Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

ہینڈسم تم تو ایک نظر بھی مجھے نہیں دیکھ رہے ۔چلو بات نا سہی اپنے چچا کی خاطر تم میرے ساتھ ڈرنک تو پی ہی سکتے ہو نا۔
مہک نے زبیر کے کندھے پر ہاتھ رکھتے اس کے قریب آتے کہا وہ زبیر کے اتنے قریب آگئی تھی کہ اسے زبیر کے پرفیوم کی خوشبو تک آرہی تھی۔
مہک جب زبیر کے قریب آئی تو کسی نے اس دونوں کی تصویریں لے لی تھیں۔زبیر یہ بات نوٹ نہیں کر پایا۔
مس اپنی حد میں رہیں مجھے وہ لڑکیاں زہر لگتی ہیں جو فضول میں غیر مردوں کے ساتھ آکر چپکتی ہیں زبیر نے غصے سے مہک کا ہاتھ پیچھے جھٹکتے ہوئے کہا اور بنا مزمل کو بتائے وہاں سے چلا گیا۔
مہک کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی اسے زبیر پسند آیا تھا وہ باقی مردوں کی طرح نہیں تھا جو اب تک مہک کو ملے تھے زبیر ان سب سے الگ تھا۔
پورا نا سہی تھوڑا بہت تو میرا کام ہو گیا ہے۔
مہک کا اشارہ تصویروں کی طرف تھا۔
یہ کہتے ہی وہ مزمل اور اپنے باپ کے پاس چلی گئی تاکہ زبیر کے جانے کا بتا سکے۔
💜 💜 💜 💜
تمھارے ڈیڈ آئے ہوئے ہیں۔روبینہ نے احمر کو دیکھتے کہا جو ابھی تھوڑی دیر پہلے گھر واپس آیا تھا۔
جی میں اُس سے مل چکا ہوں وہ کسی کام کے سلسلے میں کہی باہر گئے ہیں۔
آپ میرے لیے کھانا لگا دیں مجھے بھوک لگی ہے۔احمر کہتے ہی اپنے کمرے میں فریش ہونے چلا گیا۔ روبینہ کچن کی طرف چلی گئی تھی۔
تھوڑی دیر بعد احمر باہر آیا تو اس کی ماں کھانا لگا چکی تھی۔
احمر میں سوچ رہی ہوں اب تمھاری شادی کر دوں تمھارے ڈیڈ تو چلے جاتے ہیں اور تم بھی گھر سے باہر رہتے ہو میں یہاں گھر میں اکیلی بور ہو جاتی ہوں۔روبینہ نے احمر کو دیکھتے کہا۔
جو ہنس پڑا تھا۔موم آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔میں اپنے لیے لڑکی ڈھونڈ چکا ہوں۔احمر نے مسکراہٹ دباتے کہا۔
کیا مطلب؟ تم سچ کہہ رہے ہو؟ روبینہ نے خوشی سے پوچھا۔
بلکل میری پیاری ماں بس کچھ دنوں تک میں اُسے آپ سے ملوا دوں گا۔احمر نے کہا تو روبینہ کا چہرہ کھل اٹھا تھا۔
مجھے اُس دن کا انتظار رہے گا۔روبینہ نے کہا تو احمر نے اپنی ماں کا چہرہ دیکھ کر نفی میں سر ہلایا اور مسکرا پڑا۔
وہ جانتا تھا کہ اس کی ماں پیچھلے دو سالوں سے اسے کے پیچھے پڑی ہے کہ شادی کر لو لیکن وہ ہمیشہ بات کو ٹال دیتا تھا اور اب اس نے خود شادی کی ہامی بڑھی تھی۔روبینہ کا خوش ہونا تو بنتا تھا۔
💜 💜 💜 💜
مزمل غصے میں گھر واپس آیا تھا اسے جب مہک نے بتایا کہ زبیر یہاں سے چلا گیا ہے تو مزمل کو اپنا پلان ناکام ہوتا نظر آیا تھا اس لیے غصے سے گھر آیا۔لیکن گھر میں زبیر نہیں تھا۔
سر آپ سے ملنے کوئی آیا ہے۔ملازم نے آکر مزمل کو اطلاع دیتے کہا۔
اُسے ڈرائنگ روم میں بٹھاؤ میں آتا ہوں مزمل نے کہا۔
اور خود کو پرسکون کیے اپنے کمرے سے باہر نکلا۔
شاہ نواز اندر بیٹھا مزمل کا انتظار کر رہا تھا مزمل کے آتے ہی وہ کھڑا ہو گیا۔اسے کسی نے مزمل کے بارے میں بتایا تھا کہ وہ ہر طرح کا کام پیسے لے کر دیتا ہے اس لیے شاہ نواز یہاں موجود تھا۔
مزمل نے سکندر اور شاہ نواز کو دیکھا نہیں تھا ورنہ اُسے پتہ چل جاتا کہ اسی شخص نے زبیر کو جان سے مارنے کی کوشش کی ہے۔
میں یہ نہیں پوچھوں گا کہ میرا تمہیں کس نے بتایا کیونکہ یہاں پر ہر کوئی مجھے جانتا ہے۔
اس لیے کام کی بات کرتے ہیں مزمل نے سنجیدگی سے کہا۔
شاہ نواز نے نائل اور طالش کی تصویر کو ٹیبل پر رکھا۔مجھے ان دونوں کی موت چاہیے۔جتنے پیسے تم مانگو گئے تمہیں مل جائیں گئے لیکن میرا کام ہو جانا چاہیے۔شاہ نواز نے کہا تو مزمل نے تصویریں اٹھا کر دیکھی تھیں۔
یہ؟ مزمل نے نائل کی تصویر دیکھتے حیرانگی سے کہا۔ کیونکہ بزنس کی دنیا میں اس کا کافی بڑا نام تھا۔
تم اسے جانتے ہو؟ شاہ نواز نے مزمل کے چہرے کے تاثرات دیکھتے پوچھا۔
اسے یہاں کون نہیں جانتا؟ جانا مانا بزنس مین ہے یہ جو اس کے خلاف جاتا ہے اُسے پتہ نہیں یہ کہاں بھیج دیتا ہے پتہ نہیں چلتا۔مزمل نے سنجیدگی سے کہا۔
اور تمھاری اس کے ساتھ کیا دشمنی ہے؟ مزمل نے پوچھا۔
وہ ہمارا ذاتی معاملہ ہے تم یہ بتاؤ تم یہ کام کر سکتے ہو یا نہیں؟
شاہ نواز نے تھوڑا سرد لہجے میں پوچھا۔
ٹھیک ہے تمھارا کام ہو جائے گا۔مزمل نے وہاں سے اٹھتے ہوئے کہا۔
اور ہاں پیسے میری مرضی کے ہوں گئے۔مزمل نے جانے سے پہلے کہا۔اور وہاں سے چلا گیا۔
شاہ نواز کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی۔
💜 💜 💜 💜
مزمل کے گھر سے نکلنے کے بعد شاہ نواز مارکیٹ آیا تھا اس نے روبینہ کے لیے کچھ چیزیں لینی تھیں۔
جب اس کی نظر شہریار اور طالش پر پڑی۔
شہریار زبردستی طالش کو اپنے ساتھ لے کر آیا تھا۔ اس کی ایک ضروری میٹنگ تھی لیکن شہریار اسے مارکیٹ لے آیا۔
نائل کی سالگرہ تھی اور شہریار نے اس کے لیے گفٹ لینا تھا۔
شہریار تمھاری وجہ سے میں اپنی اتنی اہم میٹنگ چھوڑ کر آیا ہوں طالش نے شہریار کو دیکھتے دانت پیستے کہا۔
تمھارے بھائی کی سالگرہ ہے اُسی کے لیے تمہیں یہاں لایا ہوں۔
شہریار نے مسکرا کر کہا۔
جس کی سالگرہ ہے نا اُس کے لیے کام زیادہ اہم ہے۔طالش نے گھورتے ہوئے کہا۔
بھائی اتنی بھی کوئی اہم نہیں تھی کہی تم اُس لڑکی کی وجہ سے تو نہیں کہہ رہے جو اُس میٹنگ میں تھی۔بس اب میں نے شیریں کو بتا دینا ہے کہ تمھارے شوہر نے ایک خوبصورت سی سیکریٹری ہائیر کی ہے بس پھر وہ تمہیں سنبھال لے گی۔شہریار کے مسکراہٹ دباتے کہا۔
اوہ بھائی تمھارا دماغ تو ٹھیک ہے۔آج کل تو ویسے بھی اُس کے ہاتھ بہت چل رہے ہیں مجھے کمرے سے باہر نکالنے میں ایک سیکنڈ بھی نہیں لگائے گی۔طالش نے اپنے کندھے پر رکھے شہریار کے ہاتھ کو پیچھے کرتے کہا۔
اس سے پہلے شہریار مزید کچھ کہتا اس کی نظر سامنے کھڑے شاہ نواز پر پڑی تھی۔
شہریار کو خاموش دیکھ کر طالش نے بھی سامنے دیکھا۔
تم اس کے ساتھ کیا کر رہے ہو؟ شاہ نواز نے شہریار کو دیکھتے پوچھا۔
آپ یہ سوال پوچھنے کا حق کھو چکے ہیں سائیں لیکن پھر بھی میں آپ کو بتا دیتا ہوں یہ میرا بھائی اوت دوست دونوں ہے۔شہریار نے پختہ لہجے میں کہا۔طالش نے چہرے پر مسکراہٹ لیے شہریار کو دیکھا تھا۔
آپ یہاں کیا کر رہیں ہیں؟ جائیں اپنی دوسری بیوی بچوں کے پاس شہر میں آپ اسی لیے تو آتے ہیں۔شہریار نے کہا تو شاہ نواز نے حیرانگی سے اسے دیکھا تھا۔
چلو طالش شہریار اپنے باپ کے چہرے کی اڑی ہوئی رنگت دیکھ کر وہاں سے چلا گیا۔
سسر جی آپ کو کیا لگتا ہے آپ کا بیٹا نہیں جانتا کہ آپ کیا کیا کچھ کرتے پھیر رہے ہیں؟
اُسے سب معلوم ہیں۔طالش نے تیکھے لہجے میں کہا اور خود بھی وہاں سے چلا گیا۔
شاہ نواز ابھی بھی ویسے ہی وہاں کھڑا تھا اسے تو یہی معلوم تھا کہ اس کی دوسری شادی کا کسی کو معلوم نہیں ہے لیکن وہ غلط تھا شہریار سب جانتا تھا۔
اب کہاں جا رہے ہو؟ طالش نے گاڑی میں بیٹھتے شہریار سے پوچھا۔
گھر سارا موڈ خراب ہو گیا ہے۔شہریار کے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
اوہ بھائی میں آج کا دن تو اپنا ضائع نہیں ہونے دوں گا۔ ہم کسی اور جگہ پر چلتے ہیں۔وہاں سے گفٹ لے لیں گئے۔اور آج کا سارا دن میں اپنے بھائی کے ساتھ گزاروں گا۔طالش نے آخری بات شہریار کو دیکھتے مسکراہٹ دباتے کہی۔
جو ناچاہتے ہوئے بھی ہنس پڑا تھا۔وہ جانتا تھا کہ طالش اسے کسی اور مارکیٹ میں لے کر اس لیے جانا چاہتا ہے تاکہ اس کا موڈ ٹھیک ہو سکے۔
ٹھیک ہے شہریار نے کہتے ہی گاڑی سٹارٹ کر دی۔
💜 💜 💜 💜
زبیر نے نائل سے پری کا نمبر لیا تھا اس وقت وہ جتنے غصے میں تھا۔اس کا دل کر رہا تھا اُس لڑکی کا سر پھاڑ دے۔
اس نے پری کا نمبر ڈائل کیا۔لیکن بیل جاتی رہی پری نے کال نہیں اٹھائی۔
اس نے جب میسج چھوڑا کہ میں زبیر ہوں تو پری نے کال اٹینڈ کی تھی۔
السلام علیکم!!!
زبیر کی بھاری آواز سن کر ایک پل کے لیے پری کا دل زور سے دھڑکا تھا۔
وعلیکم السلام میرا نمبر آپ کو کہاں سے ملا؟ پری نے حیرانگی سے پوچھا۔
تمھارے بھائی سے زبیر نے اپنے لہجے میں شوخی لیے کہا۔
بھائی نے آپ کو نمبر دے دیا؟ پری نے مسکرا کر پوچھا۔
بلکل میں تمھارے بھائیوں سے مل چکا ہوں اور اُن کو میں کافی پسند بھی آیا ہوں بس اب میں اپنے چچا کے ساتھ تمھارے گھر آؤں گا اور تمہیں اپنے نام لکھ لوں گا۔
زبیر نے گہرے لہجے میں کہا۔
جس پر پری نے اپنے ہونٹوں کے کونے کو دانتوں تلے دبایا تھا۔
ہونٹوں کو دانتوں سے آذاد کرو زبیر نے کہا تو پری نے گھبرا کر ارد گرد دیکھا تھا۔
آپ یہی کہی ہو کیا؟ پری نے بے یقینی سے پوچھا۔
ہاں محسوس کرو پتہ چل جائے گا تمہیں زبیر نے گھمبیر لہجے میں کہا۔
میں بعد میں بات کرتی ہوں پری نے کہتے ہی فون بند کر دیا اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔
زبیر نے اپنے موبائل کو دیکھا اور مسکرا پڑا اس کا غصہ اب کہی غائب ہو گیا تھا اس نے گاڑی کو گھر کی طرف گھمایا اور وہاں سے چلا گیا۔
💜 💜 💜 💜
زبیر گھر آیا تو سامنے ہی اسے مزمل بیٹھا ہوا نظر آیا تھا۔
زبیر مجھے تم بتانا پسند کرو گئے کہ مجھے بنا بتائے تم کلپ سے کہاں چلے گئے؟ جانتے ہو مجھے سلیمان کے سامنے کتنی شرمندگی ہوئی؟ مزمل نے غصے سے زبیر کو دیکھتے کہا۔
میں نے آپ کو پہلے ہی کہا تھا۔مجھے آپ کے کام میں دلچسپی نہیں ہے اس لیے اپنے پارٹنرز کو مجھ سے مت ملایا کریں۔اور اگر وہ لڑکی دوبارہ میرے سامنے آئی تو میں اُس کی جان لے لوں گا۔زبیر نے بھی سرد لہجے میں کہا۔
میری ایک بات کان کھول کر سن لو زبیر میں نے سلیمان سے وعدہ کیا ہے کہ اُس کی بیٹی تمھاری بیوی بنے گی اور میں نہیں چاہتا تم کچھ بھی ایسا ویسا فضول کرو۔
مزمل نے کہا تو زبیر نے بے یقینی سے اپنے چچا کو دیکھا تھا۔
آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں شبنم کو پسند کرتا ہوں اور اُسی سے شادی کرنا چاہتا ہوں پھر بھی آپ نے اُس لڑکی کے ساتھ میری شادی کا وعدہ کر دیا؟ اگر مجھے شبنم نا بھی ملی ہوتی تو بھی اُس جیسی لڑکی کے ساتھ میں کبھی شادی نا کرتا۔
زبیر نے غصے سے اپنے چچا کو دیکھتے کہا۔اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ اس کا چچا سب کچھ جاننے کے باوجود ایسا کر سکتا ہے۔
تم مہک کو برا بھلا کہہ رہے ہو تو تمہیں اتنا یقین کیسے ہیں کہ تمھاری شبنم ابھی تک پاک صاف ہو گی؟ وہ لڑکی زندہ کیسے بچ گئی کن لوگوں کے پاس رہی اس سے پہلے مزمل مزید کچھ کہتا زبیر نے وہی ہاتھ کا اشارہ کرتے مزمل کو روک دیا تھا۔
بس چچا جان بہت ہو گیا اب مزید میں شبنم کے بارے میں کچھ بھی فضول نہیں سنو گا۔اور میں اس بات کا حق آپ کو بھی نہیں دیتا کہ آپ میری شبنم کے کردار پر انگلی اٹھائیں۔زبیر نے دھاڑتے ہوئے کہا۔
زبیر مت بھولو کہ آج تم جس مقام پر ہو صرف میرا وجہ سے ہو۔مزمل نے بھی غصے سے کہا۔
جانتا ہوں چچا جان لیکن آپ کے بزنس کو میں بہت پہلے چھوڑ چکا ہوں اور اب جو میں نے اپنا آفس بنایا اُس میں صرف میری محنت شامل ہے آپ سے لیا گیا ایک ایک روپیہ میں آپ کو واپس کر چکا ہوں تو اب میرے آفس سے میرے بزنس سے آپ کا کچھ بھی لینا دینا نہیں ہے۔اور ہاں میں آج ہی یہاں سے جا رہا ہوں مجھے آپ سے امید نہیں تھی کہ آپ میرے ساتھ ایسا کریں گئے۔زبیر نے اپنی ہاتھوں کی مٹھیاں بنائے سرد لہجے میں کہا۔
اور وہاں سے اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔
نہیں زبیر اتنی آسانی سے میں تمہیں جانے نہیں دے سکتا مزمل نے ٹیبل پر ٹھوکر مارتے غصے سے کہا۔
💜 💜 💜 💜
مجھے باہر جانا ہے وہ سامنے پارک ہے میں وہاں جانا چاہتی ہوں۔سیرت نے ملازمہ کو دیکھتے کہا۔
میڈم سر نے اس بات کی اجازت نہیں دی آپ کال کرکے سر سے اجازت لے لیں ملازمہ نے نظریں جھکا کر کہا۔
اب مجھے باہر جانے کے لیے بھی اُس کھڑوس کی اجازت لینی پڑے گی۔سیرت نے دل میں سوچا۔
میرے پاس موبائل نہیں ہے سیرت نے کہا تو ملازمہ نے ٹیلی فون کی طرف اشارہ کیا۔اور اسے نمبر ڈائل کرکے دیا۔
نائل لیپ ٹاپ پر کام کر رہا تھا جب اس کا موبائل رنگ ہوا۔
گھر کا نمبر دیکھ کر نائل نے جلدی سے کال اٹینڈ کی۔
ہیلو سکینہ گھر میں سب ٹھیک ہے؟ سیرت ٹھیک ہے؟ نائل نے جلدی سے پوچھا کیونکہ گھر سے صرف ملازمہ کی کال ہی آسکتی تھی۔
نائل کی آواز سن کر سیرت کی جمع کی ہوئی ہمت جواب دے گئی اب وہ اس سے کیسے پوچھتی کہ وہ باہر جانا چاہتی ہے۔
تھوڑی دیر خاموشی کے بعد نائل کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔
جاناں آج کیسے آپ نے خود اس ناچیز کو یاد کر لیا۔نائل نے پیچھے کرسی سے ٹیک لگاتے پوچھا وہ جان گیا تھا کہ دوسری طرف کال پر کون موجود ہے۔
سیرت کو حیرت ہوئی تھی کہ اسے کیسے پتہ چلا کہ سیرت نے اس فون کیا ہے۔
وہ مجھے آپ سے اجازت چاہیے سیرت نے اپنا حلق تر کرتے کہا۔
اجازت؟ کیسی اجازت؟ نائل کو حیرانگی سے پوچھا۔اسے خوشگوار حیرت ہوئی تھی کہ سیرت اس سے اجازت مانگ رہی ہے۔
وہ میں گھر میں بیٹھی بور ہو رہی تھی کیا میں گھر کے سامنے والے پارک میں تھوڑی دیر کے لیے جا سکتی ہوں؟ سیرت نے گھبراتے ہوئے پوچھا کہ کہی منع ہی نا کر دے۔
نائل کچھ دیر خاموش رہا پھر بولا۔
ٹھیک ہے چلی جاؤ۔اپنا خیال رکھنا۔جلدی واپس آنا اور ملازمہ کو ساتھ لے کر جانا۔نائل نے ایک ہی سانس میں اسے سب کہہ دیا۔
جی سیرت نے بس اتنا کہتے ہی فون رکھ دیا۔
نائل نے کان سے پیچھے کرکے موبائل کو دیکھا اور مسکرا پڑا۔
سیرت ملازمہ کو اپنے ساتھ لیے پارک میں چلی گئی تھی۔بچے کھیل رہے تھے۔باہر آکر سیرت کو سکون محسوس ہوا تھا۔
ملازمہ دور کھڑی فون پر بات کر رہی تھی اس کی امی کی کال آئی تھی۔
ایکسکیوز می کسی کی بھاری آواز نے سیرت کو اپنی جانب متوجہ کیا۔
سیرت نے پیچھے مڑ دیکھا تو وہاں احمر چہرے پر مسکراہٹ لیے کھڑا تھا۔
💜 💜💜 💜