھیک کہہ رہا ہے چلو آنسو صاف کرو اور باہر آکر سپارہ پڑھو نگین نے سیرت کے آنسو صاف کرتے کہا جس نے اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔
چلو جلدی سے باہر آجاؤ میں باہر تمھارا انتظار کر رہی ہوں۔نگین کہتے ہی وہاں سے چلی گئی۔
مسز اب اگر میں نے تمھاری آنکھوں میں آنسو دیکھے تو بہت برا پیش آؤں گا۔
نائل نے سیرت کے سامنے بیٹھتے اس کا چہرہ ٹھوڑی سے پکڑ کر اوپر کرتے سنجیدگی سے کہا۔جس نے نم آنکھوں میں خفی لیے نائل کو دیکھا تھا۔
ایسے دیکھو گی تو میں کچھ ایسا کر جاؤں گا جو تمہیں پسند نہیں آئے اس لیے جلدی سے اُٹھ کر چہرہ دھو کر آؤ نائل نے سیرت کے چہرے سے نظریں چراتے ہوئے کہا اور وہاں سے اُٹھ کھڑا ہو گیا۔
سیرت خاموشی کے ساتھ باتھروم کی طرف چلی گئ تھی۔
پیچھے نائل اپنے موبائل کو چیک کرنے لگا تھا۔
💜 💜 💜 💜
پاسٹ…..
یاسر اور شمیم نے شہر جانا تھا۔
شہریار نے کہا کہ اسے بھی کچھ چیزیں لینی ہیں اس لیے وہ بھی ان کے ساتھ چل پڑا تھا۔
شاہ نواز نظر رکھو دونوں پر تم نے کسی طرح ان کو اپنے گھر میں لے کر جانا ہے۔سکندر نے شاہ نواز کو کال کرتے کہا۔
میں نے دونوں پر نظر رکھی ہوئی ہے۔
آپ ٹینشن نا لیں۔آج کام ہو جائے گا۔شاہ نواز نے کہتے ہی موبائل بند کر دیا۔
ان دونوں کو یہ معلوم نہیں تھا کہ یاسر اور شمیم کے ساتھ شہریار بھی ہے۔
شاہ نواز نے یاسر کو کال کی اور کہا۔
بھائی ہمارا جو شہر میں گھر ہے آپ وہاں کا ایک چکر لگا لیجیے گا۔ہم لوگ سوچ رہے تھے کہ اُس گھر کو بھی ٹھیک کروا لیتے ہیں اگر ہم میں سے کوئی شہر جاتا ہے تو وہاں رک سکتا ہے۔شاہ نواز نے کہا۔
ٹھیک ہے شاہ نواز میں وہاں کا بھی چکر لگا لوں گا۔یاسر نے کہتے ہی فون بند کر دیا تھا۔
کیا ہوا؟ شمیم نے یاس کو دیکھتے پوچھا۔
شاہ نواز کہہ رہا ہے کہ میں ایک بار اپنے شہر والے گھر کی صورتحال دیکھ لوں پھر اُسے ٹھیک کروانا ہے۔یاسر نے کہا۔
شہریار خاموش بیٹھا ان دونوں کی باتیں سن رہا تھا۔
گھر کے پاس آکر گاڑی رکی تو یاسر کے ساتھ شمیم بھی باہر آئی تھی۔یہ گھر تھوڑا سنسان علاقے میں تھا۔
پھپھو جان میں پیچھلے والا حصہ دیکھ کر آتا ہوں شہریار نے کہا۔اور وہاں سے چلا گیا۔
شمیم اور یاسر گھر کے اندر چلے گئے تھے۔
گھر میں ایک ملازم تھا۔جو ان کو گھر دکھا رہا تھا۔گھر کو دیکھ کر لگتا تھا کہ کافی دیر سے بند پڑا ہوا ہے۔
شمیم اور یاسر ایک کمرے کے اندر داخل ہوا۔
باہر سے ملازم نے دروازہ بند کر دیا تھا۔
شمیم نے پیچھے مڑ کر دروازے کی طرف دیکھا۔
یاسر یہ دروازہ کس نے بند کر دیا؟ شمیم نے پریشانی سے یاسر کو دیکھتے پوچھا۔
تم پریشان مت ہو میں دیکھتا ہوں یار نے کہا اور دروازے کو کھولنے کی کوشش کرنے لگا۔
لیکن دروازہ نہیں کھلا تھا۔یاسر نے ملازم کو آواز دی لیکن آگے سے شاہ نواز کی آواز آئی تھی۔
بھائی صاحب آپ ٹھیک ہیں؟ شاہ نواز نے باہر سے ہانکتے ہوئے پوچھا۔جو ابھی یہاں آیا تھا۔
شاہ نواز اس دروازے کو کھولو یہ بند ہو گیا ہے۔کھل نہیں رہا۔یاسر نے جلدی سے کہا۔
ارے بھائی صاحب میں یہ دروازہ کیسے کھول سکتا ہوں۔
میں یہ دروازہ نہیں کھول سکتا مجھے معاف کر دیجیے گا۔
شاہ نواز نے کہا تو یاسر نے غصے سے دروازے کو دیکھا تھا۔
کیا بکواس کر رہے ہو شاہ نواز؟ یاسر نے دھاڑتے ہوئے پوچھا۔
بکواس نہیں ہے بھائی صاحب جن چیزوں پر میرا اور سکندر بھائی کا حق ہونا چاہیے تھا وہ ساری چیزیں ابو جان نے آپ کو دے دی یہ تو ناانصافی ہوئی نا ہمارے ساتھ
اور اتنی کوششوں کے بعد اب یہ موقع ہمارے ہاتھ آیا ہے اسے ہم ضائع نہیں کر سکتے۔
شاہ نواز نے ہنستے ہوئے کہا۔
شہریار جو اندر آیا تھا لیکن اپنے باپ کی باتیں سننے کے بعد وہی پر رک گیا۔ملازم شاہ نواز کے ساتھ ہی کھڑا تھا۔
میرے ساتھ تم اپنی بہن کی جان بھی لینا چاہتے ہو؟کیسے بھائی ہو تم؟ یاسر کو سمجھ میں آگیا تھا کہ شاہ نواز اور سکندر کیا چاہتے ہیں۔
شمیم نے زور سے یاسر کے بازو کو پکڑا ہوا تھا کیا کر سکتے ہیں اب اگر شمیم زندہ رہی تو ساری جائیداد اُس کے نام کر دی جائے گی اس لیے دونوں کا مرنا ضروری ہے۔
اور اندر نا ایک زہریلا سانپ ہے جس کا ایک ڈس ہی انسان کو آگے جہان میں پہنچا دیتا ہے۔اور ہاں تمھارے بچوں کو بھی ہم تمھارے پاس جلدی پہنچا دیں گئے۔
اب میں چلتا ہوں شاہ نواز کہتے ہی وہاں سے چلا گیا ملازم بھی وہاں سے اس کے ساتھ چلا گیا تھا۔دروازے پر بڑا سا تالا لگا ہوا تھا۔
شاہ نواز کے جاتے ہی شہریار وہاں آیا۔
پھپھو آپ دونوں گھبرائے نہیں میں آپ کو باہر نکالتا ہوں شہریار نے اردگرد نظریں دوڑاتے کہا اسے کوئی بھی ایسی چیز نظر نہیں آئی جس کی وجہ سے وہ تالے کو توڑ سکے۔
شہریار میری بات سنو بیٹا یاسر نے جلدی سے کہا۔
شہریار ابھی بھی ارد گرد دیکھتے کوئی چیز تلاش کر رہا تھا۔
شہریار میری بات سنو یاسر نے اس بار غصے سے کہا تو شہریار بےبسی سے دروازے کے قریب گتا تھا۔
میں آپ دونوں کو یہاں مرنے کے لیے نہیں چھوڑ سکتا۔شہریار نے کہا تو شمیم کی آواز اندر سے آئی تھی۔
شہریار میرے بچے ہماری بات سنو ہماری فکر مت کرو بس جیسا یاسر کہتے ہیں ویسا کرو شمیم نے کہا تو شہریار خاموشی سے یاسر کی بات سننے لگا۔
💜 💜 💜 💜 💜
تم اتنی پریشان کیوں ہو مرحا؟شہریار نے مرحا کو دیکھتے پوچھا جو گھر آنے کے بعد بھی خاموش سی تھی۔
نہیں میں پریشان نہیں ہوں مرحا نے ارد گرد دیکھتے کہا۔
تم مجھ سے جھوٹ نہیں بول سکتی مرحا۔
ابتسام کی وجہ سے پریشان ہو؟
شہریار نے پوچھا تو مرحا بنا کوئی جواب دیے وہاں سے جانے لگی۔
میں نے تم سے کچھ پوچھا ہے۔شہریار نے اس کو بازو سے پکڑتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔
شہریار آپ ہمیشہ میرے ساتھ زبردستی کیوں کرتے ہیں؟
مرحا نے اس بار غصے سے کہا۔
زبردستی ابھی میں نے کی کہاں ہے مرحا؟ شہریار نے اپنے چہرے پر حیرانگی کے تاثرات لاتے پوچھا۔
اور جو یہ آپ حرکتیں کرتے ہیں وہ کیا ہے؟ مرحا نے دانت پیستے پوچھا۔
جب تم میری بات کا جواب نہیں دیتی مجھے اگنور کرتی ہو تو مجھے یہ حرکتیں کرنی پڑتی ہیں۔تم آرام سے میری بات کا جواب دے دیا کرو میں بھی یہ سب نہیں کروں گا۔شہریار نے کندھے اچکاتے کہا۔
آپ کیا صرف نام کے ڈاکٹر ہیں؟ سارا دن آپ گھر میں بیٹھے رہتے ہیں آپ کو اور کوئی کام نہیں ہوتا؟ مرحا نے گھورتے ہوئے پوچھا لگتا تھا وہ کچھ زیادہ ہی شہریار کی ان سب حرکتوں سے اکتا گئ تھی۔
سب کچھ یہاں چھوڑ کر آگیا ہوں ابھی مجھے جاب نہیں ملی اس لیے گھر رہتا ہوں۔اور ابھی میں پوری طرح ڈاکٹر نہیں بنا۔شہریار نے مرحا کا ہاتھ چھوڑتے ہوئے کہا۔
تو آپ واپس کیوں آئے ہیں؟مرحا کے زبان سے اچانک یہ سوال نکلا تھا۔
فکر مت کرو بہت جلد واپس چلا جاؤں گا۔شہریار نے مرحا کے اچانک قریب آتے اس کے کان کے پاس سرگوشی نما انداز میں مزید کہا۔
لیکن تمہیں بھی اپنے ساتھ لے کر جاؤں گا شہریار نے ہلکا سا مرحا کے کان کو چھوا اور پیچھے ہوتے وہاں سے چلا گیا تھا۔
مرحا تو شہریار کے چھونے پر ایک دم کپکپا سی گئی تھی۔اور اپنے کمرے کی طرف بھاگ گئی۔
💜 💜 💜 💜
چودھری کا بیٹا شفیق اپنے گھر کے باہر بےہوش حالت میں پایا گیا تھا۔لیکن اس کی حالت بہت خراب تھی جتنے دن وہ قید میں رہا خوب اس کی خاطر تواضع ہوئی تھی لیکن کسی نے اسے یہ نہیں بتایا کہ کس نے اسے قید کروایا ہے۔
چودھری تو اپنے بیٹے کو اس میں دیکھ کر جلدی سے ہسپتال لے گیا تھا۔ ابھی تک وہ بےہوش تھا اسے ہوش نہیں آتا تھا۔
ایک بیٹا چلنے پھیرنے سے محروم تھا تو دوسرے بیٹے کی حالت دیکھ کر چودھری کا دل کٹ سا گیا تھا۔
وہ پوری رات ہسپتال میں اپنے بیٹے کے پاس رہا تھا۔اگلے دن کہی جا کر شفیق کو ہوش آئی تھی۔
چوھدری اپنے بیٹے کو ہوش میں آتے دیکھ بہت خوش ہوا تھا۔اس نے سوچ لیا تھا کہ اب وہ کسی سے کوئی پنگا نہیں لے گا کیونکہ وہ اپنے بیٹے کو کھونا نہیں چاہتا تھا۔
اس نے اپنے بیٹے سے پوچھا تھا کہ کس نے یہ سب کیا لیکن شفیق نے لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔
💜 💜 💜💜
اگلے دن طالش آفس نہیں گیا تھا نائل کی ایک ضروری میٹنگ تھی وہ اٹینڈ کرنے کے بعد وہ گھر واپس آرہا تھا جب اس کی گاڑی اچانک بند ہو گئی تھی۔
شٹ نائل نے سٹیرنگ پر زور سے ہاتھ مارتے کہا۔
اور باہر نکل کر اس نے ٹائر کو دیکھا جو پنکچر تھا۔ اس نے پریشانی سے اپنے ماتھے کو سہلایا تھا۔یہ بھی عجیب مصیبت ہے۔
نائل نے خود سے کہا اور اپنا موبائل پکڑے شہریار کو کال کرنے لگا۔
اس نے موبائل دیکھا جہاں پر سگنل نہیں آرہے تھے اس لیے چلتا ہوا گاڑی سے کچھ دور آگیا۔اور شہریار کا نمبر ڈائل کرتے اسے کال کرنے لگا تھا۔
ہاں نائل؟ شہریار نے کال اٹھاتے ہی پوچھا۔
یار میری گاڑی کا ٹائر پکچر ہو گیا ہے یہاں گاڑی بھیج دے نائل کہتے ہی اسے اپنی لوکیشن بتانے لگا لیکن اس نے ایک بات نوٹ نہیں کی تھی کہ اس کی گاڑی کے پاس ہی زمین پر کچھ نوکیلے کیل بھی پڑے ہوئے تھے۔
نائل اسی راستے ست آفس آتا جاتا تھا۔
ٹھیک ہے میں خود آتا ہوں شہریار نے کہا۔اور موبائل بند کرنے لگا لیکن اچانک ایک زور دار دھماکے کی آواز آئی تھی۔
نائل تم ٹھیک ہو؟ یہ آواز کیسی تھی؟ ہیلو؟ شہریار نے پریشانی سے چلاتے ہوئے کہا۔طالش جو اس کے پاس بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا وہ بھی پریشان ہو گیا تھا۔
کیا ہوا شہریار نائل ٹھیک ہے؟ طالش نے پریشانی سے پوچھا۔پتہ نہیں دھماکے کی آواز آئی ہے لیکن نائل جواب نہیں دے رہا۔
ہمیں وہاں جا کر دیکھنا ہو گا شہریار کہتے ہی بھاگتے ہوئے وہاں سے باہر نکلا طالش بھی اس کے پیچھے بھاگا تھا۔
نائل کی گاڑی کی گاڑی میں ایک دم آگ لگی اور ایک زور دار دھماکے کی وجہ سے اس کے پرخچے اڑ گئے تھے۔پوری گاڑی کے چھوٹے چھوٹے حصے سڑک ہر گرے ہوئے تھے۔
کہاں جا رہے ہو تم دونوں؟
نگین نے دونوں کو بوکھلائے ہوئے انداز میں باہر جاتے دیکھا تو پوچھا۔نگین کے ساتھ سیرت بھی تھی۔
امی ہم آپ کو واپس آکر بتاتے ہیں آپ دعا کریں سب ٹھیک ہو۔شہریار نے جلد بازی میں کہا اور پھر طالش کے ساتھ وہاں سے چلا گیا۔
اللہ خیر کرے نگین نے پیچھے کہا۔لیکن سیرت پریشان ہو گئی تھی۔