Jaane Bewafa By Rimsha Hayat Readelle50132 Episode 31
No Download Link
Rate this Novel
Episode 31
پاسٹ……
بابا سائیں میں مرحا کو طلاق دینا چاہتا ہوں وہ لڑکی میرے مطلب کی نہیں ہے۔ابتسام نے دو ٹوک انداز میں اپنے باپ کو دیکھتے کہا۔
ٹھیک ہے جو تمہیں بہتر لگے وہ کر لو۔
سکندر نے مسکراتے ہوئے کہا۔
آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں ہے نا؟ ابتسام نے کنفرم کرنا چاہا۔
بیٹا مجھے کیا مسئلہ ہو گا اور میں نے بابا کے کہنے پر تمھارا نکاح اُس لڑکی سے کیا تھا۔
لیکن یہ تمھاری زندگی ہے۔سکندر نے کہا تو ابتسام ہنس پڑا۔
شکریہ بابا سائیں ابتسام نے کہا اور وہاں سے اُٹھ کر چکا گیا۔
اس نے اگلے دن ہی طلاق کے پیرز تیار کروائے تھے۔
اور پیپرز لیے حویلی میں داخل ہوا۔
مرحا اپنے کمرے میں تھی۔جب ابتسام بنا ناک کیے کمرے میں داخل ہوا۔
ابتسام لو دیکھتے ہی مرحا نے گھبرا کر جلدی سے اپنا ڈوپٹہ لیا تھا۔
یہاں سائن کرو ابتسام نے پیپرز مرحا کے آگے کرتے کہا۔
جس نے ناسمجھی سے پیپرز کی طرف دیکھا تھا۔
یہ کیا ہے؟ مرحا مے آہستگی سے پوچھا۔
طلاق کے پیپرز ہیں۔ابتسام نے سنجیدگی سے جواب دیا۔
میں ان پیپرز پر سائن نہیں کروں گی۔
مرحا نے پیپرز کو پیچھے کرتے کہا۔
کیوں نہیں تم سائن کرو گی؟ ابتسام نے مرحا کو گردن سے دبوچتے اس کا چہرہ خود کے قریب کرتے غصے سے پوچھا۔
مرحا کی آنکھیں خوف سے پھیل گئی تھیں۔
سائن کرو ورنہ ابھی تمھاری جان لے لوں گا۔
ابتسام نے اسے پیچھے دھکا دیتے کہا جو زور زور سے بیڈ پر بیٹھے کھانسنے لگی تھی۔
کرو سائن ابتسام نے اس کے آگے پیپرز پھینکتے ہوئے دوبارہ کہا۔جس نے بےبسی سے ایک نظر سامنے کھڑے ابتسام کو دیکھا جو کہنے کو تو اس کا شوہر تھا۔
مرحا نے کانپتے ہاتھوں سے طلاق نامے پر دستخط کردیے تھے۔
ابتسام نے پیپرز وہاں سے اٹھائے اور کمرے سے چلا گیا۔
مرحا پیچھے بیڈ پر بیٹھی بےبسی سے رونے لگی تھی۔
یہ بات جب نیلم کو پتہ چلی تو پہلے تو اُسے یقین نہیں آیا لیکن جب اس نے سکندر سے بات کرنی چاہی تو اُس نے نیلم کو ڈانٹ کر چپ کروا دیا تھا۔نیلم بھی بےبس تھی نا اس کے پاس نائل اور طالش کا نمبر تھا کہ دونوں مرحا کے بارے میں بتا سکتی۔
مرحا خاموش رہنے لگی تھی اور کافی بیمار بھی ہو گئی تھی۔اسے اپنے بھائیوں کی یاد آتی تھی لیکن اُن سے رابطہ کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔
ایسے ہی وقت گزرتا گیا۔مرحا نے ابتسام کے سامنے آنا بند کر. دیا تھا۔
ایک دن مرحا سکندر کے کمرے کے باہر سے گزر رہی تھی جب اپنے ماں باپ کا نام سن کر وہی رک گی تھی۔ابتسام اور سکندر دونوں باتیں کر رہے تھے۔
بابا سائیں شہریار کہاں ہے؟ ابتسام نے اپنے باپ کو دیکھتے سنجیدگی سے پوچھا۔
کیونکہ وہ جانتا تھا کہ جو کچھ اس کے باپ نے حویلی میں گھمایا تھا وہ غلط تھا۔
وہ نجانے کہاں چلا گیا ہے۔
سکندر نے پریشانی سے کہا۔
کیا مطلب؟ ابتسام نے حیرانگی سے پوچھا۔
تو سکندر اسے اُس دن کے بارے میں بناتے لگا کہ کس طرح اس نے شمیم اور یاسر کی کو مروایا تھا۔
تو آپ نے دونوں کی جان لی؟ابتسام نے عام سے لہجے میں پوچھا۔اسے بلکل بھی دکھ نہیں ہوا تھا۔مرحا کے لیے یہ انکشاف بہت بڑا تھا۔مرحا نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھے اپنی سسکی کو روکا تھا۔
اسے اب شہریار کی بات یاد آرہی تھی۔اسے لگا کہ اس کا سانس بند ہو جائے گا وہ وہاں سے جانے گی جب دیوار کے ساتھ پڑا واس زمین پر گر گیا تھا جس کی آواز پر سکندر اور ابتسام نے دروازے کی طرف دیکھا۔
ابتسام جلدی سے باہر آیا تو اسے مرحا کا ڈوپٹہ نظر آیا جو وہاں سے اوپر چھت کی طرف جا رہی تھی۔
ابتسام کو پتہ چل گیا تھا کہ مرحا سب کچھ سن چکی تھی۔
ابتسام اس کے پیچھے چھت پر گیا۔
مرحا چھت پر کھڑی گہرے سانس لے رہی تھی۔
جب اس نے اپنے پیچھے کسی کی موجودگی کے احساس پر مڑ کر دیکھا۔
تو پیچھے ابتسام کھڑا مسکرا رہا تھا۔
مرحا کا چہرہ پل بھر میں ابتسام کو دیکھتے سفید ہوا تھا۔
💜 💜 💜 💜 💜
شہریار نے مرحا کے بارے میں اپنی ماں سے بات کی تھی۔کہ وہ مرحا سے شادی کرنا چاہتا ہے اس کی ماں نے کہا تھا کہ وہ نائل سے بات کرتی ہےاور جب نگین نے نائل سے بات کی تو شہریار سے اُسے بھی مسئلہ نہیں تھا بلکہ وہ اتنا جانتا تھا کہ شہریار ہمیشہ اس کی بہن کو خوش رکھے گا۔لیکن اس نے کہا تھا کہ وہ ایک بار روحا سے سے بات کرنا۔
پھر ہی اس نے کوئی فیصلہ کرنا تھا۔اور جب نائل نے مرحا سے بات کی تو اُس نے صاف صاف لفظوں میں انکار کر دیا تھا۔نائل کو بہت حیرت ہوئی تھی اس نے وجہ بھی پوچھی لیکن مرحا خاموش رہی نائل کے لیے مرحا کا فیصلہ بھی اہم تھا۔
اس لیے اُس نے نگین بیگم کو مرحا کے فیصلے کے بارے میں بتا دیا تھا۔
لیکن جب یہ خبر شہریار تک پہنچی تو اُس کا یہ سنتے ہی غصّے سے برا حال ہو گیا تھا۔
شہریار اپنے کمرے سے باہر نکلا تو اس سامنے ہی مرحا نظر آگئی تھی جس کا ہاتھ پکڑے وہ اپنے کمرے میں اسے لے گیا۔
روحا اس افتاد پر ایک دم بوکھلا گئی تھی۔
شہریار نے کمرے میں آتے ہی روحا کا ہاتھ چھوڑا اور مڑ کر مرحا کی طرف آیا۔
مجھ سے نکاح کرنے میں کیا مسئلہ ہے مرحا؟ تم نے نائل کے پوچھنے پر انکار کیوں کیا؟ شہریار نے مرحا کے پاس آتے اس کی بازو پر اپنی گرفت مضبوط کرتے سرخ آنکھیں اس کی خوف سے پھیلی آنکھوں میں گارڈھتے سرد لہجے میں پوچھا۔
شہریار چھوڑیں مجھے درد ہو رہا ہے۔مرحا نے درد سے کراہتے ہوئے کہا۔
مجھے جواب دو انکار کیوں کیا؟
شہریار نے دانت پیستے پوچھا۔
شہریار مجھے آپ سے شادی نہیں کرنی تو بات ختم مرحا نے کپکپاتے لہجے میں کہا۔
کیسے بات ختم؟ ہاں
کتنی آسانی سے تم نے کہہ دیا بات ختم؟ محبت کرتا ہوں تم سے آج سے نہیں اُس وقت سے جب تم چھوٹی تھی۔
جانتی ہو تمھارے نکاح نے مجھے کتنی تکلیف پہنچائی تھی۔لیکن پھر بھی میں خاموش رہا تھا۔
اور اب تمہیں کیا مسئلہ ہے مجھ سے؟ کیا تم نے مجھے کسی لڑکی کے ساتھ کچھ غلط کرتے دیکھ لیا؟ شراب پیتا ہوں؟ نشہ کرتا ہوں؟ کیا برائی ہے مجھ میں جواب دو؟ شہریار نے مرحا کے بازو کو چھوڑتے ہوئے سرد لہجے میں پوچھا۔آنکھیں اس کہ سرخ ہو رہی تھیں۔
مرحا آنسوؤں بہائے اسے دیکھ رہی تھی۔
شہریار نے اس کی طرف دیکھا اس کا رونا اسے مزید غصہ دلا رہا تھا۔اس لیے کمرے سے ہی نکل گیا۔
مرحا نے دروازے کو بے بسی سے دیکھا تھا جہاں سے شہریار گیا تھا۔
💜 💜 💜 💜
زبیر مجھے آپ سے بات کہ ہے۔پری نے زبیر کو دیکھتے کہا جو ابھی گھر واپس آیا تھا۔
چہرے پر اس کے تھکاوٹ عیاں تھیں۔
سن رہا ہوں زبیر نے اپنے ہاتھ سے سرکو دباتے ہوئے کہا۔
ایم سوری پری نے اپنے ہاتھوں کو مڑوڑتے ہوئے کہا۔
زبیر نے جلدی سے اپنی آنکھیں کھولی تھیں۔
کیا کہا تم نے؟ زبیر کو لگا کہ اسے سننے میں غلط فہمی ہوئی ہے۔
مجھے معاف کر دیں۔بس میں وہ تصویریں دیکھ کر غصے میں آگئی تھی۔
مجھے آپ پر یقین کرنا چاہیے تھا۔پلیز مجھے معاف کر دیں۔
پری نے کہا تو زبیر فوراً کھڑا ہوتے اس کے سامنے آیا تھا۔
میری طرف دیکھو شبنم
زبیر نے اس کے چہرے کو ٹھوڑی سے پکڑ کر اوپر کرتے سنجیدگی سے کہا۔جس کی آنکھوں میں آنسو باہر نکلنے کو بیتاب تھے۔
تمہیں کچھ زیادہ ہی جلدی احساس نہیں ہو گیا کہ تمہیں مجھے پر یقین کرنا چاہیے؟زبیر نے تیکھے لہجے میں پوچھا۔
پری خاموش رہی تھی۔
اس نے ٹھنڈے دماغ سے بہت سوچا اور پھر اسے احساس ہوا کہ کہ جس انسان نے ابھی تک شبنم کی خاطر شادی نہیں کی تھی۔وہ کیسے اسے دھوکہ دے سکتا تھا۔
اسے زبیر سے پہلے بات کرنی چاہیے تھی۔
میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں شبنم تمھاری بےرخی نے مجھے بہت تڑپایا ہے۔اتنا تڑپایا ہے کہ میں تمھیں لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا۔
وہ تصاویر میرے چچا کے کہنے پر لی گئی تھیں۔وہ نہیں چاہتے تھے کہ میری تمھارے ساتھ شادی ہو اس لیے انہوں نے وہ تصاویر تمہیں بھیجی تاکہ اُس کو دیکھنے کے بعد تم نکاح سے انکار کر دو۔
تمہیں دھوکا دینے سے پہلے میں مرنا پسند کروں گا۔زبیر نے جنونی انداز میں کہا۔
پری نے اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ لیے تھے۔
پلیز مرنے کی باتیں بنا کریں۔
پری نے بےبسی سے کہا۔
زبیر نے پری کے ہاتھ کو اپنے ہونٹوں سے پیچھے کرتے اس کی ہتھیلی پر ہونٹ رکھ دیے تھے۔
اب اپنی غلطی کا ازالہ کیسے کرو گئی؟ جو مجھے اتنے دن تکلیف میں رکھا وہ؟ زبیر نے پری کو کمر سے پکڑ کر خود کے قریب کرتے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا۔
آپ کے لیے کافی بنا دوں؟ آپ کے سر میں درد تھا نا؟ پری نے زبیر کی بات کو اگنور کرتے گھبرائے ہوئے لہجے میں پوچھا۔وہ زبیر کے اتنے قریب کھڑی تھی کہ اس کے پرفیوم کی خوشبو سے اسے اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہوا تھا۔
اب میرا سر پر درد نہیں کر رہا۔لیکن مسز دوبارہ اگر تم نے کوئی بھی ایسی حرکت کی تو میں نہیں جانتا کہ خود کے ساتھ کیا کر گزروں گا۔
زبیر نے گھمبیر لہجے میں پری کے ماتھے پر بوسہ دیتے کہا جس نے سکون سے آنکھیں موند لی تھی۔
زبیر نے پری کو زور سے اپنے سینے میں بھینچا۔جیسے دور کرنے سے وہ اس سے دور چلی جائے گی۔
پری اس کے جنونی انداز پر. مسکرا پڑی تھی۔
💜 💜 💜 💜
ابتسام نے نائل کے گھر کا معلوم کیا تھا۔اور اب کھڑا چوکیدار سے بحث کر رہا تھا جو اسے اندر نہیں جانے دے رہا تھا۔
چوکیدار نے فون کرکے ابتسام کا بتایا۔
نائل کے پاس ہی سیرت بیٹھی ہوئی تھی۔
ٹھیک ہے میں آتا ہوں۔نائل نے سنجیدگی سے کہتے فون بند کر دیا۔
کون آیا ہے؟ سیرت نے پوچھا۔
میں ابھی آتا ہوں نائل مے کہا اور وہاں سے اُٹھ کر چلا گیا۔
سیرت کو حیرانگی ہوئی تھی ایسا بھی کون آیا تھا کہ نائل نے اسے بتایا نہیں۔سیرت نے کھڑکی کے پاس کھڑے ہوتے دیکھا تو ابتسام کو دیکھتے حیرانگی ہوئی تھی۔
ابتسام نے نائل کی طرف دیکھا تو فوراً اس کی طرف غصے سے آیا تھا۔
سیرت کہاں ہے؟ مجھے اُس سے بات کرنی ہے۔ابتسام میں سرد لہجے میں پوچھا۔
وہ تم سے ملنا نہیں چاہتی۔نائل نے کہا تو ابتسام نے کھا جانے والی نظروں سے اس کی طرف دیکھا تھا۔
مجھے اُس سے بات کرنی ہے بلاؤ اُسے ابھی ابتسام بات ہی کر رہا تھا جب سیرت وہاں آئی۔
ابتسام نے سیرت کو دیکھا تو اس کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ آگئی تھی۔
ویسے کتنی بےشرم لڑکی ہو تم جس انسان تمھارے باپ کی جان لی اُسی کے ساتھ رہ رہی ہو۔
ابتسام نے سیرت کو دیکھتے زہریلے لہجے میں کہا۔نائل نے جبڑے بھینچے سیرت کو دیکھا تھا جو وہاں کھڑی تھی۔
کیا؟ بابا سائیں کو کیا ہوا؟سیرت نے بے یقینی سے ابتسام کو دیکھتے پوچھا۔
تو تمھارے شوہر نے یہ بھی تمہیں نہیں بتایا حیرت ہے۔اور کیسے بتاتا کہ اُس نے تمھارے باپ کی جان لی؟ ابتسام نے سرد لہجے میں کہا۔نائل نے ابتسام کا گریبان پکڑتے اس کے جبڑے پر مکا دے مارا تھا۔
اپنی بکواس بند کر تم لوگوں کی طرح گھٹیا انسان نہیں ہوں جو کسی کی بھی جان لے لوں نائل نے دوسرا مکا ابتسام کے چہرے پر مارتے کہا۔
سیرت اپنے منہ پر ہاتھ رکھے سامنے دونوں کو دیکھ رہی تھی۔
نائل چھوڑ دیں بھائی کو سیرت نے آگے آکر نائل کو روکنا چاہا جس نے اپنی سفاک آنکھیں سیرت کی آنکھوں میں گاڑھی تھیں جو ڈر کر خود ہی پیچھے ہو گئی۔
ابتسام بھی نائل کو مارا رہا تھا دونوں ایک ایک دوسرے کی جان لینے کے در پر تھے۔چوکیدار کی اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ آگے آکر دونوں کو روک سکے۔
سیرت نے گھبرا کر دونوں کی طرف دیکھا اور پھر آگے کی طرف بڑھی۔
پلیز چھوڑ دیں سیرت نے کہتے ہی نائل کو پیچھے کرنا چاہ اور اُسی وقت ابتسام نے سیرت کو پیچھے دیکھا دیا جو اوندھے منہ کچھ فاصلے پر پڑے سامان پر جا گری تھی۔
وہاں پر ٹوٹا پھوٹا سامان پڑا تھا۔
نائل نے سیرت کو دیکھتے اسے پکارا اور ابتسام کو پیچھے دھکا دیتے وہاں سے سیرت کی طرف آیا۔
ابتسام نے اپنا کالر ٹھیک کیا اور وہاں سے چلا گیا اس کا کام ہو گیا تھا۔
سیرت نے اپنے پیٹ پر رکھے ہاتھ کو اپنی نظروں لے سامنے کیا جو کانپ رہا تھا اور پورا خون سے بھرا ہوا تھا۔
نائل نے اس کے ہاتھ پر خون لگا دیکھا تو اسے اپنے پیروں سے زمین نکلتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔
سیرت…. نائل نے کہتے ہی اسے سامان کے اوپر سے اٹھایا۔تو اس کے پیٹ سے خون نکل رہا تھا۔سامان میں لوہے کے تیکھے اور خراب راڈ بھی پڑے تھے جو گرنے کی وجہ سے اُن میں سے ایک سیرت کے پیٹ میں جا لگا تھا۔
سیرت آنکھیں کھولو نائل نے سیرت کی بند ہوتی آنکھوں کو دیکھتے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا۔
لیکن وہ آنکھیں موند چلی تھی۔
