Jaane Bewafa By Rimsha Hayat Readelle50132 Episode 13
No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
💜💜💜💜💜☠️☠️☠️☠️☠️
طالش کے گھر آتے ہی نائل گھر سے نکل گیا تھا۔اس کے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ وہ اس سے بحث بکر سکے۔
نائل گاڑی کو فل سپیڈ میں ڈرائیو کرتے گاؤں پہنچا تھا اس وقت اس کے چہرے پر چھایا سرد پن اور سختی کو دیکھ کر کوئی بھی اس سے بات کرنے سے پہلے سو بار سوچتا۔
نائل سیدھا حویلی گیا تھا۔
آؤ داماد جی کیسے آنا ہوا؟ سکندر نے حویلی میں نائل کع دیکھا تو چہرے پر مسکراہٹ سجائے اسے دیکھتے پوچھا۔
سیرت اور شیریں کہاں ہیں؟ نائل نے سکندر کو دیکھتے تحمل سے پوچھا ورنہ اس کا دل تو کر رہا تھا سامنے کھڑے مکار انسان کا قتل ہی دے۔
سیرت بلکل ٹھیک ہے اپنے کمرے میں ہے اور کل تمھارے بھائی کو طلاق نامہ مل جائے گا۔اور سیرت وہی ہے جہاں اُسے ہونا چاہیے۔
سکندر نے مسکراتے ہوئے کہا۔
سیرت کہاں ہے؟ نائل نے سکندر کے سامنے کھڑے ہوتے پوچھا۔
نہیں بتاؤں گا کیا کر لو گئے؟ سکندر نے نائل کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
تو پھر میں بھی آپ کی عمر کا لحاظ نہیں کروں گا۔نائل نے پرسرار لہجے میں کہا۔
وہ اس حویلی میں نہیں اگر تم اُسے ڈھونڈ سکتے ہو تو ڈھونڈ لو اور جب تک وہ تمہیں ملے گی تم سے بہت دور جا چکی ہو گی۔
سکندر نے تیکھے لہجے میں نائل کو دیکھتے کہا۔
میری بھی ایک بات کان کھول کر سن لو نائل نے سکندر کا گریبان پکڑتے کرخت لہجے میں کہا۔لیکن سکندر اس بات کی امید نہیں کر رہا تھا کہ نائل اس کی گریبان تک آسکتا ہے۔
اگر میری بیوی کو کچھ بھی ہوا تو تمہیں اتنی دردناک موت دوں گا کہ تمھاری روح تک کانپ جائے گی۔
نائل نے غصے سے اسے پیچھے دھکا دیتے کہا۔سکندر نے اپنا گریبان ٹھیک کرکے ارد گرد دیکھا تھا کہ کوئی اسے دیکھ تو نہیں رہا لیکن وہاں پر کوئی نہیں تھا۔
نائل پھر وہاں رکا نہیں تھا اور وہاں سے چلا گیا۔کیونکہ وہ اتنا تو جان گیا تھا کہ سیرت حویلی میں نہیں ہے۔
💜 💜 💜 💜
پلیز میں تم سے معافی مانگتی ہوں۔جو بھی میں نے تمھارے ساتھ بدتمیزی کی اُس کے لیے مجھے معاف کر دو سیرت نے شفیق کے سامنے گڑگڑاتے ہوئے کہا۔
تجھے کیا لگتا ہے اب میں تجھے یہاں سے جانے دوں گا؟
شیر کے سامنے شکار ہو اور وہ اُسے نا کھائے تو ایسا تو نہیں ہو سکتا نا اور تمھارے جیسی حسین لڑکی کو میں جانے دوں ایسا تو بلکل بھی نہیں ہو سکتا شفیق نے خباثت سے کہتے اپنے قدم سیرت کی طرف بڑھائے۔
سیرت وہاں سے اُٹھ کر دروازے کی طرف بھاگنے لگی شفیق نے اس کو بازو سے پکڑنا چاہا تو وہاں سے کچھ کپڑے کا ٹکرا پھٹ کر شفیق کے ہاتھ میں آگیا۔
شفیق نے اسے دوبارہ بازو سے پکڑ کر اس کے منہ پر زور دار تھپڑ دے مارا جو دیوار کے ساتھ لگنی کی وجہ سے زمین پر جا گری اور ماتھے سے بھی اسکے خون نکلنے لگا تھا۔
سیرت نے اپنے ماتھے پر ہاتھ رکھے سامنے سے آتے درندے کو دیکھا اس نے ارد گرد نظریں دوڑائی اس سے پہلے شفیق سیرت کی طرف آتا اس نے پاس پڑا گلدان پکڑا اور زور سے کھڑے ہوتے شفیق کے سر پر دے مارا۔
ابھی وہ اسی حملے سے سنبھلا نہیں تھا کہ سیرت نے دوبارہ گلدان اس کے سر پر دے مارا جو وہی اپنے سر پر ہاتھ رکھے زمین پر بیٹھ گیا تھا خون زیادہ نکل رہا تھا۔
تجھے میں چھوڑوں گا نہیں شفیق نے گالی دیتے دروازہ کھولتی سیرت کو دیکھتے کہا۔
جس نے شفیق کی بات کو اگنور کیا اور باہر بھاگ گئی اس وقت اس کا مقصد یہاں سے باہر نکلنا تھا۔
باہر چوھدری کے آدمی کھڑے تھے۔
سیرت ابھی یہی سوچ رہی تھی کہ کیسے یہاں سے باہر جائے ایک آدمی نے آکر کہا کہ چوھدری صاحب سب کو اندر بلا رہے ہیں چھوٹے چودھری بےہوش ہو گئے ہیں یہ کہتے ہی سب لوگ اندر چلے گئے اور سیرت کو یہی موقع بہتر لگا اور چوھدری کے گھر سے باہر نکل گئی۔
اس وقت وہ جس حلیے میں تھی کوئی بھی دیکھتا تو غلط ہی سمجھتا ایک بازو پھٹا ہوا تھا بکھرے بال چہرہ سوچا ہوا اور ڈوپٹہ تو شاید کہی گر گیا تھا بس وہ یہاں سے بھاگنا چاہتی تھی۔
باہر دوپہر کا وقت تھا ہر طرف کھیت ہی کھیت تھے دور دور تک کوئی بھی انسان نظر نہیں آرہا تھا۔
سیرت نے رک کر سانس لیا گرم زمین سے اسے اپنے پاؤ جھلستے ہوئے محسوس ہو رہے تھے۔سیرت کو اپنے گاؤں کا راستہ معلوم تھا اس لیے اُسی راستے کی طرف چلنے لگی لیکن اب تو اس کے پیروں سے خون رسنے لگا تھا۔زمین بھی گرم اور پھتر لگنے کی وجہ سے اس کے پیروں کی حالت بہت بری تھی۔
لیکن پھر بھی اس نے ہمت نہیں ہاری اور بھاگتی رہی اسے ڈر تھا کہ کہی چوھدری کے آدمی آکر اسے پکڑ نا لیں۔
💜 💜 💜 💜 💜
تم؟ طالش نے شہریار کو دیکھتے پوچھا۔کیونکہ نائل نے اسے بتایا تھا کہ شہریار ان کے ساتھ نہیں آرہا۔
ہاں وہ مجھے کچھ کام تھا۔شہریار نے اردگرد دیکھتے کہا اب وہ کیا بتاتا کہ اس نے جانے سے منع تو کر دیا تھا لیکن اُس انسان کی یاد اسے دوبارہ پاکستان لے آئی تھی جو اس کے دل میں بسی تھی۔
اچھا ٹھیک ہے طالش نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتے کہا۔
کیا ہوا تم پریشان لگ رہے ہو؟
شہریار نے طالش کے سامنے بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
میں نے تمہیں بتانا تھا کہ میں شیریں کو رخصت کرکے یہاں لے آیا تھا۔طالش نے شہریار کو دیکھتے بات شروع کی۔
میں اس بات کو جانتا ہوں طالش اتنا بھی میں بے خبر نہیں ہوں میں تم لوگوں سے
شہریار نے کہا تو طالش نے گہرا سانس لیتے اسے ساری بات بتانے لگا۔
وہ دونوں اتنی بڑی غلطی کیسے کر سکتی ہیں؟ ٹھیک کہتے ہیں لوگ لڑکیوں میں عقل تو ہوتی ہے لیکن استعمال کرنے کی زحمت نہیں کرتیں۔شہریار نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
معصوم ہوتی ہیں ہر ایک پر یقین کر لیتی ہیں پھر اپنا نقصان بھی کرتی ہیں طالش نے اپنی جیب سے سگریٹ نکالتے کہا اس وقت اس کا سر درد سے پھٹا جا رہا تھا۔
میں بھی گاؤں جاتا ہوں ہوسکتا ہے نائل کو مدد کی ضرورت ہو۔شہریار نے طالش کو دیکھتے کہا۔
تم گاؤں جاؤں گئے؟ طالش نے لہجے میں حیرانگی لیے پوچھا۔
ہاں اگر حویلی والوں سے ملنا بھی پڑا تو مل بھی لوں گا۔شہریار کہتے ہی وہاں سے چلا گیا۔
طالش ابھی بھی وہی بیٹھا سگریٹ کے کش لے رہا تھا۔اگر ان دونوں میں سے کسی کو بھی کچھ ہو گیا تو میں خود کو کبھی معاف نہیں کر پاؤں گا۔طالش نے دل میں سوچا تھا کیونکہ وہ خود کو ان سب چیزوں کا قصوروار سمجھ رہا تھا۔
💜 💜 💜 💜
نائل گاؤں میں بیٹھا تقریباً پورا گاؤں دیکھ چکا تھا۔ لیکن اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ سیرت کو کہاں تلاش کرے۔
تھک ہار کر اس نے گاڑی ایک طرف روکی اور آنکھیں بند کیے اپنے دماغ کو پرسکون کرنے لگا۔
جب اس کا موبائل رنگ ہوا۔کال شہریار کی تھی۔
کہاں ہو تم؟ شہریار نے پوچھا۔
پتہ نہیں نائل نے تھکے ہوئے لہجے میں جواب دیا۔
میں حویلی جا رہا ہوں شہریار نے کہا تو نائل نے آنکھیں کھولی۔
تم پاکستان کب آئے؟ نائل نے سنجیدگی سے پوچھا۔
تم لوگوں کے نکلنے کے بعد ہی میں نکل گیا تھا ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی آیا ہوں۔
سیرت اور شیریں ٹھیک ہیں؟ شہریار نے پوچھا تو نائل نے اسے ساری بات بتا دی۔
تم فکر مت کرو میں شیریں کو لے آؤں گا تم سیرت کو تلاش کرو وہ مل جائے گی ٹھنڈے دماغ سے سوچو کہ وہ لوگ اُسے کہاں بھیج سکتے ہیں۔شہریار نے کہا تو نائل نے ٹھیک ہے کہہ کر فون بند کر دیا۔
ابھی نائل گاڑی سٹارٹ ہی کرنے والا تھا جب اسے دور سے ایک لڑکی بھاگتی ہوئی نظر آئی۔اس وقت ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی۔
نائل گاڑی سے باہر نکلا اور اُس لڑکی کی طرف اپنے قدم بڑھا دیے اسے لگا کہ شاید وہ لڑکی کسی سے بچ کر بھاگ رہی ہے اس کی شکل تو ٹھیک سے نظر نہیں آرہی تھی لیکن اس کے حلیے کو دیکھ کر نائل نے اپنی نظریں جھکا لیں تھیں ۔
سیرت جو بھاگتی ہوئی وہاں پہنچی تھی اور بار بار پیچھے مڑ کر دیکھ رہی تھی ایک پھتر کے ساتھ ٹکرانے کی وجہ سے گرنے لگی کہ نائل بھاگتا ہوا وہاں آیا اور اسے بازو سے پکڑ کر گرنے سے بچایا۔
سیرت کو ایسا لگا کہ وہ پکڑی گئی ہے ڈر سے وہ بار پھر کانپ سی گئی تھی۔وہ گاؤں میں تو اس لیے آئی تھی کہ وہ کسی بھی گھر میں جا سکتی ہے کیونکہ یہ اس کا اپنا گاؤں تھا اور کوئی بھی اس کی مدد کرنے سے منع نا کرتا۔
آپ ٹھیک ہیں؟
نائل کی بھاری آواز سیرت کے کانوں میں پڑی تو اسے لگا کہ اب وہ محفوظ ہے اب اسے کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا بھلا اس انسان کی آواز وہ کیسے بھول سکتی تھی۔سیرت نے نظریں اٹھا کر نائل کی طرف دیکھا تو اب حیران ہونے کی باری نائل کی تھی۔
سیرت نائل نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
سیرت نے نائل کو دیکھا تو پھر سے اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔اور پھر سے رونے لگی۔اس کی حالت دیکھ کر نائل کا خون کھول گیا تھا۔
تم اب محفوظ ہو نائل نے خود پر قابو پاتے اپنی جیکٹ اتار کر سیرت کو پہناتے کہا۔
مجھے جانا ہے یہاں سے وہ لوگ آجائیں گئے۔سیرت نے پیچھے دیکھتے اٹکتے ہوئے کہا۔اس وقت سیرت کی حالت نائل کے لیے ناقابلِ برداشت تھی۔
میری طرف دیکھو میں ہوں نا اب تمہیں کوئی ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا۔
نائل نے کہتے ہی سیرت کو اپنی بانہوں میں اٹھا لیا کیونکہ وہ سیرت کے پیروں کی حالت دیکھ چکا تھا۔سیرت اس وقت کچھ بھی سمجھنے کی حالت میں نہیں تھی اس نے نائل کے سینے میں اپنا منہ چھپا لیا اور زور سے اس کی شرٹ کو پکڑ لیا۔
نائل نے بڑی مشکل سے خود کو کنٹرول کیا تھا ورنہ اس کا دل کر رہا تھا کہ ہر ایک کی جان لے لیں لیکن سیرت کی حالت اسے کچھ اور ہی سوچنے پر مجبور کر رہی تھی جو اس کی حالت کو دیکھ کر لگ رہا تھا وہ نائل سوچنا نہیں چاہتا تھا۔
💜 💜 💜 💜
بھائی نائل یہاں آیا تھا؟ شاہ نواز نے سکندر کو دیکھتے پوچھا۔جو شاہ نواز کی بات سن کر ہوش میں آیا تھا۔
ہاں اور آج میں نے اُس کی آنکھوں میں جو جنون دیکھا ایک پل کے لیے میں اُسے دیکھ کر ڈر گیا تھا۔
ابتسام سیرت کو کہاں لے کر گیا ہے؟ معلوم کرو سکندر نے شاہ نواز کو دیکھتے کہا۔
ٹھیک ہے میں پوچھتا ہوں لیکن مجھے لگتا ہے کہ آپ کو ہسپتال بھابھی کے پاس جانا چاہیے ورنہ لوگوں کو باتیں کرنے کا موقع مل جائے گا۔
شاہ نواز نے کہا تو سکندر نے اثبات میں سر ہلایا تھا۔
دوسری جانب شہریار نے حویلی کے سامنے اپنی گاڑی روکی تھی۔
آج اتنے سالوں بعد وہ اس حویلی میں دوبارہ آیا تھا۔
جہاں آنے کی اس نے بہت بار کوشش کی تھی لیکن اس میں ہمت نہیں تھی کہ وہ اس حویلی کے اندر جا سکتا لیکن آج اس کا اندر جانا ضروری تھا۔
شہریار گاڑی سے باہر نکلا اور گہرا سانس لیتے حویلی میں داخل ہوا۔آج بھی حویلی ویسی ہی تھی جیسی وہ چھوڑ کر گیا تھا کچھ بھی نہیں بدلا تھا۔
سکندر ہسپتال کے لیے نکل گیا تھا۔شاہ نواز اپنے کمرے کی طرف جا رہا تھا جب اس کی نظر شہریار پر پڑی۔
شاہ نواز ایک سکنڈ میں شہریار کو پہچان گیا تھا بھلا ایک باپ اپنے بیٹے کو کیسے نہیں پہچان سکتا۔
شاہ نواز جلدی سے شہریار کے سامنے آیا جو اپنے باپ کو دیکھتے ہی وہاں رک گیا۔
شہریار ہی جانتا تھا کہ کیسے اس نے اپنے جذبات پر قابو پایا تھا ورنہ اس کا دل تو کر رہا تھا کہ اپنے باپ کے گلے جا لگے۔
شہریار تم؟ کیسے ہو میرے بچے شاہ نواز نے شہریار کو دیکھتے محبت بھرے لہجے میں کہا اور اپنے قدم اس کی طرف بڑھانے لگا۔آج اتنے سالوں بعد اپنے بیٹے کو دیکھ کر تو شاہ نواز کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا۔
گستاخی معاف بابا سائیں لیکن پلیز آپ وہی رک جائیں۔شہریار نے شاہ نواز کو دیکھتے سنجیدگی سے کہا۔شاہ نواز کے قدم وہی تھم گئے تھے۔
کچھ وقت پہلے آپ نے مجھے کال کرکے کے کہا میں دوبارہ حویلی آجاؤ اور آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ آپ کی فضول قسم کی رسومات کی وجہ سے میں اس حویلی کو چھوڑ کر گیا تھا اور دوسری وجہ کیا تھی وہ بھی بتا دوں گا۔
لیکن مجھے نہیں لگتا کہ آپ بدل گئے ہیں آپ ابھی بھی وہی شاہ نواز ہیں جن کی نظر میں عورت کی کوئی حیثیت نہیں جو عورت کو اپنے پیر کی جوتی سمجھتا ہے۔یقین کریں میں نے آپ سے ملنے کی بہت کوشش کی لیکن شہریار کہتے ہی سانس لینے کے لیے رکا۔
ہمت نہیں ہوئی دوبارہ اس حویلی میں آنے کی جہاں میری آنکھوں کے سامنے معصوم لوگوں کی جان لی گئی۔
میرا باپ ظالم ہونے کے ساتھ قاتل بھی ہے۔اور جب میں یہ سوچتا ہوں کہ میں ایک قاتل کا بیٹا ہوں تو مجھے خود سے نفرت محسوس ہوتی ہے۔کاش میں آپ کا بیٹا نا ہوتا۔شہریار نے بےبسی سے اپنے باپ کو دیکھتے کہا۔
جو شوکڈ کھڑا تھا اسے تو یہی معلوم تھا کہ شہریار کے حویلی چھوڑنے کی وجہ یہاں کی رسمیں ہیں لیکن غلط تھا شہریار سب کچھ جانتا تھا۔
بیٹا تم غلط سمجھ رہے ہو ایسا کچھ نہیں ہے میں نے کسی کی جان نہیں لی۔شاہ نواز نے جلدی سے صفائی دینی چاہی لیکن شہریار نے درمیان میں ہی اسے ٹوک دیا تھا۔
اچھا تو شبنم کہاں ہے؟ بابا سائیں
میری بہن کہاں ہے؟ اس بار شہریار نے سرخ آنکھیں لیے اپنے باپ کو دیکھتے چیخ کر پوچھا۔
شاہ نواز نے جبڑے تانے شہریار کو دیکھا تھا۔
ہم سب کا منہ کالا کر کے اپنے عاشق کے ساتھ بھاگ گئی شاہ نواز نے غصے سے کہا تو شہریار تمسخرانہ انداز میں ہنس پڑا تھا۔
بھاگ گئی؟ یا آپ لوگوں نے اُسے جان سے مار دیا؟ شہریار کہتے ہی شاہ نواز کے عین سامنے کھڑا ہو گیا۔
اس حویلی میں تو میں کبھی بھی واپس نہیں آؤں گا اور جس طرح آپ نے شبنم کو مار دیا اسی طرح یہ بھی سوچ لیجیے گا شہریار بھی مر گیا۔
آپ جیسے سفاک لوگوں کے ساتھ رہنے سے بہتر ہے کہ میں ہمیشہ اکیلا ہی رہو شہریار نے سرد لہجے میں کہا۔
اور شیریں کہاں ہیں؟ میں اُسے لینے آیا ہوں آخری بات شہریار نے رخ موڑے پوچھی۔
شیریں کہی نہیں جائے گی وہ یہی رہے گی۔
شاہ نواز نے اپنا آخری فیصلہ سناتے کہا۔
ٹھیک ہے اگر آپ آرام سے نہیں مان رہے بتو میں بھی وہی کروں گا جو میرا دل کرے گا۔شہریار کہتے ہی وہاں سے چلا گیا۔پیچھے شاہ نواز ابھی بھی ویسے ہی کھڑا تھا۔
