53.7K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

“داود ایسا کچھ نہیں کریں گے۔۔۔۔۔”
زویا ہوش میں آتی فوراً بولی تھی
“اچھا تو چھٹانک بھر کی لڑکی اب ہمیں بتائے گی کہ داود کیا کرئے گا اور کیا نہیں ہونہہ۔۔۔”
بہروز نے ہنکار بھرتے حقارت آمیز لہجے میں بولا تھا
“داود بتائیں آپ مجھے نہیں چھوڑیں گے کبھی بھی….”
وہ آنسوؤں بھری نگاہیں جن میں امید کی کرنیں تھی اسے دیکھتے بولی
“وہ ہمارا بیٹا ہے لڑکی جو ہم کہے گا وہی ہو گا۔۔۔۔”
دلاور نے استہزایہ انداز میں مسکراتے ہوئے کہا تو وہ دلاور کو اگنور کئیے داود کے ساتھ لگی کھڑی آس بھری نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی

“زویا کمرے میں جاو ہم اس بارے میں بات کرے۔۔۔۔”
وہ جو ابھی بول رہا تھا کہ زویا اس کا حصار توڑتی پیچھے ہوئی اور بےیقینی سے اسے دیکھنے لگی وہ آنکھوں میں موجود امید کی کرنیں آنسووں کی صورت بہہ نکلیں تھی

“بزدل ہیں آپ نفرت ہو رہی ہے مجھے آپ سے نہیں بلکہ آپ سے کی جانے والی محبت سے۔۔۔۔”
آخر میں ہچکی بھرتے باقی کے تینوں نفوس کو دیکھا جو فاتحانہ نگاہوں سے اسے دیکھ رہے تھے شکوے سے بھرپور نگاہ داود پر ڈالتی کمرے سے بھاگی تھی جب کہ داود نے مٹھیاں بھینچے کمرے کی چوکھٹ کو دیکھا تھا

“داود اپنی زوجہ کو قابو میں رکھو اور سمجھا دو اچھے سے اگر اپنا گھر بچانا چاہتا ہے تو پٹھان کو زوراشہ جو طلاق دینے پر راضی کرنا ہو گا ورنہ بخوبی جانتے۔۔۔۔”
بہروز نے اس کے کندھے ہر ہاتھ رکھتے کہا جس نے ہونٹ سختی سے بھینچے سر اثبات میں ہلایا تھا
………………………………
زوراشہ کچھ کھانے کے بعد فریش ہو کر وہی کپڑے دوبارہ سے پہنتی بیڈ پر لیٹی جلد ہی سو گئی تھی جب اٹھی تو گھڑی دوپہر دو کی سوئی عبور کر چکی تھی وہ ہڑبڑا کر اٹھی اور اردگرد دیکھا
“یعنی پٹھان ابھی تک نہیں آیا۔۔۔۔”
خود سے بڑبڑاتی پیر بیڈ سے نیچے لٹکائے جوتی کو اپنے پاوں میں اڑیسا اور کھڑی ہوئی کہ دروازہ کھولنے پر ایک دن سے اچھلی لیکن پٹھان کو اندر داخل ہوتے دیکھ اس نے گہرا سانس بھرتے تیز دھڑکنوں کو قابو کیا تھا اور پٹھان جو دیکھا جو دروازے میں ہی کھڑا ٹکٹکی باندھے اسے دیکھ رہا تھا

“کیسا لگا میرا کمرا۔۔۔۔؟”
سر پر بندھا رومال اتارتا بالوں میں زور سے ہاتھ پھیرتے ان کو بگاڑا تھا
“خخ-خوبصورت ہے۔۔۔۔؟”
اس نے گول سائز بیڈ کو دیکھتے ہکلاتے ہوئے کہا
“ہممم کچھ کھایا۔۔۔۔۔؟”
اس نے قمیض کے اوپری دو بٹن کھولتے پوچھا تھا
“جج-جی۔…”
وہ اس کے اس عمل سے نظریں چرائے بولی تھی

“یہاں آ کر کیسا فیل ہو رہا ہے۔۔۔۔؟”
وہ اس کے قریب جاتا اس کا ہاتھ تھامے بولا تھا
“ابھی تو چند گگ-گھنٹے ہوئے ہی اور وہ بھی سو کر گزارے ایسے کیسے بتا سکتی۔۔۔۔”
اس نے نظروں کا مرکز پٹھان سے ہٹائے دوسری چیزوں کو بنایا تھا تو اس نے مسکراتے ہوئے دوسرے ہاتھ میں پکڑا رومال اس کے سر پر دیا تھا

“میری پٹھانی اگر خود کے پیدا ہونے پر رشک نہ آئے تو بےشک اپنے اس خادم کو سزا دے دینا۔۔۔۔”
اس نے ان الفاظوں کو زبان سے ادا کرنے کی زحمت نہیں کی تھی بلکہ دل میں مخاطب ہوتے مسکرانے پر اکتفا کیا

“پٹھان ایک بات کہوں۔۔۔۔؟”
اس نے ڈرتے ڈرتے لب کچائے اسے پوچھا تھا
“ہممم کہو۔۔۔۔”
وہ رومال اس کے سر پر باندھتے ہوئے بولا تھا

“موسیٰ تم یہ سب چھوڑ کیوں نہیں دیتے۔۔۔۔”
اس کی بات پر اس کا اس کے سر پر رومال باندھتا ہاتھ رکا تھا اور چونک کر اسے دیکھا پھر سر جھٹکتا اپنا کام سر انجام دینے لگا
“بتاو نہ موسیٰ۔۔۔۔۔”
وہ اپنی بات کو اگنور ہوئے جانے پر دوبارہ پوچھنے لگی
“یہ ایک ایسی دلدل ہے اس میں پیر کا ناخن بھی رکھو تو پورے دھنسے جاوگے۔۔۔۔”
وہ اسے دوسری جانب گھمائے پیچھے سے سہی کرتے نارملی انداز میں بولا تھا اور دوبارہ اس کا رخ خود کی جانب کیا

“تم مجھے کھو دو گے۔۔۔۔”
وہ اس کے دونوں کندھوں پر اپنے ہاتھ رکھتی اپنا ڈر واضع کر رہی تھی حقیقتاً وہ ڈر رہی تھی کہ موسیٰ کہیں اسے نہ چھوڑ دے
“موسیٰ زار پٹھان یہ دنیا بھی حاصل کرے گا اور تمہیں بھی….”
موسیٰ نے تھوڑی سے اس کا چہرہ اٹھائے اس کا چہرہ دیکھنے لگا اس نے اس کے سر پر رومال اس انداز میں باندھا تھا کہ رومال سے اس کے کچھ ریشمی بال نکلتے ماتھے اور چہرے پر جھول رہے تھے اور پیچھے سے کھلے بال اس پر بندھا رومال بہت جچ رہا تھا

” اگر تمہارے ارادوں اور مجھ میں سے کسی ایک کو چننا پڑا تو۔۔۔۔؟”
وہ آج اپنے سارے خدشاتوں کو مٹانے کے در پر تھی
“میں اپنے ارادوں کو چنوں گا کیونکہ تم میرے ارادوں میں ایسے شامل ہو جیسے رگوں میں بہتا خون۔۔۔۔۔”
وہ اس کا رخ شیشے کی جانب کرتا بولا تھا لہجہ بےلچک تھا

“اگر تمہارے ارادے خاک میں مل گئے۔۔۔۔؟”
اس نے اپنا اگلا سوال داغا تھا
“تو موسی زار پٹھان اپنے ارادوں کو خاک میں ملنے سے پہلے خود کو مٹی میں دفنا دے گا۔۔۔۔”
وہ شیشے میں اس کا عکس دیکھتے اس کے ہر سوال کا جواب بنا ماتھے پر سلوٹیں ڈالے سکون سے دے رہا تھا شاید زوراشہ واحد تھی جسے وہ تمام حق دے چکا تھا وہ جو اپنے ریاستی روعب و دبدبے سے کسی کو دوسرا سوال کرنے سے باز رکھتا تھا اب اس کے ہر سوال کا جواب نہایت پرسکونیت سے دے رہا تھا

“اگر میں تمہیں کہوں کہ موسی یا میں زوراشہ پٹھان یا تمہارا مقصد ہم دونوں میں سے کسی ایک کو چنو تو کسے چنو گے۔۔۔۔؟”
زوراشہ نے شیشے میں اپنے پیچھے موجود پٹھان کو دیکھتے پوچھا اسے لگا وہ پٹھان کو اب لاجواب کر گئی تھی

“پٹھان اپنی غیرت کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہے۔۔۔۔”
اس کے بغیر گڑبڑائے تحملانہ طریقے سے جواب دینے پر زوراشہ کو لگا وہ لاجواب ہو گئی ہو اور وہ واقع اس کے جواب سے لاجواب ہو گئی تھی

“کیا میں تمہیں کبھی لاجواب نہیں کر سکتی۔۔۔۔؟”
ازوراشہ نے پلٹتے ہوئے چفگی بھری نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا تھا

“تمہیں مجھے لاجواب کرنے کے لیے لفظوں کے استعمال کی ضرورت نہیں تمہارا یہ دو آتشی حسن٫ یہ خوبصورت رشتہ ہی کافی ہے مجھے لاجواب کرنے کو۔۔۔۔۔۔”
وہ پہلی بات اس سے بولتا آخری بات منہ میں ہی دباتے دل میں بولا تھا جب کہ زوراشہ نے منہ بناتے واپس پلٹ کر شیشے میں خود کو دیکھا وہ خوبصورت لگ رہی تھی لیکن پھر یہ سوچ کر مزید منہ بنایا کہ پٹھان نے اس کی تعریف تک نہ کی تھی جب کہ وہ انجان لڑکی اس کی آنکھوں میں لکھیں اس کی تعریف کی تحریریں نہ پڑھ سکی تھی
پٹھان بھی سر جھٹکتا الماری کی جانب بڑھا تھا اور خود کے لیے سوٹ نکالنے لگا تھا کہ فون پر بجتی بیل نے دونوں کی توجہ اپنی جانب کھینچی تھی

پٹھان نے جیب سے فون نکالتے دیکھا تو فون پر جگمگاتا نام دیکھ کر زوراشہ اس کے چہرے پر بکھرے رنگ بخوبی دیکھ سکتی تھی پٹھان نے بنا کسی دیری کے فون اٹھائے کان سے لگایا تھا اور بےتحاشہ نرمی لہجے میں لائے فون پر گفتگو کرنے لگا تھا

“فکر مت کریں میں ان شاءاللہ آپ سے ملوں گا۔۔۔۔”
اس نے سوٹ نکالتے بیڈ ہر رکھا تھا جب کہ زوراشہ کی نظریں وہ خود پر محسوس کر رہا تھا لیکن اس نے اسے دیکھا نہیں تھا
“ہممم آوں گا آپ کا تابعدار ہے پٹھان اور سب ٹھیک ہے میں بھی۔۔۔۔”
چہرے پر تبسم پھیلا تھا اور ناچاہتے ہوئے بھی زوراشہ جو دیکھا تھا جس کے چہرے پر عجیب سے اثار تھے وہ ویسے ہی فون کان سے لگائے روم سے نکلا تھا

“ہونہہ بدتمیز پتا نہیں کس کا تابعدار بنا پھر رہا ہے اور جو بیوی ہے پتا نہیں کیا چاہتا ہے بیوی سے۔۔۔۔”
کڑتی جلتی بولتی غصے سے سر سے رومال اتار کر بیڈ پر پھینکا تھا
“ابھی ایک دن بھی مکمل نہیں ہوا اور کتراتا پھر رہا ہے چھپاتا پھر رہا ہے ہونہہ کرتا رہے بات مجھے کیا۔۔۔۔”
الفاظوں سے جھلکتی جلن پر اس نے منوں مٹی ڈالی تھی اور بیڈ پر دھڑام سے بیٹھی تھی
………………………………
بہرام خان اپنے چند آدمیوں کو لیے کابل کے اس علاقے پر پہنچا تھا جہاں شمشیر خان نے اپنا ڈیرہ جمایا تھا پہاڑوں کے بیچ اردگرد پھیلے خوبصورت جنگلات اور ان جنگلات میں بہتے آبشار خطرناک لیکن خوبصورت ڈھلوانیں یونہی تو نہیں موسیٰ زار پٹھان کا اس پر دل آیا تھا

“آو آو بہرام خان۔۔۔۔”
شمیشیر سامنے ہی بہرام کے استقبال کے لیے کھڑا اور مسکراتے ہوئے ہاتھ اٹھائے اسے خوش آمدید کیا تو بہرام نے بھی ہاتھ اٹھائے اس کے گلے ملا تھا پھر شمیشیر اسے بیٹھنے کے لیے سامنے موجود بہترین جگہ پر لے گیا تھا جس کے قریب ہی آبشار بہہ رہا تھا جب کہ باقی آدمی پیچھے کھڑے تھے

“آو کیسے یاد کیا تم شمشیر خان کو۔۔۔۔؟خیر تو تھا پٹھان کو۔۔۔۔؟ ہمکو لگا پٹھان خود آئے گا اس سے ملنے کا جو حسرت تھا وہ بھی پوری ہو جاتا۔۔۔۔”
شمشیر خان نے سامنے موجود مشروب کا گلاس اٹھاتے لبوں سے لگایا تو بہرام خان نے بھی اس مشروب کو لبوں کی زینت بخشے اس پر مسکراہٹ بھی سجائی تھی

“پٹھان کے پاس اتنا وقت نہیں وہ کسی سے ملے اور خاص کر خود اپنے قدموں پر کسی سے ملنے جائے اور بےشمار لوگ دل میں حسرتیں لیے بیٹھا ہے اب پٹھان ہر کسی کا ی حسرت تو پوری کرنے سے رہا نہ ۔۔۔”
دل جلانے والا انداز تھا جو سچ میں اگلی شخصیت کا دل جلا گیا تھا اسی لیے اس ٹھنڈے مشروب کو پیتے اس جلن پر ٹھنڈک ڈالی تھی

“اچھا پھر اس بندہ ناچیز کو یاد کرنے کا کیا وجہ۔۔۔؟”
اس نے آنے کی وجہ دریافت کی تھی
“یہ علاوہ یہ کابل جس پر تم آباد ہے دراصل پٹھان کا دل آ گیا ہے اور وہ چاہتا ہے تم یہ علاقہ اس کے سپرد کر دو۔۔۔۔”
اس نے بنا کوئی تمہید باندھے کہا تو شمشیر کو گویا سانپ سونگھ گیا ہو

“کیا ہوا سانپ سونگھ گیا کیا۔۔۔۔؟”
بہرام نے ایک اور شربت کا گلاس بھرتے ہوئے پوچھا تو وہ زبردستی مسکرایا
“نن-نہیں ایسا بات نہیں۔۔۔۔”
وہ بامشکل سنبھلا تھا اور گلاس کو واپس اس کی جگہ پر رکھا
“اچھا تو کب یہ علاقہ چھوڑ رہا ہے۔۔۔؟”
“جج-جب پٹھان کہے۔۔۔۔”
اس نے کچھ سوچتے زبردستی مسکراتے ہوئے کہا تو بہرام بھی مسکرایا
“گڈ کام ختم ہوا اجازت چاہوں گا۔۔۔۔”
بہرام بولتا ہوا اٹھا تھا تو شمشیر بھی اٹھا اس ہر مصافحے کو ہاتھ بہرام نے بڑھایا تھا جس پر وہ ہوش میں آتا تھام گیا تھا تو بہرام بھی اپنے آدمیوں کو اشارہ کرتے وہاں سے نکلا تھا

“سرکار کیا آپ سچ میں پٹھان کو یہ علاقہ دے دے گا۔۔۔۔؟”
شمیشیر کے ایک وفادار نے پوچھا تھا
“بالکل اس علاقے میں ہی اس کا قبر بناتے دو گز زمین اس کے سپرد کروں گا۔۔۔۔”
سامنے موجود تمام گلاسوں کو پیر سے نیچے پھینکتا بولا تھا تو اس کے آدمی نے کچھ سمجھتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا تھا
………………………………
بہرام خان نے اس علاقے سے نکلتے ہی پٹھان کو فون ملایا تھا کیونکہ وہ شمشیر کی بات سے زرا پرسکون نہیں ہوا تھا اور فون کرتے ہی تمام بات اس کے گوشگوار کی تھی

“تمہیں کیا لگتا ہے بہرام۔۔۔؟”
پٹھان نے اپنے سامنے موجود سفید گھوڑے جس کے بال روئی کی مانند سفید و نرم نیچے کو لمبے لمبے جھکے ہوئے تھے اس کی پشت پر ہاتھ پھیرتے پوچھنے لگا تھا
“سچ پوچھیں ہم کو زرا یقین نہیں آیا اس خبیث پر۔۔۔۔۔”
بہرام کی بات سنتے اس نے کان میں لگی بلوتوتھ پر انگلی رکھی تھی

“ہممم اچھی بات ہے مجھے بھی یقین نہیں آدمیوں سے کہو علاقہ گھیر لیں اور ان کی سربراہی تم خود کرنا موقع ملتے ہی سب کو جہنم واصل کرتے شمشیر کو زندہ پکڑ لینا اور۔۔۔۔۔۔”
اس سے پہلے وہ مزید کچھ کہتا ایک ہڑبڑایا ہوا گارڈ اس کی جانب آیا تھا

“کیا ہوا۔۔۔۔؟”
پٹھان نے اس کی ہڑبڑاہٹ نوٹ کرتے اس گارڈ سے پوچھا دوسری جانب بہرام نے بھی حیرت سے فون جو دیکھا تھا
“پٹھان آپ کے کمرے سے چینخوں کی آواز آ رہی ہے۔۔۔۔۔”
وہ ہانپتا ہوا جلدی سے بولا تھا
“چینخوں کی آواز۔۔۔زوراشہ۔۔۔۔۔”
خود سے بڑبڑاتا فون بند کیا اور اس گارڈ جو اشارہ کرتا استبل سے نکلتا گھر کی جانب بھاگا تھا اس کا اشارہ سمجھتے اس گارڈ نے گھوڑے کی لگام تھامے اس کو اس کی جگہ پر باندھا تھا پٹھان نے اپنے گھر کے بالکل ساتھ ہی گھوڑوں کے کیے خوبصورت سا گھر بنوایا تھا
………………………………
پٹھان جلدی جلدی سیڑھیاں پھلانگتا تیسرے فلور پر پہنچا تھا جب کہ زوراشہ کے چینخنے کی آواز اس کو گھر میں داخل ہوتے ہی سنائی دے رہی تھی اس نے جیسے ہی دروازہ کھولا کہ دروازے پر کھڑا ہی وہ سامنے کا منظر دیکھنے لگا تھا
“زوراشہ۔۔۔۔۔”