Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

یہ کیا ہے؟ شیریں نے گھبراتے ہوئے ابتسام کو دیکھتے پوچھا جو اس وقت اس کے کمرے میں موجود تھا۔
طلاق نامہ اس پر دستخط کرو ابتسام نے پیپرز اور پن ٹیبل پر رکھتے سنجیدگی سے کہا۔
طلاق نامہ؟ شیریں نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
جلدی سے سائن کرو اس پر ابتسام نے بت بنی کھڑی شیریں کو دیکھتے کہا۔
میں اس پر سائن نہیں کروں گی شیریں نے خود میں ہمت پیدا کرتے ابتسام کو دیکھتے کہا۔
کیا کہا تم نے دوبارہ کہنا؟ ابتسام نے اپنے قدم شیریں کی طرف بڑھاتے سرد لہجے میں کہا۔
مجھے طالش سے طلاق نہیں لینی مجھے اُن سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
شیریں نے اپنے ہاتھ کی انگلیاں مڑورتے نظریں جھکا کر کہا۔
تو تمہیں بھی کچھ دن اُس انسان کے ساتھ رہتے پر لگ گئے ہیں؟ لیکن فکر مت کرو مجھے اچھی طرح پر کاٹنے آتے ہیں۔
ابتسام نے چار قدم کا فاصلہ دو قدموں میں طے کرتے شیریں کے پاس آتے اسے بالوں سے دبوچتے کہا۔جو درد سے کراہ اُٹھی تھی۔
ابتسام کی نظریں شیریں کی بند آنکھوں سے ہوتی ہوئی اس کے غلابی ہونٹوں پر آکر ٹھہر سی گئی تھیں۔
ویسے تم خوبصورت تو بہت ہو ابتسام نے اپنے انگوٹھے سے شیریں کے ہونٹ کو ابھی ہلکا سا چھوتے کہا کہ شیریں ابتسام کے لمس پر ایک دم کانپ سی گئی اور فوراً اس نے اپنی آنکھیں کھولتے ابتسام کو پیچھے دھکا دیا اور اپنی پوری قوت جمع کرتے اس کے چہرے پر تھپڑ دے مارا۔
ابتسام چہرے پر ہاتھ رکھے خونخوار نظروں سے شیریں کو دیکھ رہا تھا۔
شیریں دروازے کی طرف بھاگنے لگی تو ابتسام نے اسے بازو سے پکڑ کر خود کے قریب کیا۔اتنا قریب کہ دونوں میں فاصلہ نا ہونے کے برابر تھا۔
اب میں تمہیں بتاتا ہوں کہ تم نے مجھے پر ہاتھ اٹھا کر کتنی بڑی غلطی کی ہے۔
ابتسام نے حقارت سے اپنی بانہوں میں چیختی چلاتی شیریں کو دیکھتے کہا۔
چھوڑو مجھے بابا سائیں شیریں نے چلاتے ہوئے کہا۔شہریار جو شیریں کو ہی ڈھونڈ رہا تھا اس کے چیخنے پر اُسی کمرے کی طرف آیا لیکن اندر کا منظر دیکھ کر اس کا خون کھول گیا تھا۔
اس نے آگے بڑھ کر ابتسام کو شیریں سے پیچھے کیا اور اس کے جبڑے پر زور سے مکا دے مارا جو اب ہوش میں آیا تھا۔
شریں شہریار کے پیچھے جا کر چھپ گئی۔
اگر تم نے ایک بھی قدم آگے بڑھایا تو تمھارے جان لے لوں گا۔شہریار نے ابتسام کو دیکھتے دھاڑ کر کہا اس کی آواز ایسی تھی کہ شاہ نواز بھی وہاں آگیا تھا۔
ابتسام شہریار کو پہچان گیا تھا۔
ابتسام شاہ نواز کو دیکھتے وہاں سے نکل گیا۔
شرم آنی چاہیے آپ کو مجھے تو یہ کہتے ہوئے بھی شرم آرہی ہے باپ کے ہوتے ہوئے بیٹی محفوظ نہیں ہے۔آپ جیسا باپ ہونے سے بہتر تھا کہ ہم لاوارث ہوتے۔
میں اپنی بہن کو لے کر جا رہا ہوں اگر کوئی میرے راستے میں آیا تو جان سے جائے گا۔چاہے پھر وہ میرا اپنا باپ ہی کیوں نا ہو شہریار نے سرد لہجے میں شاہ نواز کو دیکھتے کہا اور شریں کو بازو سے پکڑ کر وہاں سے لے گیا۔
شاہ نواز نے آج پہلی بار شرمندگی سے نظریں جھکا لیں تھیں اور وہ شہریار کے راستے میں بھی نہیں آیا تھا۔
شہریار شیریں کو وہاں سے لے گیا تھا۔
💜 💜 💜 💜
نیلم کیسی ہے؟ سکندر نے نگین کو دیکھتے پوچھا۔
ابھی تک بےہوش ہیں ڈاکٹر نے کہا ہے کہ ان کے دماغ پر زیادہ گہری چوٹ لگی ہے اگر وہ رات تک ہوش میں نا آئی تو مسئلہ ہو سکتا ہے۔
نگین کہہ کر خاموش ہو گئی۔
ٹھیک ہے میرے آدمی یہی ہر ہیں اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو اُن کو بتا دینا۔
سکندر نے عام سے لہجے میں کہا اور جیسے آیا تھا ویسے واپس چلا گیا۔
نگین نے آنکھوں میں نفرت لیے سکندر کو دیکھا تھا۔
تم لوگوں کی رسی اللہ نے ڈھیلی چھوڑی ہوئی ہے جب اُس نے پکڑ سخت کی تو تم لوگ بچ نہیں پاؤں گئے۔نگین نے دل میں کہا تھا۔
پتہ نہیں ان لوگوں نے سیرت اور شیریں کے ساتھ کیا کیا ہو گا یا اللہ میری بچیوں کی حفاظت فرما نگین نے اوپر دیکھتے دعا کرتے کہا۔
کیونکہ وہ جانتی تھی کہ ان کا مقصد سیرت اور شیریں کو حویلی میں بلانا ہے اور آگے ان کے ساتھ کیا ہو گا یہ تو وہ بھی نہیں جانتی تھی لیکن اپنی بچیوں کے لیے دعا کر سکتی تھی جو وہ کر رہی تھی۔
💜 💜 💜 💜
نائل سیرت کو اپنے دوسرے گھر لے آیا تھا۔آتے ہی اس نے ڈاکٹر کو فون کیا جو میڈیسن دینے کے بعد چلا گیا تھا اس وقت سیرت نیم غنودگی میں تھی۔
کمرے میں لیمپ کی روشنی چل رہی تھی نائل صوفے پر بیٹھا ہاتھ میں پکڑا پن کو گھوما رہا تھا لیکن نظریں اس کی سیرت پر جمی ہوئی تھیں۔
سیرت آہستہ سے منہ میں کچھ بڑبڑا سی رہی تھی لیکن آہستہ آہستہ اس کی آواز اونچی ہو گئی جیسے کسی سے خوفزدہ ہو کر بول رہی ہو۔
نائل جلدی سے اُٹھ کر سیرت کے پاس آیا۔
سیرت…. نائل نے سیرت کے پاس بیٹھتے اس کے گال کو تھپتھپاتے ہوئے کہا۔جس نے اس کے ہاتھ کو زور سے پکڑ لیا تھا جیسے اس نے نائل کا ہاتھ چھوڑا تو وہ اسے اکیلا چھوڑ کر چلا جائے گا۔
گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے میں ہوں نا یہاں تمھارے پاس نائل نے جھک کر سیرت کے کان کے پاس کہا جس کی بڑبڑاہٹ ہلکی ہوتی گئی اور پھر سے غنودگی میں چلی گئی۔
لیکن ابھی بھی اس نے نائل کے ہاتھ کو ویسے ہی پکڑا ہوا تھا۔
نائل نے اپنے ہاتھ میں سیرت کا ہاتھ دیکھا تو ہلکا سا مسکرا پڑا۔
لیمپ کی ہلکی سی روشنی میں بھی سیرت کے چہرے کے زخم صاف نظر آرہے تھے۔
جس نے بھی تمھارا ساتھ یہ سب کچھ کیا ہے اُسے نائل حسن جان سے مار دے گا۔
نائل نے گھمبیر لہجے میں کہتے اپنے ہاتھ کی انگلی سے سیرت کے ہونٹ کے پاس والے زخم کو ہلکا سا چھوا۔
سیرت کا گال ابھی بھی سوجا ہوا تھا۔
نائل گہری نظروں سے سیرت کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔
غنودگی میں بھی وہ نائل کی نظروں کی تپش سے اس کے ماتھے پر بل پڑے تھے۔
اس بار نائل کھل کر مسکرایا تھا۔
تم تو میری نظروں سے بھی بےچین ہو جاتی ہو پرنسز لیکن اس وقت تم جتنی پرسکون لیٹی ہوئی ہو اٹھتے ہی جنگلی بلی بن جاؤ گی۔نائل نے مسکراتے دباتے آہستگی سیرت کے ماتھے کے بل پر انگلی پھیرتے کہا۔
نظریں ابھی بھی سیرت کے ہونٹوں پر جمی ہوئی تھیں۔
معاف کرنا لیکن اب تو تم میری بیوی ہو۔اب تو حق جتا سکتا ہوں۔نائل نے کہتے ہی تھوڑی سے پکڑ کر سیرت کا چہرہ تھوڑا اوپر کیا اور اس کے زخم پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔
تھوڑی دیر بعد پیچھے ہوتے اس نے سیرت کی گال کو بھی ہلکا سا اپنے لبوں سے چھوا اور پھر پیچھے ہٹتے اس کے زخم پر کریم لگانے لگا جہاں پر پر زخم موجود تھے۔
ابھی وہ لگا کر فارغ ہی ہوا تھا جب اس کا موبائل رنگ ہوا۔اس نے نمبر دیکھا جہاں شہریار کی کال آرہی تھی۔
اس نے ایک نظر سیرت کو دیکھا اور پھر وہاں سے اُٹھ کر چلا گیا۔
💜 💜 💜 💜
تم ٹھیک ہو؟ شہریار نے شیریں کو دیکھتے پوچھا۔جس نے اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔
فکر مت کرو اب سب ٹھیک ہے تم اپنے بھائی کے ساتھ ہو شہریار نے سامنے دیکھتے کہا۔
آپ کو اب یاد آئی ہماری؟ شیریں نے لہجے میں ناراضگی لیے شہریار کو دیکھتے پوچھا۔
میں کبھی بھی تم لوگوں سے غافل نہیں رہا تم یہ مت سمجھنا کہ میں بلکل ہی تم لوگوں کو بھول گیا تھا۔
شہریار نے سنجیدگی سے کہا۔
اگر آپ ہمارے ساتھ ہوتے تو آج میری بہن بھی زندہ ہوتی لیکن آپ ہم سب کو چھوڑ کر چلے گئے تھے۔
شیریں نے بھاری لہجے میں کہا لیکن اس بار شہریار خاموش رہا تھا۔
مجھے ہسپتال جانا ہے تائی جان ہسپتال میں ہیں تھوڑی دیر بعد شیریں پھر سے بولی تھی۔
ابھی تمھارا وہاں جانا ٹھیک نہیں ہیں اور تائی جان اب بلکل ٹھیک ہیں۔شہریار نے کہا تو شیریں خاموش ہو گئی۔
اور سیرت اس بار شیریں نے تھوڑا جھجھکتے ہوئے پوچھا کہی اس کے بار بار بولنے پر شہریار اسے گاڑی سے باہر ہی نا پھینک دے۔
شہریار اس بار مسکرا پڑا تھا۔
وہ اپنے شوہر کے پاس محفوظ ہے لیکن تم اپنی فکر کرو طالش غصے کا بہت تیز ہے اور جو تم نے حرکت کی گھر سے بنا بتائے نکلنے کی میرا نہیں خیال کہ وہ دروازے کے پاس پھول لے کر ہمارے استقبال میں کھڑا ہو گا۔
شہریار نے مسکراہٹ دباتے کہا۔
آپ مجھے ڈرا رہے ہیں بھائی شیریں نے خوفزدہ لہجے میں کہا۔اور شیریں کو تو اب طالش کا خیال آیا تھا وہ جانتی تھی کہ اُس نے گھر سے نکل کر کتنی بڑی غلطی کی ہے لیکن اب اس کے ساتھ کیا ہو گا یہ سوچ ہی اس کی جان نکالنے کے لیے کافی تھی۔
آپ طالش کو کیسے جانتے ہیں؟ شیریں کے دماغ اچانک سوال آیا تو شہریار کو دیکھتے پوچھا۔
میں حسن اور طالش کے پاس ہی رہا تھا جب حویلی سے چلا گیا تھا۔
شہریار نے گہرا سانس لیتے کہا۔
💜 💜 💜 💜
بھائی آپ ٹھیک ہیں؟ مرحا نے طالش کو دیکھتے پوچھا۔جس کی حالت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی تھی۔
آؤ مرحا معاف کرنا اپنی پریشانیوں میں میں تم سے ملنا بھول گیا تھا۔
کیسی ہو تم؟ طالش نے اپنے چہرے پر زبردستی کی مسکراہٹ لاتے پوچھا ورنہ اس کا دل بہت گھبرا رہا تھا ابھی تک شہریار کی یا حسن کی کوئی کال نہیں آئی تھی۔
جی بھائی میں ٹھیک ہوں لیکن مجھے آپ کچھ ٹھیک نہیں لگ رہے مرحا نے سنجیدگی سے کہا۔
نہیں ایسی بات نہیں ہے تم بتاؤ پری کہاں ہے؟ تم دونوں نے کھانا کھایا؟
طالش نے پوچھا تو مرحا اسے بتانے لگی کہ پری کھانا بنا رہی ہے۔
ارے اُسے آتے ہی کچن بھیج دیا مجھے بتا دیتی میں باہر سے کچھ آڈر کر لیتا۔
طالش نے کہا تو روحا مسکرا پڑی۔
آپی کسی کی بات نہیں سنتی اپنی مرضی کرتی ہیں اتنا تو مجھے معلوم ہو گیا ہے۔مرحا نے کہا۔
ہاں اور یہ سچ بھی ہے۔طالش نے کہا۔
ابھی وہ دونوں باتیں ہی کر رہے تھے جب شہریار شیریں کے ساتھ گھر میں داخل ہوا۔
شیریں کو دیکھتے ہی طالش اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا تھا۔
شیریں نے طالش کو دیکھ کر اپنا حلق تر کیا تھا کیونکہ وہ طالش کی آنکھوں میں غصہ دیکھ چکی تھی۔
طالش آگے بڑھا اور اور شیریں کا ہاتھ پکڑے اس نے مرحا کی طرف دیکھا جو آنکھوں میں ناسمجھی کے تاثرات لیے شیریں کو دیکھ رہی تھی۔
مرحا ہمیں کوئی ڈسٹرب نا کریں طالش کہہ کر وہاں سے جانے لگا جب شہریار نے طالش کو پکارا۔
شہریار یہ میرا اور میری بیوی کا معاملہ ہے پلیز تم اس میں دخل اندازی مت کرو طالش نے سرد لہجے میں کہا اور شیریں کا ہاتھ پکڑے اسے وہاں سے لے گیا۔
شیریں تو سچ میں ڈر گئی تھی۔
یہ بھائی کی بیوی ہیں؟ مرحا نے چہرے پر حیرانگی لیے شہریار سے پوچھا۔
ہاں یہ میری بہن اور تمھارے بھائی کی بیوی ہے۔
شہریار نے گہری نظروں سے مرحا کو دیکھتے کہا۔لیکن جب اس نے شہریار کی طرف دیکھا تو زیادہ دیر تک اس کے چہرے کی طرف نہیں دیکھ پائی تھی اس لیے نظریں جھکا لیں۔
میرے لیے ایک کپ کافی لے آؤ گی؟ شہریار نے پوچھا تو مرحا نے جلدی سے اثبات میں سر ہلایا اور وہاں سے چلی گئی۔پیچھے شہریار نفی میں سر ہلاتے وہاں سے چلا گیا تھا۔
💜 💜 💜 💜
احمر کام ہو گیا کیا؟ مزمل نے اپنا سگریٹ سلگاتے سامنے بیٹھے احمر کو دیکھتے پوچھا۔
جی بلکل جیسا آپ نے کہا ویسا ہی سب ہوا ہے۔
اور شکر ہے کہ زبیر یہاں سے چلا گیا ورنہ اُس کے ہوتے یہ سب کرنا مشکل ہو جاتا۔
احمر نے سنجیدگی سے کہا۔
ٹھیک کہہ رہے ہو تم وہ تھوڑا ضدی اور اپنی مرضی کرنے والا انسان ہے جب ضد پر آجاتا ہے تو پھر میری بھی نہیں سنتا۔
مزمل نے کہا تو احمر ہنس پڑا تھا۔
مزمل صاحب اب مجھے گھر جانا ہے میری موم میرا انتظار کر رہی ہوں گی۔
احمر نے کہا تو مزمل ہنس پڑا۔
بلکل اور ان تمہیں تھوڑا اپنی فیملی کو وقت دینا چاہیے جاؤ تم اور خیال رکھنا مزمل نے ڈھکے چھپے لفظوں میں کہا۔
آپ بےفکر رہیں۔میں چلتا ہوں احمر نے کہا اور وہاں سے اُٹھ کر چلا گیا۔
پیچھے مزمل بھی اپنے کمرے کی طرف چلا گیا تھا۔