No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
میرا خیال ہے کہ تمہیں اپنی بہن کو بلا کر لانا چاہیے طالش نے کچھ دیر سوچنے کے بعد کہا۔
سیرت نے غصے سے پیر پٹخا اور وہاں سے چلی گئی۔
مجھے لگا تمھارا فیصلہ تبدیل ہو جائے گا حسن نے سنجیدگی سے کہا۔
تم مجھے اچھی طرح جانتے ہو حسن طالش نے مسکراتے ہوئے کہا۔
سیرت سیدھا شیریں کے کمرے میں گئی تھی۔
سب کا دماغ خراب ہو چکا ہے۔شیریں تم کہی نہیں جاؤ گی سیرت نے شیریں کے سامنے آتے غصے سے کہا۔
جانا پڑے گا میں بابا سائیں کا حکم نہیں ٹال سکتی شیریں نے کھوکھلی ہنسی ہنستے ہوئے کہا۔
لیکن چچی آپ تو بات کر سکتی ہیں چچا سائیں سے وہ ہوسکتا آپ کی بات مان لیں سیرت نے نگین کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا۔
بیٹا تم بھی اچھی طرح جانتی ہو کہ آج تک میری کوئی بات نہیں مانی گئی اور آج جب بات ان کی عزت کی ہے تو وہ ہرگز میری بات نہیں مانے گئے۔
ضد مت کرو میں نے اپنی بیٹی کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا ہے اور ہوسکتا ہے وہ لڑکا میری بیٹی کا یہاں کے لوگوں سے زیادہ خیال رکھے نگین نے کہا اور شیریں کا ہاتھ پکڑے اسے وہاں سے لے گئی۔
شیریں نے مڑ کر سیرت کو دیکھا تھا۔اس کی آنکھوں میں بےبسی سے آنسو جمع تھے۔اس وقت سیرت بے بسی کی انتہا پر تھی جو اپنی بہن کی مدد بھی نہیں کر سکتی تھی۔
💜 💜 💜 💜 💜
نگین شیریں کو اپنے ساتھ باہر لے آئی تھی۔جو اب خاموش تھی کیونکہ بولنے کا حق نا اسے پہلے تھا اور نا اب تھا اس لیے خاموش رہنا بہتر تھا۔
بیٹا کیا میں آپ سے بات کر سکتی ہوں؟ نگین نے طالش کو دیکھتے پوچھا۔
جی جی آنٹی طالش نے نظریں جھکا کر کہا۔
میری بیٹی کا خیال رکھنا وہ بہت معصوم ہے۔اگر اُس سے کوئی غلطی ہو جائے تو درگزر کرنا نگین نے شیری کو دیکھتے کہا جو نظریں جھکائے کھڑی تھی۔
آپ فکر مت کریں آنٹی اپنی بیٹی کی طرف سے بےفکر رہیں طالش نے کہا وہ نہیں جانتا تھا کہ اس کی زبان سے یہ الفاظ کیسے ادا ہوئے ہیں۔
شیری نے آنکھوں میں خفی لیے اپنے باپ کو دیکھا تھا لیکن اُسے پرواہ کہاں تھی۔
شاہ نواز اور سکندر نے شیری کے سر پر ہاتھ رکھا اور طالش سے مخاطب ہوئے
اگر ہماری بیٹی کو تم نے زرا سی بھی تکلیف پہنچائی تو ہم لوگ تمہیں معاف نہیں کریں گئے شاہ نواز نے سنجیدگی سے کہا۔
سسر جی فکر مت کریں آپ کی بیٹی حویلی سے زیادہ میرے پاس محفوظ رہے گی۔طالش نے کہا اور آگے بڑھ کر شیریں کا ہاتھ پکڑا جو ٹھنڈا ہو رہا تھا۔
شیری نے ایک نظر اپنی ماں کو دیکھا تھا جس نے آگے بڑھ کر اپنی بیٹی کو گلے لگایا اور اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔
سب ٹھیک ہو جائے گا۔نگین نے شیریں کو حوصلہ دیتے کہا۔جو اثبات میں سر بھی نہیں ہلا سکی تھی۔
طالش شیریں کا ہاتھ پکڑے اسے وہاں سے لے گیا تھا اس کے پیچھے حسن بھی باہر نکل گیا۔
نگین خاموشی کے ساتھ وہاں سے چلی گئی تھی۔
💜 💜 💜 💜
گاڑی میں خاموشی چھائی ہوئی تھی حسن اور طالش اگلی سیٹ پر جبکہ شیریں پیچھلی سیٹ پر بیٹھی ہوئی تھی۔
طالش تھوڑی دیر بعد شیریں کے چہرے پر نظر ڈال لیتا تھا جو بلکل ہی دونوں سے لاعلم بیٹھی باہر دیکھ رہی تھی۔
گھر پہنچتے ہوئے ان کو رات ہوگئی تھی۔گاڑی ایک بڑے سے خوبصورت بنگلے کے سامنے رکی تھی۔رات میں کچھ خاص نظر تو نہیں آرہا تھا لیکن شیریں کو اتنا معلوم ہوگیا تھا کہ یہ بنگلہ رات میں جتنا دلکش نظر آرہا ہے صبح کی روشنی میں مزید خوبصورت لگے گا۔
طالش نے گاڑی سے باہر نکلتے پچھلا دروازہ کھولا حسن پہلے ہی اندر جا چکا تھا۔
شیریں بنا طالش کو دیکھے باہر آئی اور اندر کی جانب چل پڑی۔
طالش بھی اس کے پیچھے چل پڑا تھا۔
حسن اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔
طالش نے شیریں کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا۔
شیریں خاموشی سے اس کے پیچھے چل پڑی تھی۔
یہ میرا کمرا ہے طالش نے اپنے کمرے میں داخل ہوتے کہا۔
مجھے الگ کمرے میں رہنا ہے مجھے کوئی دوسرے کمرے کا بتا دیں شریں نے سنجیدگی سے کہا۔
آج سے تم اسی کمرے میں رہو گی۔طالش نے مڑ کر شیریں کو دیکھتے کہا۔
میں نے کہا نا مجھے یہاں آپ کے ساتھ نہیں رہنا کیوں لائے ہیں آپ مجھے یہاں ؟ شیریں ایک دم پھٹ پڑی تھی پورے راستے وہ خاموش رہی تھی لیکن اب اس کا صبر جواب دے چکا تھا۔
بیوی کو گھر کس لیے لاتے ہیں؟ طالش نے الٹا سوال کیا۔
مجھے نہیں معلوم آپ سب مرد ایک جیسے ہیں چاہے وہ بابا سائیں ہو یا پھر آپ مجھے آپ کے ساتھ نہیں رہنا۔شیریں نے دروازے کی طرف اپنے قدم بڑھاتے کہا۔
طالش نے اسے بازو سے پکڑ کر خود کے سامنے کھڑا کیا تھا۔
میری ایک بات کان کھول کر سن لو تم اب یہاں سے کہی نہیں جاؤ گی چاہے کچھ بھی ہو جائے اور دوسری بات جن لوگوں نے تمہیں اغوا کیا تھا وہ کون تھے؟ طالش نے سیدھا مدعے کی بات پر آتے ہوئے پوچھا۔
آپ کو یہ بات کس نے بتائی؟ شیریں نے بے یقینی سے طالش کو دیکھتے پوچھا۔
یہ میرے سوال کا جواب نہیں ہے۔طالش نے گھورتے ہوئے کہا۔
سچ جاننے کے بعد کیا آپ مجھے چھوڑ دیں گئے؟ شیریں کے دل میں ناجانے کیا خیال آیا جس کے تحت اس نے پوچھا۔
طالش کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی۔
شیریں کو لگا کہ چہرے سے زیادہ تو سامنے کھڑے انسان کی آنکھیں مسکراتی ہیں۔
طالش نے کمر سے پکڑ کر شیریں کو خود کے قریب کیا اور اس کے ماتھے سے لے کر ٹھوڑی تک لکیر کھنچی جس پر شیریں ایک دم کپکپا سی گئی تھی۔
اب چھوڑنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا مسز طالش
طالش نے شیری کی نیلی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔جو سانس روکے اسے دیکھ رہی تھی اس کے پرفیوم کی خوشبو اتنی تیز تھی کہ شیریں کو اپنا دماغ گھومتا ہوا محسوس ہوا تھا۔
اب میرے سوال کا جواب دو طالش نے کہا۔
وہ ساتھ والے گاؤں کے چودھری کا چھوٹا بیٹا تھا شیریں نے حلق تر کرتے کہا۔
آرام کرو تم یہاں تمہیں کسی قسم کا کوئی مسئلہ نہیں ہو گا اور فکر مت کرو آج رات میں یہاں نہیں رہوں گا۔طالش نے شیریں سے پیچھے ہوتے کہا اور کمرے سے باہر چلا گیا شیریں حیرانگی سے طالش کو جاتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔
💜 💜 💜 💜
امی کیا ہوا ہے آپ کو؟ سیرت نے اپنی ماں کو دیکھتے پوچھا جس کا چہرہ سوجھا ہوا تھا۔
اس کی ماں پورا دن باہر نہیں آئی تو سیرت نیلم کے کمرے میں خود آئی تھی۔
یہ کیسے؟ سیرت کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا کہے اپنی ماں کی حالت دیکھ کر اسے پتہ چل گیا تھا کہ یہ کام اس کے باپ کا ہے۔
مجھے کچھ نہیں ہوا تو بتا کوئی کام تھا؟
نیلم نے مسکرانے کی ناکام کوشش کرتے پوچھا۔
بابا سائیں نے آپ پر ہاتھ کیوں اٹھایا؟ سیرت نے سنجیدگی سے پوچھا۔
تو اس معاملے میں نا ہی پڑ تو زیادہ بہتر ہے۔جا یہاں سے نیلم نے نظریں چراتے کہا۔
بی بی جی بڑے سائیں کہہ رہے ہیں سیرت بی بی کو دیکھنے کے لیے لڑکے والے آئے ہیں تو آپ باہر آجائیں ملازمہ نے کہا اور وہاں سے چلی گئی۔
تو یہ بات ہے؟ کون سے لڑکے والے مجھے دیکھنے کے لیے آرہے ہیں اور کہی یہ وہی ساتھ والے کا گاؤں کا لفنگا لڑکا تو نہیں سیرت نے اپنی ماں کی طرف دیکھتے کہا جو خاموش رہی تھی۔
یہ مرد سمجھتے کیا ہیں ہم لوگ کیا بھیڑ بکریاں ہیں شیریں کی رخصتی کر دی میری ماں پر ہاتھ اٹھایا اور اب میرا رشتہ اُس جاہل کے ساتھ کرنا چاہتے ہیں سیرت نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا اور وہاں سے اٹھ کر باہر جانے لگی۔
سیرت تم اپنے بابا سائیں سے کوئی بات نہیں کرو گئی نیلم نے جلدی سے کہا۔کیونکہ اسے اپنی بیٹی کے ارادے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہے تھے۔
امی آپ پریشان مت ہوں زیادہ سے سے بابا سائیں میری جان لے لیں گئے اس سے زیادہ وہ کچھ نہیں کر سکتے۔
سیرت نے کہا اور کمرے سے باہر چلی گئی نیلم نے بےبسی سے دروازے کی طرف دیکھا تھا۔
سیرت سیدھا اُس کمرے کی طرف آئی تھی جہاں پر مردوں کی آوازیں آرہی تھیں مہمان آچکے تھے۔
بی بی جی یہ آپ کس حلیے میں اندر جا رہی ہیں بڑے سائیں غصہ کریں گئے ملازمہ نے سیرت کے راستے میں آتے ہوئے کہا۔
جس نے گھور کر ملازمہ کو دیکھا اور کمرے کے اندر چلی گئی۔
جہاں چودھری اپنے بیٹے اور بیوی کے ساتھ بیٹھا سکندر سے باتیں کر رہا تھا۔
سیرت کو اس حلیے میں دیکھ کر سکندر اور ابتسام کے ماتھے پر بل پڑے تھے۔جس نے معمولی نیلے رنگ کی شلوار قمیض پہنی تھی اور ڈوپٹہ اس کا سر سے اتر کر کندھوں پر جھول رہا تھا۔
چودھری صاحب اگر آپ لوگوں کو لگتا ہے کہ میں آپ کے اس آوارہ لڑکے کے ساتھ شادی کر لوں گی تو یہ آپ لوگوں کی غلط فہمی ہے میں آپ کے اس لفنگے لڑکے کے ساتھ کبھی شادی نہیں کروں گی جو عورت کو اپنے پیر کی جوتی سمجھتا ہے۔
سیرت نے چودھری کے بیٹے کو دیکھتے غصے سے کہا جس کا چہرہ اپنی توہین پر سرخ ہو رہا تھا۔
چودھری اور اس کی بیوی کا حال بھی کچھ ایسا ہی تھا۔اس سے پہلے سکندر یا شاہ نواز کچھ کہتا چودھری اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا تھا۔
سکندر مجھے نہیں معلوم تھا کہ تمھاری بیٹی اتنی بدتمیز ہے اور اپنی بیٹی کی زبان کو قابو میں رکھو ورنہ بعد میں تمہیں پچھتانا پڑے گا چودھری نے غصے سے کہا اور اپنے بیٹے اور بیوی کو لے کر وہاں سے چلا گیا۔
ابو جان اس لڑکی نے میری بےعزتی کی ہے اور میں اپنی بےعزتی اتنی آسانی سے نہیں بھولوں گا بلکہ اس لڑکی کو اپنی رکھیل بنا کر رکھوں گا۔چودھری کے بیٹے نے باہر آتے ہی اپنے باپ کو دیکھتے سرد لہجے میں کہا۔
چودھری کی بیوی گاڑی میں جا کر بیٹھ گئی تھی۔
تجھے جو بھی کرنا یے کر اور یہ ہماری عزت کا معاملہ ہے اُس لڑکی نے ہماری بےعزتی کی ہے چودھری کہتے ہی اپنی گاڑی کی طرف چلا گیا۔پیچھے اس کے بیٹے کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی جو نجانے کیا کرنے والا تھا۔
💜 💜 💜 💜
تمھاری ہمت کیسے ہوئی اس لیے میں مہمانوں کے سامنے آنے کی اور بکواس کرنے کی ابتسام نے سیرت کو بالوں سے دبوچتے ہوئے غصے سے کہا۔
کیا غلط بولا میں نے ہاں اور سچ تم لوگوں سے برداشت نہیں ہوتا
کیسے بیٹے ہو آپ بھی آپ کی ماں پر سالوں سے ظلم ہوتا آرہا ہے اور اب بھی بنا کسی وجہ کے میری ماں پر ہاتھ اٹھایا گیا اور آپ خاموش رہے اور اب اپنی بہن کا رشتہ اُس لڑکے کے ساتھ کرنا چاہتے ہو جو جیل جا چکا ہے پتہ نہیں کتنی لڑکیوں کی زندگی خراب کر چکا ہے لیکن آپ کو اس سے بات سے فرق کہاں پڑے گا آپ تو خود کسی کی بہن کی اس سے پہلے سیرت اپنی بات مکمل کرتی ابتسام نے ایک زناٹے دار تھپڑ سیرت کے چہرے پر دے مارا جس کا چشمہ زمین پر جا گرا تھا۔اور خود لڑکھڑا کر ابتسام سے پیچھے کھڑی ہو گئی۔
بہت زبان چلنے لگی ہے تمھاری اب اگر ایک بھی لفظ اپنی زبان سے نکالا تو تمھاری زبان کاٹ دوں گا اور اگر آج تمہیں سزا نا ملی تو کل کو تم ہمارے سر پر چڑھ کر ناچو گی ابتسام نے سیرت کو بازو سے پکڑتے اسے گھسیٹتے ہوئے کمرے سے باہر لے جاتے کہا جس کے ہونٹ سے خون نکل رہا تھا۔
سکندر اور شاہ نواز خاموش کھڑے تھے۔بلکہ وہ مطمئن تھے کہ اُن کا بیٹھا جو بھی کر ریا ہے ٹھیک کر رہا۔
ابتسام سیرت کو اپنے ساتھ چھت پر لے گیا تھا گرمی اتنی تھی کہ اگر کوئی دھوپ میں کھڑا ہوتا تو اُسے اپنا دماغ گھومتا ہوا محسوس ہوتا۔
سیرت ننگے پاؤں ابتسام کے ساتھ چل رہی تھی۔ابتسام نے رسی سے سیرت کے ہاتھ اور پاؤں باندھے اور اسے دھکا دیا جو گرم زمین پر اوندھے منہ جا گری تھی۔
یہ تمھاری سزا ہے اور امید کرتا ہوں کہ اس کے بعد اگر تم بچ گئی تو تمہیں عقل ضرور آجائے گی۔ابتسام نے کرخت لہجے میں سیرت کو دیکھتے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
سیرت کا چہرہ سرخ ہو گیا تھا آجکل تو گرمی بھی بہت زیادہ پڑ رہی تھی۔
دعا کرنا کہ میں مر جاؤ ورنہ میں کبھی بھی اپنی ماں پر ظلم ہوتا نہیں دیکھوں گی۔تم لوگ خود کو خدا سمجھنے لگے ہو لیکن دیکھ لینا ایک دن تم سب لوگ اپنے انجام تک پہنچ جاؤ گئے۔
سیرت نے چلاتے ہوئے کہا زمین اسے گرم لگ رہی تھی لیکن ڈھیٹ بنی وہی بیٹھی رہی۔
💜 💜 💜 💜💜
ملازمہ نے آکر نگین کو بتایا تو وہ جلدی سے نیلم کے پاس گئی تھی۔
بھابھی کچھ کریں سیرت کو کچھ ہو نا جائیں نگین نے ساری بات نیلم کو بتانے کے بعد کہا۔
میں سائیں سے بات کرتی ہوں اگر اُن کے پاؤں بھی پڑنا پڑا تو میں پڑ جاؤں گی نیلم نے جلدی سے کہا اور کمرے سے باہر نکلی
سامنے ہی اسے سکندر نظر آگیا تھا جو شاید اپنے کمرے کی طرف ہی آرہا تھا۔
سائیں سیرت کو معاف کر دیں بچی ہے اُس سے غلطی ہو گئی ہے نیلم نے سکندر کے سامنے گڑگڑاتے ہوئے کہا۔
تمھاری بچی نے جانتی ہو آج کیا حرکت کی ہے کہی یہ سب تمھارے کہنے پر تو اُس نے نہیں کیا تم بھی تو اس رشتے کے خلاف تھی؟ اور آج اسے سزا ملے گی تو کل کو دوبارہ ایسی کوئی غلطی نہیں کرے گی سکندر نے غصے سے کہا اور وہاں سے جانے لگا۔
سائیں میں آپ کے پیر پڑتی ہوں میری بچی مر جائے گی اُس کی آخری غلطی سمجھ کر اُسے معاف کر دیں نیلم نے سکندر کے پیر پکڑتے روتے ہوئے کہا۔کیونکہ وہ اچھی طرح جانتی تھی جتنی گرمی پڑ رہی ہے سیرت کی جان بھی جا سکتی تھی۔
جاؤ اُسے نیچے لے آؤ اور اُسے اچھی طرح سمجھا دینا اگر اب اس نے ایسی کوئی غلطی دوبارہ کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا اور دوسری بات اسے چودھری کے گھر والوں سے معافی مانگنی ہو گی۔سکندر نے سنجیدگی سے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
نیلم جلدی سے چھت کی طرف بھاگی تھی۔
اس کی نظر زمین پر پڑی جہاں سیرت بے ہوش لیٹی ہوئی تھی اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔نیلم کا تو اپنے بیٹی کو اس حالت میں دیکھ کر ہی دل کٹ سا گیا تھا نیلم جلدی سے سیرت کے پاس گئی جس کی حالت دیکھ کر نیلم کو مزید تکلیف ہوئی تھی چہرے پر انگلیوں کا نشان اور ہونٹ بھی اس کا پھٹا ہوا تھا۔
سیرت میری بچی آنکھیں کھولو نیلم نے سیرت کی گال کو تھپتھپاتے ہوئے کہا۔وہ اکیلی اسے اٹھا کر نیچے نہیں لے کر جا سکتی تھی۔
اتنے میں وہاں نگین بھی آگئی جیسے ملازمہ سے پتہ چلا گیا کہ نیلم چھت پر گئی ہے۔
بھابھی اسے جلدی سے نیچے لے کر چلیں نگین نے آتے ہی کہا۔نیلم نے جلدی سے اثبات میں سر ہلایا تھا ان کے آنسو سیرت کے چہرے پر گر رہے تھے اس وقت شاید وہ سیرت سے زیادہ خود کو تکلیف میں محسوس کر رہی تھی۔خود کو وہ ایک بےبس ماں سمجھ رہی تھیں جو اپنی بیٹی کو تکلیف سے بھی نہیں بچا سکتی تھیں۔
دونوں سیرت کو نیچے لے گئیں نگین نے جلدی سے ڈاکٹر کو فون کیا تھا جو ان کے گاؤں کا ہی تھا۔
💜 💜 💜 💜
طالش پوری رات کمرے میں نہیں آیا تھا شیریں نے تو شکر ادا کیا تھا لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ کمرے سے نکلنے کے بعد گھر سے ہی باہر چلا گیا تھا۔
کہاں تھے تم پوری رات؟ حسن نے صبح طالش کو دیکھتے سنجیدگی سے پوچھا۔
تم اچھی طرح جانتے ہو حسن پھر بھی پوچھ رہے ہو؟ طالش نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے پیچھے ٹیک لگاتے کہا۔
کل ہی تم اپنی بیوی کو اس گھر میں لے کر آئے ہو اور خود گھر سے ہی چلے گئے؟ حسن نے اس کے سامنے بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
خیر وہ تو خوش ہو رہی ہو گیا کہ میں کمرے میں نہیں آیا۔طالش نے مسکراتے ہوئے کہا۔
وہ زندہ بھی ہے یا مر گیا؟ حسن نے مشکوک نظروں سے طالش کو دیکھتے پوچھا۔
زندہ ہے لیکن اپنے قدموں پر کھڑا نہیں ہو سکتا طالش نے مسکراتے ہوئے کہا۔
اگر اُن لوگوں کو پتہ چل گیا کہ وہ تمھارا کام ہے تو؟ حسن نے اگلا سوال کیا۔
اگر اُن کو پتہ چل بھی جاتا ہے تو مجھے پوری امید ہے کہ میرا بھائی سب سنبھال لے گا۔اس لیے مجھے فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے اور جس انسان نے میری بیوی کو اغوا کیا ہو اُسے میں آسانی سے تو نہیں چھوڑ سکتا نا طالش نے سرد لہجے میں کہا۔اور اس کی بات پر حسن ہنس پڑا تھا۔
جاؤ اپنی بیوی کو دیکھو اور ناشتے کے لیے اُسے لے کر آؤ حسن نے وہاں سے اٹھتے ہوئے کہا تو طالش اثبات میں سر ہلاتے وہاں سے چلا گیا۔
💜💜💜💜
نائل میں واپس لندن جا رہا ہوں شہریار نے نائل کو دیکھتے ہوئے کہا۔
لیکن جسے تم ملنے آئے تھے ابھی تک تم اُس سے ملے نہیں نائل نے فائل ٹیبل پر رکھتے شہریار کو دیکھتے پوچھا۔
ہمت نہیں ہے اس لیے لیں واپس جا رہا ہوں اور مرحا بھی تو اکیلی ہو گی بےشک نرس بھروسے مند ہیں لیکن زیادہ وقت اُسے اکیلا نہیں چھوڑ سکتے شہریار نے سنجیدگی سے کہا۔
ٹھیک ہے میں بہت جلد چکر لگاؤں گا نائل نے کہا۔
نائل کچھ بھی ایسا ویسا نا کرنا کہ بعد میں تمہیں پچھتاوا ہو اور اُس کھڑوس کو بھی سمجھا دینا کہ کچھ غلط نا کرے شہریار نے کہا تو نائل ہنس پڑا تھا۔
فکر مت کرو کچھ غلط نہیں ہو گا نائل نے مسکراتے ہوئے کہا۔
اگر سچ کہوں تو مجھے تمھاری بات پر بلکل بھی یقین نہیں ہے جب تم نے یہاں پاکستان میں بزنس سیٹ کرنے کی بات کی تو مجھے حیرت ہوئی تھی کہ لندن میں تم اچھا خاصا بزنس چھوڑ کر پاکستان کیون آنا چاہتے ہو لیکن اب وجہ بھی سمجھ میں آگئی ہے۔شہریار نے گلاس میں پانی ڈالتے ہوئے کہا۔
نائل اب پاکستان کا بھی ایک مشہور بزنس مین ہے اور تم اچھی طرح جانتے ہو کہ میں نے یہاں تک پہنچنے کے لیے کتنی محنت کی ہے۔اور یہاں تک پہنچنے کے لیے میں اُن لوگوں کا شکرگزار ہوں جنہوں نے مجھے دیکھ کر یہ کہا کہ نائل کچھ نہیں کر سکتا دراصل یہی لوگ میری کامیابی کی اصل وجہ ہیں اور
زیادہ وقت مجھے لندن میں لگا تھا لیکن پاکستان میں اتنا نہیں لگا لیکن تم ٹھیک کہہ رہے ہو یہاں آنے کی وجہ بہت حسین تھی۔اگر آج میرا ایک نام ہے تو میں اُن لوگوں کو دیکھنا چاہتا ہوں جنہوں نے ہم سے سب کچھ چھین کر یہ کہا تھا کہ تم لوگ تو اب فقیر بننے کے قابل بھی نہیں ہو۔نائل نے جوس کا گلاس لبوں سے لگاتے ہوئے کہا۔
شہریار جانتا تھا کہ نائل نے کتنی محنت کی ہے اس لیے بات کو تبدیل کرتے اس نے کہا۔
میرا کام لندن میں ہے نائل اور تم جانتے ہو میں یہاں نہیں آ سکتا شہریار نے سنجیدگی سے کہا۔
کیوں نہیں تم یہاں آسکتے یہاں بھی بہت اچھے ہسپتال ہیں تم یہاں اپنا کلینک کھول سکتے ہو مجھے نہیں لگتا کہ یہاں تمہیں کوئی مسئلہ ہو گا نائل نے شہریار کو دیکھتے کہا۔
لیکن میں خود یہاں نہیں آنا چاہتا نائل اور تم میرے یہاں نا آنے کی وجہ سے اچھی طرح واقف ہو چلتا ہوا پیکنگ بھی کرنی ہے شہریار نے کھڑے ہوتے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
نائل نے گہرا سانس لیا تھا۔وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ کیوں شہریار یہاں رہنا نہیں چاہتا۔
💜 💜 💜 💜
طالش کمرے میں داخل ہوا تو شیریں بیڈ پر بیٹھی اپنے ہاتھ کی لکیروں کو دیکھ رہی تھی۔
نیچے آکر ناشتہ کر لو طالش نے شیریں کو دیکھتے کہا۔
مجھے نہیں کرنا شیریں نے بنا اوپر دیکھے جواب دیا۔
محترمہ اپنی ضد بعد میں پوری کر لینا اُس کے لیے زندہ رہنا بھی ضروری ہے اور زندہ رہنے کے لیے کھانا کھانا تو اچھے بچوں کی طرح نیچے آجاؤ ورنہ اپنی گود میں اٹھا کر نیچے لے کر جاؤں گا مجھے تو کوئی مسئلہ نہیں ہے طالش نے مسکراہٹ دباتے کہا۔
شیریں نے حیرانگی سے طالش کو دیکھا تھا۔بےشرم انسان شیریں نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
ابھی تو میں نے کوئی ایسی حرکت ہی نہیں کی مسز جس پر آپ مجھے بے شرم کہیں طالش نے شیریں کے قریب آتے کہا۔
اور شیریں کو حیرانگی اس بات کی ہوئی تھی کہ اس نے کیسے سن لیا۔
تو آپ چاہتی ہیں میں آپ کو اپنی بانہوں میں اٹھائے یہاں سے لے کر جاؤں تو ٹھیک ہے طالش نے شیریں کی طرف بڑھتے ہوئے کہا۔
نہیں مجھے کمرے میں ہی ناشتہ کرنا ہے شیریں نے جلدی سے کہا۔
طالش وہی رک کر کچھ پل شیریں کو دیکھنے لگا تھا۔
ٹھیک ہے میں لاتا ہو طالش نے کچھ دیر بعد کہا اور کمرے سے باہر چلا گیا تھا۔
شیریں نے شکر کا سانس لیا تھا اسے لگا شاید طالش کو اس کی بات بری لگی ہے لیکن ایسا کچھ نہیں تھا۔
ابھی تک طالش نے کوئی ایسی حرکت نہیں کی تھی جس کی وجہ سے شیریں اس سے مزید بدگمان ہوتی لیکن کل رات وہ طالش کے قریب آنے پر ڈر ضرور گئی تھی۔
