Jaane Bewafa By Rimsha Hayat Readelle50132 Episode `10
No Download Link
Rate this Novel
Episode `10
سائیں آپ بنا سچ کی تہہ تک جانے سیرت کو کیسے سزا دے سکتے ہیں مجھے پورا یقین ہے کہ میری بچی بے قصور ہے ہم نے شبنم کو کھو دیا اب سیرت کو نہیں کھو سکتے نیلم نے سکندر کے پیر پکڑتے روتے ہوئے کہا۔
جانتی بھی ہو کہ پورے گاؤں میں یہ بات پھیل گئی ہے کہ سکندر کی بیٹی کسی لڑکے کے ساتھ بھاگ گئی ہے اور اُس لڑکے نے خود کہا ہے کہ سیرت اُدس کے پاس گئی تھی۔ اب مزید اس بارے میں کوئی بات نہیں ہو گی سکندر نے سخت لہجے میں کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
تم نے یہ کیا کیا نائل میں جانتی ہوں تم نے اپنی بہن کا بدلہ میری بیٹی سے لیا ہے لیکن وہ بے قصور ہے تم نے میری بیٹی کے ساتھ بہت برا کیا ہے۔نیلم نے روتے ہوئے کہا۔
بھابھی صبر کریں سب ٹھیک ہو جائے گا نگین جو وہاں آئی تھی نیلم کو روتے دیکھا تو جلدی سے اس کے پاس آئی۔
اب کچھ ٹھیک نہیں ہو گا سیرت بھی دوسری شبنم بننے جا رہی ہے نیلم نے بےبسی سے کہا۔
بھابھی اچھے کی امید رکھیں نگین نے حوصلہ دیتے کہا اس سے زیادہ وہ کچھ اور کر بھی نہیں سکتی تھی۔
💜 💜 💜 💜 💜
سیرت اس وقت اُسی کمرے میں زمین پر بیٹھی تھی جس میں کچھ سال پہلے شبنم موجود تھی اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ حسن اس کے ساتھ ایسا کچھ کر سکتا ہے۔اس نے تو سیرت کو ہاتھ تک نہیں لگایا تو پھر وہ جھوٹ کیوں بول رہا ہے۔سیرت انہی سوچوں میں گم بیٹھی تھی۔
جب اچانک اسے ہلکی سی آہٹ سنائی دی۔
سیرت نے آنکھوں میں خوف لیے زمین کی طرف دیکھا جہاں سے آواز آرہی تھی۔
سیرت ایک دم وہاں سے کھڑی ہوگئی اندھیرا ہونے کی وجہ سے اسے کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔
کسی نے ٹائل کے کچھ حصے کو پیچھے کیا اور وہاں سے باہر آیا۔اندھیرے میں سامنے کھڑا وجود عجیب ہی لگ رہا ہے تھا۔
اس سے پہلے سیرت چیختی نائل نے آگے بڑھ کر اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا تھا اور اس کے ناک کے قریب بےہوشی والا رومال رکھا تھوڑی دیر بعد ہی سیرت نائل کی بانہوں میں بےہوش ہو گئی تھی۔اور جیسے آیا تھا ویسے ہی واپس چلا گیا۔
اس حویلے کے نیچے ایک تہہ خانہ بھی تھا جس کا راستہ اس کمرے کی طرف نکلتا تھا لیکن حویلی میں اس بات کا کسی کو پتہ نہیں تھا لیکن حسن ہر ایک راستے سے بہت سالوں پہلے سے واقف تھا۔
نائل نے سیرت کو اپنی گاڑی کی پیچھلی سیٹ پر آرام سے لیٹایا اور اسے وہاں سے لے گیا۔
💜 💜 💜 💜 💜
تم واپس کب آئے؟ طالش نے شہریار کو دیکھتے حیرانگی سے پوچھا۔کیونکہ شیریں بھی اسی گھر میں تھی۔
ہاں مجھے ایک ضروری کام سے آنا پڑا کل تک واپس چلا جاؤں گا یہ بتاؤ نائل کہاں ہے۔
آفس میں ہو گا۔شہریار نے بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
تمہیں نہیں معلوم وہ نکاح کر چکا ہے اور اب پتہ نہیں کیا کرنے والا ہے۔
طالش نے شہریار کے سامنے بیٹھتے ہوئے کہا۔ جس کا پانی کے گلاس کی طرف جاتا ہاتھ وہی رک گیا تھا۔
سیرت کے ساتھ اس نے نکاح کیا ہے؟ شہریار نے سنجیدگی سے پوچھا تو طالش نے اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔
اور اب وہ کہاں ہے؟ شہریار نے وہاں سے اُٹھتے ہوئے پوچھا۔
ہمارے دوسرے گھر میں طالش نے شہریار کو دیکھتے کہا جو وہی سے باہر کی طرف چلا گیا تھا۔
چلو اچھا ہے اب یہ حسن کو سنبھال لے گا پتہ نہیں کیا کرنا چاہتا ہے۔طالش نے گہرا سانس لیتے کہا۔
💜 💜 💜 💜
بابا سائیں گاؤں والے سیرت کے بارے میں پوچھ رہے ہیں مجھے لگتا ہے ہمیں ایک بار سب سے بات کرنی چاہیے اور کوئی بھی کہانی اُن کو سنا دیں گئے وہ لوگ تو ہماری کسی بھی بات پر یقین کر لیں گئے لیکن اگر ابھی ان کی باتوں کو غلط ثابت نا کیا تو ہمارے سر پر چڑھ کر ناچے گئے۔ابتسام نے اپنے باپ اور چچا کو دیکھتے کہا۔
ٹھیک کہہ رہے ہو تم ایسا کرو سارے گاؤں والوں کو اکٹھا کرو میں اُن سے بات کرتا ہوں سکندر نے کہا تو ابتسام وہاں سے چکا گیا۔جو اب کافی بہتر تھا۔
ابتسام نے گاؤں والوں کو اُسی جگہ اکٹھا کیا جہاں پر اکثر یہ لوگ جمع ہوتے تھے۔
سامنے سکندر بیٹھا تھا۔اس سے پہلے سکندر بات شروع کرتا وہاں ان کے پاس ایک بلیک کلر کی گاڑی آکر رکی تھی۔
سب لوگوں کی نظر اُس گاڑی کی طرف گئی جس کا دروازہ کھلا اور اندر سے نائل نکلا جس نے سفید رنگ کی شلوار قمیض کے سارے بلیک کلر کی گلاسز لگائی ہوئی تھی۔گاڑی سے باہر نکلتے ہی اس نے اپنی گلاسز اتاری اور سکندر کی طرف آیا۔
گاؤں والوں نے اسے خود ہی گزرنے کی جگہ دے دی تھی۔اس کی شخصیت سے وہاں کھڑا ہر ایک انسان متاثر ہوا تھا۔
لیکن ابتسام کے ساتھ سکندر اور شاہ نواز آنکھوں میں شعلے لیے نائل کو دیکھ رہے تھے۔
شکر ہے کہ آپ سب لوگ مجھے یہی پر مل گئے میں حویلی ہی جا رہا تھا لیکن آپ لوگوں نے میرا کام آسان کر دیا۔آج میں آپ سب کو ایک حقیقت سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں۔نائل نے گاؤں والوں کی طرف دیکھتے سنجیدگی سے کہا۔
سب سے پہلے تو میں آپ لوگوں کو یہ بتا دوں کہ آپ کے سائیں سکندر کی بیٹی حسن نے سکندر کی طرف اشارہ کرتے کہا۔
کا نکاح مجھ سے ہوا ہے وہ کسی کے ساتھ بھاگی نہیں تھی۔
بلکہ آپ کے سائیں سے میری ایک ڈیل ہوئی تھی۔کہ جس حویلی میں وہ رہتے ہیں وہ میرے نام ہے اگر وہ اپنی بیٹی کی شادی میرے ساتھ کر دیتے ہیں ہے تو میں حویلی کے کاغذات پر سائن کر دوں گا۔لیکن سائن کرنے کے بعد یہ لوگ مکر گئے حویلی میری ماں نے میرے نام کی تھی اور میری ماں شمیم بیگم کون تھی آپ لوگ تو اچھی طرح جانتے ہوں گئے۔
میں اُن کا بیٹا ہوں اور اُن کے انتقال کے بعد یا ایسا کہا جائے کہ اُن کی جان لینے کے بعد یہ لوگ حویلی حاصل کرنا چاہتے تھے لیکن افسوس وہ میرے نام پر تھی اور جب یہ لوگ اپنی کہی ہوئی بات سے مکر گئے تو مجبوراً مجھے ان کی بیٹی سے نکاح کرنا پڑا اور وہ میری بچن کی منگیتر بھی تھی تو آپ لوگ بھی جانتے ہیں یہاں گاؤں کے لوگ اپنے اصولوں کے بہت پکے ہیں اور منگنی کو بہت اہم مانا جاتا ہے میں نے صرف اپنی محبت کو اپنے نام کیا ہے لیکن میں نہیں جانتا کہ گاؤں میں یہ بات کس نے پھیلائی ہے کہ سکندر کی بیٹی کسی کے ساتھ بھاگ گئی لیکن میں اُسے چھوڑوں گا نہیں جس نے بھی یہ حرکت کی ہے اور ابتسام بھی ہمارے نکاح کا گواہ تھا۔تو جب ایک بھائی اپنی بہن کے نکاح میں شامل ہو تو اُسے آپ لوگ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ وہ بھاگی ہوئی لڑکی ہے؟
شادی سے واپسی پر ابتسام ہی اپنی بہن کو لے کر آیا تھا کیونکہ وہ سمجھدار ہے اور وہ جانتا ہے کہ اس کی بہن میری منگیتر ہے تو شادی بھی مجھ سے ہو گی۔کیوں ابتسام میں ٹھیک کہہ رہا ہوں نا؟ حسن نے ابتسام کی طرف دیکھتے پوچھا ابتسام کو سمجھ نہیں آئی کیا جواب دے کیونکہ اگر اس وقت وہ حسن کی بات کی مخالفت کرتا تو گاؤں کے لوگوں نے اسے بھی برا بھلا کہنا تھا۔نائل نے آدھے سچ اور آدھے چھوٹ کو ملا کر کہانی سنائی تھی۔
سکندر اور شاہ نواز تو سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے کہ حسن نے کیا کیا ہے۔
بلکل یہ ٹھیک کہہ رہا ہے اور آج آپ لوگوں کو یہاں جمع بھی اس لیے کیا گیا تھا تاکہ آپ لوگوں کی غلط فہمی دور کر دی جائے میری بہن کسی کے ساتھ بھاگی نہیں تھی بلکہ میں نے خود اس کا نکاح حسن کے ساتھ کروایا تھا تو اب میری بہن کے بارے میں کوئی بھی فضول نہیں بولے گا۔
اور میں امید کرتا ہوں آپ سب لوگ اس بات کو درگزر کر دیں گئے ابتسام نے بات کو سنبھالتے ہوئے سرد لہجے میں کہا ورنہ اسکا تو دل کر رہا تھا حسن کی جان نکال دے۔
ابتسام سائیں آپ کو ہمیں یہ بات پہلے بتا دینی چاہیے تھی کہ آپ کی بہن کسی کے ساتھ بھاگی نہیں ہے ہم آپ کی بیٹی سے معافی مانگنا چاہتے ہیں جو کچھ ہم نے اُس کے بارے میں بولا اور سوچا اُس کے لیے ہم شرمندہ ہیں وہاں کھڑے لوگوں میں سے ایک آدمی نے آگے آتے کہا۔اور بیٹا تم شمیم بیٹی کے بیٹے ہو ہمیں معلوم نہیں تھا وہ سچ میں ہم سب کے لیے فرشتہ تھی۔تم تو پھر تم اسی گاؤں کے بیٹے ہوئے اُس آدمی نے کہا تو حسن جلدی سے بولا تھا۔
معاف کیجیے گا انکل لیکن اب میں اپنی بیوی کو یہاں نہیں لے کر آؤں گا کیونکہ مجھے آپ کے سائیں پر بلکل بھی بھروسہ نہیں ہے یہ شادی اُن کی رضامندی کے بغیر ہوئی ہے اور کیا بھروسہ ان کا اپنی بڑی بیٹی کی طرح میری بیوی کو بھی غائب کر دیں میں بےچارہ اُسے کہاں سے تلاش کروں گا۔
اور دوسری بات بلکل ٹھیک کہا آپ نے میری ماں بہت اچھی تھی لیکن کچھ لوگوں سے یہ بات برداشت نہیں ہوئی اور حیرت ہے آپ لوگوں پر آپ ایک ایسے انسان کے پاس اپنے مسئلے لاتے ہیں مشورہ مانگتے ہیں جو اپنے مسئلے حل کرنے کے قابل نہیں ہے؟
حسن نے اُس آدمی کو دیکھتے ہوئے کہا اس کے چہرے پر چھائی مسکراہٹ سکندر کو زہر لگ رہی تھی اس وقت سارا کھیل حسن کے ہاتھ میں تھا سکندر چاہتا تو یہاں پر سچ بتا سکتا تھا لیکن بدنامی کے ساتھ ان کی اپنی عزت خراب ہونی تھی۔
لڑکے تم اب یہاں سے جاؤ ہمارے ذاتی معاملات میں تم دخل اندازی نا ہی کرو تو بہتر ہے سکندر نے کرخت لہجے میں کہا تو حسن مسکرا پڑا۔
بس میرا کام ہو گیا ہے۔میں جا رہا ہوں حسن نے کہا اور چلتا ہوا سکندر کے پاس آیا۔
میرا مین مقصد تم لوگوں کو گاؤں والوں کے سامنے ذلیل کرنا تھا جو پورا ہو گیا ہے لیکن ایک بات سچ ہے میں آپ کی بیٹی سے نکاح کر چکا ہوں اب وہ میری بیوی ہے اور میرے پاس محفوظ ہے۔
مجھے لگا تھا کہ جو باتیں میں نے کی اُسے سننے کے بعد تو ایک باپ اپنی نظریں بھی نہیں اٹھا سکے گا لیکن میں غلط تھا میں آپ لوگوں کو تکلیف دینے کے چکر میں اُس معصوم کو تکلیف دے گیا۔ مجھے لگا تھا جو کچھ میں نے آپ لوگوں کی بیٹی کے بارے میں بولا اُس کے بعد تو تم سب میری جان لے لو گئے لیکن تم لوگ اپنی غیرت صرف عورت پر ظلم کرتے وقت دکھاتے ہو۔چاہے اُس کی غلطی ہو یا نا ہو اب سوچنا ضرور کہ میں سیرت کو اُس کمرے سے نکال کر کیسے لے گیا۔
اور ہاں اب مجھے نہیں لگتا کہ گاؤں والوں کے دلوں میں اب تم لوگوں کی عزت موجود ہو گی۔ کل جو کچھ بھی میں نے کہا وہ سب جھوٹ تھا سیرت جو کہ رہی تھی وہی سچ تھا۔حسن نے سکندر کی طرف جھک کر دھیمے لہجے میں کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
گاؤں والے غصے سے سکندر کو دیکھ رہے تھے۔ابتسام نے یہ معاملہ خود سنبھالا تھا کیونکہ اس وقت گاؤں والوں کی نظروں میں ابتسام ہی درست تھا۔اور بہت سے سوال سامنے آئے تھے کہ شبنم کہاں گئی؟ حسن کی ماں کو کس نے مارا؟
شاہ نواز اور سکندر تو وہاں سے اُٹھ کر چلے گئے تھے۔لیکن سکندر کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ سیرت اُس کمرے سے باہر کیسے نکلی اسے تو لگا تھا وہ اُس کمرے میں ہی ہے لیکن نائل اُسے وہاں سے لے گیا تھا۔
💜 💜 💜 💜 💜
نائل گھر واپس آیا تو اس کا سر درد سے پھٹ رہا تھا وہ جانتا تھا اس نے سیرت کے ساتھ غلط کیا ہے لیکن اس نے گاؤں میں اس کے غائب ہونے کی خبر نہیں پھیلائے تھی۔اس کے آدمیوں نے گاؤں میں پھیلی خبر اسے دے دی تھی وہ نہیں جانتا تھا کہ یہ کس کا کام ہے لیکن اتنا ضرور جانتا تھا کہ سیرت اس سے نفرت کرتی ہو گی جو کچھ اس نے اُس معصوم کے ساتھ کیا۔
نائل صوفے سے ٹیک لگائے بیٹھا یہی سوچ رہا تھا۔جب اسے شہریار کی آواز سنائی دی تھی۔
چھوڑ آئے اُسے حویلی؟ شہریار کی آواز میں طنز شامل تھا۔
نائل نے آنکھیں کھول کر شہریار کو دیکھا۔
تمہیں کیا لگتا ہے؟ نائل نے الٹا سوال کیا۔
نائل تم جانتے ہو نا کہ شبنم کے ساتھ کیا سلوک ہوا تھا۔وہ لوگ تو اُسے بھی جان سے مار ڈالے گئے اور اُس کی تو کوئی غلطی بھی نہیں ہے۔
شہریار نے نائل کے سامنے کھڑے ہوتے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتے کہا۔
نائل بھی شہریار کے سامنے مطمئن سا کھڑا ہو گیا تھا تھا۔
میری بہن کے ساتھ بھی تو اُسکے بھائی نے برا کیا تھا وہ بھی بےقصور تھی تو پھر اُسے کیوں سزا ملی؟ نائل نے الٹا شہریار کو دیکھتے سوال کیا۔
اگر آج مرحا ٹھیک ہو جاتی ہے تو کیا پھر تم اپنی بہن سے نظریں ملا پاؤ گئے جو تم نے سیرت کے ساتھ کیا؟ اور مرحا سے تو ہمیں پھر بھی تھوڑی بہت امید ہے کہ وہ ٹھیک ہو جائے گی لیکن سیرت اُسے تو وہ لوگ جان سے مار دیں گئے مجھے تم سے اس بات کی امید نہیں تھی نائل تم اتنے خودغرض کیسے ہو سکتے ہو؟ شہریار نے سرد لہجے میں کہا۔
غصے سے اس کی ماتھے کی رگیں پھول گئی تھیں۔یہ سوچ ہی اس کے لیے جان لیوا تھا کہ اس کے بھائی کی وجہ سے آج ایک لڑکی اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے گئ۔
نائل نے ایک نظر شہریار کے سرخ ہوتے چہرے پر نظر ڈالی اور اسے بازو سے پکڑ کر اپنے کمرے کی طرف لے گیا۔
شہریار نا سمجھی سے اس کے ساتھ چل رہا تھا۔
نائل نے دروازہ کھولا لیکن سامنے بیڈ پر پڑے بےہوش وجود کو دیکھ کر شہریار ساکت ہو گیا تھا۔
تم ایسے واپس چھوڑ کر نہیں آئے؟ شہریار نے گہرا سانس لیتے پوچھا۔
جو میں نے اس کے ساتھ کیا ہے وہ بہت برا ہے لیکن اتنی گارنٹی تمہیں دے سکتا ہوں کہ اب اس کے گاؤں میں کوئی اسے غلط نہیں کہے گا۔حسن نے دروازہ بند کرتے کہا۔
حسن تم نے ایسا کیا کیا ہے مجھے تمھاری بات کی سمجھ نہیں آئی؟ شہریار نے ناسمجھی سے حسن کو دیکھتے پوچھا۔اب وہ تھوڑا مطمئن تھا کہ سیرت اب ٹھیک ہے۔
تم اُس بات کو چھوڑو وہ میرا اور سیرت کا معاملہ ہے تم اس میں نا پڑو حسن نے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
عجیب انسان ہے اگر اتنا ہی تمہیں اپنے کیے پر افسوس ہونا تھا تو وہ کام ہی نا کرتے اب افسوس کرنے کا کیا فائدہ اس لیے کہتے ہیں کہ انسان کو سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا چاہیے لیکن اس کھڑوس اور سر پھیرے انسان کو کون سمجھائے فضول میں میرا بی پی ہائی کیا شہریار نے غصے سے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا اور خود بھی وہاں سے چلا گیا۔
