Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

طالش نے کمرے میں آتے ہی شیریں کا ہاتھ چھوڑا اور زور سے دروازے کو بند کیا جو ایک دم ڈر سے اچھل پڑی تھی۔
طالش نے مڑ کر شیریں کی طرف دیکھا اور اپنے قدم اس کی طرف بڑھا دیے جو آنکھوں میں خوف لیے الٹے قدم چلتی ہوئی دیوار کے ساتھ جا لگی تھی۔
اس نے پیچھے مڑ کر دیوار کی طرف دیکھا اور پھر سامنے دیکھا جہاں طالش اس کے قریب کھڑا اسے گھور رہا تھا۔
جب تم گھر سے نکلی تو میں کہاں پر تھا؟
طالش نے سنجیدگی سے سوال پوچھا۔
شاور لے رہے تھے آپ شیریں نے نظریں جھکا کر کہا۔
شاور لے رہا تھا نا مر تو نہیں گیا تھا جو تم مجھے بنا بتائے گھر سے نکل گئی؟
طالش نے شیریں کے دائیں جانب دیوار پر زور سے ہاتھ مارے غصے سے کہا۔
شیریں نے ڈر کے مارے آنکھیں بند کر لیں تھیں۔
جواب دو؟ طالش نے سرد لہجے میں کہا تو شیریں نے آنکھیں کھولی تھیں۔
آپ مجھے اتنا ڈانٹ کیوں رہے ہیں؟ میں بھائی کو بتاؤں گی۔شیریں نے اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرتے طالش کو دیکھتے کہا جو پہلے تو حیران ہوا پھر اس کی نظریں شیریں کے ہونٹوں پر ٹھہر گئی جو بار بار اپنے ہونٹوں کو تر کر رہی تھی۔
پہلے تم جو یہ حرکت کر رہی ہو یہ کرنا بند کرو اور دوسری بات تم مجھے اپنے بھائی کی دھمکی دے رہی ہو؟ طالش نے پہلی بات اسکے ہونٹوں کو دیکھتے کہی۔جو بار بار اس کا دھیان بھٹکا رہی تھی۔
کون سی حرکت؟ شیریں نے ناسمجھی سے اسے دیکھتے پوچھا۔
یہ طالش نے اپنے انگوٹھے سے شیریں کے ہونٹوں کو چھوتے ہوئے کہا تو شیریں ایک دم سیدھی ہو کر کھڑی ہوئی تھی اور طالش کو پیچھے کرتے وہاں سے جانے لگی لیکن طالش نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے سامنے کھڑا کیا۔
تم مجھے خود ہی بتا دو مسز کہ کیسی سزا تمہیں دوں؟ کیونکہ غلطی تو تم نے کی ہے اور سزا بھی تمہیں ضرور ملے گی اور مجھے تمھارا بھائی کیا باپ بھی نہیں روک سکتا طالش نے کہتے ہی شیریں کو خود کی طرف کھنچا جو سیدھی اس کے سینے سے الگی تھی۔شیریں تو ایک دم. بوکھلا سی گئی تھی۔
میری ایک بات کان کھول کر سن لو مسز آج تمہاری اس غلطی کو پہلی اور آخری غلطی سمجھ کر معاف کر رہا ہوں آئندہ تم نے ایسی کوئی غلطی کی تو تمھاری ٹانگیں توڑنے میں ایک سکنڈ بھی نہیں لگاؤں گا۔
طالش نے شیریں کی نیلی آنکھوں میں دیکھتے سنجیدگی سے کہا۔
آپ مجھے دھمکی دے رہے ہیں؟ شیریں نے طالش کی طرف دیکھتے معصومیت سے پوچھا۔
جی بلکل میری زبان میں اسے دھمکی ہی کہتے ہیں۔طالش نے دانت پیستے کہا۔
آپ بہت ظالم ہیں شیریں نے خفی سے طالش کو دیکھتے کہا۔
ایسے کون سے ظلم کے پہاڑ میں نے تم پر گرا دیے ہیں جو تم مجھے ظالم کہہ رہی ہو؟ لیکن اب میں ظلم ضرور کروں گا۔تمھارے ان ہونٹوں پر طالش نے کہتے ہی شیریں کو کمر سے پکڑ کر خود کے قریب کیا اور اس کی سانسوں کو قید کر لیا۔
اس سے پہلی شیریں کچھ سمجھتی طالش اسے اپنے حصار میں لے چکا تھا۔
تھوڑی دیر بعد جب طالش ہوش میں آیا تو آرام سے شیریں کے ہونٹوں کو آذادی بخشی
جو گہرے سانس لیے نظریں جھکا گئی تھی۔
اب تم مجھے ظالم کہہ سکتی ہو۔
اور جلدی سے فریش ہو کر آؤ میں تمھارا انتظار کر رہا ہوں ٹینشن کے مارے تو میں نے کھانا بھی نہیں کھایا۔
طالش نے شیریں کو چھوڑتے کہا جو ایک سکنڈ بھی ضائع کیے واشروم کی طرف بھاگی تھی۔
آج ہی بھائی سے ملی ہیں محترمہ اور مجھے دھمکی بھی دے رہی ہیں طالش نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔اور کمرے سے باہر کھانا لینے چلا گیا۔
💜 💜 💜 💜 💜
اگلے دن سیرت کی آنکھ کھلی تو پہلے تو وہ انجان نظروں سے لیٹی سوچتی رہی کہ وہ کہاں پر ہے اور اس کے ساتھ ہوا کیا تھا۔
لیکن جیسے ہی اسے کل کا سارا یاد آیا فوراً اُٹھ کر بیٹھ گئی۔
لیکن سامنے ہی اسے نائل نظر آگیا تھا جو تیار کھڑا اپنے کف فولڈ کیے شاید سیرت کی حرکات کو نوٹ کر رہا تھا۔
اُٹھ گئی تم؟ نائل نے بھاری لہجے میں سیرت کو دیکھتے پوچھا اور اس کے پاس آیا۔
جس کا چہرہ ابھی سوجھا ہوا تھا۔
سیرت نے ایک نظر نائل کو دیکھ کر اپنی نظریں جھکا لیں تھیں۔
فریش ہو جاؤ ملازمہ کھانا لاتی ہو گی۔نائل سنجیدگی سے کہتے وہاں سے جانے لگا لیکن پھر یاد آنے پر سیرت کے پاس آیا اور اس کے اوپر سے کمبل پیچھے کیا۔
سیرت نائل کے قریب آنے پر ایک دم گھبرا سی گئی تھی۔
تمھارے پیر زخمی ہیں نائل نے کہتے ہی سیرت کو. اپنی بانہوں میں اٹھایا۔کچھ پل کے لیے ہی سہی لیکن دونوں کی نظریں ملی تھیں۔سیرت نے جلدی سے اپنی نظروں کا زاویہ تبدیل کر لیا۔لیکن نائل کے ہونٹوں کو مسکراہٹ نے چھوا تھا۔
نائل اسے واشروم کی طرف لے گیا سیرت خاموش رہی تھی۔
نائل نے ایک سرسری سی نظر سیرت کے چہرے پر ڈالی اور اسے واشروم چھوڑنے کے بعد مڑنے سے پہلے اس نے کہا۔
کہ اپنا موڈ ٹھیک کرو مجھے اپنی بیوی ویسی ہی چاہیے جیسی وہ پہلے تھی نائل کہتے ہی وہاں سے چلا گیا تھا۔
سیرت نے کوئی جواب نہیں دیا۔وہ ابھی بھی خاموش تھی۔
💜 💜 💜 💜
صبح شیریں کچن میں آئی تو سامنے پری کو دیکھ کر وہی شوکڈ ہو گئی۔
اسے لگا اس کی نظروں کا دھوکا ہے۔
آپی؟ آپ… آپ زندہ ہیں؟ شیریں نے بے یقینی سے پری کو دیکھتے کہا۔
جو شیریں کو یہاں دیکھ کر حیران ہوئی تھی۔
مجھے لگتا ہے کہ میں خواب دیکھ رہی ہوں نہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے شیریں خوفزدہ لہجے میں منہ سے بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
شیریں میری بات سنو پری نے شیریں کو دیکھتے جلدی سے کہا۔
آپ زندہ کیسے ہو سکتی ہیں میں نے اپنی آنکھوں سے آپ کو دیکھا تھا۔آپ کی تو سانس نہیں چل رہی تھی پھر شیریں کو ابھی بھی یقین نہیں آرہا تھا کہ اس کی بہن زندہ ہے اور اس کے سامنے کھڑی ہے۔
کیا تم مجھے زندہ دیکھ کر خوش نہیں ہو؟ پری نے شیریں کو گلے لگاتے پوچھا۔
آپی آپ تو سچ میں ہیں۔مجھے لگا میں نے آپ کو کھو دیا ہے۔شیریں نے روتے ہوئے کہا۔
میں بلکل ٹھیک ہوں تم رونا بند کرو
اور اس سے پہلے پری مزید کچھ کہتی طالش کی آواز نے دونوں کو اُد کی طرف متوجہ کیا تھا۔
پری میڈم آپ نے میری بیوی کو رلایا کیوں ہے؟
طالش نے پری کو دیکھتے پوچھا جس نے اسے گھور کر دیکھا تھا۔
آپ نے بھی مجھے بتانا گوارا نہیں کیا اور نا شہریار بھائی نے بتایا پری نے لہجے میں خفی لیے طالش کو دیکھتے کہا۔
ارے بھئی سرپرائز تھا۔طالش نے مسکراتے ہوئے کہا۔
آپ سب لوگ بس مجھے سرپرائز پر سرپرائز دے رہے ہو۔پری نے کہا تو طالش ہنس پڑا۔
لیکن آپی آپ کیسے؟ میرا مطلب شیریں کو سمجھ نہیں آرہی تھی۔کہ کیسے اپنی بات شبنم کو سمجھائے۔
میں بتاتی ہوں شبنم نے آگے آتے کہا۔
ہماری پرانی ملازمہ تھیں نا جو امی کے ساتھ آئی تھیں۔اب تو اُن کا انتقال ہو چکا ہے انہوں نے شہریار بھائی کو کال کی تھی۔
اور اُس کمرے میں ایک خفیہ راستہ بھی تھا شہریار اُسی راستے کمرے میں آیا تھا اور مجھے کچھ نا کچھ کھانے کو دے دیتا۔
اُس نے تو مجھے کہا تھا کہ میں اُس کے ساتھ چلی جاؤں لیکن میں نہیں جانا چاہتی تھی۔کیونکہ جس سے میں محبت کرتی تھی اُن کو تو ان لوگوں نے مار دیا تھا اُس وقت میں کافی مایوس ہو گئی تھی۔
اور میرا جھگڑا بھی شہریار بھائی سے اسی بات کو لے کر ہوا تھا کہ میں وہاں سے جانا نہیں چاہتی تھی۔پھر وہ دو دن تک نہیں آیا تو بھوک کی وجہ سے میں بےہوش ہو گئی تھی پھر جب تم اور سیرت کمرے میں آئی تو تم دونوں کو یہی لگا کہ میں مر گئی ہوں اور اُس کے بعد میرے بابا سائیں نے کیا کیا تم دونوں جانتی ہو۔
شبنم کہہ کر خاموش ہو گئی۔
شیریں خاموشی سے سن رہی تھی اسے یاد تھا کہ جب کمرے میں اس کے بابا سائیں اور ابتسام آیا تو ان دونوں کو کمرے سے باہر نکال دیا تھا۔
اُس کے بعد اسے ملازمہ سے خبر ملی کے رات کے اندھیرے میں ابتسام شبنم کو گاؤں کے باہر دفنا آیا تھا۔
صرف اس لیے کہ گاؤں والوں کو اگر پتہ چل گیا تو وہ ان کی عزت نہیں کریں گئے۔گاؤں والوں کو یہی کہا گیا تھا کہ شبنم کو پڑھائی کا شوق تھا اس لیے وہ شہر اپنے بھائی کے پاس گئی ہے اور گاؤں والوں میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ حویلی والوں کے سامنے کوئی سوال کر سکیں۔
لیکن ابتسام بھائی تو آپ کو… شیریں نے بات ادھوری چھوڑتے کہا۔
نائل بھائی نے مجھے وہاں سے آکر نکال لیا تھا کیونکہ اُن کے آدمیوں نے نظر رکھی ہوئی تھی۔پھر انہوں نے ہی مجھے ملک سے باہر بھیج دیا تھا۔
اور اب میں واپس پاکستان آئی ہوں شبنم نے گہرا سانس لیتے کہا۔
شیریں جلدی سے آگے بڑھی اور شبنم کے گلے لگ گئی۔
آپ نے بہت کچھ برداشت کیا ہے آپی سیرت بھی آپ کو دیکھ کر خوش ہو گی۔
شیریں نے پیچھے ہوتے کہا طالش وہاں سے چلا گیا تھا۔
تاکہ دونوں بہنیں آرام سے باتیں کر سکے۔
سیرت کہاں ہے؟
شبنم نے پوچھا تو شیریں نے اسے بتایا کہ اُس کی شادی ہو گی۔
شادی لیکن کس کے ساتھ؟ شبنم نے حیرانگی سے پوچھا۔
نائل بھائی کے ساتھ آپ کو نہیں معلوم؟ شیریں نے پوچھا تو شبنم طنزیہ ہنس پڑی۔
یہ بھی سرپرائز ہو گا یقیناً شبنم نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا تو شیریں ہنس پڑی۔
اب آپ شبنم ہیں یا پری؟ شیریں نے پوچھا۔
میں اب پری ہوں شبنم بہت پہلے ہی مر چکی ہے۔
شبنم نے سنجیدگی سے کہا۔
آپی امی آپ کو دیکھ کر بہت خوش ہوں گی۔شیریں نے خوشی سے کہا۔
ہاں جانتی ہوں۔
پری نے مسکرا کر کہا پھر دونوں ناشتہ بنانے لگی۔
💜 💜 💜 💜
تمہیں میں بہت جلد تلاش کر لو گا۔سویٹی
احمر نے اپنے موبائل میں کسی لڑکی کی تصویر کو دیکھتے گہرے لہجے میں کہا۔
تم پر گلاسز بہت سوٹ کرتی ہیں تم جہاں کہی بھی ہوئی میں تمہیں ڈھونڈ کر اپنے پاس لے آؤں گا۔
بس تھوڑا سا انتظار اور پھر تم میرے پاس ہو گی میرے قریب بہت قریب احمر نے تصور کو دیکھتے کھوئے ہوئے انداز میں کہا۔
یہ اپنے کام کے سلسلے میں گاؤں گیا تھا وہاں پر اسے وہ لڑکی نظر آئی جو بارش میں کھڑی بھیگ رہی تھی اس نے آنکھیں بند کی ہوئی تھیں احمر پہلے کھڑا اسے دیکھتا رہا پھر اس کی تصویر لینے کے بعد وہاں سے چلا گیا۔ دوبارہ وہ لڑکی اسے مارکیٹ میں نظر آئی تھی۔
لیکن وہاں بھی احمر اس سے بات نہیں کر سکا۔لیکن اب دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ اُس لڑکی کو تلاش کرے گا جس نے اس کی راتوں کی نیند چرا لی تھی۔
احمر بیٹا کھانا کھا لو کھانا تیار ہے۔
باہر سے آتی اس کی ماں کی آواز پر احمر نے اپنا موبائل بند کیا اور کمرے سے باہر چلا گیا۔
💜 💜 💜 💜
صاحب بی بی جی کھانا نہیں کھا رہیں۔ملازمہ نے نائل کو دیکھتے کہا جو موبائل پر کچھ ڈائل کر رہا تھا۔
ٹھیک ہے میں دیکھتا ہوں۔نائل کہہ کر اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔
نائل کمرے میں داخل ہوا تو سیرت بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی اس نے چینج کرکے ایک گرے کلر کی سادہ سی شلوار قمیض پہن لی تھی۔
تم باہر خود کیوں آئی تمھارے پاؤں کے زخم زیادہ گہرے ہیں۔ملازمہ کو آواز دے دیتی نائل نے کمرے میں داخل ہوتے سیرت کو دیکھتے کہا جو خاموش رہی تھی۔نائل کچھ دیر سیرت کے جواب کا انتظار کرتا رہا جب اس نے کچھ نہیں کہا تو نائل نے کہا۔
جانتی ہو رات تم مجھے اپنے پاس آنے کا کہہ رہی تھی۔
نائل کے دماغ میں ایک خیال آیا تو سیرت کو دیکھتے اس نے سنجیدگی سے کہا اور ا کے پاس ہی بیٹھ گیا۔
سیرت نے نائل کی طرف دیکھا تھا۔جو اسطکے پاس آکر بیٹھ گیا تھا۔
رات تم نیند میں مجھے بلا رہی تھی۔اور میں معصوم سا اپنی بیوی کا کہا کیسے نا مانتا
نائل نے ہاتھ آگے بڑھا کر سیرت کے بالوں کو چھوتے ہوئے بھاری لہجے میں کہا۔
جو نائل نے چھونے پر کرنٹ کھا کر پیچھے ہوئے تھی۔
ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔سیرت نے گھبراتے ہوئے لہجے میں کہا۔لیکن نائل ہنس پڑا تھا۔اس کا مقصد سیرت کی خاموشی کو توڑنا تھا جس میں وہ کامیاب بھی ہوا تھا۔
تم اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتی ہو سویٹ ہارٹ رات تو تم میرے رحم و کرم پر تھی۔
تمہیں تو کچھ یاد بھی نہیں ہو گا۔
نائل نے مزید سیرت کے قریب ہوتے کہا۔
آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔
سیرت نے ارد گرد دیکھتے کہا۔
نائل نے اس کا چہرہ ٹھوڑی سے پکڑا اور اس کا رخ اپنی طرف کیا۔
سیرت نے نائل کی آنکھوں میں دیکھا۔جہاں سنجیدگی چھائی ہوئی تھی۔
نائل نے انگوٹھے سے سیرت کے ہونٹ کے پاس والے زخم کو ہلکا سا دبایا لیکن اس کے ہلکا سا دبانے سے بھی وہاں سے خون نکل آیا تھا۔
سیرت نے تکلیف کے مارے اپنی آنکھیں زور سے میچ لی تھیں۔
تمھارے ساتھ یہ سب کس نے کہا مجھے سب جاننا ہے سیرت…
نائل نے سرد لہجے میں سیرت کو دیکھتے کہا جس نے آنکھوں میں خوف لیے نائل کو دیکھا تھا۔
جو پہلے جتنے پیار سے بات کر رہا تھا اب اتنا ہی اس کا لہجہ سرد تھا۔
مجھے کچھ بھی معلوم نہیں ہے۔سیرت نے نائل کا ہاتھ پیچھے کرتے کہنا چاہا لیکن کر نہیں پائی تھی۔
مجھے اپنا سوال بار بار دہرانا پسند نہیں ہے سیرت جلدی سے ناشتہ کرو پھر ہم اس بارے میں بات کرتے ہیں۔نائل نے ناشتے کی ٹرے سیرت کے سامنے رکھتے کہا۔جس نے ایک نظر بھی ناشتے کی طرف نہیں دیکھا تھا۔
ٹھیک ہے تم میرے ہاتھوں سے کھانا چاہتی ہو تع ایسے ہی سہی نائل نے کہتے ہی ناشتے کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا۔
نہیں میں خود کھا لوں گی سیرت نے جلدی سے کہا۔
ٹھیک ہے نائل نے کہا اور وہاں سے اُٹھ کر ٹیرس کی طرف چلا گیا تاکہ سیرت آرام سے ناشتہ کر سکے۔
سیرت بھی بھوکی تھی اس لیے ناشتہ کرنے لگی۔