Jaane Bewafa By Rimsha Hayat Readelle50132
Last updated: 4 August 2025
Jaan E Wafa
By Rimsha Hayat
شہریار اُسی جگہ پر طالش اور نائل کو لے کر گیا تھا۔ اُس کمرے کا دروازہ کھولا گیا لیکن کافی دیر ہو چکی تھی۔دونوں میاں بیوی نائل اور طالش کو چھوڑ کر جا چکے تھے۔طالش رویا تھا لیکن نائل نہیں رویا۔ دونوں کو ابھی تک یقین نہیں آرہا تھا۔ دونوں کو دفنانے کے بعد نائل نے شہریار سے پوچھا تھا کہ اس کے ماں باپ کو کیا ہوا تھا۔نائل کا بس چلتا تو اُن لوگوں کی جان لے لیتا جس نے اس کے ماں باپ کے ساتھ یہ سب کیا تھا۔ شہریار نے سب کچھ دونوں کو بتا دیا تھا اور کہا کہ یاسر ان دونوں کے باپ نے کہا تھا کہ یہ پیپرز لے کر لندن چلے جائیں اور یہ نمبر ان کے دوست کا ہے جو ان کی مدد کرے گا۔شہریار نے بتایا تو طالش نے جذباتی پن میں کہا کہ وہ حویلی جائے گا۔لیکن نائل نے منع کر دیا۔ ہم ویسا ہی کریں گئے جیسا بابا نے کہا ابھی ہم باہر جائیں گئے۔نائل نے سنجیدگی سے کہا۔ لیکن مرحا وہی پر ہے۔طالش نے پریشانی سے کہا۔ تم لوگ ابھی حویلی میں نہیں جاسکتے وہاں پر بھی خبر پھیل گئی ہو گی اور اگر تم دونوں حویلی گئے تو بابا سائیں تم دونوں ہو بھی مروا دیں گئے۔شہریار نے پریشانی سے کہا۔ لیکن ہماری بہن وہاں پر ہے اگر اُسے نقصان پہنچا دیا تو طالش نے کہا۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ لوگ مرحا کو کچھ نہیں کہے گئے اور وہ ابتسام کی بیوی بھی ہے۔ نائل نے سوچتے ہوئے کہا۔ ہاں لیکن ہم بہت جلد مرحا کو بھی اپنے ساتھ لے کر چلے جائیں گئے۔طالش نے پرعزم لہجے میں کہا۔ پھر یاسر کے دوست کی مدد سے تینوں باہر چلے گئے تھے۔شہریار نے بھی حویلی جانے سے منع کر دیا تھا۔ دوسری جانب حویلی میں شاہ نواز نے خبر پھیلا دی تھی کہ یاسر اور شمیم کا ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا۔ اور ان کی حالت ایسی نہیں تھی کہ ان کو زیادہ دیر تک رکھا جاتا اس لیے دفنا دیا تھا۔ یہ خبر مرحا کے ساتھ نیلم اور نگین کے لیے بھی نا قابلِ. یقین تھی۔زیادہ حالت خراب تو مرحا کی تھی۔ جسے نگین اور نیلم نے سنبھالا تھا۔ لیکن شاہ نواز پریشان اُس وقت ہوا تھا جب اسے پتہ چلا کہ یاسر کے ساتھ شہریار بھی گیا تھا لیکن اس نے شہریار کو کہی نہیں دیکھا تھا۔ جب شہریار نہیں ملا تو پوری حویلی میں یہ بات پھیل گئی کہ پتہ نہیں شہریار کہاں چلا گیا۔مرحا کو یاد آیا کہ وہ اس کے پاس آیا تھا۔ اس کے اپنے دونوں بھائی بھی حویلی میں نہیں تھے۔ شاہ نواز اور سکندر کو.سمجھ نہیں آرہی تھی کہ طالش، نائل اور شہریار کہاں گئے ہیں۔ زیادہ فکر اسے شہریار کی تھی۔ حویلی میں گاؤں لے لوگ آرہے تھے۔سب کو یاسر اور شمیم کے جانے کا افسوس تھا۔ شاہ نواز نے اپنی پوری کوشش کی تھی لیکن شہریار اسے کہی سے نہیں ملا۔ نگین کو اس نے کہا تھا کہ شہریار پڑھائی کے لیے ملک سے باہر گیا ہے۔اور طالش اور نائل بھی اس کے ساتھ ہیں۔اور یہ سب اس نے نائل اور طالش کے لیے کیا۔لیکن. سچ کیا تھا کوئی نہیں جانتا تھا۔ نگین اور نیلم میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ اپنے شوہروں سے سوال جواب کرسکیں اس لیے خاموش ہو گئی تھیں۔ سب کچھ اچانک حویلی میں ہوا تھا۔ ایک سال ایسے ہی گزر گیا۔ نائل اور طالش باہر اپنا بزنس سیٹ کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے۔اور شہریار اپنی پڑھائی مکمل کر رہا تھا۔ 💜 💜 💜 💜 آپی مولوی صاحب آگئے ہیں۔شیریں نے کمرے میں آتے دونوں کی شکلوں کی طرف دیکھتے کیا۔ شبنم نے زبیر کی طرف دیکھا تھا۔جس کے چہرے پر بےبسی چھائی ہوئی تھی۔ شبنم نے ایک نظر شیریں کی طرف دیکھا۔ زبیر آپ جاؤ یہاں سے شبنم نے رخ موڑے سنجیدگی سے کہا۔ لیکن… زبیر نے کچھ کہنا چاہا جب شبنم نے اسے ٹوک دیا تھا۔ زبیر جاؤ پلیز شبنم کے کہتے ہی زبیر وہاں سے نکل گیا تھا۔ آپی سب کچھ ٹھیک ہے نا؟ شیریں نے آگے بڑھتے پوچھا۔ شیریں اگر کوئی انسان ہمیں دھوکا دے تو ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ شبنم نے بمشکل شیریں سے پوچھا۔آنسوؤں کا پھندا اس کے حلق میں بندھا ہوا تھا۔ آپی کبھی کبھار آنکھوں دیکھا بھی غلط ہوتا ہے میں نہیں جانتی کہ آپ دونوں میں کیا مسئلہ ہوا ہے لیکن اگلے کو ایک بار صفائی کا موقع دینا چاہیے۔اور باہر سب آپ کا انتظار کررہے ہیں۔میں آپ کو ہی لینے آئی تھی۔شیریں نے کہا۔ ٹھیک ہے چلو ایک سیکنڈ میں شبنم نے فیصلہ کیا تھا۔ دلہن کے آتے ہی نکاح شروع ہوا۔زبیر کا دل فل سپیڈ میں دھڑک رہا تھا۔ اسے امید تو نہیں تھی کہ شبنم باہر آئے گی لیکن اسے دیکھ کر تھوڑا دل مطمئن ہوا تھا۔مگر ابھی بھی اسے تھا اگر اس نے انکار کر دیا تو؟ زبیر کی نظریں شبنم پر ہی ٹکی تھیں۔ جب مولوی صاحب نے اس سے پوچھا کیا آپ کو نکاح قبول ہے تو سب کی نظریں شبنم پر جمی تھیں۔ زبیر کو لگ رہا تھا اس وقت اس کی جان شبنم کی کے ہاتھ میں ہے۔ شبنم نے ایک نظر زبیر پر ڈالی اس کی خاموشی پر نائل بھی حیران ہوا تھا۔ مولوی صاحب نے دوبارہ جب پوچھا تو شبنم نے قبول ہے بول دیا۔ زبیر نے سکون کا سانس لیا۔باقی سب کے چہروں پر بھی مسکراہٹ آگئی تھی۔ نکاح کے بعد سب لوگوں نے زبیر اور شبنم کو مبارک باد دی تھی۔جو چہرے پر زبردستی کی مسکراہٹ لیے سب سے مل رہی تھی۔ شبنم سر کے درد کا کہہ کر کمرے میں چلی گئ۔ تھوڑی دیر تک اس کی رخصتی تھی۔اور سر اس کا درد سے پھٹا جا رہا تھا۔ سب ٹھیک ہے نا؟ نائل نے زبیر کے کندھے پر ہاتھ رکھتے پوچھا۔ جی سب ٹھیک ہے زبیر نے مسکرانے کی ناکام کوشش کرتے کہا۔ دیکھو زبیر پری میری بہن ہے اور اپنی بہن ہم تمہیں سونپ رہے ہیں میں امید کرتا ہوں تم اس کا خیال رکھو گئے اور اگر کسی بھی قسم کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے تو بھائی سمجھ کر بس ایک بار کہہ دینا۔نائل نے سنجیدگی سے کہا تو زبیر نے اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔ آپ فکر مت کریں شبنم کو میں ہمیشہ خوش رکھوں گا۔زبیر نے کہا تو نائل مسکرا پڑا تھا۔ سیرت اور شیریں شبنم کے پاس کمرے میں آگئی تھی۔رخصتی کا وقت ہو گیا تھا۔ نگین کمرے میں آئی اور شیریں کے سامنے بیٹھ گئی۔ کاش تمھارے بابا سائیں بھی یہاں ہوتے نگین نے پری کو دیکھتے کہا۔ اچھی بات ہے نا کہ وہ یہاں پر نہیں ہے۔ورنہ اُن کا بس ایک ہی کام ہے عزت کی خاطر جان لےلینا۔پری نے طنزیہ لہجے میں کہا۔ نگین. پری کی بات سنتے خاموش ہو گئی تھی۔ آپی اور امی اپ لوگ بھی کیا باتیں لے کر بیٹھ گئے ہیں امی آپی کو خوشی خوشی رخصتی کریں۔شیریں نے جلدی سے ماحول کو ہلکا پھلکا بناتے مسکرا کر کہا۔ نگین نے پیار سے پری کے ماتھے کو چوما۔اللہ تمہیں ہمیشہ خوش رکھے۔نگین نے پیار سے کہا تو پری بھی ہلکا سا مسکرا پڑی تھی۔ سیرت اور شیریں اسے کمرے سے باہر لے گئی تھیں۔ باہر سب لوگوں سے ملنے کے بعد ان کی دعاؤں کے سائے میں پری رخصت ہو کر زبیر کے ساتھ چلی گئی تھی۔ 💜 💜 💜 💜 باہر مت نکلنا نائل نے سرد لہجے میں کہا اور خود گاڑی سے باہر نکلنے لگا۔ نائل آپ کہاں جا رہے ہیں؟ سیرت نے پریشانی سے اسے بازو سے پکڑتے پوچھا۔ جس نے ایک نظر اس کے ہاتھ کی طرف دیکھا اور پھر اسکے چہرے کی طرف دیکھا۔ اگر کوئی اور وقت ہوتا تو تم مجھے اتنے پیار سے روکتی تو میں رک بھی جاتا۔لیکن ابھی جو بھی سامنے گاڑی لیے کھڑا ہے وہ ہمارے رومینس کے ختم ہونے کا انتظار تو ہرگز نہیں کرے گا۔نائل نے ایک آنکھ دباتے بےباکی سے کہا۔ سیرت نے آنکھیں پھیلائے حیرانگی سے نائل کی طرف دیکھا تھا جو اس طرح کی صورتحال میں بھی مزاح کر رہا تھا۔ سیرت نے اس کے ہاتھ کع چھوڑا تو نائل باہر نکل کر آیا۔ سامنے ہی احمر کھڑا تھا۔اس کے ہاتھ میں گن تھی۔ تم؟ نائل نے اپنے لہجے میں مصنوعی سنجیدگی لاتے احمر کو دیکھتے پوچھا۔ اپنی بہن سے ملنے آئے ہو؟ نائل نے کہا تو احمر نے اسے گھور کر دیکھا تھا۔ سیرت کو میرے حوالے کر دو میں تمھاری جان بخش دوں گا۔احمر نے سرد لہجے میں کہا۔ تم میری جان بخشو گئے؟ کیا مزاح ہے تمہیں لگتا ہے کہ اس طرح بیچ راستے میں مجھے روک کر تم مجھے کہو گئے کہ میں تمھارے حوالے اپنی بیوی کر دوں اور میں بےغیرت بنا اُسے تم تمھارے حوالے کر دوں گا؟ نائل نے غصے سے کہا۔کیونکہ وہ احمر کو دیکھتے اسی دن سمجھ گیا تھا کہ وہ کسی خاص مقصد کے تحت وہاں گارڈن میں سیرت کے پاس کھڑا تھا۔ اور ان اسے اب سمجھ آگئی تھی کہ وہ کیا چاہتا ہے۔ تمھاری بیوی کو تم سے پہلے میں چاہتا تھا سمجھے تم درمیان میں آئے اور اگر تم نے آرام سے اُسے میرے حوالے نہیں کیا تو میں تمہیں مار کر اُسے اپنے ساتھ لے جاؤں گا ویسے بھی تمہیں مارنے کے بھی مجھے آڈر ملے ہیں احمر نے کہتے اپنی گن کا رخ نائل کی طرف کیا۔ سیرت جو اندر بیٹھی دونوں کو دیکھ رہی تھی وہ احمر کو بھی پہچان چکی تھی ۔جب اس نے احمر کو نائل کی طرف گن کرتے دیکھا تو گاڑی کا دروازہ کھولے باہر آئی۔ نائل نے کھا جانے والی نظروں سے سیرت کو دیکھا تھا۔ سیرت کو دیکھتے ہی احمر مسکرا پڑا۔ تمھارا ہی انتظار تھا۔احمر نے سیرت کو دیکھتے مسکرا کر کہا اس سے پہلے نائل کچھ کہتا فائرنگ کی آواز پر اس نے سیرت کو اپنی جانب کھنچا اور وہاں سے بھاگنے لگا۔جب احمر نے غصے سے نائل پر گولی چلائی۔گولی کی آواز سنتے ہی سیرت کی چیخ وہاں گونجی تھی۔ نائل نے اپنے درد کی پرواہ کیے بغیر اسے اندھیرے میں لیے غائب ہو گیا۔گولی اس کے بازو کو چھو کر گزری تھی جہاں سے خون نکل رہا تھا۔ احمر بھی وہاں سے بھاگ گیا تھا کیونکہ وہ اتنے ساروں کا مقابلہ اکیلا نہیں کر سکتا تھا۔ 💜 💜 💜 💜
