Jaane Bewafa By Rimsha Hayat Readelle50132 Episode 21
No Download Link
Rate this Novel
Episode 21
احمر اکثر اس پارک میں آتا تھا۔لیکن اس کی نظر اچانک سیرت پر پڑی پہلے تو اسے یقین نہیں آیا کہ سیرت اس کی آنکھوں کے سامنے ہے۔
اور اس موقع کو وہ گوانا بھی نہیں چاہتا تھا۔
اس لیے چلتا ہوا سیرت کے پاس آیا۔
اور اسے مخاطب کیا۔
سیرت نے ناسمجھی سے احمر کی طرف دیکھا جو بلیو جینز کے ساتھ وائیٹ شرٹ پہنے گلاسز لگائے سیرت کے سامنے کھڑا تھا۔
کیا میں آپ کا موبائل یوز کر سکتا ہوں دراصل میری گاڑی خراب ہو گئی ہے اور میرے موبائل کی بیٹری بھی ڈیٹ ہے۔
احمر کو جب کچھ سمجھ میں نہیں آیا تو یہی بہانا بنا دیا۔
میں آپ کی مدد ضرور کرتی لیکن میرے پاس موبائل نہیں ہے۔سیرت نے احمر کی طرف دیکھتے کہا۔
اوہ چلیں کوئی بات نہیں میں کسی اور سے پوچھ لیتا ہوں احمر نے ہلکا سا مسکرا کر کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
سیرت پھر سے بچوں کی طرف دیکھنے لگی تھی۔
اسے دور سے کچھ پھول نظر آئی جو کافی خوبصورت لگ رہے تھے۔
سیرت اُن پھولوں کی طرف گئی اور ہر رنگ کے ایک ایک پھول کو توڑنے لگی۔
احمر وہاں سے گیا نہیں تھا بلکہ اس نے اپنا موبائل نکال کر اس سے بہت سی سیرت کی تصویریں لی۔
تو آخر کار تم مجھے مل ہی گئی ہو سویٹی
احمر نے چہرے پر مسکراہٹ لیے کہا اور وہاں کھڑا سیرت کو دیکھنے لگا جب تک سیرت وہاں رہی تھی۔احمر کھڑا اُسے دیکھتا رہا تھا۔
💜 💜 💜 💜
پاسٹ…….
سکندر کے والد گلزار نے ایک بچے کو لے کر گود لیا تھا۔ان کی اپنی ابھی کوئی اولاد نہیں تھی۔لیکن جب انہوں نے بچے کو گود لیا تو اللہ نے ان کی بھی سن لی۔
اور گلزار کی بیوی نے ایک لڑکے کو جنم دیا جس کا نام سکندر رکھا تھا لیکن ان کا بڑا بیٹا یاور تھا۔چونکہ یاور کے ماں باپ جو ایک حادثے میں گزر چکے تھے اور گلزار یاور کے باپ کا اچھا دوست بھی تھا اس لیے دونوں کی وفات کے بعد یاور کے آگے پیچھے کوئی نا ہونے کی وجہ سے گلزار نے اسے گود لے لیا تھا۔
لیکن گلزار نے یاور کے ساتھ اس کے باپ کا نام خانزادہ ہی لگایا تھا۔
سکندر کے بعد گلزار کو اللہ نے ایک اور بیٹے سے نواز جس کا نام شاہ نواز رکھا گیا اور شاہ نواز کے بعد بیٹی کی پیدائش پر گلزار کی بیوی خالقِ حقیقی سے جا ملی تھی۔
گلزار نے اپنے چاروں بچوں کو خود پالا تھا۔
یارو جب بڑا ہوا تو گلزار نے اس کے سامنے اپنی خواہش رکھی کہ وہ اپنی بیٹی کو اسی حویلی میں رکھنا چاہتا ہے۔
یاور گلزار کی بات سمجھ گیا تھا اور اسے بھی شمیم سے شادی کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں تھا بلکہ وہ اس کی آنکھوں کے سامنے بڑی ہوئی تھی۔
یاور اور شمیم کی شادی کے ساتھ ہی سکندر اور نیلم کی شادی بھی ہو گئی تھی۔
یاور شمیم کے ساتھ بہت خوش تھا۔شمیم بہت اچھی لڑکی تھی۔
کچھ ماہ بعد شاہ نواز کی شادی بھی نگین سے کر دی گئی تھی۔
گلزار بیمار رہنے لگا تھا اس لیے گاؤں کے کام وغیرہ بھی نہیں دیکھ پا رہا تھا اور یہ زمہ داری گلزار نے یاور کو دی لیکن سکندر اور شاہ نواز کو یہ بات ہرگز پسند نہیں آئی تھی لیکن خاموش رہے۔دن گزرتے گئے۔
اللہ نے شمیم اور یاور کو ایک خوبصورت بیٹے سے نوازہ تھا۔اور نیلم کے ہاں بھی بیٹا پیدا ہوا تھا جس کا نام سکندر نے ابتسام رکھا تھا۔
شہریار اور طالش کی پیدائش میں ایک دن کا فرق تھا۔شاہ نواز بہت خوش تھا۔
دن گزرتے گئے اور گلزار نے یاور کو اپنی جگہ دینے کا سوچا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ یاور سکندر اور شاہ نواز سے زیادہ سمجھدار ہے۔
یاور اور شمیم نے یہ زمہ داری بہت اچھے سے سنبھالی تھی۔
گاؤں والے دونوں میاں بیوی سے بہت خوش تھے۔دونوں گاؤں کی مدد کرتے تھے۔
لیکن سکندر کا صبر جواب دے گیا تھا۔جو مقام یاور کو ملا تھا اُس پر سکندر کا حق تھا اس نے کچھ نا کچھ کرنے کا سوچا تھا اور اپنے ساتھ شاہ نواز کو بھی ملا لیا۔
اگر یاور زندہ رہتا تو جائیداد میں سے بھی اسے حصہ دینا پڑنا تھا۔
طالش کے بعد شمیم کے ہاں ایک پیاری سی گڑیا پیدا ہوئی جس کا نام گلزار نے مرحا رکھا اور اُسی وقت کہہ دیا تھا کہ وہ میرے ابتسام کی بہو بنے گی۔
ابتسام سے چھوٹی سیرت تھی اور شہریار کے بعد شبنم اور آخر میں شیریں پیدا ہوئی تھی۔
سکندر اور شاہ نواز سوچتے رہے کہ کس طرح یاور کو راستے سے ہٹایا جائے۔
انکے کافی منصوبے ناکام بھی ہوئے تھے وقت گزرتا گیا اور بچے بڑے ہو گئے۔
گلزار اب بلکل ہی بیڈ سے لگ کر رہ گیا تھا۔اس نے اپنی خواہش کا اظہار کیا کہ وہ چاہتا ہے کہ مرحا اور ابتسام کا نکاح اس کی آنکھوں کے سامنے ہو جائے۔
یاور سوچ میں پڑ گیا تھا کیونکہ مرحا ابھی کافی چھوٹی تھی اور گلزار کی بات کی وہ نفی بھی نہیں کر سکتا تھا۔ابتسام کی عمر بیس سال کی تھی۔
کافی سوچنے کی بعد یاور اور سکندر نے اپنے باپ کی خاطر دونوں کا نکاح کر دیا تھا۔
ابتسام کو مرحا پسند نہیں تھی لیکن پھر بھی اس نے اپنے باپ کے کہنے پر نکاح کر لیا۔
نکاح کے ایک ہفتے بعد ہی گلزار کا انتقال ہو گیا تھا۔
حویلی والے کافی دکھے تھے پھر گلزار کے گزرنے کے بعد سکندر اور شاہ نواز نے یاور اور شمیم کو مارنے کا پلان بنایا کیونکہ اپنے باپ کے ہوتے بھی وہ بہت بار ایسا کر چکے تھے لیکن اُس وقت کامیاب نہیں ہوئے تھے۔
💜 💜 💜 💜
کیسی طبعیت ہے تمھاری؟ نائل نے کمرے میں آتے سیرت کو دیکھتے پوچھا۔
آج اس کا لہجہ تھکا سا سیرت کو لگا تھا۔
ویسے تو نائل آتی ہی فریش ہونے چلا جاتا تھا لیکن اب آکر صوفے پر ٹیک لگائے آنکھیں موندے بیٹھ گیا تھا۔
سیرت نے ایک نظر نائل کہ طرف دیکھا۔
سامنے بیٹھا انسان اس کا شوہر تھا۔جو اللہ نے اس کے نصیب میں لکھا تھا۔
جیسا ہمسفر ایک لڑکی چاہتی ہے نائل ویسا ہی تھا۔
لیکن جو کچھ اس نے سیرت کے ساتھ کیا تھا وہ سب باتیں سیرت کو نائل سے دور کر رہی تھیں۔
سیرت چلتی ہوئی نائل کے پاس آئی اور کچھ فاصلے پر ہی اس کے پاس بیٹھ گئی۔
نائل محسوس کرچکا تھا لیکن اس نے آنکھیں نہیں کھولی۔
نائل سیرت نے ہمت کرتے نرم لہجے میں نائل کو پکارا جس نے جھٹ سے آنکھیں کھول کر اپنے ساتھ بیٹھی سیرت کو دیکھا تھا اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔
نجانے اسے آج کیا ہوا تھا۔
پلیز سیرت طلاق کے علاوہ کوئی بھی بات کر لینا لیکن یہ بات مت کرنا میں تم پر غصہ نہیں ہونا چاہتا نا ہی تمہیں تکلیف دینا چاہتا ہوں۔کیونکہ تمہیں تکلیف دینے کے بعد میں بھی سکون میں نہیں رہتا اس لیے پلیز کوئی اور بات کرنا۔نائل التجا کرتے سیرت کو دیکھتے کہا۔کیونکہ اُسے یہی لگا تھا کہ سیرت طلاق کی بات کرنے کے لیے آئی ہے۔
سیرت خاموشی سے اسے سن رہی تھی۔
آپ ٹھیک ہیں؟ سیرت نے سنجیدگی سے پوچھا۔
نائل نے حیرانگی سے اسے دیکھا تھا کیونکہ وہ اس بات کی توقع نہیں کر رہا تھا کہ سیرت اس سے یہ سوال کرے گی۔
تمہیں فرق پڑتا ہے میرے ٹھیک ہونے یا نا ہونے سے؟ نائل نے ہلکا سا مسکرا کر پوچھا۔
سیرت خاموش رہی تھی۔
آج کے دن میرے موم ڈیڈ ہمیں چھوڑ کر چلے گئے تھے۔نائل نے گہرا سانس لیتے خود ہی بتایا۔
سیرت نے نظریں جھکا لیں تھی اب اسے نائل کی حالت کی سمجھ آگئی تھی۔
جانتی ہو سیرت میرے موم ڈیڈ کی جان کس نے لی تھی؟
نائل کا لہجہ پل بھر میں سرد ہوا تھا۔سیرت نے نظریں اٹھا کر نائل کی طرف دیکھا۔
خیر چھوڑو نائل کہتے ہی وہاں سے اُٹھ کر جانے لگا۔
سیرت جو اس کے جواب کا انتظار کر رہی تھی۔نائل کے اٹھنے پر خود بھی وہاں سے اٹھ گئی اور اسنے جلدی سے نائل کا ہاتھ پکڑا جو آج اسے شوکڈ پر شوکڈ کررہی تھی۔
کون تھا وہ؟ آپ کے موم ڈیڈ کی موت تو کار ایکسیڈنٹ میں ہوئی تھی نا؟ سیرت نے سنجیدگی سے پوچھا۔
نائل نے پہلے اس کے ہاتھ کو دیکھا پھر اسے بازو سے پکڑ کر پیچھے دیوار کے ساتھ لگایا جس نے زور سے پیچھے دیوار سے لگنے کی وجہ سے تکلیف سے آنکھیں بند کی تھیں۔
تم اتنی معصوم کیوں ہو سیرت؟ یا جان بوجھ کر کر ایسا کرتی ہو؟
تمھارے باپ اور چچا نے میرے موم ڈیڈ کی جان لی تھی۔اور دیکھو اُسی شخص کی بیٹی کو میں نے اپنی بیوی بنا لیا۔اور اُس کی حفاظت کر رہا ہوں۔نائل نے کھوکھلی ہنسی ہنستے ہوئے کہا۔
سیرت نے بے یقینی سے نائل کو دیکھا تھا۔
آپ جھوٹ بول رہے ہیں بابا سائیں اپنی بہن کو کیسے مار سکتے ہیں؟ سیرت نے نفی میں سر ہلایاتے کہا۔
نائل نے اپنی سرخ آنکھوں سے سیرت کو دیکھا اور خاموشی کے ساتھ وہاں سے پیچھے ہٹ گیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اگر وہ تھوڑی دیر بھی یہاں رکا تو سیرت کو نقصان پہنچا دے گا۔
نائل میرے سوال کا جواب دیں۔سیرت نے نائل کو جاتے دیکھا تو چلا کر کہا۔
تمھارے گھٹیا باپ نے مارا ہے اُن دونوں کو جس طرح انہوں نے شبنم کو مارنے کی کوشش کی تھی۔اور پلیز یہ مت کہنا کہ تمھارا باپ ایسا نہیں کر سکتا یہ وہ تمھارا باپ انسان کے روپ میں چھپا ایک شیطان ہے جس نے ہماری زندگی برباد کر دی تمھارے باپ کو میں اتنی آسانی سے معاف نہیں کروں گا۔اور اگر تم نے درمیان میں آنے کی کوشش کی تو پھر میں تمھارا بھی لحاظ نہیں کروں گا۔
نائل نے سیرت کو دیکھتے ماتھے پر سخت تیور لیے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
سیرت ابھی بھی وہاں کھڑی تھی تھی اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ اس کا باپ اس حد تک گر سکتا ہے۔
ہو سکتا ہے نائل جھوٹ بول رہا ہو۔سیرت نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
💜 💜 💜 💜
میں تمھارے بھائی سے بات کرنے والا ہوں شہریار نے مرحا کو اکیلے کھڑا دیکھا تو اس کے ساتھ کھڑے ہوتے بھاری لہجے میں کہا۔
کس بارے میں؟ مرحا نے لہجے میں حیرانگی لیے شہریار کو دیکھتے پوچھا۔
ہمارے نکاح کے بارے میں شہریار نے کہہ کر مرحا کے چہرے کے تاثرات دیکھنے لگا۔
جس نے شہریار کی طرف ایسے دیکھا تھا جیسے اس نے کچھ غلط سنا ہو۔
کیا؟ مرحا نے دوبارہ پوچھا۔
میں اپنے اور تمھارے نکاح کی بات نائل سے کرنے والا ہوں۔ تمہیں کوئی مسئلہ ہے؟
شہریار کا اب پورا دھیان مرحا کی طرف تھا۔
مجھے آپ سے نکاح نہیں کرنا مرحا کہہ کر جلدی سے وہاں سے جانے لگی لیکن شہریار نے اسے بازو سے پکڑ کر خود کی طرف کھنچا تھا جو اس کے سینے سے الگی۔
وجہ جان سکتا ہوں؟ شہریار کے دانت پیستے پوچھا۔
نہیں میں آپ کو وجہ بتانا پسند نہیں کرتی مرحا نے سنجیدگی سے کہا۔
اور مجھے آپ سے نکاح نہیں کرنا مرحا نے شہریار کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
تو ٹھیک ہے تم نہیں کرنا چاہتی نا لیکن میں تو کرنا چاہتا ہوں تمہیں اپنا بنانا چاہتا ہوں شہریار نے اپنے ہاتھ کی پشت سے اس کی گال کو سہلاتے ہوئے گھمبیر لہجے میں کہا۔
شہریار چھوڑیں مجھے مرحا نے سرد لہجے میں کہا اب تو اسے شہریار سے ڈر لگنے لگا تھا۔
اس نے کہاں شہریار کا ایسا روپ دیکھا تھا۔
تم تو ابھی سے ڈر گئی ہو جب میری دلہن بن کر میرے کمرے میں آؤ گی تو پھر تمھاری حالت کیا ہو گی؟ شہریار نے مرحا کے کان کے پاس جھکتے ہوئے ذومعنی انداز میں کہا۔
مرحا ہولے ہولے کانپ رہی تھی۔شہریار نے جب محسوس کیا تو اسے چھوڑ کر پیچھے کھڑا ہو گیا۔
مرحا نے اپنے ماتھے پر آئے پسینے کو صاف کیا اور اندر کی طرف بھاگ گئی۔شہریار ابھی بھی کھڑا اسے وہاں اسے اندر جاتے دیکھ رہا تھا۔
💜 💜 💜 💜
سکندر میرا بیٹا کہاں ہے؟ چودھری نے حویلی میں آتے غصے سے پوچھا۔
کیا بات کر رہے ہو؟ تمھارے بیٹے کا مجھے کیسے معلوم ہو گا؟ سکندر نے چہرے پر حیرانگی لیے پوچھا۔
تمھارا بیٹا جب تمھارے بیٹی کو شفیق کے حوالے کرکے گیا تھا تو وہ ہمارے گھر س بھاگ گئی تھی اور اُس کے اگلے دن سے میرا بیٹا غائب ہے۔اگر میرے بیٹے کے غائب ہونے میں تمھارا یا تمھارے بیٹے کا ہاتھ ہوا تو میں تم لوگوں کو برباد کر دوں گا۔
چودھری نے دھاڑتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
سکندر ابھی بھی حیران کھڑا تھا اسے معلوم نہیں تھا کہ ابتسام سیرت کو شفیق کے حوالے کرکے آیا تھا۔
نیلم دونوں کی باتیں سن چکی تھی۔اس لیے چودھری کے جاتے ہی وہاں پر آئی۔
آپ اور آپ کا بیٹا دونوں باپ اور بھائی کے نام پر دھبہ ہو۔تھوڑی سی بھی آپ لوگوں میں غیرت نہیں ہے جو آپ کا لاڈلہ اپنی بہن کو کسی غیر مرد کے حوالے کرکے آگیا۔
نیلم نے سکندر کو دیکھتے نفرت بھرے لہجے میں کہا۔اس کے الفاظ ایسے تھے کہ سکندر کو تیر کی طرح چبھے تھے۔
اپنی بکواس بند کرو نیلم ورنہ جان سے مار ڈالوں گا۔سکندر نے غصے سے نیلم کو دیکھتے سرد لہجے میں کہا۔
میں اب خاموش نہیں رہو گی بہت ظلم کر لیا آپ لوگوں نے اور ناجانے آپ لوگوں نے کتنے معصوم لوگوں کی جان لی ہے میں نے سوچ لیا ہے میں سیدھا پولیس سٹیشن جاؤں گی جو آپ صبح فون پر بھائی اور شمیم کی موت کی بات کر رہے تھے میں وہ سب کچھ سن چکی ہوں آپ نے اور آپ کے بھائی نے نائل کے ماں باپ کی جان لی تھی اور ہمیں یہ بتایا کہ اُن کی موت ایک حادثے میں ہوئی ہے۔نیلم نے چیختے ہوئے کہا۔کیونکہ صبح جب اس نے سکندر کو فون پر بات کرتے سنا جو شاید شاہ نواز سے بات کر رہا تھا اور اس نے اپنی زبان سے اس بات کا اظہار کیا کہ دونوں بھائیوں نے مل کر شمیم اور یاور کو مارا تھا۔صبح سے سوچ سوچ کر کر نیلم کو اپنا سر پھٹتا ہوا محسوس ہوا تھا۔لیکن اب اُس نے سوچ لیا تھا کہ اب اسے کیا کرنا ہے لیکن سکندر کے سامنے اپنے خیال بتا کر اس نے بہت بری غلطی کی تھی۔
تو تم سب جان گئی ہو تو تمہیں بھی میں اُن دونوں کے پاس بھیج دیتا ہوں۔سکندر نے کہتے ہی غصے سے نیلم کی طرف اپنی قدم بڑھائے اور اس کی گردن کو دبوچا۔
💜 💜 💜 💜
