Jaane Bewafa By Rimsha Hayat Readelle50132 Episode 27
No Download Link
Rate this Novel
Episode 27
بی بی جی زبیر صاحب کے چچا آئے ہیں اور کچھ تحفے بھی پری بی بی کے لیے لے کر آئے ہیں۔ملازمہ نے کمرے میں داخل ہوتے سیرت کو دیکھتے کہا۔
آپ اُن کو ڈرائینگ روم میں بیٹھائے میں آتی ہوں۔سیرت نے ملازمہ کو دیکھتے کہا۔جو اثبات میں سر ہلانے کے بعد وہاں سے چلی گئی تھی۔
مزمل بیٹھا ہوا تھا جب سیرت ملازمہ کے ساتھ کمرے میں داخل ہوئی اس نے ایک عقل مندی کا کام کیا تھا کہ کال کرکے نائل کو اطلاع دے دی تھی کہ زبیر کے چچا آئے ہیں۔
السلام علیکم!!!
سیرت نے مزمل کو دیکھتے سلام کیا۔
وعلیکم السلام بیٹا باقی سب کہاں ہیں؟ نظر نہیں آرہے؟ مزمل نے میٹھے لہجے میں سیرت کو دیکھتے پوچھا۔
وہ تو دوسرے گھر چلے گئے تھے۔آپ کو کچھ ضروری کام تھا؟ سیرت نے پوچھا۔
نہیں بیٹا ضروری کام تو نہیں تھا ہم لوگ پیچھلی بار خالی ہاتھ آئے تھے تو مجھے اچھا نہیں لگا اور شبنم میری بہو بننے جا رہی یے تو میں نے سوچا اُس کے لیے کچھ گفٹس لے جاتا ہوں۔
لیکن وہ تو یہاں پر نہیں ہے۔مزمل نے تفصیل بتاتے کہا۔
آپ فکر مت کریں انکل یہ سارے گفٹس میں دوسرے گھر بھجوا دوں گی۔سیرت نے ہلکا سا مسکرا کر کہا۔
شکریہ بیٹا آپ یاد سے یہ سارے تحفے بھجوا دینا میں بہت محبت سے لایا ہوں اور اب میں چلتا ہوں مزمل نے کھڑے ہوتے کہا۔
انکل آپ چائے تو پی لیں سیرت نے بھی کھڑے ہوتے جلدی سے کہا۔
نہیں بیٹا پھر کسی دن ابھی مجھے ایک کام یاد آگیا ہے۔مزمل نے کہا اور وہاں سے نکل گیا۔
یہ سارے گفٹس گاڑی میں ٹھیک سے رکھوا دینا اور دوسرے گھر میں بھجوا دو میں آپی کو فون کر کے بتا دیتی ہوں۔سیرت نے ملازمہ کو دیکھتے کہا۔اور اپنے کمرے کی جانب چلی گئی۔اس نے شبنم کو فون کر کے گفٹس کا بتا دیا تھا۔
ابھی اس نے فون رکھا ہی تھا جب نائل کی کال آگئی۔
سیرت نے ساری بات نائل کو بتا دی تھی کہ مزمل بس دس منٹ ہی بیٹھا تھا۔
یہ سن کر نائل پرسکون ہو گیا تھا ورنہ اس کا ارادہ گھر آنے کا تھا کیونکہ سیرت گھر میں اکیلی تھی۔
ٹھیک ہے گھر آکر بات کرتا ہوں نائل نے مصروف سے انداز میں کہا اور فون بند کر دیا۔
سیرت نے موبائل فون کو گھور کر دیکھا تھا۔جیسے موبائل کی جگہ نائل موجود ہو۔
💜 💜 💜 💜 💜
ابتسام اب زیادہ تر حویلی سے باہر ہی رہتا تھا۔
اب بھی وہ حویلی آیا تو ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی۔
شاہ نواز بھی گھر پر نہیں تھا۔
ابتسام نے اپنے باپ کے کمرے کی طرف قدم بڑھائے اور دروازہ ناک کرتے اندر داخل ہوا۔
سکندر نے منہ تک کمبل لیا ہوا تھا۔
ابتسام کو حیرانگی ہوئی تھی کیونکہ دوپہر کے بارہ بج رہے تھے۔اور ابھی تک سکندر سو رہا تھا۔وہ تو صبح پانج بجے ہی اُٹھ جاتا تھا۔
بابا سائیں آپ ٹھیک ہیں ؟ابتسام نے اپنے قدم بیڈ کہ طرف بڑھاتے ہوئے پوچھا۔
لیکن سکندر کی جانب سے کوئی جواب نہیں آیا۔
ابتسام نے سکندر کے چہرے سے کمبل پیچھے کیا تو حیرت سے اس کی آنکھیں باہر کو آگئی تھیں۔
سکندر کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں اور گردن پر کسی نے بے دردی سے چاقو پھیرا ہوا تھا۔
خون سارا جسم سے نکل گیا تھا اور سکندر کی کا جسم پیلا ہو گیا تھا۔
بابا سائیں
کیا ہوا آپ کو؟ ابتسام نے گھنٹوں کے بل بیٹھتے سکندر کے چہرے کو تھپتھپاتے ہوئے بےتابی سے پوچھا۔
جس انسان کو اپنی ماں کے مرنے کا اتنا افسوس نہیں ہوا تھا وہ اپنے باپ کے مرنے پر رو رہا تھا۔
بابا سائیں یہ سب کس نے کیا؟ ابتسام نے اپنے باپ کو سینے سے لگاتے روتے ہوئے کہا اس کے آنسو سکندر کے چہرے پر گر رہے تھے۔لیکن وہ ناجانے کب کا اسے چھوڑ کر چلا گیا تھا۔
آپ کی قسم بابا سائیں جس نے بھی آپ کو مارا ہے اُس کی اپنے ہاتھوں سے جان لوں گا اور میں اچھے دے جانتا ہوں یہ کام کس کا ہے ابتسام نے سرخ آنکھوں سے اپنے باپ کے چہرے کو دیکھتے کہا۔اس کا باپ کتنی تکلیف میں ہو گا اور وہ یہاں پر موجود نہیں تھا۔
ابتسام نے دھاڑتے ہوئے ملازم کو آواز دی جو دو سیکنڈ سے پہلے کمرے میں آیا تھا لیکن سکندر کی حالت دیکھ کر اس کی آنکھیں خوف سے پھیل گئی تھیں۔
کہاں مرے ہوئے ہو تم سب لوگ؟ کوئی آیا میرے باپ کو مار کر چلا گیا اور تم کمینوں کو پتہ نہیں چلا؟ ابتسام نے سخت لہجے میں ملازم کو دیکھتے دھاڑتے ہوئے پوچھا۔
سائیں چھوٹے سائیں بھی دو دن سے حویلی نہیں آئے اور حویلی میں کوئی نہیں آیا صبح چھ بجے میں نے بڑے سائیں کو ناشتہ دیا اُس وقت وہ بلکل ٹھیک تھے۔ملازم نے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا۔
دفعہ ہو جاؤ یہاں سے تم لوگوں کو تو میں بعد میں دیکھتا ہوں ابتسام نے غصے سے کہا۔تو ملازم وہاں سے چلا گیا۔
ابتسام وہی اپنے باپ کے پاس کافی دیر بیٹھا رہا تھا۔
💜 💜 💜 💜
شاہ نواز کے لیے بھی یہ خبر ناقابلِ یقین تھی کہ سکندر اس کا بڑا بھائی اسے چھوڑ کر چلا گیا ہے۔اور اس کا شک نائل کی طرف ہی گیا تھا۔اسے پورا یقین تھا کہ سکندر کے قتل میں نائل کا ہاتھ ہے۔ابتسام اپنے باپ کو دفنانے کے بعد شہر کے لیے نکل گیا تھا۔شاہ نواز نے پوچھا بھی تھا لیکن ابتسام نے کوئی جواب نہیں دیا۔
ابتسام سیدھا نائل کے آفس گیا تھا جو اس وقت میٹنگ میں تھا۔طالش بھی وہی پر تھا۔
ابتسام بنا کسی کی پرواہ کیے میٹنگ روم کی طرف گیا تھا کیونکہ اس نے پہلے اس نے سیکرٹری سے پوچھا تھا کہ نائل کہاں ہے جب اس نے بتایا کہ وہ میٹنگ میں ہے تو میٹنگ روم کا پوچھ کر اس نے اُس طرف اپنے قدم بڑھا دیے تھے۔
سیکرٹری نے روکنے کی کو شش کی لیکن ابتسام نے کسی کی بات نہیں سنی اور میٹنگ روم میں داخل ہوا۔
سب لوگوں نے ابتسام کی طرف دیکھا تھا جو نائل کی طرف بڑھ رہا تھا۔
طالش بھی حیرانگی سے ابتسام کو دیکھ رہا تھا جو ماتھے پر سخت تیور نائل کی طرف بڑھ رہا تھا۔
ابتسام نے جاتے ہی نائل کا گریبان پکڑا تھا۔باقی سب ہونقوں کی طرح دونوں کی طرف دیکھ رہے تھے۔
طالش نے سب کو باہر جانے کا کہا تو ایک سیکنڈ سے پہلے وہاں سے چلے گئے تھے۔
واٹ دا ہیل… تمھاری ہمت کیسے ہوئی میرا گریبان پکڑنے کی؟ نائل نے غصے سے ابتسام کو پیچھے دھکا دیتے کہا۔
جو پیچھے دیوار کے ساتھ جا لگا تھا۔
آج میں تمھاری جان لے لوں گا تم نے میرے باپ کی جان لی ویسے تو تم بہت اچھے بنتے ہو؟ اور اب قاتل بھی بن گئے؟ ابتسام نے غصے سے دھاڑتے ہوئے کہا۔
کیا بکواس کر رہے ہو؟ تمھارے باپ کی جان لینی ہوتی تو میں اتنی دیر انتظار نا کرتا اور ویسے بھی تمھارے باپ کے جتنے دشمن ہیں نا کسی نے بھی اُس کی جان لے لی ہو گی جتنے گناہ تمھارے باپ نے کیے تھے اُسکی یہی سزا بنتی ہے اور اگر میں تمھارے باپ کی جان لیتا تو تمہیں اُس کے جسم کا ایک ٹکرا بھی دیکھنا نصیب نا ہوتا۔نائل نے کرخت لہجے میں دھاڑتے ہوئے کہا۔
تمہیں لگتا ہے کہ میں تمھاری بات پر یقین کر لوں گا؟ ہرگز نہیں میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا سمجھے ابتسام نے دوبارہ اپنے قدم نائل کی طرف بڑھاتے ہوئے سخت لہجے میں کہا اتنے میں گارڈ وہاں آگئے تھے۔جن کو طالش نے بلایا تھا۔
انہوں نے آتے ہی ابتسام کو پکڑا۔
یہ مجھے دوبارہ اپنے آفس کے آس پاس نظر نہیں آنا چاہیے۔
لے جاؤ اسے یہاں سے نائل نے گارڈ کو دیکھتے غصے سے کہا۔
تمھاری موت میرے ہاتھوں ہی ہو گی۔بہت برا کیا تم نے نائل حسن جس کا خمیازہ تمہیں بھگتنا پڑے گا۔ابتسام نے وہاں سے نکلتے ہوئے چلا کر کہا۔
نائل نے ٹیبل پر ہاتھ رکھے گہرا سانس لیتے اپنے غصے کو کنٹرول کیا تھا۔
نائل تم ٹھیک ہو؟طالش نے نائل کو دیکھتے پوچھا۔
ہاں میں گھر جا رہا ہوں تم پیچھے سے سنبھال لینا۔نائل کہتے ہی وہاں سے باہر نکلا تھا۔
یہ تم لوگوں کی پہلی اور آخری غلطی سمجھ کر معاف کر رہا ہوں یہ آفس ہے میرا پاگل خانہ نہیں ہے جو تم لوگ کسی بھی پاگل کو اندر آکر تماشا کرنے دو گئے؟ باہر آتے نائل نے اپنے سیکرٹری کو دیکھتے غصے سے کہا۔ باقی سارا سٹاف خاموشی سے نائل کو دیکھ رہا تھا۔
سوری سر انہوں نے میری بات نہیں سنی آئندہ ایسا نہیں ہوگا سیکرٹری نے جلدی سے کہا۔
نائل ایک نظر اس پر ڈال کر وہاں سے چلا گیا تھا۔
💜 💜 💜 💜 💜
طالش گھر آیا تو کافی تھک گیا تھا۔
اس کے لیے یہ خبر بھی کسی دھماکے سے کم نہیں تھی کہ سکندر مر گیا ہے۔لیکن اُسے مارے گا کون؟ یہ بات طالش کو سمجھ نہیں آرہی تھی۔
سکندر نے جو کچھ بھی ان کے والدین کے ساتھ کیا وہ بہت برا تھا اور دونوں نے اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا تھا۔
نائل کہتا ضرور تھا کہ وہ ان سے بدلہ لے گا وہ بھی اُس وقت جب وہ غصے میں ہوتا تھا لیکن جب غصہ اتر جاتا تو ٹھیک ہو جاتا۔
طالش ان سب سوچوں میں ہی ڈوبا ہوا تھا۔جب شیریں وہاں پر آئی۔
جس کے ہاتھ میں پانی کا گلاس تھا اس نے پانی کا گلاس طالش کے آگے بڑھایا۔جس نے سرخ آنکھوں سے شیریں کی طرف دیکھا تھا۔
شیریں نے طالش کی سرخ آنکھیں دیکھی تو ایک دم گھبرا گئی تھی۔
کیا ہوا آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے؟ شیریں نے پریشانی سے طالش کو دیکھتے پوچھا۔
ہاں بس سر میں درد ہے۔
طالش نے پانی کا گلاس پکڑتے کہا اور پھر اس کے بعد صوفے سے ٹھیک لگائے آنکھیں موندھ لی۔
شیریں طالش کے پاس ہی بیٹھ گئی اور اپنے نرم اور نازک ہاتھوں سے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھے دبانے لگی۔
طالش کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی۔اسے سکون محسوس ہو رہا تھا۔لیکن آنکھیں ابھی بھی بند تھا۔
آپ نے کھانا کھایا؟ تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد شیریں نے پوچھا تو طالش نے نفی میں سر ہلا دیا تھا۔
اسی وجہ سے سر میں درد ہو رہی ہے میں ابھی کھانا لے کر آتی ہوں شیریں نے وہاں سے اٹھتے ہوئے کہا۔
طالش خاموش رہا تھا۔
اب اُسے بھی احساس ہو رہا تھا فضول میں اس نے شیریں کو ڈانٹا کوئی بھی بیوی اگر اپنے شوہر کے موبائل پر کسی لڑکی کی کال کو آتا دیکھے گی تو سوال جواب تو کرے گی نا۔
اور دوسری جانب شیریں کو بھی احساس ہوا تھا کہ وہ بھی کچھ زیادہ ہی بول گئی تھی اسے اپنے شوہر پر یقین ہونا چاہیے۔
طالش پھر سکندر کے بارے میں سوچنے لگا تھا بے شک اللہ بہتر انصاف کرنے والا ہے لیکن اب اسے ایک بات کی فکر کھائی جا رہی تھی کہ نجانے ابتسام اب کیا کرے گا اس کی آنکھوں میں جنون اور انتقام کو طالش نے دیکھا تھا کہی وہ نائل کو نقصان نا پہنچا دے۔اسی بات کی فکر اسے کھائی جا رہی تھی۔
💜 💜 💜 💜
نائل گھر نہیں آیا تھا باہر سڑکوں پر اپنی گاڑی گھماتا رہا تھا۔ابتسام نے اس کا گریبان پکڑا تھا اور یہ بات نائل حسن کے لیے ناقابلِ برداشت تھی۔
اور سکندر کی موت میں تو اس کا بلکل بھی ہاتھ نہیں تھا۔
موسم بھی کچھ خراب ہو گیا تھا۔
اس لیے اس نے گاڑی اپنے گھر کی طرف موڑ لی تھی۔اب وہ تھک گیا تھا۔
سیرت گھر میں اکیلی تھی اور نائل کا انتظار کر رہی تھی۔
ایک ملازمہ تھی جو کام کرکے اپنے کمرے میں چلی گئی تھی۔
بجی زور سے چمک رہی تھی اور موسم کو دیکھ کر تو سیرت ڈر گئی تھی۔آج اس نے ایک ہورر مووی دیکھی تھی جس کی وجہ سے وہ زیادہ ڈر رہی تھی۔
اور سیرت کو غصہ بھی آرہا تھا رات کے دو بج رہے تھے۔اور ابھی تک نائل گھر نہیں آیا تھا۔
سیرت باہر لاونچ میں چکر لگا رہی تھی۔جہاں پر روشنی زیادہ تھی ورنہ کمرے میں تو کھڑکیوں سے بجلی کی آواز زیادہ آرہی تھی۔
یہ والا پورشن ہر طرف سے بند تھا اس لیے زیادہ آواز نہیں آرہی تھی۔
کیا کروں؟ کمرے میں جاکر سونے کی کوشش کرتی ہوں اور کتنی دیر تک چکر لگاتی رہوں گی نائل تو کچھ زیادہ ہی غیر ذمہ دار نکلے زرا بھی پرواہ نہیں ہے۔سیرت نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
ابھی وہ یہی سوچ رہی تھی کہ کمرے میں جائے یا نا جائے جب اچانک لائٹ چلی گئی۔
سیرت وہی کھڑی ہو گئی ہر طرف اندھیرا چھا گیا تھا۔
کیا کروں؟ یہ لائٹ کو بھی ابھی جانا تھا۔
سیرت نے اپنا حلق تر خوفزدہ لہجے میں کہا۔
دروازہ کھلنے کی آواز پر سیرت نے گھبرا کر پیچھے دیکھا دروازے کے بیج میں کسی کا عکس نظر آیا تھا۔
بجلی کی وجہ سے اس کا تھوڑا بہت عکس نظر آتا جس سے سیرت سچ میں ڈر گی تھی۔
بھوت…..
یہ سچ میں بھوت ہے سیرت نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا اور اندھیرے میں اندر کی طرف بھاگ گئی۔
نائل جو ابھی آیا تھا اس نے دروازہ کھولا اور اندر آیا لیکن جب اس نے کچھ گرنے کی آواز سنی تو اپنے موبائل کی ٹارچ اون کر کے اس نے سیرت کو آواز دی۔
جو سیڑھیاں جلدی چڑھنے کے چکر میں گر گئی تھی۔
امی میرا پاؤں…. سیرت وہی سیڑھی پر بیٹھی اپنا پاؤں پکڑے بیٹھ کر رونے لگی تھی۔
اس کا پاؤں مڑ گیا تھا۔
نائل نے اس کے رونے کی آواز سنی تو وہی آگیا۔
اتنے میں لائٹ بھی آگئی تھی۔
نائل نے سیرت کو روتے ہوئے دیکھا تو جلدی سے اس کے پاس آیا۔
کیا ہوا؟ تم ٹھیک ہو؟نائل نے پریشانی سے سیرت کو دیکھتے پوچھا۔
جس نے آنسوؤں سے بھری نظریں اٹھا کر نائل کی طرف دیکھا تھا۔
یہ سب آپ کی وجہ سے ہوا ہے۔آپ ٹائم دیکھ رہے ہیں؟ جانتے بھی ہیں مجھے کتنا ڈر لگ رہا تھا۔اور آپ کو تو پرواہ ہی نہیں
اگر میں مر بھی جاتی تو بھی آپ کو فکر اس سے پہلے سیرت غصے میں مزید کچھ کہتی نائل نے اسے بازو سے پکڑ کر خود کے قریب کرتے اس کی بولتی بند کر دی تھی۔جس کی ایک پل میں آنکھیں باہر کو آگئی۔
تھوڑی دیر بعد نائل پیچھے ہوا سیرت ابھی بھی بت بنی بیٹھی ہوئی تھی۔
آئندہ اگر مرنے کی بات کی تو اپنے ہاتھوں سے تمھارا گلہ دبا کر تمھاری خواہش پوری کر دوں گا۔
نائل نے سیرت کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سرد لہجے میں کہا۔
اور ہاں مجھے اگر معلوم ہوتا کہ میری بیوی میرا انتظار کر رہی ہے تو میں سارے کام چھوڑ کر آجاتا نائل نے گہرے لہجے میں سیرت کے ہونٹ کو اپنے انگوٹھے سے سہلاتے ہوئے کہا۔
جو وہاں سے اٹھنے لگتی لیکن پاؤں میں اٹھتے درد کی وجہ سے دوبارہ وہی بیٹھ گئی تھی۔
نائل نے اس کے پاؤں کو دیکھا۔اور آگے بڑھ کر اسے اپنی بانہوں میں بھرا اور سیڑھیاں چڑھتے کمرے میں لے گیا۔
مسز آج کے دور نے بہت ترقی کر لی ہے اور موبائل فون تو بہت پہلے سے آگیا تھا۔آپ اُس کا استعمال کرتے مجھے فون کر لیتی۔نائل نے آرام سے سیرت کو بیڈ پر بیٹھاتے کہا۔
جو سوچ میں پڑ گئی تھی کہ اس نے کال کیوں نہیں کی۔
کوئی بات نہیں میں جانتا ہوں کہ تمھارے پاس دماغ نہیں ہے۔نائل نے فرسٹ ایڈ باکس پکڑتے سیرت کے سامنے بیٹھتے کہا۔
جس نے گھور کر نائل کہ طرف دیکھا تھا۔اسی وقت نائل نے سیرت کے پاؤں کو پکڑے سیدھا کیا جس کی چیخ پورے کمرے میں گونجی۔
یہ کیا کیا آپ نے؟ سیرت نے بھاری لہجے میں نائل کو دیکھتے پوچھا۔
ابھی تو کچھ نہیں کیا۔نائل نے ذومعنی الفاظ میں کہا۔
سیرت کو سمجھ تو کچھ آیا نہیں اس لیے اس کا سارا دھیان اپنے پاؤں کی طرف تھا۔
اس کے بعد نائل اس کے پاؤں پر کریم لگانے لگا تھا۔اسے سمجھ نہیں آئی کہ کیسے وہ سیرت کو سکندر کی موت کا بتائے ابھی نیلم بیگم کو گزرے زیادہ وقت نہیں ہوا تھا اور سکندر بھی چلا گیا۔
کریم لگانے کے بعد نائل فریش ہونے چلا گیا تھا۔
سیرت ابھی بھی بیٹھی اپنے پاؤں کو دیکھ رہی تھی۔
💜 💜 💜 💜
