53.7K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 23

موسیٰ صبح فجر کی آزانوں کے بعد کمرے میں واپس آیا تو خالی کمرے کو دیکھتے ٹھٹھکا تھا پھر سر جھٹکتے بیڈ ہر لیٹتے آنکھیں موند گیا تھا اور چند ہی سیکنڈز میں نیند اس پر مہربان ہوگئی تھی فلحال وہ خود بھی زوراشہ سے سامنا نہیں چاہتا تھا نہ ہی ابھی کسی سوال کا جواب یا کچھ بھی وہ بس ریسٹ چاہتا تھا
………………………………
پٹھان کی صبح آنکھ کھلی تو مندی مندی آنکھوں سے اپنے پہلووں میں دیکھا جو کہ جگہ خالی تھی اور بیڈشیٹ اور کمبل بھی بالکل ٹھیک تھا شکنوں سے پاک
اس کے ہوش مکمل بیدار ہوئے تھے وہ بیڈ سے اٹھتا واشروم کی طرف گیا جو کہ خالی تھا مطلب وہ پوری رات کمرے میں نہیں آئی تھی پٹھان سر جھٹکتا واشروم سے منہ دھوتا صوفے سے قمیض اٹھائی اور پہنتا خود بھی کمرے سے نکلتا نیچے آیا تو اسے لاونچ میں وہ صوفے پر سوئی ملی تھی اس کے ماتھے پر بل پڑے تھے اور اردگرد دیکھا جہاں کوئی گارڈ موجود نہ تھا بنا قدموں کی چاپ پیدا کیا اس کے پاس گیا اور پیروں کے بل نیچے بیٹھتا قریب سے اس کا چہرہ دیکھنے لگا جو رویا رویا تھا آنکھوں کی پتلیاں سرخی کے ساتھ سوجی بھی ہوئیں تھی جب کہ گالوں پر آنسووں جن چکے تھے اس نے اس کی گال پر دھیرے سے انگلی پھیری تھی

“اٹھو زوراشہ۔۔۔۔۔”
پٹھان نے آواز میں سرد مہری لاتے اسے پکارا تھا جو کسمسا کر دوبارہ سو گئی تھی
“میں کہہ رہا ہوں اٹھو۔۔۔۔”
اب کہ وہ زرا سختی اور بلند آواز میں بولا تھا
“اٹھا کر لے جاو مجھے بہت نیند آ رہی ہے۔۔۔۔”
وہ نیند میں ہی منمنائی تھی جبکہ پٹھان نے دانت کچائے تھے
“اپنی صحت دیکھو اور فرمائش دیکھو پھر۔۔۔۔”
وہ جل بھن کر بولا تھا ناجانے کون سی جلن اس کے لہجے میں تھی
“پٹھان۔۔۔۔”
اس نے منمناتے ہوئے آنکھیں کھولیں تھی اور نیند سے سرخ آنکھوں سے اسے دیکھا پھر خود کو
“میری صحت زیادہ ہے۔۔۔۔۔؟”
اب کہ وہ اردگرد دیکھتے اٹھ کر بیٹھتے بولی تھی اسے یاد آیا بہرام سے باتوں کے دوران اس کی یہی آنکھ لگ گئی تھی

اس کے سوال پر پٹھان نے چند لمحے اسے دیکھا اور پھر ایک جھٹکے سے کھینچے گود میں اٹھایا تھا اس کے یوں اچانک کھینچنے ہر زوراشہ کے منہ سے ہلکی سی چینخ نکلی تھی اس کی چینخ پر پٹھان نے اسے گھورا اور سیڑھیوں کی جانب قدم بڑھائے تھے

“درد تو نہیں ہو رہا۔۔۔۔”
زوراشہ نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھتے کہا تو اس نے بنا اس کی جانب دیکھے سر نفی میں ہلایا تھا
“ابھی بھی خفا ہو مجھ سے۔۔۔۔؟”
“تم نے مجھے منانے کے لیے سوائے آنسوؤں بہانے کے کیا ہی کیا ہے جو یہ سوال پوچھ رہی ہو۔۔۔۔”
وہ زینے چڑھتے بولا تو زوراشہ آنکھیں چھوٹی کئیے اسے دیکھنے لگی

“جتنا میں روئی ہوں نہ موسیٰ زار پٹھان ایک نیا دریا بن سکتا تھا ان آنسوؤں سے۔۔۔۔”
اس کے یوں کڑ کر کہنے پر پٹھان نے کمال مہارت سے اپنی مسکراہٹ روکی تھی
“میں نے رونے کو تو نہیں کہا تھا خود اپنی مرضی سے بہائے ہیں تم نے یہ دریا کے پانی جتنے آنسووں۔۔۔۔۔”
وہ دوسرے فلور پر پہنچ کر اس کی سیڑھیوں کی جانب بڑھتے بولا تھا

“بہائے تو تمہارے لیے ہی ہیں نہ۔۔۔۔۔”
وہ اس کے کندھے پر مکا مارتے بولی
“یہی سے آخری فلور پر پھینک دوں گا زوراشہ پٹھان اور شوہر کو منانے کے ہزار بہترین طریقے ہیں پر افسوس اس معاملے میں مورے سے گلا ہے کہ اس نے تمہیں یہ طریقے نہیں بتائے۔۔۔۔۔”
پٹھان نے اس کے دھیرے دھیرے گلابی پڑتے چہرے کو دیکھتے کہا اس کی بات کا مطلب سمجھتے بےاختیار اس کی پلکوں کی باڑ گری تھی اور ڈھیروں شرم نے اسے آن گھیرا تھا

“آج رات تک کا چانس ہے تمہارے پاس مجھے منانے کے لیے ورنہ اس کے بعد میں زبردستی منواوں گا باقی سمجھدار ہو کہ کس متعلق بات کر رہا ہوں۔۔۔۔”
وہ کمرے میں لاتا اسے نیچے اتارتا بولا جب کہ وہ اس سے رخ پھیر گئی تھی یقیناً اس بےباک گفتگو کے بعد وہ اس سے نظریں نہیں ملا پا رہی تھی پٹھان نے مسکرا کر اس کی پشت کو دیکھا اور شیشے کے سامنے کھڑے ہوتے بال سیٹ کرنے کے بعد گاری کی چابی والٹ موبائل ٹیبل سے اٹھایا تھا

“ٹھیک ہے سویٹ ہارٹ رات میں محفل سجائیں گے دونوں اس کمرے میں یقیناً تم ناراض نہیں کرو گی مجھے۔۔۔۔”
پٹھان زوراشہ کی پشت پر آتے اس کے جان میں سرگوشی کرتا دھیرے سے اسکی لو کو چوما اور کمرے سے نکل گیا تھا جبکہ زوراشہ بند آنکھوں سے دل پر ہاتھ رکھے مسکرائی تھی چہرہ اس کی جسارت پر بہت سرخ پڑ گیا تھا
………………………………
“تم یہاں کچن میں کیا کر رہا ہے۔۔۔۔۔؟”
زویا جو داود کے لیے اپنے ہاتھوں سے ناشتہ بنا رہی تھی کہ زربینہ کی آواز پر اس کے خوشگوار موڈ کا تو بیڑا گرک ہوا ہی البتہ اسے اب نئی بحث ہوتی نظر آ رہی تھی
“داود کے لیے ناشتہ بنا رہی ہو۔۔۔۔۔”
زویا پلٹ کر ادب کے دائرے میں رہتی جواب دیتی دوبارہ انڈا فرائے کرنے لگی تھی
“کس کی اجازت سے تم میرے کچن میں آیا ہے۔۔۔۔؟”
زربینہ اس کی موجودگی سے بھڑکی تھی
“لیکن میں تو کچھ دنوں سے خود ہی داود کے لیے ہر چیز بناتی ہوں۔۔۔۔”

“زیادہ زبان درازی کرنے کا ضرورت نہیں۔۔۔۔”
جب کوئی اور بات نہ ملی تو وہ اس کے قریب آتے اسے بازو سے دبوچتے بولی
“پپ-پر میں نے کیا کہا ہے مورے مم-مجھے۔۔۔۔”
“بس زبان چلاتی ہو ہاں۔۔۔۔۔”
زربینہ اس کی بات بیچ میں کاٹتی اسے جھٹکتے بولی تو وہ اپنا بازو سہلانے لگی
“بیٹی ہوں آپ کی لیکن سلوک سوتیلوں جیسا کرتی ہیں کیا غلطی ہے میری بیٹی ہوں آپ کی ۔۔۔”
زویا تنگ آگئی تھی ان کے رویے سے اور ابھی بھی وہ اس فصول کی ڈانٹ پر چلا اٹھی تھی

“تمہارا تو۔۔۔۔”
زربینہ کا ہاتھ اٹھا تھا زویا نے ڈر کر منہ پر ہاتھ رکھا تھا لیکن دو سیکنڈ کچھ بھی محسوس نہ ہونے پر ہاتھ ہٹائے آنکھیں کھولیں تو اسے سکون ہوا تھا کیونکہ زربینہ کا تھپڑ کے لیے اٹھایا ہاتھ داود بیچ میں ہی روک چکا تھا

“دوبارہ میری بیوی پر ہاتھ اٹھانے کا غلطی ہر گز مت کرئیے گا ورنہ داود خان بھول جائے گا کہ اس کا کوئی رشتہ ہے آپ سے۔۔۔۔۔”
داقد ہر لفظ چبا کر بولتا آخر میں اس کا ہاتھ بےدردی سے جھٹکا تھا

“آج بیوی کا یاد آ گیا ہونہہہ۔۔۔۔”
زربینہ نہوست سے بولی تو اس نے قہر برساتی نظروں سے زربینہ کو دیکھا تھا
“زبان کو لگام دیں ہم پٹھان کسی صورت عورتوں کی بلند اور بدلحاظ آواز برداشت نہیں کرتے شاید اصولوں سے واقف نہیں آپ۔۔۔۔۔”
داود کی بات پر احساس توہین سے اس کا چہرا سرخ پڑا تھا
“اس کا جواب بہروز خان تم کو دے گا داود خان۔۔۔۔”
وہ حقارت آمیز لہجے میں بولتی کچن سے نکل گئی تھی تو داود نے اس کی پشت کو دیکھتے سرد آہ بھری تھی پھر خاموش کھڑی زویا کی طرف آیا اور اس کے چہرے کو حیرت زدہ نظروں سے دیکھنے لگا

“کک-کیا ہوا داود ایسے کیا دیکھ رہے ہو۔۔۔۔۔”
“دیکھ رہا ہے ہم کہ آج تمہارا آنسوؤں نہیں گرا جو کوئی تمہارا نام بھی پکار دے تو نکلنا شروع ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔”
اس نے نچلا لب دانتوں میں دبائے شرارت سے کہا تو وہ منہ کھولے اسے دیکھنے لگی
“داود۔۔۔۔۔”
ہوش میں آتی وہ چلائی اور اس کے کندھے پر مکا مارا تو وہ ہنسا تھا اور کی گالوں کو زور سے کھینچتا اس جلے انڈے کو دیکھا

“یہ کھلائے گا۔۔۔۔۔؟”
اس نے جلے ماتم کرتے انڈے کو دیکھتے پوچھا تو وہ شرمندہ ہوئی
“بس پانچ منٹ۔۔۔۔”
وہ فریج سے دوسرا انڈا نکالتے بولی تو وہ سر کو خم دیتا فروٹ نکالنے لگا تھا
………………………………
پٹھان آج خود اڈے پر آیا تھا اور وہاں کا کام دیکھنے لگا تھا اسے بہرام خان کہیں نظر نہیں آیا تھا
“پٹھان۔۔۔۔۔”
پٹھان جو کام کو دیکھتا ساتھ متلاشی نگاہوں سے بہرام خان کو ڈھونڈھ رہا تھا کہ پیچھے سے بہرام کے پکارنے پر وہ مڑا تھا
“ہمممم کہاں تھے۔۔۔۔۔؟”
“دوسری جانب کام دیکھنے گیا تھا اور زوراشہ کو آپ نے حقیقت بتایا۔۔۔۔۔؟”
بہرام کے سوال پر اس نے سر کو اثبات میں ہلایا تھا

“کیوں۔۔۔۔۔؟”
بہرام کی بےتاب آواز پر اس کے لب مسکرائے تھے لیکن اگلے ہی سیکنڈ وہ سمٹے تھے
“تمہارا حق تھا ان سب پر اتنے عرصے سے تم محروم تھے ایسی خوشیوں سے میں ویسے بھی یہ قصہ اب جلد ختم کر دینا چاہتا ہوں تمام ازیتوں سے چھٹکارا چاہتا ہوں مورے تمہیں اور زوراشہ کو ایک ساتھ دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔۔”
پٹھان کی بات پر بہرام کی آنکھوں میں نمی جھلکی تھی وہ سہی ہی تو کہہ رہا تھا زندگی کے بہترین سال زندگی کا بہترین حصہ وہ ان خبیثوں کی وجہ سے ازیتوں کی نظر میں گزار گیا تھا

“میں پلین میں چینجنگ چاہتا ہوں۔۔۔۔”
“مطلب۔۔۔۔۔”
بہرام الجھا تھا
“جس پلین پر اگلے مہینے عمل درامد کرنے والے تھے وہ اب کل میں چاہتا ہوں اس پر کل عمل ہو۔۔۔۔”
بہرام پٹھان کی بات سنتے آنکھیں پھاڑے اسے دیکھنے لگا جیسے اسے پٹھان کی دماغی حالت پر شک ہو
“پپ-پٹھان یہ ناممکن۔۔۔۔۔”
“اللہ کی مدد ساتھ ہو تو ناممکن کو ممکن میں بدلا کا سکتا ہے کل آر یا پار ہو گا۔۔۔۔”

“ابھی آپ ٹھیک بھی نہیں ہے۔۔۔۔”
بہرام پریشانی سے بولا تھا
“جو کہہ رہا ہوں وہ کرو میری فکر چھوڑو۔۔۔۔”
پٹھان نے مکمل اس کی جانب مڑتے اس کو کندھوں سے تھامے کہا تو بہرام نے کچھ سوچتے سر کو اثبات میں ہلایا تھا تو پٹھان اس کا کندھا تھپتھپاتا دوسری جانب چلا گیا تھا
………………………………
بہرام اور پٹھان نے مل کر رات تک تمام ڈیٹیلز بڑی آسانی سے حاصل کر لیں تھی انہیں اب کل کے سورج کے طلوع ہونے کا انتظار تھا پٹھان ایک بار زوراشہ سے ملنا چاہتا تھا کیونکہ اسے نہیں معلوم تھا کل کیا ہونے والا ہے کل دو لوگوں میں سے ایک کی جیت اور دوسرے کی موت ہونی تھی اور وہ موت پٹھان کی بھی ہو سکتی تھی پٹھان کو اس کا رتی برابر خوف نہ تھا وہ چاہتا تھا کہ اگر مرے تو باپ چاچا کو ساتھ لے کر مرے
…………………….. ……..