Jaan e Darkaf By Sajeela Nisar Readelle50121 Last Episode 31
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode 31
“یہ عدالت موسیٰ زار پٹھان کے اعتراف جرم اور بےشمار ان گنت قتلوں پر اسے سزائے موت یعنی پھانسی کی سزا سناتی ہے۔۔۔۔”
الفاظ تھے یا پگھلا ہوا سیسہ جو ان کے کانوں میں انڈیلا گیا تھا زوراشہ کو بامشکل زویا نے تھاما تھا جج نے ایک نظر سب کو دیکھا ایک سیکنڈ گہری خاموشی کے بعد ہلچل سی مچ گئی تھی اس نے پٹھان کو دیکھا جو بےتاثر نگاہوں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا جیسے وہ جج کے آگے کہے جانے والے الفاظوں سے واقف ہو
“میں جانتا ہوں۔۔۔۔۔”
جج کی دوبارہ بلند آواز پر وہاں خاموشی چھائی تھی
“میں جانتا ہوں سب ان الفاظوں کی توقع لگا کر بیٹھے تھے کہ پٹھان کے اعتراف جرم پر اسے سزائے موت دی جائے گی لیکن۔۔۔۔”
وہ پھر سے رکا تھا اور ماتھے پر جگمگاتی پسینے کی بوندوں کو رومال کی مدد سے صاف کیا تھا
“لیکن بذات خود میں نے اس کی جانچ پرتال کروائی کیونکہ اتنا بڑا گینگسٹر اچانک یوں کیسے تمام گناہ قبول کرتا خود گرفتاری دے سکتا ہے اور خود کو یوں موت کے منہ میں دھکیل سکتا ہے جبکہ وہ یہ بات بخوبی جانتا ہے کہ پورے ملک کی پولیس اسکی جان کی دشمن ہے تو کیسے وہ یوں بھری عدالت میں پیش ہوتے خود کے تمام جرائم قبول کر سکتا ہے۔۔۔۔۔”
جج پھر رکا تھا جیسے مناسب الفاظ ڈھونڈھ رہا ہو اس کا لہجہ اس بات کی گواہی تھا کہ وہ یہ الفاظ زبردستی اپنی منہ سے ادا کر رہا تھا
“اور عدالت کا قانون ہے ہر چیز کی مکمل چانچ پرتال کی جائے۔۔۔۔”
وہ پھر سانس لینے کو رکا تھا
“تو چانچ پرتال سے یہ ظاہر ہوا کہ اج تک جتنے بھی قتل موسیٰ زار پٹھان نے کئیے ان میں کوئی بھی بےگناہ شامل نہیں تھا وہ تمام بڑے بڑے ملک کے غدار تھے ان میں زانی مرد جو بہت سی معصوم عورتوں کی زندگیاں برباد کر چکے تھے قاتل مرد جو بہت سے گھروں کو اجاڑ چکے تھے اور ملک کے خبری جو ہمارے ملک سے غداری کرتے دوسرے ملکوں کو فائدہ پہنچا رہے تھے۔۔۔۔۔”
اس نے پٹھان کو دیکھا جو کہہ رہا ہو جلدی سے بات مکمل کرو مجھے اور بھی کام ہے جج اس کے تاثرات کی چانچ پرتال کرتا ہونٹ بھینچ کر رہ گیا تھا
“اگر ہماری ناقص پولیس اپنا کام اچھے طریقے سے سر انجام دیتی تو یوں کسی شخص کو حق کے لیے اٹھنا نا پڑتا جبکہ پولیس اپنی کام چوری کو چھپانے کے لیے موسیٰ زار پٹھان کو ملک کا گینگسٹر قرار دے گئی جو سراسر غلط تھا ہاں پٹھان کا طریقہ بھی زرا غلط تھا لیکن ہمارے ملک کی عوام کی دعائیں اور ان کی بےچینی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ موسیٰ زار پٹھان نے کبھی کسی بےگناہ کا خون نہیں بہایا بلکہ اللہ کے بعد ان کا سہارا بنا ان کا مسیحا بنا ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے۔۔۔۔”
ایک بار پھر سے وہاں خاموشی چھائی تھی عدالت میں موجود تمام حضرات دم سادھے جج کے فیصلے کے منتظر تھے جج دوبارہ سے اپنے قلم کو رکھ چکا تھا
“عدالت موسیٰ زار پٹھان کو رہا کرنے کا فیصلہ کرتی ہے لیکن سزا کے طور پر اسے اس ملک سے دربدر کرنے کا حکم بھی دیتی ہے اور اگر کبھی موسیٰ زار پٹھان مستقل طور پر اس ملک میں دوبارہ نظر آئے تو اسے گرفتار کرنے کے ایک دن بعد سرعام پھانسی چڑھانے کا بھی فیصلہ سناتی یے۔۔۔۔۔”
جج نے اپنا فیصلہ سناتے قلم کی نوک توڑتے گہرا سانس بھرا تھا جبکہ وہاں سب میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی زوراشہ نے نم آنکھوں سے زویا کو گلے لگایا تھا
“عدالت برخاست ہوئی۔۔۔۔۔۔”
جج اپنی نشست سے اٹھتا وہاں سے چلا گیا تھا عدالت دھیرے دھیرے خالی ہو رہی تھی جبکہ زوراشہ پٹھان کے سینے سے لگی رونے میں مصروف تھی
“مر جاتا تب بھی رونا تھا اب زندہ ہوں تب بھی رو رہی ہو چاہتی کیا ہو قربان۔۔۔۔۔”
پٹھان اس کی پیٹھ سہلائے بولا تو وہ اس کے سینے پر مکا برساتی گھورتے ہوئے پیچھے ہوئی تو زویا داود سے ملنے کے بعد بہرام کے گلے سے لگا تھا
“جج کے بچے بیوی اس کے گھر پہنچا دینا یہ نہ ہو باہر گرا پڑا ہو وہ۔۔۔۔”
پٹھان بہرام کے گلے لگا آہستہ آواز میں بولا تو وہ ہنسا تھا
“داود خان پہلے ہی پہنچوا چکا ہے۔۔۔۔”
بہرام کی بات پر اس نے پیچھے ہوتے سر کو اثبات میں ہلایا اور داود کو دیکھا جس نے آنکھ دبائی تھی مطلب صاف تھا کہ “موسیٰ زار پٹھان بہت بڑی ایٹم ہے”
وہ لوگ عدالت سے تو ایک کثیر تعداد میں عوام اس کی منتظر تھی پٹھان نے مسکرا کر انہیں دیکھا تھا جو پولیس کے گھیرے سے نکلتے اس تک پہنچنے کی کوشش میں تھے
“ہم آپ کو ملک دربدر ہونے نہیں دیں گے آپ نے ہماری بہت مدد کی ہے اللہ کے بعد ہمارا مسیحا بنے ہیں۔۔۔۔۔”
ایک بلند آواز گونجی تھی
“میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ ملک چھوڑ دوں ایک نئی زندگی چاہتا ہوں میں جاونگا تو نیا موسیٰ زار پٹھان آئے گا اللہ اپنے بندوں کی مدد کا وسیلہ کسی نہ کسی طرح بنا ہی دیتا ہے میں تو خاک برابر انسان میری کیا اوقات اس رحیم ذات کے سامنے الحمدللہ۔۔۔۔۔”
پٹھان نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھا تھا
“الحمدللہ ہمارا ایمان ہے اور اللہ اپنے ایمان رکھنے والے بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا اگر جان سوالی پر بھی لٹکی ہو وجود سے روح فنا بھی ہو رہی ہو تو اس وقت بھی اللہ پر سے یقین کسی صورت نہ ہٹانا اللہ قرآن میں بھی کہتا ہے۔۔۔۔”
پٹھان رکا تھا
“اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد چاہو بےشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے”
………………………………
“چھ سال بعد”
لندن کی ترچھی بنی عمارتوں کے درمیان صاف خالی سڑک جہاں نہ کوئی بندہ اور نہ بندے کی ذات تھی ایک بچہ جو دکھنے میں لگ بھگ پانچ سال کا تھا اس خالی سڑک پر اردگرد دیکھ کر مسلسل بھاگ رہا تھا چہرے پر پریشانی کا شکن تک نہ تھا البتہ ماتھے پر بل اور چہرا سورج کی تپش اور بھاگنے کے باعث سرخ تھا
وہ بچہ ایک گلی کی جانب مڑا تو سامنے سے آتی شخصیت سے بری طرح ٹکراتا نیچے گرا تھا اس بچے نے چہرا اٹھائے گھورتے ہوئے اس آدمی کو دیکھا جو لگ بھگ تیس پینتیس سال کا معلوم پڑتا تھا
“آر یو اوکے۔۔۔۔۔۔؟”
وہ آدمی تھوڑا نیچے جھکتا پریشانی سے انگلش میں بولا تھا
“یس آئی ایم فائن۔۔۔۔”
وہ لیے دیے انداز میں جواب دیتا سڑک سے اٹھتا اپنے کپڑے صاف کرنے لگا تھا جو گندے نظر نہیں آرہے تھے
“تم یہاں کیا کر رہے ہو وہ بھی اکیلے۔۔۔؟”
اس آدمی نے اردگرد دیکھتے پوچھا جبکہ اس بچے کو اس کے اردو لب و لہجے پر حیرت ہوئی لیکن پھر سر جھٹکا تھا
“میرا ماں باپ گم گیا ہے۔۔۔”
اس بچے نے ماتھے پر بل ڈالے کہا جبکہ اس آدمی کو حیرت نے آن گھیرا تھا
“آپ کے ماں باپ گم گئے ہیں یا آپ ان سے کھو گئے ہیں۔۔۔۔؟”
اس آدمی نے اسے کندھوں سے تھامے محبت سے لبریز لہجے میں پوچھا تھا
“وٹ ایور۔۔۔۔”
اس بچے نے کندھے اچکائے کہا
“چلیں ہم دونوں آپ کے پیرنٹس کو ڈھونڈھتے ہیں۔۔۔۔”
اس آدمی نے خوش اخلاقی سے کہا تھا
“میں خود ڈھونڈھ سکتا ہے مجھے کسی کا ضرورت نہیں۔۔۔۔”
وہ روکھے پیکھے انداز میں بولا تھا
“سوہم۔۔۔۔۔”
اس سے پہلے وہ آدمی کچھ بولتا سوہم کے نام کی پکار پر دونوں نے اس سمت دیکھا تھا جہاں پٹھان تو چلتا ہوا جبکہ زوراشہ بھاگتے ہوئے اس کے پاس آرہی تھی
“میرے بچے کہاں چلے گئے تھے تم۔۔۔۔؟”
زوراشہ نیچے بیٹھتی اس کے چہرے پر محبت کرتی اس کو گلے سے لگاتی ساتھ رونے میں مصروف تھی
“از دس یور چائلڈ۔۔۔۔؟”
پٹھان کے قریب آتے ہی اس آدمی نے انگریزی میں پٹھان سے پوچھا تھا
“یس الحمدللہ۔۔…”
اس نے سر کو خم دیتے ہوئے کہا
“ہی از ویری بریو۔۔۔۔”
اب کہ اس نے داد دیتی نظروں سے سوہم کو دیکھتے کہا تو پٹھان کے لب مسکرائے تھے
“شکر الحمدللہ۔۔۔۔”
وہ مسکراتے ہوئے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا
“گڈ ڈے۔۔۔۔”
وہ شخص پٹھان سے سلام لیتا چلا گیا تھا
“ماما بس کرے کتنا روئے گا تم۔۔۔۔”
سوہم اپنے گلے سے لگی ماما کو مسلسل روتے دیکھ اکتا کر بولا تھا تو وہ اس سے الگ ہوتی اپنے آنسوؤں صاف کئیے تھے
“مائے لائن۔۔۔۔۔”
پٹھان نے آگے بڑھتی سوہم کو اٹھاتے ہوئے کہا تو وہ اس کے گلے لگا تھا اور پھر کچھ یاد آنے پر پیچھے ہوا
“میں تو لائن ہی ہوں پر تمہارا بیوی کس پر گیا ہے کتنا روتا رہتا ہے اسے کہو میں بڑا ہوا ہوں اپنا یوں آنسووں میری پریشانی میں ضائع نہ کیا کرے۔۔۔۔”
اس کی بات پر جہاں پٹھان کا وہاں خالی سڑک پر بلند قہقہ گونجا تھا وہی زوراشہ منہ کھولے اپنے اس پٹاخہ بیٹے کو دیکھنے لگی
“اتنے بھی بڑے نہیں ہوئے ابھی تم۔۔۔۔”
اس نے گھورتے ہوئے کہا
“وہ تو تم بڑا نہیں ہونے دیتا نہ۔۔۔۔”
اس کی بات پر پٹھان نے پوری شدت سے اس کی گال چومی تھی جبکہ وہ شکوہ کناں نظروں سے دونوں کو دیکھتی وہاں سے پلٹی تھی وہ چند لمحے اوجھل ہوا تو کتنا روئی کتنا پریشان ہوئی تھی لیکن اس کے بیٹے نے کتنی آسانی سے کہہ دیا تھا کہ رویا نہ کرے
“لگتا تمہارا بیوی ناراض ہو گیا ہے۔۔۔۔۔”
سوہم موسیٰ کے کان میں گھستے ہوئے سرگوشی میں بولا
“بیٹا تمہارا تو کچھ نہیں جانا پر تمہارے باپ کی خیر نہیں۔۔۔۔”
پٹھان بڑبڑایا تو اور سوہم کو ویسے ہی اٹھائے اس کے پیچھے بڑھا تھا
“قربان۔۔۔۔۔”
اس سے پہلے پٹھان زوراشہ کو پکارتا سوہم پٹھان چلایا تھا پٹھان نے جلدی سے اس کے منہ پر ہاتھ رکھا اور مسکینیت سے اسے دیکھا جبکہ سوہم کے منہ سے خود کو قربان کہنے پر وہ پلٹی تھی اور دونوں کو ایسے دیکھا جیسے کچا چبا جائے گی
“میں نے نہیں کہا اسے یہ خود بولا ہے۔۔۔۔۔”
پٹھان نے مظلومیت سے اسے دیکھتے ہوئے کہا کیونکہ زوراشہ کو سخت غصہ آتا تھا جب پٹھان کے دیے ناموں سے کوئی اور اسے پکارتا تھا بےشک وہ خود اس کا بیٹا ہی کیوں نہ ہو اسی لیے جان بوجھ کر چڑانے کے لیے اکثر پٹھان سوہم سے اسے ایسے بلانے کو کہتا تھا لیکن آج اس نے موقع پر چوکا مارتے بڑی مہارت سے پٹھان کو پھنساتے ہوئے یہ بتایا تھا کہ وہ بھی اسی کا بیٹا تھا
“میں گھر جا رہی ہوں دونوں میں سے کوئی آیا گھر تو خیر منا لینا باہر بندوبست کرو دونوں۔۔۔۔”
وہ انگلی دکھا کر بولتی تیز تیز قدم لینے لگی تھی
“ماما پاپا کا سامان باہر رکھ دینا وہ تو باہر ہی رات گزارے گا نہ۔۔۔۔۔”
اس نے آنکھیں پٹپٹاتے کہا جبکہ زوراشہ مٹھیاں بھینچے مزید تیز قدم لینے لگی اور پٹھان کا دل کیا اپنا سر پیٹ لے
“یا تم بیٹے ہو نہ میرا ہی خون ہو نہ۔۔۔۔؟”
پٹھان کو لگا شاید غلطی سے ان کا بیٹا تبدیل ہو گیا ہو یا اس کے گناہوں کی سزا اسے پٹاخہ بیٹے کی صورت مل رہی ہو
“تمہارا ہی خون ہے اسی لیے تو جوش مارتا ہے۔۔۔۔”
سوہم اسے سمجھانے والے انداز میں بولا تھا
“اچھا میرے باپ۔۔۔۔۔”
اس نے ٹھنڈی آہ بھرتے کہا تھا اور اگے بڑھنے لگا
“تم میرا باپ ہے میں نہیں۔۔۔۔۔”
وہ اس کا چہرہ اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے خود کی جانب موڑتے بولا جس نے بےبسی سے سر اثبات میں ہلایا تھا گویا کہنا چاہتا ہو بیٹا میں ہی تیرا باپ ہوں اب بخش دے
“چلو بیکری چلتے ہیں تمہاری ماما کے لیے بھی کچھ خریدتے کیں اور تمہارے لیے بھی پھر تھوڑا لمبے چکر سے گھومتے گھر جائیں گے تب تک تمہاری ماما کا آدھا غصہ جو تم پر ہو گا وہ ٹھیک ہو جائے گا جبکہ میرے حصے کا غصہ تو دس سال بعد بھی جاوں تو برداشت کرنا ہو گا۔۔۔۔”
آخری بات اس نے منہ میں بڑبڑائی تھی جس پر وہ کھلکھلاتا اس کے گلے میں باہیں ڈالیں تھی تو پٹھان بھی مسکرا دیا تھا
عدالت کے فیصلے کے مطابق وہ لوگ پاکستان چھوڑ چکے تھے اور دو دونوں میں ہی لندن شفٹ ہو گئے تھے جبکہ پٹھان کا یہاں بہت بڑا ریسٹورنٹ اور اس کے ساتھ شاپنگ مال تھا جہاں وہ خود تو نہیں البتہ بہرام کی نگرانی میں باقی ورکرز کام کرتے تھے بہرام نے اس کی جان کسی صورت نہیں چھوڑی تھی جبکہ داود اور زویا کبھی لندن تو کبھی پاکستان پائے جاتے تھے اور آفشاں کا گھر موسیٰ کے گھر کے ساتھ ایک ہی دیوار باہر کا بڑا گیٹ بھی ایک ہی تھا البتہ اندر جاتے ہی داخلی دروازے الگ ہو جاتے تھے
………………………………
داود بیڈ پر لیٹا مشکل سے نیند سے بھری آنکھیں کھولنے کی کوشش کر رہا تھا جبکہ شاہزیب خان اس کے سینے پر لیٹا اسے تنگ کرنے میں مصروف تھا جب اس کی زرا سی آنکھیں بند ہوتی تو فوراً اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے اس کے منہ پر مارتا اسے جگا دیتا
“سونے دے شاہزیب خان بہت نیند آ رہا ہے۔۔۔۔”
“نہ با۔با۔۔۔۔”
وہ دوبارہ سے اس کے منہ پر مارتا ٹوٹے پھوٹے الفاظوں میں بولا وہ جھوٹا سا شاہزیب دکھنے میں دو سال کا تھا
“بابا مورے نے مارا ہے۔۔۔۔۔”
ابھی وہ اس چھوٹی آفت کو سنبھال رہا تھا کہ چار سالہ ہیزل زوروشور سے روتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی تو داود نے ہاتھ بیڈ پر پھلائے اسے اپنے پاس آنے کا اشارہ کیا تو وہ روتی ہوئی بیڈ پر چڑھتی اس کے سینے میں منہ چھپائے مزید بلند آواز میں رونے لگی تھی
“ہیلی۔۔۔۔”
شاہزیب نے اپنی طرف سے اس کا نام درست لینے کی بھرپور کوشش کرتے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا
“ہیلی نہیں ہیزل۔۔۔…”
ہیزل نے داود کے سینے سے سر اٹھائے اس کے منہ پر تھپڑ مارتے کہا جبکہ داود تو گویا سکتے میں چلا گیا ہو
“بب-بابا۔۔۔۔۔”
داود جو ابھی تک صدمے میں تھا شاہزیب کے بابا کہنے اور ہونٹ نکال کر آنکھیں ملنے پر وہ ہوش کی دنیا میں آیا اور فوراً سیدھا ہوتے اس کو سائیڈ پر کیا جبکہ وہ بھی گلا پھاڑتا شروع ہو چکا تھا
“ہیزل یہ کیا حرکت ہے بھائی ہے تمہارا۔۔۔۔۔۔”
اب کہ وہ غصے سے ہیزل سے بولا تھا جو اپنا رونا بھولے اپنے بھائی کو مارنے کے بعد اسے روتے ہوئے دیکھ رہی تھی جبکہ داود کے غصے سے ڈانٹنے پر وہ دوبارہ رونا شروع ہو چکی تھی
“مورے بابا نے ڈانٹا ہے۔۔۔۔”
وہ روتے ہوئے حلق کے بل چلائی تھی جبکہ داود اب پریشانی سے اپنے دونوں بچوں کو دیکھ رہا تھا جو رونے میں مصروف تھے
“میرا بچہ چپ ہو جائے ورنہ بابا پاگل ہو جائے گا۔۔۔۔”
داود کی حالت واقع ہی پاگل جیسی لگ رہی تھی
“بابا ڈانٹتا ہے پیار نہیں کرتا۔۔۔۔۔”
ہیزل ہچکیاں بھرتے بولی
“زویا زویا۔۔۔.”
داود ان دونوں سے پریشان ہوتا بلند آواز میں زویا کو پجارا تھا جو پہلے ہی دروازے کے سائیڈ پر کھڑی تھی اس کے بلانے پر تھوڑا آگے ہوئی کہ داود کو نظر سنے لگی
“کیا کھا کر پیدا کیا ہے تم ۔۔۔؟”
وہ جھنجھلایا سا بولا تھا تو وہ خفگی سے اسے دیکھتی آگے بڑھی اور بیڈ کے قریب کھڑی ہوتی شاہزیب کو اپنی جانب کھینچتے اسے سینے سے لگایا اور ہیزل کے لیے بھی اپنی باہیں پھیلائیں تو وہ بھی روتے ہوئے اٹھ کر اس کے گلے لگی تھی
“بس کرو دونوں۔۔۔۔۔”
زویا نرمی سے بولی تھی جبکہ داود بیڈ پر لیٹا ان تینوں کو دیکھ رہا تھا
“ما۔ما ہیلی مارا۔۔۔۔۔”
شاہزیب روتے ہوئے اب زویا سے شکایت کر رہا تھا
“اچھا میرا بچہ چپ اب نہیں مارے گی میں روکوں گی۔۔۔۔”
وہ شاہزیب کے آنسووں ایک ہاتھ سے نرمی سے صاف کرتے بولی تھی
“موری یہ میرا نام غلط لیتا ہے اور پھر تم مارا تھا اور پھر بابا نے بھی ڈانٹا ہے۔۔۔۔”
اب ہیزل بھی اس سے شکایت لگا رہی تھی جس پر اس نے سر اثبات میں ہلایا اور اس کی گال چومی تھی
“اب نہیں مارتی۔۔۔۔”
وہ اس کی دوسری گال بھی چومتے ہوئے بولی جس ہر اب دونوں خاموش ہوتے اس کے گلے لگے تھے داود نے محبت سے ان تینوں کو دیکھا اور آنکھیں موندیں تھیں کیونکہ نیند سے اس کی بینڈ بج رہی تھی زویا نے ایک نظر داود کو دیکھا جس کی سانسیں بھاری ہو گئی تھی پھر خاموشی سے شاہزیب کو گود میں اٹھاتی ہیزل کا ہاتھ پکڑے کمرے سے نکلی تھی
زویا تقریباً بیس منٹ بعد ان دونوں کو دوسرے کمرے میں سلاتی واپس اپنے کمرے میں آئی تو اب داود کروٹ لئیے سو رہا تھا وہ مسکراتی ہوئی بیڈ پر بیٹھی اور اس کے بالوں میں انگلیاں چکانے لگی تھی داود نے اپنے بالوں میں لمس محسوس کرتے دھیرے سے آنکھیں کھولیں اور زویا کو دیکھتے اس کی گود میں سر رکھے دوبارہ سے آنکھیں موند گیا تھا
“آئی لو یو سویٹ ہارٹ۔۔۔۔۔”
زویا نے چہرہ جھکائے اس کے کان میں جھکتے کہتے شدت سے اس کی کنپٹی کو چوما تھا
“میں نیند قربان کر سکتا ہے میرا جانم۔۔۔۔۔”
داود کی نیند سے بھری آواز گونجی تو اس کی بات کا مطلب سمجھتے وہ زور سے ہنسی تھی جبکہ داود بھی مسکرایا تھا
“دو سنبھالے نہیں جاتے آئے بڑے نیند قربان کر سکتے ایک کیپٹن جو مجرموں کو تگنی کا ناچ نچوا دے اسے اس کے دو ثبوت ناگن ڈانس آسانی سے کروا دیتے ہیں۔۔۔۔۔”
زویا کے ہنس کر کہنے پر اس کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی
“تگنی کا ناچ کا مطلب کیا ہے۔۔۔۔۔؟”
وہ سیدھا ہوتے بند آنکھوں سے ہی بولا تھا
“گوگل کر لیجئیے گا۔۔۔۔”
زویا نے دوبارہ سے اس کی ناک پر اپنے لب رکھے تھے
“تیسرے کی پلیننگ پر اب تم خود مجھے امادہ کر رہا ہے۔۔۔۔۔”
ایک منٹ کی خاموشی کے بعد داود بولا تھا کیونکہ اس کی بیچ میں ہی آنکھ لگ رہی تھی
“محبت کر رہی ہوں۔۔۔۔۔”
وہ دوبارہ سے جھکتی اسکی تھوڑی پر لب رکھے بولی
“آئی ول آنس یو لیٹر سویٹ ہارٹ بی ریڈی۔۔۔۔”
وہ اس کا ہاتھ اپنے لبوں سے لگانے کے بعد اپنی آنکھوں پر رکھتے بولا تو وہ مسکرا کر خاموش ہو گئی تھی جانتی تھی داود کو نیند بہت ستا رہی ہے
………………………………
پٹھان سوہم پٹھان کو آفشاں کے پاس چھوڑتے کمرے میں آیا تو زوراشہ کپڑے پریس کر رہی تھی اس نے اس کے پیچھے جاتے اسے ہگ کیا تو وہ مسکرائی تھی
“خفا تو نہیں۔۔۔۔؟”
اس نے اس کے ہاتھ سے استری تھامے سٹینڈ پر رکھتے اس کا سوئچ اتارے پوچھا تو اس نے نفی میں سر ہلایا تھا پٹھان نے ہاتھ میں پکڑا شاپر اس کے سامنے کیا جس میں کھانے کا بہت سامان تھا زوراشہ کی مسکراہٹ گہری ہوئی اور اس تھامتے پلٹی تھی
“اس میں آدھے سے زیادہ چیزیں تو آپ کے بیٹے کی ہونگی۔۔۔۔۔”
زراشہ نے بنا شاپر میں دیکھے کہا تھا کیونکہ وہ جانتی تھی ایسا ہی تھا تو اس نے مسکراتے کندھے اچکائے تھے
“آج سوہم مورے کے پاس ہے اتنا وقفہ کافی نہیں کیا اب سوہم اور اگلے بچے میں۔۔۔۔”
پٹھان اس کے گردن سے بال ہٹاتے وہاں ناک رگڑتے بولا تھا جبکہ اس کا مطلب سمجھتی بےساختہ پلکوں کی باڑ گرا گئی تھی
“داود کو دیکھو نہ کمینے نے دو بچے پیدا کر لیے اور واللہ تم مجھے قریب آنے نہیں دیتی۔۔۔۔”
اب کہ اس نے شکوہ کیا تھا
“زیادہ بنو نہیں کتنا جھوٹ بولتے ہو موسیٰ زار پٹھان۔۔۔۔”
وہ اسے آنکھیں دکھاتے بولی
“بننے دو چپ رہو آج تم بس آج موسیٰ کی رات ہے آج پٹھانی منہ پر ٹیپ لگا لے۔۔۔۔”
پٹھان اسے مزید قریب کرتے ایک ہاتھ اس کی کمر جبکہ دوسرے ہاتھ کی انگلیاں اس کی انگلیوں میں پھنسائیں تھیں
“بابا۔۔۔۔۔”
پٹھان جو زوراشہ کے چہرے پر جھکا ہوا تھا سوہم کی آواز پر ایک سیکنڈ کی بھی دیری سے زوراشہ سے دور ہوا تھا جبکہ زوراشہ نے شرم سے نظریں جھکائیں تھی
“کک-کیا ہوا میرے پٹھان۔۔۔۔؟”
موسیٰ تو خود بھی گڑبڑا گیا تھا اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتے وہ اس کے پاس گیا اور نیچے بیٹھتے اسے کندھوں سے تھامے پوچھا تھا
“ماما کو کیا ہوا ہے۔۔۔۔؟”
سوہم نے زوراشہ کے سرخ چہرے اور نظریں جھکائے دیکھ پٹھان سے پوچھا جو خود بھی شرمندہ تھا کم از کم انہیں دروازہ لاک کرنا چاہیے تھا لیکن اسے لگا سوہم آفشاں کے پاس ہی رہے گا
“کچھ نہیں ہوا میرے لائن۔۔۔۔”
پٹھان نے اسے اٹھاتے ہوئے کہا اور زوراشہ کے پاس آیا جو اب اپنی خفت مٹانے کی کوشش کرتی مسکرا کر اسے دیکھ رہی تھی
“پھر سے رویا ہے تم۔۔۔۔”
سوہم تھوڑا آگے ہوتے اس کے چہرے کو دونوں ہاتھوں سے تھامے پوچھنے لگا جس نے نفی میں سر ہلایا تھا
“آج میں یہاں سووں گا بابا پاس۔۔۔۔”
سوہم پٹھان کی گود سے اترتا بیڈ پر پھیل کر لیٹتا ہوا بولا
“تو تمہاری ماما کہاں سوئے گی۔۔۔۔؟”
“وہ اپنی ماما پاس سو جائے گا۔۔۔۔۔”
وہ مزید ٹانگیں اور ہاتھ پھلائے بولا تھا تو پٹھان نے زوراشہ کو دیکھا جو خاموش کھڑی اپنے بیٹے کو دیکھ رہی تھی
“ہم تینوں سو جاتے ہیں یہاں جیسے پہلے سوتے تھے۔۔۔۔۔”
پٹھان نے گویا مشکل آسان کرنا چاہی تھی
“نو ماما یہاں نہیں نہیں سوئے گا۔۔۔۔”
وہ ماتھے پر بل ڈالے بولا تو زوراشہ بہرا سانس بھرتی خاموشی سے کمرے سے نکل گئی تھی پٹھان نے پریشانی سے اس کی پشت کو دیکھا اور پھر سوہم کو جو خود بھی اسے دیکھ رہا تھا
“تمہاری ماما ناراض ہو گئی ہیں دل دکھا ہے ان کا کیوں کیا تم نے ایسا۔۔۔۔۔؟”
پٹھان نے نرمی سے اس سے پوچھا
“وہ تو ہر وقت ناراض ہو جاتا ہے جب دیکھو تب ناراض میں اب اپنے بابا پاس سو بھی نہیں سکتا۔۔۔۔”
سوہم کے بل گہرے ہوئے اور وہ تقریباً چلایا تھا پٹھان نے اس کے چلانے پر مٹھیاں بھینچی تھیں اور غصے سے سوہم کو دیکھا
“تمیز سے بات کرو خاص کر زوراشہ کے بارے میں جتنی بھی محبت ہے تم سے لیکن وہ میری بیوی ہے میں اس کے خلاف بدتمیزی کیا ایک لفظ برداشت نہیں کرونگا چاہے وہ میرا بیٹا ہی کیوں نہ کہے دوبارہ کوئی بھی بات کہی تو زبان کھینچ لوں گا۔۔۔۔”
پٹھان غصے سے بولا تھا جبکہ اس کے غصے سے یوں کہنے پر اس کی آنکھیں نم ہوئیں تھی
“آئی ہیٹ یو بابا۔۔۔۔”
سوہم آنکھوں پر بازو رکھتے روتے ہوئے بولا تھا جیسے وہ اسے آنسوؤں نہ دکھانا چاہ رہا ہو وہ اپنی طرف سے اس عمر میں ہی سخت دل بننے کی کوشش کرتا تھا وہ کوشش کرتا تھا بڑی سے بڑی بات ہی کیوں نہ ہو جائے وہ نہ روئے پٹھان نے چند لمحے اسے دیکھا پھر آگے بڑھتے اسے بیڈ سے اٹھایا اور کمرے سے نکلا تھا جبکہ وہ اس کے کندھے پر سر رکھا سسک رہا تھا پٹھان ساتھ والے کمرے میں آیا تو زوراشہ سر تک کمبل تانے لیٹی تھی یقیناً وہ بھی رو رہی تھی
پٹھان نے اسے اس کے ساتھ لیٹایا اور دوسری جانب خود آکے لیٹا تھا
“تم دونوں اگر چپ نہ ہوئے تو میں بھی رونے لگ جاونگا۔۔۔۔”
پٹھان ان دونوں کو روتے دیکھ جھنجھلا کر بولا تو زوراشہ نے سر سے کمبل اتارے نم آنکھوں سے پٹھان کو دیکھا جو بےتاثر نگاہوں سے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا
“بابا نہیں روتا ہوتا۔۔۔۔”
سوہم آنکھوں کو سختی سے رگڑتا ہوا معصومیت سے بولتا دونوں کو مسکرانے پر مجبور کر گیا تھا اور پھر زوراشہ نے اسے پیار کرتے دونوں کے درمیان لیٹایا تھا اب ایک طرف پٹھان اور ایک طرف زوراشہ جبکہ درمیان میں سوہم پٹھان موجود تھا
“ماما تم کو پتا بابا نے کیا کہا۔۔۔”
سوہم نے اسکا چہرہ تھامتے کہا اور پھر وہ پٹھان کی ڈانٹ کو بڑھا چڑھا کر زوراشہ سے شکایت لگانے لگا تھا جس کو وہ سن کر مسکرا دیتی یا کہہ دیتی کہ ہم آپ کے بابا سے بات نہیں کریں گے ان دونوں کی باتوں کا طویل سلسلہ شروع ہو چکا تھا پٹھان نے مسکرا کر اپنی کل کائنات کو دیکھا تھا وہ سب کچھ چھوڑ کر ایک عام انسان کی زندگی گزارتا بہت مطمئین تھا یہ سچ تھا اس نے آج تک کبھی بےگناہ کا خون نہیں بہایا تھا اسی بات پر اسکا دل اطمینان پر تھا اور وہ اپنی فیملی کے ساتھ خوش تھا
ختم شدہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
………………………………
