Jaane Bewafa By Rimsha Hayat Readelle50132 Episode 31 Part 2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 31 Part 2
ڈاکٹر صاحب میری بیوی کیسی ہے؟ وہ ٹھیک تو ہے نا؟ نائل نے ڈاکٹر کے باہر آتے ہی بےتابی سے پوچھا۔
فلحال تو وہ ٹھیک ہیں لیکن ابھی بےہوش ہیں زخم کو بھرنے میں کچھ وقت لگے گا۔ڈاکٹر نے پروفشنل انداز میں کہا۔
کیا میں ابھی مل سکتا ہوں؟ نائل نے تشکرکانہ انداز میں ڈاکٹر کو دیکھتے پوچھا۔
جی آپ اُن سے مل سکتے ہیں ڈاکٹر کہتے ہی وہاں سے چلا گیا تھا۔
نائل دروازہ کھولتے کمرے میں داخل ہوا جہاں اس کی زندگی بےہوش پڑی ہوئی تھی۔کب وہ اس کی سانسوں میں بسنے لگی نائل کو تو پتہ بھی نہیں چلا تھا۔
نائل چلتا ہوا سیرت کے پاس آیا۔جو آنکھیں موندھے لیٹی ہوئی تھی۔
جانتی ہو کہ تم نے میری جان نکال دی تھی۔
اب تو تمہیں کھونے کا خیال ہی میری جان نکال دیتا ہے۔
بہت اہم بن گئی ہو تم میرے لیے؟ نائل نے سیرت کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیتے نرم لہجے میں کہا۔
اس کی نظریں سیرت کی بند آنکھوں پر ٹکی ہوئی تھیں۔
اگر مجھے تمھارا خیال نا ہوتا تو کب کی تمھارے بھائی کی جان لے چکا ہوتا۔لیکن اب بہت ہو گیا۔اب اس کھیل کو ختم کرنا ہے۔
نائل نے سرد لہجے میں کہا۔اسی وقت کمرے کا دروازہ کھلا اور نرس اندر آئی۔
آپ سے ڈاکٹر نے پیشنٹ کے بارے میں کچھ ضروری بات کرنی ہے۔نرس نے ایک نظر بےہوش پڑی سیرت پر ڈالتے ہوئے کہا۔
نائل نرس کی بات سنتے ہی وہاں سے باہر چلا گیا۔
نرس نے کال اٹینڈ کرکے کہا کہ راستہ صاف ہےاور خود بھی وہاں سے نکل گئی.
💜 💜 💜 💜 💜
احمر جس نے اپنے آدمیوں کو نائل پر نظر رکھنے کا کہا تھا۔اسے جب خبر ملی کہ سیرت ہسپتال میں ہے تو خود وہاں پر آیا تھا۔اس نے منہ پر ماسک پہنا ہوا تھا۔
جب اس نے نائل کو روم سے باہر نکلتے دیکھا تو خاموشی کے ساتھ کمرے میں داخل ہوا۔
ایک نرس کو اس نے پیسے دیے تھے۔جو اس کی مدد کر رہی تھی۔
احمر نے سیرت کو دیکھا تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔ابتسام نے جا کر اسے ساری صورتحال کا بتا دیا تھا۔
احمر چلتا ہوا سیرت کے پاس گیا اتنے میں وہی نرس ویل چیئر لے آئی تھی۔
ارحمر نے جلدی سے اسے ویل چیئر پر بیٹھایا اور سیرت کے چہرے کو ماسک کے ساتھ کور کر دیا تھا۔
آپ ان کو جلدی سے یہاں سے لے جائیں۔ورنہ کوئی آگیا تو مسئلہ ہو جائے گا۔
نرس نے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا احمر اسے وہاں سے لے گیا تھا۔باہر نکلنے میں اس کی مدد نرس نے کی۔
نائل ڈاکٹر کے روم میں گیا تو اسے پتہ چلا کہ ڈاکٹر تو بہت پہلے کا جا چکا ہے۔
نائل کے دماغ میں کچھ کھٹکا تھا تو اُسی وقت بھاگتے ہوئے سیرت کے روم کی طرف آیا۔
لیکن خالی روم کو دیکھ کر نائل کو اپنا دل بند ہوتا ہوا محسوس ہوا تھا۔
میری بیوی کہاں ہے؟
نائل نے باہر آتے چلاتے ہوئے ہوچھا سب لوگ اسے دیکھ کر وہاں جمع ہو گئے تھے.
کیا ہوا سر سب ٹھیک ہے؟ ایک ڈاکٹر نے آگے بڑھتے پوچھا۔
ابھی پانچ منٹ پہلے میری بیوی کمرے میں تھی اور اب اچانک کہی غائب ہو گئی ہے۔
کہاں گئی وہ؟ نائل نے اپنے غصے پر قابو پاتے پوچھا۔
سر ہو سکتا ہے وہ خود کسی کے ساتھ چلی گئی ہو۔ڈاکٹر نے کہا تو نائل نے غصے سے اس کی طرف دیکھا تھا۔
وہ بےہوش تھی اُس کی حالت ایسی نہیں تھی کہ وہ چل سکے۔اور یہ ہے آپ کے ہسپتال کی مینجمنٹ؟ کوئی بھی آکر پیشنٹ کو لے کر جا سکتا ہے؟ آپ لوگوں کے ہسپتال کو تو میں بند کروا کر ہی دم لوں گا۔
نائل نے کرخت لہجے میں کہا اور وہاں سے چلا گیا کیونکہ اُسے اتنا تو پتہ چلا گیا تھا کہ یہاں رکنا مطلب وقت برباد کرنے کے برابر ہے۔
سر آپ ہماری بات تو سنے کچھ لوگوں نے اسے روکنا چاہا لیکن نائل وہاں سے جا چکا تھا۔
💜 💜 💜 💜
شہریار اپنی ماں کے سامنے بیٹھا ہوا تھا اس نے سوچ لیا تھا کہ اپنی ماں کو بتا دے گا کہ ان کے شوہر نے دوسری شادی کر رکھی ہے۔
کیا ہوا بیٹا تم کچھ بتانا چاہتے ہو؟نگین نے شہریار کو دیکھتے پوچھا۔
امی جان میں نے آپ کے شوہر کے بارے میں آپ کو بتانا تھا کہ وہ بہت پہلے شہر میں دوسری شادی کر چکے ہیں۔اور اُن کا ایک بیٹا بھی ہے۔شہریار کہتے ہی خاموش ہو گیا اور اپنی ماں کے چہرے کے تاثرات دیکھنے لگا۔
میں جانتی ہوں بیٹا اور یہ بات میں بہت پہلے سے جانتی ہوں۔نگین نے کہا تو شہریار نے حیرانگی سے اپنی ماں کی طرف دیکھا تھا۔
میں نے تمھارے باپ کو فون پر بات کرتے سنا تھا اور جب میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے فخریہ انداز میں مجھے کہا کہ ہاں کی ہے میں نے شادی اور اگر تمھیں مسئلہ ہے تو تم اس حویلی کو اور بچوں کو چھوڑ کر جا سکتی ہو۔میں آگے سے کیا جواب دیتی تم تو حویلی میں تھے نہیں اور شیریں کو چھوڑ کر میں جا نہیں سکتی تھی اس لیے خاموش ہو گئی تھی۔نگین نے کہا تو شہریار نے نے نفی میں سر ہلایا تھا۔
شہریار میرے ساتھ چلو مجھے تم سے بات کرنی ہے۔طالش جو وہاں آیا تھا اس نے سنجیدگی سے آتے کہا۔
شہریار نے اثبات میں سر ہلایا اور طالش کے ساتھ چلا گیا۔
کیا ہوا خیریت؟ شہریار نے طالش کو دیکھتے پوچھا۔
نہیں خیریت نہیں ہے طالش نے پریشانی سے کہا اور ساری صورتحال اسے بتا دی۔
کیا مطلب وہ ہسپتال سے کہاں غائب ہو.گئی؟ اور اب نائل کہاں ہے؟ شہریار نے پریشانی سے پوچھا۔
تمھارا سوتیلے بھائی کا میسج نائل کو آیا تھا وہ ہی سیرت کو لے کر گیا ہے۔طالش نے کہا۔
لیکن کیوں؟ اُسے سیرت سے کیا لینا دینا؟ شہریار کو ابھی بھی سمجھ نہیں آرہی تھی۔
وہ کمینہ سیرت کو پسند کرتا ہے اور تم ایک کام کرو گئے اپنی سوتیلی ماں کو کسی بھی طرح نائل کے گھر لے کر آؤ۔تمہیں میں وہی پر ملتا ہوں طالش کہتے ہی اپنے موبائل پر کچھ ٹائپ کرتے وہاں سے چلا گیا۔
شہریار بھی وہاں سے چلا گیا تھا۔
💜 💜 💜 💜
احمر سیرت کو اپنے فارم ہاؤس پر لے آیا تھا۔اور اس کے پاس بیٹھا گہری نظروں سے سیرت کو دیکھ رہا تھا۔
تمھارے شوہر کو تو میں نے پیار سے کہا تھا کہ تمہیں میرے حوالے کر دے لیکن لگتا ہے اُسے پیار کی زبان سمجھ میں نہیں آئی۔
احمر نے سیرت کی بند آنکھوں کو دیکھتے آہستگی سے کہا۔
جسے شاید ہوش آرہا تھا۔
سیرت نے اپنی آنکھیں کھولی اور خود پر جھکے احمر کو دیکھ کر سیرت کی خوف سے آنکھیں پھیل گئی اس نے احمر کو پیچھے دھکا دیا اور خود بیڈ سے اُٹھ کر دروازے کی طرف بھاگی۔اور دروازے کو کھولنے کی کوشش کرنے لگی۔اس وقت اسے اپنے پیٹ میں اٹھتے درد کی بھی پروا نہیں تھی۔اب تو اس کے زخم سے خون رسنے لگا تھا۔
احمر کھڑا اسے دیکھ کر مسکرا پڑا تھا۔
یہ میری اجازت کے بغیر نہیں کھلے گا۔احمر نے سیرت کے کان کے پاس جھکتے ہوئے کہا۔جو ڈر کے مارے اچھل پڑی تھی۔وہ سیرت کے بہت قریب کھڑا تھا۔
سیرت کا پورا چہرہ آنسوؤں سے بھیگ چکا تھا۔
پلیز مجھے جانے دو ۔
سیرت نے احمر کو دیکھتے گڑگڑاتے ہوئے کہا۔
جانے ہی تو نہیں دے سکتا جانم یہی تو مسئلہ ہے۔
یہاں پر احمر نے اپنے دل پر انگلی رکھتے مزید کہا۔یہاں پر تم نے قبضہ کر لیا ہے اور آج میں تمہیں پوری طرح اپنا بنا لوں گا اب ہمارے درمیان کوئی نہیں آئے گا۔
احمر نے کہتے ہی سیرت کو کمر سے پکڑ کر خود کے قریب کیا۔
پلیز مجھے جانے دو میری شادی ہو گئی ہے تم نے مجھے جہاں بھی دیکھا لیکن اب میں شادی شدہ ہوں اور اپنے شوہر سے بہت پیار کرتی ہوں پلیز مجھے جانے دو۔
سیرت نے تکلیف دہ لہجے میں کہا اور خود کو احمر کی گرفت سے آزار کروانے کی ناکام سی کوشش کرنے لگی۔
مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا جانم سچ میں احمر نے چہرے پر کمینگی لیے کہا۔اور ابھی تمھاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے ۔اس لیے ہلنا بند کرو۔احمر نے اس کے زخم پر ہاتھ رکھے اُس ہر دباؤ ڈالتے مسکرا کر کہا۔سیرت تکلیف لے مارے کراہ پڑی تھی۔
اوہ یہ تو خون نکل رہا ہے۔احمر نے اپنے اپنے ہاتھ کو دیکھتے مصنوعی پریشانی سے کہا۔
بہت برے ہو سیرت نے روتے ہوئے کہا۔
میں کتنا برا ہوں یہ تمہیں ابھی تھوڑی دیر تک پتہ چل جائے گا۔احمر نے گہری نظروں سے سیرت کو دیکھتے کہا۔ اس نے پیچھے بیڈ پر سیرت کو دھکا دیا جو بےبسی سے سر نفی میں ہلا رہی تھی۔
💜 💜 💜 💜
