Jaane Bewafa By Rimsha Hayat Readelle50132 Episode 12
No Download Link
Rate this Novel
Episode 12
نیلم کہاں ہو؟ سکندر نے سیڑھیوں کے پاس کھڑے نیلم کو آواز دیتے کہا۔جو کمرے سے باہر آئی تھی۔
جی سائیں نیلم نے مرجھائے ہوئے لہجے میں آکر پوچھا۔کچھ دنوں میں ہی اس کا چہرہ اتر سا گیا تھا۔
یہاں آؤ سکندر نے اسے اپنے پاس آنے کا اشارہ کرتے کہا جو چھوٹے قدم لیتے سکندر کے پاس آکر کھڑی ہو گئی تھی۔
سکندر نے ایک نظر نیلم کو دیکھا جو نظریں جھکائے کھڑی تھی۔
سکندر نے اسے بازو سے پکڑ کر سیڑھیوں کی طرف دھکا دیا۔
اس سے پہلے نیلم کچھ سمجھ پاتی سکندر اسے سیڑھیوں سے نیچے دھکا دے چکا تھا۔
نیلم کی دلخراش چیخ پوری حویلی میں گونجی تھی۔
نگین جو کچن میں تھی بھاگتی ہوئی باہر آئی اس نے زمین پر خون میں لت پت گری نیلم کو دیکھا تو بھاگتی ہوئی اس کے پاس آئی۔
بھابھی آپ کو کیا ہوا ہے؟ نگین نے بوکھلائے انداز میں اوپر دیکھتے کہا تو وہاں سکندر کھڑا تھا۔
جاؤ اسے ہسپتال لے جاؤ سکندر نے حکم دیتے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
نگین نے ظالم انسان کو دیکھا تھا۔جس نے اپنی ہی بیوی کو سیڑھیوں اے دھکا دے دیا۔
گھر میں اور کوئی نہیں تھا ملازمہ کے ساتھ مل کر نگین خود نیلم کو ہسپتال لے کر گئی تھی۔اسے رونا آریا تھا۔کتنی بےبس محسوس کر رہی تھی وہ خود کو گھر میں سکندر کے ہونے کے باوجود وہ خود نیلم کو ہسپتال لے کر گئی تھی۔
ہسپتال پہنچتے ہی وہاں پر ابتسام بھی آگیا جس نے آکر اپنی ماں کی حالت کا پوچھ کر جیسے احسان کیا تھا۔
لیکن نگین خاموش رہی تھی اس نے کچھ نہیں بتایا۔
ابتسام کچھ پل وہاں کھڑا نگین کے جواب کا انتظار کرتا رہا پھر وہاں سے چلا گیا۔
بابا سائیں میرے پاس طالش کا ہی نمبر ہے اور مجھے نہیں لگتا کہ وہ سیرت یا شیریں کو یہاں آنے دے گا۔ابتسام نے سکندر کو فون کرتے کہا۔
تم اُسے کہنا کہ نیلم کی طبیعت کافی خراب ہے اور وہ سیرت کا نام لے رہی ہے۔سکندر نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
جی ٹھیک ہے۔ابتسام نے کہتے ہی کال کٹ کر دی اور طالش کا نمبر ڈائل کیا۔
جو بدقسمتی سے شیریں نے اٹھا لیا تھا۔کیونکہ طالش شاور لے رہا تھا۔شیریں نے اسکا موبائل رنگ ہوتے دیکھا تو اٹھا لیا۔
موبائل کی دوسری جانب شیریں کی آواز سن کر تو ابتسام خوش ہو گیا تھا اس کا کام تو آسان ہو گیا۔
اس نے اپنے لہجے میں نمی لاتے اپنی ماں کی حالت کا بتایا اور یہ بھی بتایا کہ وہ سیرت کو یاد کر رہی ہے۔
شیریں تو اپنی تائی کی حالت کا سن کر ہی وہی بت بن گئی تھی اس نے موبائل وہی چھوڑا اور باہر کی طرف بھاگی۔
اس نے سیرت کے کمرے میں داخل ہوتے ہی اسے دیکھا۔
جو خاموشی سے لیٹی چھت کو تک رہی تھی۔
کیا ہوا؟ تم ٹھیک ہو؟ سیرت نے شیریں کے بوکھلائے ہوئے چہرے کو دیکھتے پوچھا۔اور خود اُٹھ کر بیٹھ گئی۔
وہ تائی جان سیڑھیوں سے گر گئی ہیں اور اُن کی حالت کافی خراب ہے تمہیں یاد کر رہی شیریں نے بھاری لہجے میں سیرت کو دیکھتے کہا جیسے ابھی رو پڑے گی۔
تم کیا کہہ رہی ہو سیرت؟ مجھے امی کے پاس جانا ہے سیرت کہتے ہی باہر کی طرف بھاگی۔میں بھی تمھارے ساتھ جاؤں گی۔ شیریں نے کہا اور وہاں سے سیرت کے پیچھے چلی گئی۔
ان کو طالش کو بتا دینا چاہیے تھا لیکن اُسے نا بتا کر اور گھر سے نکل کر انہوں نے بہت بری غلطی کی تھی یہ گھر دوسرا تھا تو یہاں پر کوئی ملازم نہیں تھا۔سیرت اور شیریں کے آنے کے بعد طالش نے سب ملازم کو کچھ دنوں کی چھٹی دے دی تھی۔
چوکیدار بھی اپنے کوارٹر میں کچھ کام کے سلسلے میں گیا تھا۔
دونوں گھر سے نکل گئی تھیں۔اور یہ ان کی بہت بڑی بیوقوفی تھی جس کی ان کو سخت سزا ملنے والی تھی۔
یہاں سے کوئی بس جاتی ہے گاؤں, سیرت نے شیریں کو دیکھتے پوچھا۔
ہاں چلو میں تمہیں بتاتی ہو شیریں نے کہا اور اسے وہاں سے لے گئی کیونکہ اسے اب کافی راستوں کو پتہ چل گیا تھا۔
💜 💜 💜 💜 💜
طالش شاور لے کر باہر نکلا تو اس نے پورے کمرے میں نظر دوڑائی وہاں پر شیریں موجود نہیں تھی اسے لگا کہ وہ سیرت کے کمرے میں ہو گئی لیکن جب وہ تیار ہو کر سیرت کے کمرے کی طرف گیا تو وہاں پر نا سیرت تھی اور نا ہی شیریں
طالش کے دماغ میں کچھ کھٹکا تھا پہلے تو اس نے پورا گھرا دیکھا لیکن وہ دونوں کہی بھی نہیں پھر اس نے جلدی سے اپنا موبائل چیک کیا۔
اور کال ہسٹری میں ابتسام کی کال اسے نظر آئی۔اس نے اپنے موبائل میں کال ریکارڈنگ کی آپشن اُون کی ہوئی تھی۔
اس نے جیسے ہی ریکارڈنگ سنی اس کی آنکھیں غصے سرخ ہو گئی تھیں ماتھے کی رگیں پھول گئی تھیں۔
ابتسام اس بار تو میں تمھارے جان لے لوں گا اور شیریں ایک بار تم واپس میرے پاس آجاؤ پھر دیکھنا میں تمھارا ساتھ کیا کرتا ہوں طالش نے غصے سے اپنے موبائل پر پکڑ سخت کرتے کہا اور خود بھی گھر سے نکل گیا۔
💜 💜 💜 💜
نائل پری اور مرحا کو واپس پاکستان لے آیا تھا۔شہریار نے واپس آنے سے منع کر دیا تھا۔
اور نائل نے بھی اسے فورس نہیں کیا۔
مرحا تو نظریں جھکائے بیٹھی تھی لیکن پری باہر چلتی گاڑیوں کو دیکھ رہے تھی۔
آج کتنے سالوں بعد وہ واپس پاکستان آئی تھی۔
انہی سوچو میں گم بیٹھی تھی جس کی نظر ایک بلیک کلر کی گاڑی میں بیٹھے شخص پر پڑی۔
سرسری سی نگاہ میں بھی پری نے اُس شخص کو پہچان لیا تھا۔وہ گاڑی ان کی گاڑی کے دائیں جانب گزر کر وہاں سے چلی گئی تھی۔
بھائی گاڑی روکیں پری نے جلدی سے چلاتے ہوئے کہا۔
مرحا نے حیرانگی سے پری کو دیکھا تھا۔نائل نے بھی ناسمجھی سے اسے دیکھا۔
کیا ہوا پری؟ سب ٹھیک ہے؟ نائل نے پوچھا۔
بھائی وہ میں نے اُسے دیکھا وہ وہی تھا۔پری بار بار پیچھے دیکھتے کہہ رہی تھا جہاں پر گاڑیاں چل رہی تھیں۔
نائل اگلی سیٹ پر بیٹھا تھا اس نے پیچھے مڑ کر پری کو دیکھا۔
کون تھا وہاں؟ نائل کے سوال پر پری نے ایک نظر اسکی طرف دیکھا۔
کوئی اپنا مجھے لگا میں نے کسی اپنے کو دیکھا ہے پری نے نظریں جھکا کر کہا۔
نائل نے پیچھے دیکھا لیکن وہاں کوئی نہیں تھا۔
پری نے بھی نوٹ کیا کہ وہ گاڑی جا چکی ہے اب وہ کیسے اُس گاڑی کو تلاش کر سکتی ہے۔یا اسے لگ رہا تھا اس کی نظروں کا دھوکہ ہے۔
یہ لو پانی پیو نائل نے پانی کی بوتل پری کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا جس نے کانپتے ہاتھوں سے بوتل کو تھام لیا تھا۔
جس کی تمہیں تلاش ہے اُسے ڈھونڈنے میں میں تمھاری پوری کوشش کروں گا۔
فکر مت کرو نائل نے سنجیدگی سے کہا اور سیدھا ہو کر بیٹھتے اس نے ڈرائیور کو گاڑی سٹارٹ کرنے کا کہا۔
آپ ٹھیک ہیں نا؟ مرحا نے پری کے کندے پر ہاتھ رکھتے پوچھا۔ جس نے اثبات میں سر ہلاتے سیٹ سے ٹیک لگاتے آنکھیں موند لی تھیں۔لیکن ابھی بھی اس کی نظروں کے سامنے وہ کالی گلاسز والا شخص آرہا تھا۔
💜 💜 💜 💜
نائل گھر پہنچا تو اسے کوئی نظر نہیں آیا اس نے طالش کو فون کیا جس کا نمبر بند جا رہا تھا۔
بھائی طالش بھائی کہاں ہیں؟ مرحا نے نائل کو دیکھتے پوچھا۔
چھوڑ کر تو میں اُسے اسی گھر میں گیا تھا لیکن اب نظر نہیں آرہا۔
میں اوپر دیکھ کر آتا ہوں نائل نے کہا تو اوپر سیرت کے کمرے میں آیا اسے لگا سیرت اپنے کمرے میں ہو گی لیکن ایسا نہیں تھا۔
نائل نے طالش کا کمرہ بھی دیکھ لیا اور وہاں پر بھی کوئی نہیں تھا۔
کہاں گئے یہ تینوں؟ نائل نے دوبارہ طالش کا نمبر ڈائل کرتے خود سے کہا۔
اور اس بار طالش کا نمبر لگ بھی گیا تھا۔
لیکن جو خبر طالش نے اسے سنائی وہ اس کی سانس روکنے کے لیے کافی تھی۔
تم اسی وقت گھر پہنچو میں دونوں لڑکیوں کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتا۔
اور تم سے تو میں بعد میں بات کرتا ہوں۔نائل نے غصے سے کہنے کے بعد موبائل بند کر دیا۔
یہ کیا کر دیا تم دونوں نے نائل نے اپنا موبائل دیوار میں مارتے ہوئے غصے سے کہا کیونکہ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ خاص طور پر سیرت کے ساتھ وہاں کیا سکون ہو گا۔
کیا ہوا بھائی سب خیریت؟ نائل نیچے آیا تو پری نے دیکھتے پریشانی سے پوچھا۔
ہاں مجھے ایک کام سے جانا ہے طالش بس آتا ہے تو میں نکلتا ہوں نائل نے عام سے لہجے میں کہا۔
اور آپ نے ہمیں کسی خاص سے بھی ملوانا تھا مرحا نے یاد آنے پر نائل کو دیکھتے پوچھا۔
ایک بار میرے ہاتھ آجائے پھر تم لوگوں سے بھی ملوا دوں گا۔نائل نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
کیا؟ مرحا نے ناسمجھی سے اسے دیکھتے پوچھا۔
کچھ نہیں اتنی جلدی بھی کیا ہے مل لینا اُن خاص سے بھی ابھی تو دونوں فریش ہو جاؤ تھک گئی ہو گی اوپر دائیں جانب تم دونوں کا کمرہ ہے نائل نے اوپر اشارہ کرتے کہا تو مرحا نے اثبات میں سر ہلایا اور دونوں اوپر کی جانب چلی گئی۔
پیچھے نائل طالش کے آنے کا انتظار کرنے لگا تھا۔طالش نے پوری کوشش کی تھی کہ وہ دونوں کو تلاش کر سکے لیکن وہ دونوں شاید وہاں سے جا چکی تھیں۔
💜 💜 💜 💜
سیرت اور شیریں حویلی پہنچی تو ہر طرف سناٹا چھایا ہوا تھا۔
سیرت کہی ہم نے یہاں آکر غلطی تو نہیں کی؟ میرا مطلب ہے اگر یہ حویلی والوں کی چال ہوئی تو میں نے ابتسام بھائی کی پوری بات تو سنی نہیں تھی۔
شیریں نے اپنا حلق تر کرتے سیرت کو دیکھتے کہا۔جب دونوں حویلی آگئی تو پھر شیریں کو خیال آیا تھا۔
نہیں ابتسام بھائی اتنا بڑا جھوٹ تو نہیں بول سکتے سیرت نے اپنے دل کو تسلی دیتے کہا لیکن اسے شیریں کی بات بھی ٹھیک لگ رہی تھی دونوں جذبات میں بہہ کر بنا کسی کو بتائے یہاں آ تو گئی تھی لیکن اب دونوں کا دل فل سپیڈ میں دھڑک رہا تھا۔
کسی ہو بیٹی؟
ابھی دونوں وہی کھڑی تھیں جب پیچھے سے شاہ نواز کی آواز سنائی دی۔
سیرت اور شیریں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو شاہ نواز کے ساتھ ابتسام بھی کھڑا تھا۔
امی کسی ہے بھائی؟ سیرت نے ابتسام کی طرف بڑھتے جلدی سے پوچھا۔
جس نے اسکو بالوں سے دبوچا تھا کہ سیرت درد سے کراہ اُٹھی تھی۔
آج وہ جس بھی حالت میں ہے صرف تمھاری وجہ سے ہے۔بہت بڑی غلطی کر دی تم دونوں نے یہاں آکر مجھے امید تو نہیں تھی کہ تم دونوں یہاں آؤ گی لیکن دیکھو میرا اندازہ غلط ثابت ہوا۔
ابتسام نے سیرت کے تکلیف دہ چہرے کو دیکھتے تمسخرانہ انداز میں کہا۔
شاہ نواز اپنی بیٹی کو یہاں سے لے جاؤ اور طلاق کے پیپرز تیار کرواؤ اب ہماری لڑکی واپس نہیں جائے گی۔
سکندر کی کرخت آواز پر شیریں ایک دم ڈر گئی تھی۔
شاہ نواز نے شیریں کو بازو سے پکڑا اور اسے وہاں سے لے جانے لگا۔
بابا سائیں سیرت کی کوئی غلطی نہیں ہے آپ اُسے معاف کر دیں اُس نے کچھ نہیں کیا۔
شیریں نے گڑبڑا ہوئے اپنے باپ سے کہا جو بےحس بنا شیریں کو وہاں سے لے کر جارہا تھا۔
اس نے پہلے کب اپنی بیٹی کی سنی تھی جو اب سنتا۔
بابا سائیں اسے آپ میرے حوالے کر دیں میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ مجھے اس کے ساتھ کیا کرنا ہے ابتسام نے اپنے باپ کو دیکھتے سیرت کے بالوں پر اپنی پکڑ سخت کرتے کہا۔
جس نے کچھ نہیں کہا تھا بلکہ خاموش رہا تھا۔
ابتسام سیرت کو بالوں سے پکڑے اسے گھسیٹتے ہوئے حویلی سے باہر لے گیا۔
جو چیخ رہی تھی لیکن کوئی بھی اس کی فریاد نہیں سن رہا تھا۔
ابتسام نے اس کے منہ پر ٹیپ لگائی اور اسے گاڑی کی پیچھی سیٹ پر دھکا دیا۔اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر آکر بیٹھ گیا تھا۔
کچھ ہی دیر بعد ابتسام نے اپنی گاڑی چودھری کے گھر کے باہر روکی اور باہر نکل کر اس نے سیرت کو باہر نکالا۔
وہاں چوھدری کے آدمی کھڑے تھے جو سیرت کو گھور کر دیکھ رہے تھے۔بکھرے بال چادر اس کی سر سے اتر چکی تھی۔
ابتسام سیرت کو بالوں سے گھسیٹے گھر کے اندر لے کر گیا اور اندر جاتے ہی اسے چودھری کے قدموں میں پھینک دیا۔جو اوندھے منہ زمین پر جا گری تھی۔
سکندر نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ سیرت جب بھی حویلی واپس آئی اسے جان سے مار دیا جائے گا۔تو یہ ذمہ داری ابتسام نے لی تھی وہ کیا کرنے والا تھا یہ تو کسی کو بھی معلوم نہیں تھا۔
یہ لو جیسا کہ ہماری ڈیل ہوئی تھی اب وہ زمین ہماری ہے۔ابتسام نے چودھری اور اُسکے بیٹے کو دیکھتے کہا جس کے چہرے پر زمین پر گری سیرت کو دیکھتے ہی آنکھوں سے کمینگی ٹپکنے لگی تھی۔
ہاں ٹھیک ہے وہ زمین اب لوگوں کی ہے شفیق نے جلدی سے کہا۔
اور ایک بات یہ زندہ نہیں بچنی چاہیے ورنہ میں اپنے ہاتھوں سے اسے مار دوں گا۔ابتسام نے سرد لہجے میں کہا اور وہاں سے مڑ کر جانے لگا۔
رک جاؤ!!!
سیرت کو یقین نہیں آرہا تھا کہ اس کا اپنا سگا بھائی اس کا سودا کررہا۔
بےیقنی اسکی آنکھیں میں عیاں تھیں۔
اس نے زمین سے کھڑتے ہوتے اپنے بھائی کو روکا۔
کیسا بھائی تھا جو اپنی بہن کو زمین کے کچھ ٹکرے کی خاطر بیچ کر جا رہا تھا۔
سیرت چلتی ہوئی ابتسام کے پاس آئی جو کھڑا سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا اس وقت یہاں چودھری اُس کا بیٹا اور اس کے آدمی کھڑے تھے۔
سیرت نے ایک زور دار تھپڑ ابتسام کے منہ پر دے مارا۔اس کے تھپڑ کی آواز پورے کمرے میں گونجی تھی۔
کوئی بھی اس بات کی توقع نہیں کر رہا تھا کہ سیرت ابتسام پر ہاتھ اٹھائے گی ابھی وہ شوکڈ سے باہر نہیں نکلا تھا کہ سیرت نے دوسرا تھپڑ دے مارا۔
لعنت تمھارے جیسے بھائی ہونے پر…
لعنت ہے تمھارے مرد ہونے پر….
بےشرم آدمی اپنی سگی بہن کو زمین کے کچھ ٹکرے کی خاطر ان درندوں کے پاس چھوڑ کر جا رہے ہو ۔
اللہ کرے تم مر جاؤ تمھارے جیسا گھٹیا بھائی ہونے سے بہتر ہے ہے میرا کوئی بھائی نا ہوتا۔
سیرت نے چیختے ہوئے ابتسام کو دیکھتے کہا جو جبڑے تانے سیرت کو دیکھ رہا تھا۔
مرنا تو تم نے ہے ہی تو کیوں نا میری کچھ مدد کرکے ہی مر جاؤ اور یہ تمھارے آخری غلطی سمجھ کر معاف کر رہا ہوں اس کے بعد ہم کبھی نہیں ملے گئے۔
ابتسام نے گہرا سانس لیتے سیرت کو دیکھتے کہا۔
مجھے اپنی پرواہ نہیں ہے لیکن مجھے ایک بات کا گلہ ضرور رہے گا۔اگر آج میں مر جاتی ہوں تو تمھاری موت کو نہیں دیکھ سکوں گی۔
تمھارے جیسے درندے کی موت آسان تو بلکل نہیں ہو گی اور میری ایک بات یاد رکھنا تم سب سیرت نے انگلی اٹھاتے کہا۔
میرے مرنے کے بعد وہ تم سب کو چن چن کے موت دے گا۔اتنا مجھے یقین ہے۔
سیرت نے بھیگے لہجے میں وہاں موجود تینوں وجود کو دیکھتے کہا۔
بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی ابھی تو میرے ساتھ چل اپنی بےعزتی کا بدلہ بھی لینا ہے شفیق نے سیرت کو بازو سے پکڑ کر اسے اپنے ساتھ گھسیٹتے ہوئے کہا۔
ابتسام اس پر ایک نظر ڈالے وہاں سے چلا گیا تھا۔
سیرت نے دل میں اللہ سے مدد مانگی تھی اور اُس انسان کو یاد کیا تھا جس نے نکاح نامے پر دستخط کرتے وقت اسکی عزت کی حفاظت کرنے کا بھی وعدہ کیا تھا۔
شفیق نے دروازہ کھولتے سیرت کو اندر بیڈ پر پھینکا جو ہوش میں آئی تھی۔
شفیق اپنی شرٹ کے بٹن کھولتے سیرت کی طرف بڑھ رہا تھا۔چہرے پر چھائی خباثت اور آنکھوں میں کمینگی لیے سیرت کو دیکھ رہا تھا۔
جو آنکھوں میں خوف لیے اپنی طرف بڑھتے شفیق کو دیکھ رہی تھی۔
