53.7K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

“کیا کر رہی ہو۔۔۔۔؟”
وہ جو اپنے دھیان میں کھول رہی تھی پیچھے سے آتی آواز پر یک دم اچھلی تھی اور پلٹ کر دیکھا تو پٹھان سینے پر بازو باندھے اسے ہی دیکھ رہا تھا زوراشہ فوراً خود کو نارمل کرتی سر جھٹکتی واپس موبائل دیکھنے لگی تھی جب کہ اس کی حرکت پر پٹھان نے دلچسپ نگاہوں سے اسے دیکھا تھا

“اس کا پاسورڈ لگاو۔۔۔۔۔”
وہ کال لوگ کھولے موبائل اس کی جانب گھمائے اسے کے سامنے کرتی بولی تو اس نے خاموشی سے موبائل تھامے لاک کھولا اور ایک نمبر نکالا
“اس کی تلاش میں ہو۔۔۔۔؟”
اس نے سکرین اس کی جانب موڑے پوچھا تو وہ پہلے سٹپٹائی پھر فورا سر اثبات میں ہلایا تھا
“بات کرنا چاہتی ہو میری سویٹ ہارٹ سے۔۔۔۔۔؟”
اس نے ایک قدم آگے لیے اس کی کمر میں ہاتھ ڈالے پوچھا
“نہیں مجھے کیا ضرورت ہے۔۔۔۔”
وہ منہ بنائے بولی اور دوبارہ سکرین کو دیکھا جہاں نام “میری جنت” سے سیو کیا گیا تھا اور پھر رخ موڑ گئی تھی

“پر مجھے تو کچھ اور ہی نظر آرہا ہے۔۔۔۔”
وہ مسکراہٹ دبائے بولتا اس نمبر پر کال ملائی اور اسے پکڑایا جس نے ایک ایٹیٹیوڈ سے تھاما تھا اور کان سے لگایا جہاں بیل جا رہی تھی

“اسلام و علیکم بچے۔۔۔۔۔”
اس سے پہلے زوراشہ بولتی کہ دوسری جانب سے جانی پہچانی آواز سنتے اس نے ایک جھٹکے سے پٹھان کو دیکھا جو مسکراتا اس کی گال سہلا رہا تھا
“مورے۔۔۔۔”
حلق میں اترتی نمی کے باعث سرگوشانہ آواز اس کے منہ سے نکلی تھی

“ہائے زوراشہ میرا بچہ کیسا ہے تم….؟تم ٹھیک ہے۔۔۔۔؟”
دوسری جانب سے بےچینیوں اور تڑپ سے بھرے سوالات گونجے تو اس کی آنکھوں سے چند موتی ٹوٹے تھے
“میں بالکل ٹھیک ہوں آپ کیسی ہیں۔۔۔۔؟”
وہ پٹھان کو دیکھتے پوچھنے لگی جو نرمی سے اس کے آنسووں کو انگلیوں کی پوروں سے صاف کر رہا تھا چند منٹ کی کال کے بعد فون کٹ گیا تو زوراشہ نے شرمندگی سے فون اس کی جانب بڑھایا تھا جس نے فون تھامنے کی بجائے اس کا ہاتھ تھامے پیچھے اپنی کمر پر رکھا اور اپنا بھی ایک ہاتھ اس کی کمر پر ٹکائے دوسرے سے اس کے بالوں کو چھیڑنے لگا

“میرے زندگی میں آنے والا تم پہلا اور آخری عورت ہے زوراشہ پٹھان تمہارے علاوہ ہم کوئی اور سوچ بھی نہیں سکتا میرا قربان۔۔۔۔۔”
وہ اپنے پرانے لب و لہجے میں بولتا اس کو ہنسا گیا تو پٹھان بھی ہنسا تھا
“آئی ایم سوری پٹھان۔۔۔”
وہ اس کے سینے سے سر ٹکائے بولی
“مس یو ٹو میری جان۔۔۔۔”
وہ دوسرا ہاتھ بھی اس کی کمر پر لے جاتا حصار باندھے بولا
“لیکن میں نے سوری بولا۔۔۔۔”
وہ سر اٹھائے آنکھیں چھوٹی کئیے بولی
“جانے دو نہ جو بھی بولی ہو میری پٹھانی۔۔۔۔”
وہ اس کی ایک گال سختی سے کھینچتا بولا تھا اور پھر گرفت کو سخت کرتا اسے خود میں بھینچا کہ وہ مچلتی اس پر مکے برسا رہی تھی جب کہ پٹھان زور سے ہنستا مزید گرفت سخت کر رہا تھا اس کو یوں ہنستا دیکھ زوراشہ بھی ہنسنے لگی جب کہ خود کا سانس رکتا ہوا محسوس ہو رہا تھا
………………………………
ایک بند کمرہ جو مکمل تاریخی میں تو نہیں کیونکہ زیرو بلب کی مدھم سی روشنی اس میں پھیلی ہوئی تھی لیکن اس سے گونجتی وحشت ناک چینخیں جیسے کسی کو بےدردی سے چیڑا پھاڑا جا رہا ہو

“بول تیرے باقی ساتھی کہاں ہیں بول۔۔۔۔۔؟بتا اپنی گینگ کے بارے میں بتا۔۔۔۔۔؟”
ایک شخص جو پاک آرمی کی یونیفارم میں ملبوس تھا اپنے سامنے الیکٹرک کرسی سے بندھے شخص کو بار بار بےرحمی سے شاک دیتا پوچھ رہا تھا جس کے حلق سے محض چینخیں ہی گونج رہیں تھی

“بول۔۔۔۔۔”
مزید ایک شاک کے ساتھ اس کی حلق کے بل دل خراش چینخ نکلی تھی اس بندھے شخص کے جسم سے خون رس رہا تھا جیسے چاقو سے جگہ جگہ کٹ لگائے ہوں

“بول ورنہ۔۔۔۔”
اس سے پہلے وہ آفسر اپنی بات مکمل کرتا الارم بجنے پر پیچھے ہوا تھا یقیناً اسے پیچھے سے واپس آنے کا ارڈر تھا اسی لیے ایک خونخوار نگاہ اس پر ڈالے اس بند خالی کمرے سے نکل گیا تھا

جب کہ وہ لمبی داڑھی والا شخص کراہتا ہوا مسکرا رہا تھا یقیناً وہ خوش تھا کہ وہ کسی قسم کا راز اب تک افشاں نہ کر سکا تھا

ایک بار پھر سے دروازہ کھلا تھا لیکن اس بار قدموں کی چاب میں فرق تھا اور اس سے اندازہ ہو رہا تھا جیسے آنے والی دو شخصیات ہوں

اس بندھے شخص نے مندی مندی آنکھیں کھولے بامشکل سامنے دھندھلاتے چہروں کو دیکھا تھا کیونکہ اتنے وقت میں صرف ایک شخص آتا جس کے قدموں کی آواز سے ہی یہ پہچان جاتا کہ کون ہے لیکن اب آواز کہ تبدیلی پر وہ جاننا چاہتا تھا کہ کون آیا ہے

لیکن جیسے ہی مکمل آنکھوں کو کھولا تو سامنے موجود شخصیت کو دیکھتے اس کی آنکھیں ابلنے کو تھیں دل پھٹپھڑا اٹھا تھا اس نے ایک جھٹکے سے سر اٹھائے اس شخص کو دیکھا جو پتھریلے تاثرات چہرے پر سجائے اسے ہی دیکھ رہا تھا

“تت-تم۔۔۔۔۔”
گھٹی گھٹی سی آواز اس کے منہ سے نکلی تھی
“ایک کام نہیں ہو سکا تم سے اور بڑے چلے مانے جانے گینگسٹرز میں سے ایک ہو چچچچ افسوس احمد خان۔۔۔۔۔”
اس شخص نے افسوس کا اظہار کرتے سر نفی میں ہلایا تھا
“تت-تم یہاں کیسے تت-تم کون۔۔۔۔۔”
تکلیف کے باعث اس کے منہ سے الفاظ ادا نہیں ہو رہے تھے

“یاد کرو وہ الفاظ جب میں نے کہا تھا کہ کہیں خود خاک میں نہ مل جانا۔۔۔۔۔”
اس کی بات پر اسے اس دن کی میٹنگ یاد آئی جس میں ایسے الفاظ بولے گئے تھے اس نے غصے سے اسے دیکھا
“تت-تو تم ان کے ساتھ ملا۔۔۔۔۔”
“نہیں۔۔۔۔۔”
اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے اس نے نفی میں سر ہلایا تھا
“نہیں اس حوالے سے تم زرا غلط ہو۔۔۔۔۔”
وہ الیکٹرک مشین کو دیکھتے بولا اور آگے بڑھے ایک بٹن دبایا جس کے باعث شدید شاک سے وہ چلا اٹھا

“پٹھان ہمیں جانا ہو گا آرمی کے ادمی آتے ہونگے ضرور اس کی چینخ باہر تک پہنچ گئی ہو گی۔۔۔۔”
بہرام نے اس کے پاس آتے کہا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا اور ایک نظر اس نڈھال احمد خان کو دیکھتے روم سے نکلا تھا انہیں اب آرمی کی نظروں میں آئے بنا یہاں سے نکلنا تھا اور یہ ان کے لیے نہایت آسان تھا آخر پٹھان تھا وہ۔۔۔۔۔
………………………………
زوراشہ روم میں سائیڈ کونے پر بنی الماری جس میں پٹھان کی بےشمار چیزیں موجود تھیں آج اتفاق سے اس کا تالا کھلا ہونے کے باعث اس کی چھان بین کرتی اس کو صاف کر رہی تھی

“میرا دل جس دل پہ فدا ہے
وہ پٹھان کا بچہ ہے
میری روح جس روح پہ فدا ہے
وہ۔۔۔۔۔”

اس سے پہلے وہ اپنی بےسری آواز میں گانے کا بول مکمل کرتی ہاتھ سے نیچے زمین پر گرتی ایک فائل پر اس کا دھیان گیا تھا جس پر پٹھان کی خوبصورت سی تصویر لگی ہوئی تھی

“ہائے میرا پٹھان۔۔۔۔”
اس نے مسکرا کر نیچے سے وہ فائل اٹھائی اور بےساختہ تصویر پر اپنے لب رکھے تھے
“ائی لو یو موسیٰ زار پٹھان۔۔۔۔۔”
اتنا بولتی اسے فائل کو رکھا اور واپس پلٹی لیکن اچانک قدم رکے تھے اور واپس مڑ کر ایک چھوٹی سی ہک کو دیکھا جہاں اس نے فائل رکھی تھی وہ ہک اس کے بلکل ساتھ بنی تھی اس نے اس ہک کو گھمایا اور پھر ادھر ادھر کرنے کے بعد اچانک جب کھینچا تو وہ کھلتی چلی گئی تھی اس نے حیرت سے اندر چھوٹی سی بنی ڈرا کو دیکھا جس میں تین چار فائلز موجود تھیں

اس نے ان میں سے ایک فائل کو نکالا اور جیسے ہی کھولا تو اس کی آنکھیں سامنے لکھے الفاظوں پر پٹھی کی پٹھی رہ گئیں تھی اس نے اب چند لفظ ہی پڑھے تھے کہ کسی نے بےدردی سے اس فائل کو اس کے ہاتھ سے کھینچا تھا زوراشہ ایک دم سے اچھلی تھی جب کہ پٹھان نے پہلے فائل اور پھر خونخوار نظروں سے اسے گھورا تھا

“تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی میری چیزوں کو چھونے کی ہاں۔۔۔۔”
وہ اس کو دیکھتا پوری شدت سے دھاڑا تھا
“بب-بیوی ہوں تمہاری اور یہ فائل مم-مجھے پڑھنے دو یی-یہ سب کیا ہے یہ۔۔۔۔۔”
اسے سمجھ نہ آیا وہ کیا کہے اس کی زبان سے ٹوٹے پھوٹے الفاظ نکل رہے تھے جب کہ اس نے فائل لینے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا لیکن پٹھان نے فوراً اپنا ہاتھ پیچھے کیا

“تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی ہاں۔۔۔۔۔۔”
وہ دوبارہ سے چلایا تھا پٹھان کا غصہ ساتوں آسمان پر تھا
“کون ہو تم پٹھان یہ کیسے الفاظ تحریر تھے کیا چھپا رہے ہو تم بتاو۔۔۔۔؟”
وہ اس کے غصے پر اپنا خوف قابو میں رکھتے ہمت جمع کئیے دوبارہ پوچھنے لگی

“تمہارے پوچھنے کی باتیں نہیں ہیں سمجھی میرے معاملات میں دخل اندازی کی ضرورت نہیں۔۔۔۔۔”
وہ اس کا منہ دبوچے ایک ایک لفظ چبائے بولا

“کک-کون ہو تم اس پر تحریر الفاظ پرھتے میرے سماعتیں یقین کرنے سے انکاری ہیں پٹھان۔۔۔۔”
وہ اسکا ہاتھ اپنے منہ سے آزاد کروانے کی کوشش کرتے بولی جو کہ ناممکن تھا

“موسیٰ زار پٹھان ولد۔۔۔۔”
“بسسس۔۔۔۔۔”
اس سے پہلے وہ آگے بولتی پٹھان نے اسے ایک جھٹکے سے چھوڑا کہ وہ بیڈ پر اوندھے منہ گری تھی
“میرے صبر کا امتحان مت لو خاموش رہو۔۔۔۔”
وہ اس کے قریب جاتا انگلی اٹھائے بولا

“تت-تم درندے تم تم گینگسٹر ہو تم وحشی ہو گینگسٹر ہو نہ۔۔۔۔”
وہ سیدھی ہوتی اسے دیکھتی حلق کے بل چلائی تھی

“نہ زوراشہ پٹھان نہ میں گینگسٹر نہیں ہوں۔۔۔۔”
وہ اتنا بولتا پیر بیڈ پر رکھے آگے کو جھکتا اسے بالوں سے دبوچے تھوڑا اٹھایا تھا

“میں گینگسٹر نہیں مونسٹر ہوں۔۔۔۔۔”
دل جلا دینے والی مسکراہٹ زوراشہ کے ساکت موجود کی جانب اچھالتا ایک جھٹکے سے چھوڑتا کمرے سے نکل گیا تھا جب کہ زوراشہ شاک کی کیفیت میں اسے یقین نہیں آ رہا تھا اس کا پٹھان اسے یوں دھوکا بھی دے سکتا ہے پٹھان کی باتوں اور ان کاغذات کے اغاز میں سفید صفحے پر کالے مارکر سے پیوست الفاظ ہر چیز کا سوچتے اس کے کان سائیں سائیں کر رہے تھے اس نے نفی میں سر ہلاتا اپنے دونوں ہاتھوں کو کانوں پر دھرا تھا
………………………………
“بہرام خان۔۔۔۔۔”
پٹھان نے آخری سیڑھی اترتے چلا کر بہرام خان کا نام پکارا تھا اور بہرام جو نیو سپلائی ہونے والی گنز کے متعلق ایک گارڈ سے بات کر رہا تھا اپنا نام یوں پکارے جانے پر وہ بعد میں بات کرنے کا کہتا فوراً اس کے سامنے پیش ہوا تھا

“جج-جی پٹھان۔۔۔۔”
وہ اس کے سامنے آتا تابعداری سے بولا تھا
“اگر میں آج وقت پر نہ پہنچتا تو جانتے ہو کیا ہو جاتا۔۔۔۔۔”
وہ انگلی اس کے سینے پر ٹکائے دبا دبا سا بولا تھا
“وہ سب جان جاتی جو اسے ابھی نہیں جاننا چاہیے اگر میں وقت پر نہ پہنچتا تو وہ سب برباد و تباہ کر دیتی تم اتنے غیر زمہ دار کیسے ہو سکتے ہو بہرام خان بتاو۔۔۔۔۔”
پہلے غرا کر بولتا آخر میں پوری قوت سے دھاڑا تھا بہرام ابھی بھی ناسمجھی سے معاملہ سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا

“صبح میری الماری سے زمین کے کاغذات تم نے نکالے تھے نہ تو کیا حویلی سے میرا باپ بہروز خان آ کر واپس اس کا تالا لگاتے لاک کرتا ہاں۔۔۔۔۔”
پٹھان غصے سے پاگل ہو رہا تھا سامنے اگر بہرام خان نہ ہوتا اور یہ گستاخی بہرام خان سے نہ ہوئی ہوتی تو اب تک وہ بنا کسی سوال و جوابات کہ پہلی فرصت میں شوٹ کر دیتا
بہرام نے شرمندگی سے چہرہ جھکایا تھا اس کی غلطی سنگین تھی اور یہ پٹھان کی محبت ہی تھی جو وہ ابھی تک اس روئے زمین پر زندہ و سلامت کھڑا تھا

“ہہ-ہم کو معاف۔۔۔۔”
“بسس بہرام خان بس میرے سے معافی کی امید ہر گز مت رکھنا غلطی بےحد سنگین ہے جس کا خمیازہ میں بہت بری طرح بھگت کر آ رہا ہوں اور اب باری زوراشہ کی ہے اس کا خمیازہ بھگتے کی۔۔۔۔”
پٹھان اس کی بات کاٹتا انگلی اٹھائے وارن انداز میں بولا تھا

“نن-نہیں پٹھان تم ہم کو سزا دے اسے معاف کر دے ہم غلطی کیا۔۔۔۔۔”
وہ فوراً آگے بڑھتا منتیں کرتا اس کا ہاتھ تھامے بولا جسے جلد ایک ہی سیکنڈ میں پٹھان نے چھڑوایا تھا
“تم جانتے سب برباد ہو جانا تھا اگر وہ اس فائل پر نقش تمام الفاظوں کو پڑھ لیتی تو لیکن جو اس نے پڑھا واللہ بہرام میں اپنے مقصد کے آگے کسی کو نہیں رکھتا تم جانتے اور جو میرے مقصد آئے گا اس کا انجام بھی تم جانتے چاہے کوئی بھی ہو کوئی بھی اور زوراشہ۔۔۔۔۔”

“نہیں پٹھان۔۔۔۔۔”
بہرام تڑپ کر بولا تھا تو پٹھان اثبات میں سر ہلاتا قہربرساتی نظروں سے اسے دیکھے وہاں سے نکل گیا تھا جب کہ بہرام کا دل کیا زمین میں دفن ہو جائے مر جاتا وہ لیکن یہ سب نہ ہوتا اور پٹھان کا یوں سر کو اثبات میں ہلانا کھلم کھلا کسی طوفان کی نشانی تھی
………………………………
زوراشہ بیڈ پر چٹ لیٹی چھت کو گھور رہی تھی جب کہ ان گنت سوچوں نے اسے گھیرا ہوا تھا
“موسیٰ زار پٹھان ولد۔۔۔۔۔”
اس کی سوچ کی انتہا یہاں ہوئی تو مزید آنسووں بالوں سے رستہ بناتے بیڈ شیٹ پر جذب ہوئے تھے

“دا فیمس گینگسٹر، کریمینل، کلر، سمگلر۔۔۔۔۔۔”
وہاں پر نقش ان الفاظوں کو سوچتے اس نے سختی سے آنکھوں کو میچا تھا

“بچہ پٹھان اچھا آدمی نہیں چھوڑ دے اسے وہ قاتل ہے۔۔۔۔۔”
اپنے بات کے الفاظ اس کے کانوں میں گونجے تو اس نے جھٹ سے آنکھیں کھولیں تھیں
“مطلب بابا جانتے ہیں باقی کی سچائی اب وہی بتائیں گے۔۔۔۔۔”
وہ آنسووں کو سختی سے رگڑتے یہ بھول گئی کہ دشمن سے کسی کے بارے میں پوچھنا گویا سانپ کو زہر جسم میں اتارنے کا موقع دینا وہ یہ بھول گئی کہ اسے اہنے باپ سے پٹھان کے محض خامیوں کے کچھ بھی نہ ملے گا

“میرے موسیٰ میرے پٹھان ابھی تو محبت نے زور پکڑا تھا ابھی تو تم سے محبت ملی تھی ابھی تو مجھے خود کی محبت پر فخر ہوا تھا تم ایسا کیسے کر سکتے ہو۔۔۔۔”
خود سے بڑبڑاتے اس کی ہچکی بندھی تھی آنسووں پھر سے قطار بن کر نکلنے لگے تھے وہ اسی مشغلے میں مصروف تھی کہ کسی نے دھیرے سے دروازہ کھولا تھا دروازہ کھلنے کی آواز پر اس نے اس سمت دیکھا تو آنے والی شخصیت کو دیکھتے اس نے رخ پھیرا تھا
………………………………