Jaane Bewafa By Rimsha Hayat Readelle50132 Episode 19
No Download Link
Rate this Novel
Episode 19
تمہیں طلاق چاہیے مسز؟ نائل نے گہری نظروں سے سیرت کے قریب آتے پوچھا۔
جو گھبرا کر دو قدم نائل سے پیچھے ہو کر کھڑی ہو گئی تھی۔
ہاں لیکن پیچھے رہ کر بات کریں آپ سیرت نے نیچے نائل کے قدموں کو دیکھتے ہوئے کہا جو اس کی طرف بڑھ رہے تھے۔
تمہیں کیا لگتا ہے تم اس طرح بھوکی رہو گی تو کیا میں تمہیں طلاق دے دوں گا؟
نو بےبی اب پوری زندگی تمہیں میرے ساتھ گزارنی پڑے گی کیونکہ میں تو تم سے اب کبھی الگ نہیں ہوں گا۔
اور جو حرکتیں تم کر رہی ہو۔کرتی رہو
میں بھی دیکھتا ہوں کب تک بھوکی رہتی ہو۔
نائل نے مسکراتے ہوئے کہا۔
میں اگر یہاں سے بھاگ جاؤں تو؟ سیرت نے اپنے گھبرائے ہوئے لہجے پر قابو پاتے کہا۔
بھاگ کے دیکھ لو مسز واپس تمہیں میرے پاس ہی آنا ہے اور پھر تمہیں مجھ سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔اس بات کا خیال رکھنا۔
تم تو اچھی طرح جانتی ہو کہ میں کتنا برا انسان ہوں۔
نائل نے سیرت کے ہونٹوں پر نظریں جمائے گھمبیر لہجے میں کہا۔
آپ… اس سے پہلے سیرت اپنی بات مکمل کرتی نائل نے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر خاموش کروا دیا تھا۔
میں بہت برا ہوں جانتا ہوں نائل کہتے ہی ہنس پڑا اور اپنے انگوٹھے سے اس کے ہونٹ کو سہلا کر پیچھے ہٹ گیا۔
اس نے نائل کے پیچھے ہوتے ہی اپنے ہونٹوں کو تر کیا تھا۔
ایسی حرکتیں میرے سامنے مت کیا کرو بعد میں تم ہی مجھے کہو گی کہ” آپ بہت برے ہیں“نائل نے بریک آواز میں سیرت کی نقل اتارتے کہا۔
جس نے غصے سے نائل کو دیکھا تھا۔
ویسے تمہیں یہ والی گلاسز بھی اچھی لگ رہی ہیں۔نائل نے اپنی شرٹ کے بٹن کھولتے ہوئے کہا۔
نائل صبح یہ گلاسز بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر چلا گیا تھا سیرت کی آنکھوں میں ویسے بھی گلاسز نا لگانے کی وجہ سے درد تھا اس لیے اس نے لگا لیں۔
تو کیا اب میں آپ کو تھینک یو بولوں؟ سیرت نے تیکھے لہجے میں پوچھا۔
نائل جو واشروم کی طرف فریش ہونے جا رہا تھا سیرت کی بات سن کر وہی رک گیا اور اپنے قدم اس نے سیرت کی طرف بڑھائے۔
تمہیں تھینک یو بولنے کی ضرورت نہیں ہے میں اپنے طریقے سے شکریہ وصول کر لوں گا۔
نائل نے سیرت کے دائیں اور بائیں جانب ہاتھ رکھتے اس پر جھکتے ہوئے بھاری لہجے میں کہا۔
سیرت اب خود کو کوس رہی تھی کیوں اس نے نائل کو روکا۔
نائل تھوڑا سا نیچے جھکا تو سیرت نے گھبرا کر آنکھیں بند کر لیں تھی۔اس نے سیرت کی گلاسز اتاری اور اس کی دونوں آنکھوں پر باری باری بوسہ دیا۔
سیرت دانت پیستے بت بنی وہاں کھڑی تھی۔
نائل نے سیرت کی بند آنکھوں کو دیکھا اور مسکرا کر کر گلاسز کو سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر واشروم کی طرف چلا گیا۔
تھوڑی دیر بعد جب سیرت نے آنکھیں کھولی تو وہاں کوئی نہیں تھا اس نے اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر اپنی آنکھوں کو چھوا جہاں پر ابھی بھی نائل کا لمس موجود تھا۔
سیرت نے گہرا سانس لیا اور کمرے سے باہر چلی گئی۔الوہ نائل کے باہر آنے سے پہلے کمرے سے نکلنا چاہتی تھی۔
💜 💜 💜 💜
طالش اگر ساری شاپنگ آپ ہی نے کرنی ہے تو مجھے ساتھ کیوں لے کر آئیں ہیں؟ شیریں نے اکتائے ہوئے لہجے میں پوچھا۔
کیونکہ شیریں صرف طالش کے ساتھ چل رہی تھی۔باقی وہ شاپنگ ساری اپنی مرضی سے کر رہا تھا۔
ارے ناراض کیوں ہو رہی ہو تم میں چاہتا ہوں تم میری پسند کی ہوئی چیزیں لو اور پہنو طالش نے مسکراتے ہوئے کہا۔
تو پھر آپ مجھے ساتھ کیوں لائیں ہیں؟ شیریں نے معصومیت سے پوچھا۔
تم تھک گئی ہو؟ طالش نے اردو گرد دیکھتے پوچھا۔
جس نے اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔
تم ایسا کرو وہاں بیٹھ جاؤ میں تمھارے لیے وہ سامنے سے پانی کی بوتل لے کر آتا ہوں طالش نے کہا تو شیریں وہاں جا کر بیٹھ گئی۔
ابھی اسے بیٹھے کچھ ہی دیر ہوئی تھی جب اسے سامنے سے ابتسام آتا ہوا نظر آیا۔
شیریں اسے دیکھ کر ایک دم گھبرا کر کھڑی ہو گئی تھی۔
سامنے ہی طالش اس کی طرف پشت کیے کھڑا تھا۔
ابتسام چلتا ہوا شیریں کے پاس آیا۔
تمھاری شادی تو مجھ سے ہونے والی تھی نا اور تم اُس گھٹیا انسان کے ساتھ شاپنگ کر رہی ہو؟
ابتسام نے غصے سے شیریں کا ہاتھ پکڑتے کہا۔
جس نے غصے سے ابتسام کے منہ پر تھپڑ دے مارا تھا اس وقت وہ اپنے شوہر کے ساتھ یہاں موجود تھی۔تو ابتسام سے کیسے ڈر جاتی۔
ابتسام نے بے یقینی سے شیریں کو دیکھا تھا۔
تمھاری اتنی ہمت کے تم مجھ پر ہاتھ اٹھاؤں ابتسام کہتے ہی شیریں کی طرف بڑھنے لگا کہ کسی نے اسے پیچھے کندھے سے پکڑ کر اس کا رخ اپنی طرف کیا اور اس کے جبڑے پر زور سے مکا دے مارا۔
طالش ابتسام کو شیریں کا ہاتھ پکڑتے ابتسام کو دیکھ چکا تھا۔
ابتسام نے طالش کو دیکھا تو دونوں ایک دوسرے کو مارنے لگے تھے۔شیریں تو ڈر کر ایک دم پیچھے ہو گئی تھی۔
وہاں کے لوگوں نے وہاں آکر ان دونوں کی الگ کیا تھا۔
اگر آج کے بعد تو میری بیوی کے آس پاس نظر آیا تو تیری جان لے لوں گا۔طالش نے دھاڑتے ہوئے ابتسام کو. دیکھ کر کہا اس کا ہونٹ پھٹ گیا تھا اور وہاں سے خون نکل رہا تھا ابتسام کا بھی کچھ ایسا ہی حال تھا۔
اب تو میں آؤں گا دیکھ تو اب میں کیا کرتا ہوں ابتسام نے غصے سے طالش کو دھمکی دیتے کہا اور خود کو چھڑوا کر وہاں سے چلا گیا۔
طالش نے شیریں کا ہاتھ پکڑا اور وہاں سے لے گیا۔گاڑی میں خاموشی چھائی ہوئی تھی۔
شیریں بات کرنا چاہتی تھی لیکن طالش کا سنجیدہ چہرہ دیکھ کر چپ کر جاتی۔
شیریں تم نے کچھ کہنا ہے؟
طالش نے آخر کار خود ہی پوچھا لیا تھا۔
وہ آپ کے ہونٹ سے خون نکل رہا ہے۔شیریں نے گھبراتے ہوئے کہا۔
اس کی بات سن کر طالش نے ایک دم گاڑی روکی تھی۔یہ جگہ تھوڑی سنسان تھی۔
اس کے گاڑی روکنے کی وجہ سے شیریں کو لگا اب اس کی خیر نہیں۔
طالش پہلے خود باہر نکلا پھر اس نے شیریں کو باہر نکلنے کا کہا۔
شیریں باہر آئی تو طالش نے اسے کمر سے پکڑ کر کارڈ بونٹ پر بیٹھایا جس نے ناسمجھی سے طالش کو دیکھا تھا۔
طالش گاڑی سے فرسٹ ایڈ باکس لے کر آیا۔
خون نکل رہا ہے نا صاف کر دو طالش نے سنجیدگی سے کہا۔
میں؟ شیریں نے اپنی طرف اشارہ کرتے پوچھا۔
یہاں کوئی اور ہے؟ طالش نے شیریں کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا۔
نہ نہیں شیریں نے کہا اور طالش کے زخم کو کانپتے ہاتھوں سے صاف کرنے لگی۔
طالش کی نظریں شیریں کے چہرے پر جمی تھی جو اس کی نظروں سے پزل ہو رہی تھی۔
ہو گیا ہے۔ شیریں نے کہا تو طالش ابھی بھی ویسے ہی کھڑا رہا۔اور ہاتھ بڑھا کر اس نے ڈوپٹے سے باہر آتے بالوں کو شیریں کے کان کے پیچھے کیا۔میں اب مطمئن ہوں کہ تم اپنی حفاظت اب خود بھی کر سکتی ہو۔طالش نے دھیمے لہجے میں کہا اس کا اشارہ ابتسام کو تھپڑ مارنے کی طرف تھا۔
آپ کہاں جا رہے ہیں؟ شیریں نے حیرانگی سے پوچھا۔جس ہر طالش مسکرا پڑا تھا۔
جاناں میں نے کہاں جانا ہے تمہیں چھوڑ کر میں کہی نہیں جا سکتا تمھارے بغیر لیکن لڑکی کو اتنا بہادر ہونا چاہیے کہ وہ خود کی حفاظت کر سکے۔
اور جیسے تم نے مجھے تھپڑ مارا تھا بہت زور سے لگا تھا تمہیں دیکھ کر لگتا نہیں ہے کہ تم میں اتنی طاقت بھی ہے۔طالش نے سنجیدگی سے کہا جبکہ اس کی آنکھیں مسکرا کررہی تھیں۔
اُس کے لیے سوری….
شیریں نے شرمندگی سے کہا۔
طالش اس کا چہرہ دیکھ کر مسکرا پڑا تھا۔اس نے شیریں کی ہاتھ کے پشت پر ہونٹ رکھے۔ اور پھر اسکو نیچے اتارا۔
اب میرا موڈ ٹھیک ہے تو تم بتاؤ ہم کھانا کھانے کہاں جائیں۔طالش نے خوشگوار لہجے میں پوچھا۔
شیریں نے حیرانگی سے اسے دیکھا تھا۔اسے لگا طالش آگے سے کوئی جواب دے گا۔
جو ابھی تھوڑی دیر پہلے غصے میں تھا لیکن اب اسے دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا اسے غصہ کبھی آیا ہی نا ہو۔
جہاں آپ کو بہتر لگے شریں کے کہا تو طالش مسکرا پڑا۔
ٹھیک ہے طالش نے کہا اور گاڑی کا دروازہ اس کے لیے کھولا جو اندر بیٹھ گئی تھی۔
وہ ابھی بھی یہی سوچ رہی تھی کہ اچانک طالش کو ہو کیا گیا ہے۔
اور طالش اس کی سوچ پر پڑھ کر مسکرا پڑا تھا۔
💜 💜 💜 💜
زبیر بیٹا میں تمہیں اپنے پارٹنر سلیمان سے ملوانے لے جا رہا ہوں۔
اور وہاں پر سب کے ساتھ اچھے سے پیش آنا۔
مزمل نے اپنے ساتھ بیٹھے زبیر کو دیکھتے سب پر زور دیتے کہا۔جس نے صرف اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔
مزمل زبیر کو لیے ایک کلب میں گیا تھا۔زبیر کبھی کلب میں نہیں آیا تھا وہ ان سب چیزوں سے دور رہتا تھا۔
چچا جان ہم لوگ کسی اچھی جگہ پر بھی مل سکتے تھے۔
زبیر نے کلب کا ماحول دیکھتے سنجیدگی سے کہا۔
اس سے اچھی جگہ اور کوئی ہو ہی نہیں سکتی مزمل نے کہا اور اسے سامنے ہی سلیمان نظر آگیا تھا وہ رہا سلیمان مزمل کہتے ہی زبیر کا ہاتھ پکڑے اسے وہاں لے گیا۔
زبیر بڑی مشکل سے سلیمان سے ملا تھا کیونکہ وہ شراب پی رہا تھا اور اُسی کی سمیل اس سے آرہی تھی۔
مہک کہاں ہیں؟ مزمل نے سلیمان کو دیکھتے پوچھا۔
وہ رہی سلیمان نے سامنے سے آتی مہک کو دیکھتے کہا۔جس نے بلیک کلر کی چشت پیٹ اور جھوٹی سی شرٹ پہنی تھی جس سے اس کی بل کھاتی کمر صاف نظر آرہی تھی۔
زبیر نے ایک نظر دیکھتے ہی اپنی نظریں دوسری جانب کر لیں تھیں۔اس سے پہلے مہک آکر زبیر کے گلے لگتی اس نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روک دیا تھا۔
مہک نے غصے سے مزمل کو دیکھا۔
سلیمان مجھے لگتا ہے ہمیں بچوں کو اکیلا چھوڑ دینا چاہیے ہماری باتوں میں تو دونوں بور ہو جائیں گئے مزمل نے کہا تو سلیمان بھی ہنس کر وہاں سے چلا گیا۔
جانے سے پہلے مزمل نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ڈرنک کو مہک کے حوالے کیا۔
اگر تم نے اسے زبیر کو پلا دیا تو تمھارا کام آسان ہو جائے گا۔مزمل نے مہک کی طرف جھک کر کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
زبیر رخ موڑے کھڑا تھا یا اپنے غصے کو کنٹرول کر رہا تھا یہاں کے ماحول سے اسے وحشت ہو رہی تھی۔
مہک نے ڈرنک کو دیکھا اور اپنے قدم زبیر کی طرف بڑھائے۔
💜 💜 💜 💜 💜
شیریں اور طالش نے اُس ڈرامے کے بعد اچھے سے ڈنر کیا تھا اور پھر دونوں گھر واپس آگئے۔
طالش چینج کرکے باہر گارڈن میں آکر بیٹھ گیا تھا۔اُسی وقت شہریار اور نائل بھی وہاں آئے تھے۔
نائل بس گھر کے لیے نکل رہا تھا۔
تمہیں کیا ہوا؟ کس سے جھگڑ کر آرہے ہو؟
نائل نے اس کے سامنے بیٹھتے پوچھا۔
تمھارے سالے سے جسے سکون نہیں ہے طالش نے غصے سے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
ابتسام کی بات کر رہے ہو؟ شہریار نے حیرانگی سے پوچھا۔
جی بلکل ایک سالا صاحب آپ ہیں اور دوسرا وہ کمینہ طالش نے کہا پھر سے اس کی نظروں کے سامنے وہی منظر آگیا تھا جس میں ابتسام نے شیریں کا ہاتھ پکڑا تھا۔
کتنی شرم کی بات ہے طالش میرے بھائی ہوتے ہوئے تم اُس سے مار کھا کر آگئے۔نائل نے مسکراہٹ دباتے افسوس سے اپنی گردن کو ہلاتے کہا۔شہریار ہنس پڑا تھا۔
تم لوگ کیا چاہتے تھے میں وہی اُسے جان سے مار دیتا طالش نے دانت پیستے کہا۔
نہیں نہیں یار ہمیں پوری امید ہے تو نے بھی اُس کی اچھی دھلائی کی ہو گی شہریار نے طالش کے کندھے کو تھپتھپاتے ہوئے کہا۔
تم دونوں ایک نمبر کے کمینے انسان ہو طالش نے وہاں سے اٹھتے ہوئے کہا اور اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔کیونکہ وی جانتا تھا جب یہ دونوں اکٹھے ہوتے تو طالش بےچارہ اکیلا ان سے باتوں میں جیت نہیں سکتا تھا اس لیے وہاں سے چلا گیا۔
پیچھے نائل اور شہریار دونوں ہنس پڑے تھے۔
میں بھی نکلتا ہوں۔بیوی تو انتظار کر نہیں رہی ہو گی لیکن پھر بھی جانا ضروری ہے نائل نے چابیاں پکڑتے شہریار کو دیکھتے کہا۔اور وہاں سے چلا گیا۔
شہریار وہی بیٹھا نائل کی بات پر مسکرا پڑا تھا۔
ابھی تھوڑا وقت ہی گزرا تھا جب مرحا وہاں آئی۔
مرحا نے شہریار کو دیکھا تو وہاں سے الٹے قدم لیتے واپس جانے لگی لیکن شہریار اسے دیکھ چکا تھا۔
کہاں جا رہی یو؟ شہریار نے بھاری لہجے میں پوچھا۔
میں وہ اندر جا رہی ہوں مجھے ایک ضروری کام یاد آگیا ہے مرحا نے جلدی سے کہا۔
یہاں آکر بیٹھو شہریار نے حکم دینے والے انداز میں کہا۔
نہیں میں اندر جا رہی ہوں مرحا کہہ کر جلدی سے اندر جانے لگی لیکن شہریار نے اسے بازو سے پکڑ کر کرسی کی جانب ہلکا سا دھکا دیا جو وہاں بیٹھ گئی تھی شہریار نے اس کے دائیں اور بائیں جانب ہاتھ رکھے اور تھوڑا اس کی طرف جھکا جس کی خوف کے مارے آنکھیں پھیل گئی تھیں۔
مجھ سے چھپ کیوں رہی ہو؟ شہریار نے سنجیدگی سے پوچھا۔
مرحا نے اپنا حلق تر کیا تھا جیسے اس کی چوری پکڑی گئی ہو۔
نہیں تو میں کیوں ایسا کروں گی؟ مرحا نے شہریار کی طرف دیکھتے کہا۔
تمہیں جھوٹ بولنا نہیں آتا مرحا
شہریار کی نظریں اس کی آنکھوں سے ہوتے ہوئے ہونٹوں پر آکر ٹھہر گئی تھیں۔
مرحا نے اس کی نظروں کی تپش کو محسوس کرتے اس کے سینے پر ہاتھ رکھے وہاں سے اٹھنا چاہا لیکن شہریار ایک انچ بھی اپنی جگہ سے ہلا نہیں تھا۔
شہریار مجھے اندر جانے دیں مرحا نے اس انداز میں کہا جیسے ابھی رو پڑے گی۔
شہریار بھی ہوش میں آتے پیچھے ہوا مرحا ایک سیکنڈ سے پہلے وہاں سے اندر کی طرف بھاگی تھی۔
کیا بنے گا تمھارا مرحا میڈم؟
شہریار نے ٹھنڈی آہ بڑھتے کہا اور خود بھی اندر چلا گیا۔
