53.7K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

زویا زربینہ کے کمرے کے دروازے کے سامنے کھڑی گہرے سانس لیتی اندر جانے کی ہمت جمع کر رہی تھی کیونکہ جانتی تھی کہ سننے کو جلی کٹی ہی ملیں گی پھر کچھ توقف کے بعد اس نے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا اور اجازت ملنے پر اندر داخل ہوئی تھی زربینہ نے اسے دیکھا تو ایک ناگوار نگاہ اس پر ڈالے واپس اپنے زیورات دیکھنے لگی تھی

“امی جان مجھے کچھ دیر حویلی سے باہر جانا ہے۔۔۔۔”
اس نے گہرا سانس لیتے ایک ہی سانس میں کہا تھا
“کیوں۔۔۔۔؟”
“تھوڑا تازہ ہوا لینے کے لیے میں جلد آ جاوں گی۔۔۔”
“اچھا ایسا کرو کچھ گارڈز ساتھ لے جاو مجھے تم پر یقین نہیں ناجانے کہاں جانا ہو۔۔۔۔”
زربینہ کی بات پر اس کے گلے میں آنسووں کا پھندا اٹکا تھا لیکن بہرحال کچھ دیر حویلی سے نکل کر باہر پرسکونیت کے لیے تھوڑا سا سکون اس کی باتوں سے غارت ہو بھی گیا تو اتنا تو اب برداشت کرنا ہی ہو گا
“جی اچھا۔۔۔۔”
اتنا کہتی وہ کمرے سے نکلی گئی تھی اور زربینہ کو اپنی کہی بات پر رتی برابر فرق نہ پڑا تھا وہ بیٹی تھی اس کی اور مائیں ایسی تو نہیں ہوتیں
………………………………
آج ملک کے بڑے گینگسٹرز کی خوفیا میٹنگ تھی جس میں پٹھان بھی شامل تھا ناجانے کیا سوچ کر اس نے اس میٹنگ میں شامل ہونے کی حامی بھری تھی
پٹھان بتائی گئی لوکیشن پر بہرام کے ساتھ پہنچا تو وہاں جگہ جگہ پہرا تھا

“لگتا ہے پٹھان سب بھاری بھاری فوجیں لے کر آیا ہے۔۔۔۔؟”
باہر موجود اتنے سارے آدمیوں کو دیکھتے بہرام نے پٹھان کے قریب ہوتے سرگوشی کی تھی
“ان بھاری بھاری فوجوں پر تم اکیلے ہی کافی ہو بہرام خان۔۔۔۔”
پٹھان کی جانب سے تعریف سنتے اس کا سینہ چوڑا ہوا تھا گردن اکڑائے ان آدمیوں کو دیکھا جو ان دونوں کو ہی دیکھ رہے تھے

پٹھان شاہانہ چال چلتے کمرے کا دروازہ کھولتے اندر داخل ہوا جہاں دروازہ کھلنے پر سب دروازے کی جانب متوجہ ہوئے تھے وہاں تقریباً سب ہی موجود تھے اور صرف ایک کرسی خالی تھی وہ بھی شاید اس کے لیے

سر پر بندھے رومال سے تھوڑے نکلے ماتھے پر بکھرے بالوں کو انگلیوں کی مدد سے پیچھے کرتا اپنی کرسی کی جانب آیا اور کرسی پیچھے گھسیٹتا اس پر ٹانگ پر ٹانگ جمائے بیٹھا تھا سب اس مغرور بادشاہ کی جانب متوجہ تھے

“تم نے آنے میں دیر کر دیا پٹھان ہم سب تمہارا منتظر تھا۔۔۔۔۔”
ایک شخص جو سربراہی کرسی پر بیٹھا بڑھی داڑھی کے ساتھ ستائشی نگاہوں سے اسے دیکھتے پوچھا تھا
“تھوڑا کام میں بزی تھا وقت نہیں ملا۔۔۔۔۔”
لیے دیے انداز میں دیے جانے والا جواب اس کو خاموش کروا گیا تھا

“تم ایک گھنٹہ دیر سے آیا ہے۔۔۔۔”
وہاں موجود ایک اور شخص بولا تھا
“میں نے انتظار کرنے کو نہیں کہا تھا۔۔۔۔”
وہ ہر ایک کا بغور چہرہ دیکھتے بولا تھا

“اتنا غرور۔۔۔۔”
ایک اور شخص جو کہ عین اس کے سامنے بیٹھا تھا کہنی سامنے بڑی سی ٹیبل پر ٹکائے بولا تھا
“اللہ کی خاص عطا ہے۔۔۔۔”
اللہ کے زکر پر مسکراہٹ نے لبوں کو چھوا تھا
“ہم جیسا گینگسڑرز جو لوگوں کے دلوں میں خوف پیدا کرنے کے لیے بمب دھماکے معصوموں کی جان لیتا ہو ان کے لبوں پر رب کا نام۔۔۔”
پٹھان کے ساتھ بیٹھا شخص حیرت سے بولا تو پٹھان کی مسکراہٹ سمٹی اور گردن موڑے اپنے ساتھ بیٹھے شخص کو دیکھا تھا پھر سربراہی کرسی پر بیٹھے اس شخص کو

“ابراہیم پاشا کیا ان چیزوں کے زکر کے لیے تم نے مجھے بلایا ہے اور آنے پر بہت زور دیا اگر یہی سب ہے تو میں جاتا ہوں میرا کوئی کام نہیں۔۔۔۔”
اس نے ماتھے پر بل ڈالے اس سے پوچھا
“نن-نہیں نہیں پٹھان بیٹھ تم۔۔۔۔”
پٹھان جو بولتا اٹھنے والا تھا لیکن ابراہیم گڑبڑا کر فوراً بولا اور سب کو گھوری سے نوازا تھا

“سب تم سے ملنے کے خواہشمند تھے تمہارا نام تمہاری دہشت سے سب واقف تھے اسی لیے تجسس کے مارے سب تمہارے انتظار میں تھے۔۔۔۔”
اس کے بتانے پر پٹھان نے سر کو خم دیا تھا

“فوج نے ہمارا ایک خاص آدمی کو پکڑ لیا ہے جو سب گینگسٹرز کی جڑ ہے یہی سمجھ لو اس کو چھڑوانا ہو گا کسی طرح ورنہ بہت نقصان ہو گا۔۔۔۔”
ابراہیم نے بات کا آغاز کیا تھا
“مجھے لگتا ہے ہمیں مال میں دھماکا کروانا چاہیے۔۔۔۔”
ایک آدمی بولا تھا
“لیکن اس سے وہ ہمارے آدمی کو نہیں چھوڑے گا۔۔۔”
ابراہیم نے اس کی بات کی نفی کرتے کہا تھا

“ہمیں جگہ جگہ بمب لگانا چاہیے اور اطلاع دے دے گا کہ اگر ہمارا آدمی نہ چھوڑا تو جہاں جہاں بمب پگایا ہے وہ بلاسٹ ہو جائے گا آدمی واپس دینے کی صورت میں سب بمب ڈیفیوز کر دیے جائینگے۔۔۔۔”
ایک اور نے مشورہ دیا تھا سب مختلف قسم کے مشورے دے رہے تھے جب کہ پٹھان پڑی فرصت سے خاموش بیٹھا ان کی بکواس(بقول پٹھان) سن رہا تھا

“پٹھان تم نے کوئی مشورہ نہیں دیا۔۔۔۔”
پٹھان کو خاموش پا کر ابراہیم نے اس سے پوچھا تو سب کی نگاہیں اس کی جانب اٹھیں تھی
“سب کے مشورے نہایت بکواس ہیں۔۔۔۔”
اس نے گہرا سانس لیتے کہا تو جہاں ابراہیم کے ہونٹ مسکرائے وہی سب نے اس کی بات سنتے دانت پیسے تھے

“اچھا تمہاری نظر میں کیا حل ہے۔۔۔۔؟”
“فوج کا خاص آدمی اغواہ کر لو بہت خاص جو فوج کی جان ہو جس سے فوج میں ہفراتفری مچ جائے اور وہ تمہارے آدمی کو چھوڑنے پر مجبور ہو جائے۔۔۔۔۔۔۔”
وہ دونوں کہنیا ٹیبل پر ٹکائے بولا تھا تو ایک دم سے گہری خاموشی چھا گئی تھی

“لیکن ہم فوج کے آدمی کو پکڑے گا کیسے۔۔۔؟”
ایک شخص کی آواز نے اس خاموشی کو توڑا تو پٹھان ہنسا تھا
“گینگسٹر ہو کر ایسا سوال لانت۔۔۔۔”
طنزیہ ہنسی ہنس کر بولتے اس کے دل میں آگ لگا گیا تھا
“تم ہمارا توہین نہیں کر سکتا ہم مانے جانے گینگسٹرز میں سے ایک ہے۔۔۔۔”
“مانے جانے گینگسٹرز کو بچکانہ سوال بھی زیب نہیں دیتا ناجانے پاپڑ بیچ کر گینگسٹر بنے ہو۔۔۔۔”
سنجیدگی سے کہتا نگاہ کو سامنے دیوار پر لگی کھڑی پر ٹکایا تھا جہاں گھڑی چار کا ہندسہ عبور کر گئی تھی

“ابراہیم پاشا اسے کہو زبان کو لگام دے۔۔۔”
وہ شخص بھڑکا تھا
“پٹھان سہی کہہ رہا ہے ایسے سوال ہمیں زیب نہیں دیتے۔۔۔۔”
ابراہیم نے اسے جھڑکا تو وہ خاموشی سے قہر برساتی نگاہوں سے پٹھان کو دیکھا جس نے اسے آنکھ دبائی تھی اس کے عمل سے وہ مزید سلگ اٹھا تھا

“آگے بولو پٹھان تم۔۔۔۔”
ابراہیم نے دوبارہ پوچھا تھا
“فوج کے آدمی کو کیسے اٹھوانا ہے یہ تم لوگوں کا کام ہے۔۔۔۔”
“تو کیا تم ہماری مدد نہیں کرے گا ۔۔۔۔۔؟”
اس نے ایک آئبرواچکائے اس سے پوچھا تھا
“نہیں۔۔۔۔”
اس نے سفاک انداز میں کہا تھا تو ابراہیم نے ہونٹ بھینچے تھے

“کیوں۔۔۔۔؟”
“وہ تمہارا آدمی ہے میرا نہیں مجھے اور بھی ہزاروں کام ہوتے میرے ہاس اتنا وقت نہیں تمہاری آدمی کو چھڑواتا پھروں مشورہ دیا عمل درامد کرنا تمہارا کام ہے۔۔۔۔”
وہ اکتاہٹ بھرے لہجے میں بولا جیسے یہاں بیٹھے وہ اکتا گیا ہو وہاں پھر سے خاموشی چھا گئی تھی
“ہو گی میٹنگ تو جانا چاہوں گا۔۔۔۔”
وہ کان کھجائے بولا تھا ابراہیم نے سر کو اثبات میں ہلایا تو وہ بھی سر کو خم دیتے اٹھا تھا اور ایک تفصیلی نگاہ سب پر ڈالے دروازے کی جانب بڑھا تھا

“کہیں یہ غرور خاک میں نہ مل جائے۔۔۔۔”
پیچھے سے کسی کی آواز نے اس کے قدم روکے تھے پٹھان سر جھکائے مسکرایا تھا اور پلٹ کر اس شخص کو دیکھا
“خود پر دھیان دو کہیں تم پورے خاک میں نہ مل جاو ۔۔۔”
سنجیدگی سے بولتا رکا نہیں کمرے سے نکل گیا تھا

“اس میں بہت غرور ہے ابراہیم پاشا۔۔۔۔”
ان میں سے ایک شخص ابراہیم سے بولا تھا جو خود داخلی دروازے کو دیکھ رہا تھا
“یہی غرور ہمیشہ اس کی فتح کا باعث بنتا ہے۔۔۔۔”
وہ پرسوچ سا بولا تھا
“تم لوگ آدمی تیار کرو فوج کے خاص آدمی کو اٹھوائے گا ہم۔۔۔۔”
” کیا مطلب ہم اس کے مشورے پر عمل کرے گا۔۔۔۔”
“بالکل۔۔۔۔”
ابراہیم بنا کسی دیری کے بولا تو باقی سب خاموش ہو گئے تھے
………………………………
زویا ایک گارڈ کی موجودگی میں حویلی سے باہر فصلوں کے اردگرد بنی جگہوں پر پھرنے کے بعد ایک درخت کے نیچے آ بیٹھی تھی
“سنیں۔۔۔۔”
زویا نے گارڈ کو اشارہ کیا تھا
“جی۔۔۔۔”
وہ تابعداری سے سر جھکائے بولا تھا
“کہیں سے پانی مل جائے گا۔۔۔؟”
اس نے پیاس کی شدت کی وجہ سے اس سے پوچھا جس نے اثبات میں سر ہلایا تھا
“ٹھیک ہے لے آئیں۔۔۔۔”
اس کو حکم دیتی درخت سے ٹیک لگائے آنکھیں موند گئی تھی اسے اس وقت شدت سے داود کی یاد آئی تھی

“یااللہ سب ٹھیک نہیں ہو سکتا۔۔۔۔”
اس نے آنکھیں کھولے سورج کے آگے آئے پہرہ ڈالے بادلوں کو دیکھا تھا اسے لگا جیسے اس کے پیچھے کوئی موجود ہو اس نے جیسے پلٹنا چاہا لیکن اس کے پلٹنے سے پہلے ہی کسی نے اس کے منہ پر رومال رکھتے اس کو پلٹنے سے باز رکھا تھا وہ مزاحمت کرنے لگی جو بےسود تھی اور پھر دو ہی منٹ میں وہ اپنے ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گئی تھی
………………………………
“کیا بات ہوا پٹھان وہاں میٹنگ میں۔۔۔۔؟”
بہرام نے گاڑی ڈرائیو کرتے اپنی ساتھ والی سیٹ پر بیٹھے پٹھان سے پوچھا تھا
“کیا ہم گینگسٹرز ہیں بہرام خان۔۔۔۔”
اس نے سیٹرنگ ہو دیکھتے پوچھا تو بہرام نے گردن گھمائے اسے دیکھا
“ایسا کیوں کہہ رہا ہے آپ۔۔۔؟”
“وہاں مجھے نکال کر بیس لوگ موجود تھے جن میں سے تقریبا سب لوگ ہی پشتون تھے ان کا ایک آدمی فوج کے پاس ہے جس کو چھڑوانے کی مشقت میں دہرے ہو رہے ہیں۔۔۔۔”
اس نے مختصر سا بتایا
“اچھا تو آپ کیا کہہ آیا ہے اس حوالے سے یقیناً آپ سے بھی مشورہ مانگا ہو گا۔۔۔۔”
اس نے حویلی کے راستے گاڑی ڈالتے پوچھا ہے
“الجھن میں ڈال آیا ہوں تاش کا پتہ پھینک آیا ہوں اور وہ ایک پتہ جوکر کا پتہ تھا عنقریب سب اس پتے کو ایک دوسرے سے چھینیں گے اور جو چھینے گا وہ اس کھیل سے باہر ہو جائے گا۔۔۔۔”
پٹھان نے سر سیٹ کی پشت سے ٹکائے پراسرار مسکراہٹ لبوں پر سجائی تو بہرام بھی مسکرایا تھا وہ جانتا تھا اسے کے پتوں کے پیچھے چھپی بات کو سمجھتا تھا وہ اسے بخوبی
………………………………
پوری حویلی میں یہ بات آگ کی مانند پھیل گئی تھی کہ زویا داود خان اغواہ ہو گئی ہے لیکن زربینہ نے یہ کہہ کر مزید شک پیدا کر دیا کہ وہ کسی اور کے ساتھ منہ کالا کرتی پھر رہی تھی جب کہ اس کے ساتھ گئے گارڈ سے بھی مکمل تفشیش ہو رہی تھی تفشیش کے ساتھ ہاتھ بھی صاف ہو رہا تھا ہر فرد زویا کے بارے میں نئے نئے انکشاف ظاہر کر رہا تھا جب کہ ایک داود تھا جو کرسی پر بیٹھا خاموش تھا چہرے پر ان گنت تاثرات تھے لیکن اس نے زویا بارے ایک لفظ نہیں کہا تھا وہ بس خاموشی اختیار کئیے بہت سی سوچوں نیں گھرا ہوا تھا اسے نہیں معلوم تھا زویا کہاں جا سکتی ہے

“داود کچھ بول تمہارا بیوی ہمارے منہ پر کالک مل چکا یے۔۔۔۔”
دلاور نے نہوست سے کہا تھا
“ایسا مت کہیں دلاور خان ہمارا بچہ ایسا نہیں۔۔۔۔”
آفشاں فوراً اس کی حمایت میں بولی تھی
“تم تو خاموش ہی رہے تمہیں کس نے حق دیا کہ ہمارے بیچ بول۔۔۔۔”
دلاور آفشاں پر دھاڑا تو وہ بےچاری خاموش ہو گئی تھی

“داود تمہیں فیصلہ کرنا ہو گا۔۔۔۔”
دلاور نے خاموش بیٹھے داود سے کہا تھا
“ہم زویا کو طلاق دینے کے لیے تیار ہے۔۔۔۔۔”
داود کے یہی الفاظ تھے جو وہ سننا چاہتے تھے آفشاں کے علاوہ ان تینوں نفوس کے چہروں پر مسکراہٹ تھی
“میرا بچہ یہ ظلم مت کر چنا کوئی چیز جانے ایسا کیسے طلاق دے سکتا ہے پاگل ہو گیا ہے۔۔۔۔”
آفشاں اس کے پاس آتی اسے جھنجھوڑتے ہوئے بولی تھی
“مورے وہ اسی قابل ہے ہمارا محبت سب خاک میں ملایا ہمارا عزت ہمارا غیرت سب مٹی تلے روند دیا۔۔۔۔”
وہ آہستہ آواز میں بولا تھا

“داود تم زویا کو ڈھونڈھے گا اور ہمارے سامنے طلاق دے گا طلاق دیتے ہی ہم ایک ہی گولی سے اس کا کام تمام کر دے گا آخر ہمارا غیرت کا سوال ہے اور ہمارے ہاں بھاگی ہوئی لڑکی کا یہی انجان ہے۔۔۔”
بہروز کی بات پر داود نے سختی سے آنکھیں میچیں تھی وہ اس کی بیوی تھی اس کی محبت تھی

“اور جس کے ساتھ بھاگا ہے اسے بھی ڈھونڈھ کر سزا کا حق تمہارا ہے۔۔۔۔”
بہروز کی بات پر اس نے سر کو اثبات میں ہلایا تھا
“ایسا ہر گز مت کرنا میرا بچہ۔۔۔۔”
آفشاں نے روتے ہوئے اس کا بازو تھاما جسے اس نے فوراً سے اس کے ہاتھوں سے کھینچا تھا

……………………………..
زوراشہ بےچینی سے کمرے میں ادھر ادھر ٹہلتی پٹھان کا انتظار کر رہی تھی زرفشاں نے اسے بھی زویا کے غائب ہونے کی خبر دے رہی تھی جب سے اسے یہ خبر ملی تھی وہ دو بار رو بھی چکی تھی
مزید انتظار کے بعد اسے پٹھان کی گاڑی کا ہارن سنائی دیا تھا وہ دروازے میں کھڑی اس کا انتظار کرنے لگی اسے معلوم تھا ساتھ بہرام خان ہو گا اسی لیے وہ یہی رک گئی تھی اور پھر واپس کمرے میں آتی ٹہلنے لگی تھی تقریباً پانچ منٹ بعد دروازہ کھلا اور پٹھان اندر داخل ہوا تھا پٹھان کو دیکھتے وہ فوراً اس کی جانب لپکی تھی

“کیا ہوا۔۔۔۔؟”
وہ اس کی آنکھوں کے گرد پھیلی سرخی اور چہرے پر پریشانی دیکھتا پوچھنے لگا تھا
“پٹھان زز-زویا کو کسی نے اغواہ کر لیا ہے۔۔۔۔”
زوراشہ کی بات پر وہ ایک دم سے چونکا تھا پھر گہرا سانس بھرا
“اچھا۔۔۔”
اتنا بولتا اس نے سر سے رومال اتارا تھا جب کہ زوراشہ کو اس کے نارملی انداز سے شدید حیرت ہوئی تھی

“پٹھان کیا تم نے ٹھیک سے سنا نہیں۔۔۔۔”
“سن لیا ہے زوراشہ کھانا لا دو زویا بھی مل جائے گی۔۔۔۔”
وہ تھکا سا بیڈ پر بیٹھتے بولا تھا
“کتنے بےحس ہو تم پٹھان تمہاری بہن اغواہ ہو گئی اور تم ایسے بیہیوو کر رہے ہو جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو ۔۔۔۔۔”
وہ اس کے عمل سے غصے سے بولی تو اس نے سنجیدگی سے اس کی جانب دیکھا تھا اور پھر کھڑا ہوتا اس کے پاس آیا

“زیادہ پریشان مت ہو میں ڈھونڈھ لوں گا۔۔۔۔”
وہ اس کو بازو سے تھامے بولا تو اس نے غصے سے اپنا بازو چھڑوایا تھا
“دوبارہ یوں عمل دہرایا تو بازو توڑ دوں گا ایک بات کو ہزار بار سمجھانا پڑتا ہے عقل نہیں ہے کہا۔۔۔۔”
“بھاڑ میں جاو پٹھان۔۔۔۔”
نم آنکھوں سے کہتی کمرے سے نکل گئی تھی ھب کہ اس کے الفاظوں پر اس نے مٹھیاں بھینچی تھی
“بےوقوف لڑکی، جزباتی لڑکی۔۔”
خود سے بڑبڑاتا بیڈ پر بیٹھا تھا