No Download Link
Rate this Novel
Episode 5
کتنا سمجھایا تھا میں نے تمہیں مرحا کہ وہ انسان تمھارے قابل نہیں ہے چھوڑ دو اُسے لیکن تم نے میری بات نہیں مانی اور دیکھو اُس شخص کی وجہ سے آج تم کس حالت میں ہو۔
محبت بھی کتنی عجیب شے ہے نا جس سے ہو جاتی ہے اُس کی خامی بھی ہمیں نظر نہیں آتی اور تم تو شاید اُس انسان پر اندھا اعتماد کرتی تھی۔
تمہیں میری آنکھوں میں خود کے لیے محبت تڑپ نظر نہیں آئی؟ اپنے بھائیوں کی ناراضی مول لے کر تم اُس انسان کے ساتھ رہی لیکن اُس نے کیا کیا؟ شہریار نے طنزیہ ہنستے ہوئے کہا۔
جانتی ہوں یہ سوچ ہی میرے لیے جان لیوا تھی کہ تمہیں کوئی اور چھوئے گا۔دیکھے گا میں نہیں جانتا میرے اندر اتنا صبر کہاں سے آیا میں چاہتا تھا وہ انسان تمہیں چھوڑ دے کیونکہ وہ تمھارے قابل نہیں تھا لیکن میں یہ نہیں چاہتا تھا کہ تم اس حالت میں پہنچ جاؤ
میں چاہتا ہوں اب تم ٹھیک ہو جاؤ پلیز واپس آجاؤ میں نہیں چاہتا کہ تم مجھ سے بات بھی کرو میں بس تم ٹھیک ہو جاؤ میری نظروں کے سامنے رہو لیکن پلیز ٹھیک ہو جاؤ شہریار نے بیڈ پر لیٹی مرحا کو دیکھتے کہا۔
شہریار بہت کم کسی سے بات کرتا تھا لیکن مرحا واحد بندی تھی جس سے وہ گھنٹوں باتیں کرتا تھا۔جیسے وہ اس کی ساری باتیں سمجھ رہی ہو۔
شہریار نے مسکرا کر ایک نظر مرحا کو دیکھا اور وہاں سے چلا گیا۔
💜💜💜💜
میری بیٹی ٹھیک ہے؟ نیلم نے جلدی سے ڈاکٹر سے پوچھا۔جو ایک فی میل ڈاکٹر تھی۔
جی اب وہ ٹھیک ہے تھوڑی دیر بعد ہوش میں آجائیں گئی۔شکر ہے یہ زیادہ دیر تک دھوپ میں نہیں رہی ورنہ زیادہ مسئلہ ہو سکتا تھا۔
ڈاکٹر نے کہا۔
نیلم سیرت کے سرہانے جا کر بیٹھ گئی تھی ڈاکٹر کے جانے کے بعد نگین بھی کمرے میں آگئی۔نیلم نے سیرت کے چہرے پر مرہم لگائی جہاں پر ابھی بھی انگلیوں کے نشان موجود تھے۔
بھابھی آپ سیرت کو سمجھا دیجئیے کہ اپنے باپ اور بھائی کے سامنے اونچی آواز میں بات نا کریں ورنہ اس کا حال بھی میری بیٹی شبنم کی طرح ہو گا۔
اور میں نہیں چاہتی کہ اب اس گھر میں ان بے حسن لوگوں کی وجہ سے کوئی بھی ہمیں چھوڑ کر جائے نگین نے نیلم کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
میں اسے بہت سمجھاتی ہوں نگین لیکن یہ لڑکی میری بات نہیں سنتی اور دیکھو آج اس کی جان بھی جا سکتی تھی۔میں کیا کروں کیسے اسے سمجھاؤں نیلم نے بےبسی سے کہا تو نگین بھی خاموش ہو گئی تھی وہ جانتی تھی کہ سیرت کتنی ضدی ہے۔
💜 💜💜 💜 💜
شاہ نواز کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے بڑی بیٹی شبنم اور چھوٹی بیٹی شیریں تھی۔
شبنم زبیر کو پسند کرتی تھی جو سکندر کے ڈرائیور کا بیٹا تھا چونکہ زبیر کا باپ سکندر کا بہت پرانا ملازم تھا تو اس کی وفات کے بعد زبیر نے یہ زمہ داری سنبھال لی تھی کیونکہ اس کے باپ نے کہا تھا کہ وہ کبھی بھی سکندر اور حویلی کی خدمت کرنا نہیں چھوڑے گا کیونکہ سکندر نے ایک بار کچھ لوگوں سے زبیر کے بعد کی جان بچائی تھی اُس کے بعد سے ہی زبیر کے والد نے اپنی پوری زندگی سکندر کی خدمت کرنے میں گزار دی تھی۔
زبیر کی ماں کی وفات بہت پہلے ہو چکی تھی اور وہ اکلوتا تھا وہ بھی شبنم کو پسند کرتا تھا لیکن کبھی اس نے اس بات کا اظہار شبنم سے نہیں کیا تھا کیونکہ وہ اپنی حیثیت جانتا تھا۔
لیکن شبنم اسے پسند کرتی تھی اور ایک دن اس نے زبیر کو اپنے دل کی بات بتا دی زبیر کو سمجھ نہیں آئی کہ کیا جواب دے۔
کیونکہ وہ اچھی طرح جانتا تھا۔حویلی والے کبھی نہیں مانے گئے۔اس لیے خاموش رہتا تھا۔
لیکن اب شبنم نے سوچ لیا تھا کہ آج وہ زبیر کے دل کی بھی بات جان کر سکون سے بیٹھے گی۔
میں نے کہا میں تمہیں پسند کرتی ہوں شبنم نے زبیر کو دیکھتے کہا۔
دیکھیں بی بی جی میں آپ کی بہت عزت کرتا ہوں لیکن جیسا آپ چاہتی ہیں وہ ممکن نہیں ہے زبیر نے نظریں جھکا کر جواب دیا۔
شبنم نام ہے میرا اور میرا نام لیا کرو کیا تم مجھے پسند نہیں کرتے؟ شبنم نے سنجیدگی سے پوچھا۔
بی بی جی آپ میری مالکن ہیں میں آپ کا نام نہیں لے سکتا اور میری اتنی حیثیت کہاں کہ میں آپ کے بارے میں ایسا سوچ بھی سکوں زبیر نے کہا تو شبنم نے غصے سے اسے دیکھا تھا۔
میرے سامنے جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں ہے اور میں نے تمھاری آنکھوں میں دیکھا ہے تم بھی مجھے پسند کرتے ہو تو کیا تم میں اتنی ہمت نہیں کہ میرے گھر والوں سے بات کر سکو شبنم نے بےبسی سے کہا۔
شبنم زبیر سے کافی بار اس بارے میں بات کر چکی تھی لیکن ہمیشہ زبیر کا جواب خاموشی ہوتا تھا۔
آپ سمجھ نہیں رہی مجھے اپنی پرواہ نہیں ہے لیکن آپ کی ضرور ہے اور میں جانتا ہوں کہ اگر بڑے سائیں کو پتہ چل گیا تو میرے ساتھ وہ آپ کو بھی سزا دیں گئے جو میں برداشت نہیں کر سکتا۔زبیر نے اب نظریں اٹھا کر شبنم کو دیکھا تھا۔
تو کیا میری شادی ہوتے ہوئے دیکھ سکتے ہو؟ جانتے ہو نا میرا رشتہ آیا ہے اور گھر والوں نے بات پکی کر دی ہے اسی جمعے کو میرا نکاح ہے شبنم نے بھیگے لہجے میں کہا۔
جانتا ہوں اور یہ آپ کے لیے بھی ٹھیک ہے میں آپ کو کبھی خوش نہیں رکھ پاؤں گا۔زبیر نے نظریں چراتے کہا۔
تم اس بات کا فیصلہ کیسے کر سکتے ہو کہ مجھے خوش نہیں رکھ پاؤ گئے؟ یا تم میں ہمت نہیں ہے بابا سائیں سے بات کرنے کی شبنم نے اس بار تھوڑا غصے سے کہا۔
کیا کر رہی ہیں آپ آہستہ بولیں میں آپ کے بابا سائیں اور تاتا سائیں کو بہت اچھی طرح جانتا ہوں وہ آپ کو کبھی معاف نہیں کریں گئے زبیر بےبسی سے کہا اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کس طرح شبنم کو سمجھائے
مجھے ہی کچھ نا کچھ کرنا ہو گا اور اب تو مجھے تمھارے دل کی بات بھی پتہ چل گئی ہے۔شبنم نے کہا اور وہاں سے چلی گئی۔
زبیر اسے روکتا ہی رہ گیا لیکن شبنم نے اس کی ایک نہیں سنی وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ اگر بڑے سائیں کو پتہ چلتا ہے تو وہ زبیر کو تو جان سے مارے گا ہی ساتھ اپنی بیٹی کو بھی مار دے گا لیکن شبنم کو یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔
💜 💜 💜 💜
آپی آپ کہاں جا رہی ہیں؟ شیریں نے شبنم کو دیکھتے پوچھا جس نے کالی چادر لی ہوئی تھی۔
اس حویلی کو چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے جا رہی ہوں یہ حویلی کم قید خانہ زیادہ ہے شبنم نے سنجیدگی سے کہا۔
لیکن آپی آپ کا تو نکاح ہے جمعے کو اور آپ جا کہاں رہی ہیں؟ شیریں نے پریشانی سے پوچھا۔
میں زبیر کو پسند کرتی ہوں اب سے نہیں بلکہ بہت پہلے سے اور اُسی کے پاس جا رہی ہوں مجھے اُس انسان سے شادی نہیں کرنی جو دو بچوں کا باپ ہے اور اُس کی پہلی بیوی بھی اُس کے ظلم کی وجہ سے بھاگی تھی۔
اپنا اور امی کا خیال رکھنا شبنم نے شیریں کے گال کو تھپتھپاتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلی گئی رات کا وقت تو اس کے لیے حویلی سے باہر نکلنا مشکل نہیں تھا۔
حویلی سے کچھ فاصلے پر ہی زبیر کا چھوٹا سا گھر تھا۔شبنم سیدھی اُس کے گھر گئی تھی۔
زبیر نے دروازہ کھولا تو سامنے شبنم کو دیکھ کر حیران ہوا تھا۔
بی بی جی آپ اس وقت یہاں؟ زبیر نے اپنے لہجے کی حیرانگی پر قابو پاتے پوچھا۔
اندر آنے کا نہیں کہو گئے؟ شبنم نے سنجیدگی سے کہا اور خود ہی اندر آگئی۔
آپ کو ایسے حویلی سے نہیں آنا چاہیے تھا۔
اگر اس سے پہلے زبیر کچھ کہتا کسی نے زور سے دروازہ کھٹکایا تھا۔
شبنم نے آنکھوں میں خوف لیے زبیر کو دیکھا اُسے نہیں معلوم تھا کہ اتنی جلدی حویلی میں سب کو پتہ چل جائے گا۔
لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ جب وہ حویلی سے باہر نکل رہی تھی تو اُسے چوکیدار نے دیکھ لیا تھا اور اور اُسی نے حویلی میں بتایا تھا۔
ابتسام دروازے کو توڑ کر اندر آیا جس کا چہرہ سپاٹ تھا۔
کمینے تجھے ہم نے رہنے کے لیے چھت دی اور تو ہی ہماری عزت خراب کرنا چاہتا تھا۔ابتسام بنا زبیر کی بات سنے آگے بڑھا اور اسے مارنے لگا اسکے پیچھے شاہ نواز بھی تھا جو شبنم کو گھسیٹتے ہوئے وہاں سے لے کر گیا جو چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی کہ زبیر کی اس میں کوئی غلطی نہیں ہے لیکن اس کی سن کون رہا تھا۔
ابتسام نے زبیر کو اتنا مارا کہ اس کا پورا چہرا خون سے بھر چکا تھا اور اب زمین پر بے سدھ پڑا ہوا تھا۔
اس کمینے کو اسی وقت کسی ایسی جگہ پھینک کر آؤ جہاں سے یہ زندہ واپس نا آسکے ابتسام نے زبیر کو ٹھوکر مارتے اپنے آدمیوں کو کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
گھر آتے ہی شاہ نواز نے شبنم کے چہرے پر تھپڑ دے مارا تھا۔
تمہیں اپنے باپ کی عزت نیلام کرتے زرا شرم نہیں آئی جواب دو کب سے یہ چل رہا ہے؟
شاہ نواز نے سرد لہجے میں کہا۔
نگین آگے بڑھنے لگی لیکن شاہ نواز نے اسے وہی رکنے کا اشارہ کر دیا تھا۔
میں آپ کے اُس دوست کے بیٹے سے شادی نہیں کرنا چاہتی میں زبیر کو پسند کرتی ہوں اگر ابتسام بھائی کو حق ہے کہ وہ اپنی پسند کی شادی کر سکتے ہیں تو میں کیوں نہیں اپنی پسند کی شادی کر سکتی اور میں نے کچھ غلط نہیں کیا پیار کرنا غلط نہیں ہے شبنم نے اپنی گال پر ہاتھ رکھے چیختے ہوئے کہا۔
اور اگر آپ مجھے بھی اتنی ہی اہمیت دیتے جتنی یہاں کے لڑکوں کو دی جاتی ہے تو میں یہ قدم کبھی نا اٹھاتی بلکہ سب سے پہلے میں اپنے باپ کے پاس آتی اور اُسے اپنی پسند سے آگاہ کرتی لیکن میرے باپ نے تو کبھی میری طرف پیار سے دیکھا بھی نہیں ہر ایک چیز پر پابندی؟ اگر آپ مجھ سے اتنا ہی پیار کرتے جتنا آپ بھائی سے کرتے ہیں تو مجھے آپ کی ساری پابندیاں بھی منظور ہوتی میں کبھی آپ کے فیصلے کے خلاف نا جاتی میں جانتی تھی اگر میری اُس انسان کے ساتھ شادی ہو گئی تو وہ مجھے ویسے ہی مار دے گا جیسے اُس نے اپنی پہلی بیوی کو مارنے کی کوشش کی تو اگر مرنا ہی ہے تو کیونکہ نا میں وہ کروں جس میں میری خوشی ہے۔شبنم نے آنسوؤں سے تر چہرہ لیے اپنے باپ کو دیکھتے کہا۔
سیرت کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے سب لوگ وہی پر موجود تھے ٹھیک ہی تو وہ کہہ رہی تھی ہر ایک کام میں یہاں لڑکیوں کو نیچا دکھایا جاتا تھا۔اُن کو کم تر سمجھا جاتا تھا یہاں تک کے سکندر نے لڑکیوں کو صرف میٹرک تک پڑھنے کی اجازت دی تھی۔شبنم ڈاکٹر بننا چاہتی تھی۔اس نے بہت کوشش کی لیکن شاہ نواز نے صاف لفظوں میں منع کر دیا تھا۔
شاہ نواز خاموشی سے شبنم کی بات سن رہا تھا۔
آج جو تم نے حرکت کی ہے اُس کے بعد تم میرے لیے مر گئی ہو شاہ نواز تھوڑی دیر بعد بولا تھا جس ہر شبنم طنزیہ مسکرا پڑی تھی۔
مر تو میں اُسی دن آپ کے لیے گئی تھی جب آپ کے گھر لڑکی پیدا ہوئی تھی۔
شاہ نواز نے شبنم کا ہاتھ پکڑا اور اسے سٹور روم میں لے جا کر بند کر دیا۔
نگین اپنے شوہر کے پیچھے آئی تھی۔
میں اسے اپنے ہاتھوں سے نہیں مار سکتا لیکن اس نے میری عزت کو نیلام کیا ہے گاؤں والے اب مجھ پر ہنس رہے ہوں گئے۔
یہ کمرا بلکل بھی نہیں کھلے گا۔میری بڑی بیٹی آج اور اسی وقت مر گئی ہے اور اب میری صرف ایک ہی بیٹی ہے اگر کسی نے اس دروازے کو کھولنے کی کوشش کی تو میں اُس کی بھی جان لے لوں گا۔شاہ نواز نے سرد لہجے میں کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
شبنم میری بچی نگین نے دروازہ پیٹتے ہوئے کہا۔
امی میں ٹھیک ہوں آپ پریشان نا ہوں اندر سے شبنم کی آواز آئی تو اس کی ماں وہی زمین ہر بیٹھی رونے لگی تھی۔
اگلا پورا دن گزر گیا تھا۔سٹور روم کے دروازے پر لگے تالے کی چابی شاہ نواز کے پاس تھی سیرت اور شیریں نے دروازہ کھولنے کی بہت کوشش کی لیکن ناکام رہیں۔
سیرت کچھ کرو ورنہ آپی مر جائیں گئی۔شریں نے روتے ہوئے کہا۔
میں نے بہت کوشش کی لیکن یہ تالا نہیں کھل رہا سیرت نے بےبسی سے کہا۔
دوسری جانب نگین اور نیلم پوری کوشش کر رہی تھیں کہ ان کے شوہر شبنم کو معاف کر دے لیکن وہ تو دونوں لگتا تھا شبنم کو بھول چکے تھے۔
نگین رونا بند کرو اپنی طبیعت خراب کر لو گی۔نیلم نے بے بسی سے کہا۔
بھابھی میری بچی مر جائے گی آپ کچھ کریں نگین نے روتے ہوئے کہا۔
میں نے کوشش کی ہے سائیں سے بات کرنے کی لیکن وہ میری بات نہیں سن رہے۔اور ہم. لوگ اُسے باہر بھی نہیں نکال سکتے۔نیلم نے کہا۔
کتنے بےبس ہیں ہم؟ آپی کی مدد نہیں کر سکتے شریں نے اپنی ماں کو دیکھتے سیرت سے کہا جو خاموش رہی تھی انہوں نے ہر طرح کی کوشش کر کے دیکھ لی تھی لیکن ناکام رہی۔
دو دن مزید ایسے ہی گزر گئے تھے۔شاہ نواز سکندر اور ابتسام اسے برتاؤ کر رہے تھے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ہے۔لڑکے والوں سے شاہ نواز نے معذرت کر لی تھی کہ کسی مسئلے کے تحت وہ ابھی اپنی بیٹی کی شادی نہیں کر سکتے
اب تو نگین بھی بلکل ہی خاموش ہو گئی تھی۔
آپی شیریں نے دروازے کے پاس کھڑے ہوتے شبنم کو آواز دی لیکن اندر سے کوئی آواز نہیں آئی تھی۔یہ کمرہ بنایا ہی اس لیے گیا تھا کہ جو بھی اننکی بات نا مانتا اُسے اس کمرے میں قید کر دیتے۔
سیرت آپی جواب نہیں دے رہی پہلے وہ کچھ نا کچھ بول دیتی تھی لیکن کل بھی انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا اور آج بھی نہیں دیا۔
شیریں نے آنکھوں میں آنسو لیے سیرت کو دیکھتے کہا جو خود پریشان ہو گئی تھی۔
ہاں آج پورا ہفتہ ہونے والا ہے۔سیرت نے کہا۔
اتنے میں ملازمہ وہاں آئی تھی۔
بی بی جی یہ چھوٹے سائیں نے چابی دی ہے۔ملازمہ نے چابی سیرت کو پکڑائی جس نے جلدی سے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوئی تھی۔
شبنم دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھی ہوئی تھی۔شیریں نے آگے بڑھ کر شبنم کے کندھے پر ہاتھ رکھا جو اس کی طرف جھول گئی۔
چہرہ اس کا پیلا ہو رہا تھا۔
سیرت آپی کو کیا ہوا ہے شیریں نے شبنم کا سر اپنی گود میں رکھتے روتے ہوئے پوچھا۔
سیرت تو بس بت بنی کھڑی تھی۔
💜 💜 💜 💜 💜
آج آپ اتنے دونوں بعد میرے پاس آئے ہیں میں آپ کو اب جلدی واپس جانے نہیں دوں گی روبینہ نے شاہ نواز کو دیکھتے پیار سے کہا۔
تم جانتی ہو یہاں میں تمھارے پاس اپنی ٹینشن دور کرنے آتا ہوں۔
شاہ نواز نے مسکراتے ہوئے کہا۔
وہ ایک لڑکا آیا تھا آپ کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔
روبینہ نے جلدی سے کہا۔
کون تھا وہ؟ شاہ نواز نے سیدھا ہوتے پوچھا۔
پتہ نہیں میں نے اُس سے نام پوچھا تھا لیکن اُس نے نہیں بتایا اور میں نے کہہ دیا دیا کہ میں کسی شاہ نواز کو نہیں جانتی روبینہ نے شاہ نواز نے پاس بیٹھتے ہوئے کہا۔
یہ تو تم نے بہتر اچھا کیا۔
شاہ نواز نے روبینہ کو خود کے قریب کرتے کہا۔لیکن وہ سوچ میں پڑ گیا تھا کہ کون یہاں آیا تھا۔
میں آپ کے لیے چائے لاتی ہوں روبینہ نے اٹھتے ہوئے کہا لیکن شاہ نواز نے اسے بازو سے پکڑ کر روک لیا تھا۔
ابھی میرے پاس بیٹھی رہو شاہ نواز نے کہا تو روبینہ مسکرا پڑی تھی۔
میرا بیٹا کہاں ہے؟ شاہ نواز نے پوچھا تو روبینہ اسے بتانے لگی یہاں آکر شاہ نواز الگ ہی لگ رہا تھا۔
💜 💜 💜 💜
ابھی تک پتہ نہیں چل سکا کہ میرے بیٹے کی حالت یہ یس نے کی ہے چودھری نے دھاڑتے ہوئے اپنے آدمیوں کو کہا۔
کل رات کسی نے اس کے بیٹے کو اتنا مارا کہ اب وہ چل پھیر نہیں سکتا تھا کیونکہ زیادہ اس کی ٹانگوں پر مارا گیا تھا۔
چودھری صاحب ہم پوری کوشش کر رہے ہیں لیکن ابھی ےک کوئی سراخ ہمارے ہاتھ نہیں لگا۔
ان میں سے ایک آدمی نے کہا۔
کہی یہ کام سکندر اور شاہ نواز کا تو نہیں ہے چودھری نے سوچتے ہوئے کہا۔
ابو جان اگر یہ اُن کا کام ہوا تو میں اُن کو نہیں چھوڑوں گا۔بس آپ مجھے تھوڑا وقت دیں میں معلوم کرتا ہوں۔
چودھری کے بڑے بیٹے نے غصے سے کہا۔
چودھری صاحب کسی سوچ میں پڑ گئے تھے۔
