Jaan e Darkaf By Sajeela Nisar  Readelle50121

Jaan e Darkaf By Sajeela Nisar Readelle50121 Last updated: 26 July 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Jaan e Darkaf

By Sajeela Nisar

یہ خوبصورت سورج جو پورا دن اپنی چمک دیکھاتا جو عروج کی حدوں کو چھوتا ہے لیکن شام ڈھلتے ہی یہ بھی اپنے زوال کو پہنچ جاتا ہے کیونکہ اسے بھی عشق ہے چاند سے٫ چاند کو عروج بخشنے کے لیے وہ ہٹ جاتا ہے تھوڑا پیچھے کہ دیکھ سکے اپنے عشق کو یوں رات کی تاریخی میں چاروں سو اپنا حسن بکھیرتے یہ عشق کمبخت ہوتا ہی ایسا ہے کہاں خیال رہتا ہے خود کی ذات کا اس میں تو بس یہ ہے کہ میں کچھ نہیں "سب تو ہی تو ہے"

ناجانے وہ کتنے سالوں بعد یا یوں کہو ایک عمر گزارنے کے بعد کھلے آسمان کی نیلی چادر تلے بیٹھا اپنے سامنے تاروں نیں گھرے اس مکمل چودھویں کے چاند کو تک رہا تھا اس نے چاند کو دیکھتے دیکھتے ایک گہرا سانس بھرا گویا ہر چیز سے تھک گیا ہو صرف سکون چاہتا ہو بس

بہرام خان جو ساری سیکیورٹی چیک کرتا گارڈن میں تازہ ہوا لینے آیا تھا پٹھان کو وہاں یوں بیٹھے دیکھ چونکا تھا چونکنا بھی برحق تھا بھلا اس نے اس عرصے میں کب یوں پٹھان کو بیٹھے دیکھا تھا وہ بھی خاص تر چاند کو تکتے

"بہرام خان سوچوں کو جھٹکتے ہوئے جس لیے آئے ہو وہ کام کر سکتے ہو۔۔۔۔" پٹھان کی آواز پر وہ مزید چونکا پھر سر جھٹکا جانتا تھا وہ اس کی آہٹ سے جان چکا تھا "آپ آج یہاں کیا کر رہا ہے۔۔۔؟" وہ پٹھان سے تھوڑا فاصلے پر کھڑے ہوتے پوچھنے لگا تھا جس نے اس کے سوال پر اپنا چہرہ جھکائے تھکا سا سانس لیا تھا

"تھک گیا ہوں میں بہرام خان دنیا کو اپنی آنکھ سے جلا کر راکھ کر دینے والا دل میں جلتی آگ کو کیسے بھجائے اس سلگتی آگ نے میرے تن بدن کو جھلسا کر رکھ دیا ہے..." وہ اپنے دل میں اٹھتے طوفان کی زد میں آیا بہرام خان سے کہتا اپنا دل ہلکا کر رہا تھا اور اس کے الفاظ سنتے بہرام خان کی حیرت کی انتہا نہ رہی تھی وہ جو چٹانوں سی مضبوطی رکھنے والا شخص تھا یوں خود میں چھڑتی جنگ میں الجھا ہوا تھا کوئی بھی نہیں سوچ سکتا

پٹھان کرسی سے اٹھا تھا اور ایک نظر اسے حیرت میں مبتلا دیکھا تو ہونٹوں پر تبسم پھیلتے ختم ہو گیا تھا "یوں مراقبے میں مت جاو سو جاو۔۔۔" وہ یہ کہتا اس کے پاس سے گزرا تھا "آپ کہاں جا رہے ہیں۔۔۔؟" وہ بےاختیار پوچھ بیٹھا تھا

"اس سلگتی آگ کو بھجانے۔۔۔۔" پٹھان کی بات سنتے وہ جھنجھلایا تھا اس سے پہلے وہ مزید کچھ بولتا پٹھان کا سایہ بھی اس کی نظروں سے اوجھل ہو گیا تھا .................................... رات کا دوسرا پہر چل رہا تھا پر مجال ہے کہ زوراشہ کو نیند آن گھیرے وہ دس بجے سے لیٹی سونے کی کوشش نیں ہلکان ہو رہی تھی اور رات کا دوسرا پہر شروع ہو گیا تھا اسے یوں ایک سے دوسری جانب کروٹیں بدلتے وہ سختی سے آنکھیں میچیں لیٹی نیند کو خود پر مہربان کروانے کی کوشش کر رہی تھی

"تم موسیٰ زار پٹھان کی ملکیت ہو بیوی ہو تم پٹھانی ہو میری پٹھان کی پٹھانی۔۔۔" کان میں گونجتے پٹھان کے الفاظوں نے اسے پٹ سے آنکھیں کھولنے پر مجبور کر دیا تھا

"موسیٰ زار پٹھان۔۔۔۔" اس نے زیر لب اس کا نام بڑبڑایا تھا "جی میری جان۔۔۔۔۔" اپنے کان کے قریب سرگوشانہ آواز سنتے اس کے حلق سے چینخ برامد ہوئی لیکن موسیٰ نے بروقت اس کے منہ پر اپنا بھاری برکم ہاتھ رکھتے اس دل خراش چینخ کو روکا تھا

زوراشہ پانچ سو کی سپیڈ سے دھڑکتے دل اور خوف سے پھیلی آنکھوں ہلکے لیمپ کی روشنی سے اپنے اوپر جھکے پٹھان کو دیکھ رہی تھی جو خاموشی سے اس سہمی ہرنی کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا

"یوں سہمے سہمے لفظوں میں میرا نام پکار کر اس کی توہین مت کیا کرو میرا نام پورے حق سے اپنی اس زبان سے ادا کیا کرو۔۔۔۔" وہ اپنی ہتھیلی اس کے ہونٹوں سے پھیرتا ہٹا چکا تھا جب کہ ابھی بھی وہ خوف کی ماری اس کو دیکھ رہی تھی ہوش میں آتی فوراً اس کو پیچھے کرنا چاہا تھا لیکن وہ اس زرا برابر بھی وہاں سے ہلا نہ سکی تھی

"موسیٰ پلیز یہاں سے چلے جاو اگر کسی نے دیکھ لیا تو قیامت برپا ہو جائے گی۔۔۔" وہ خوف سے پہلے دروازہ اور پھر اسے دیکھتے بولی تھی "اسی قیامت کا تو منتظر ہوں میں بھی تو دیکھتا ہوں کون پٹھان کے سینے میں کتنی گولیاں اتارنے کی ہمت رکھتا ہے۔۔۔" وہ بےخوفی سے بولا تھا "سمجھنے کی کوشش کرو پٹھان بڑے ابا لالہ کسی نے بھی نے دیکھ لیا تو جان لے لیں گے آپ کی۔۔۔" وہ خوفزدہ تھی اس کے لیے خوفزدہ تھی جس کی آنکھوں میں خوف کی رمق تک نہ تھی

"ڈر رہی ہو میرے لیے یہ خوف پٹھان کی بیوی ہوتے تم پر شبہ نہیں دیتا دوبارہ یہ خوف نہ دیکھوں۔۔۔"