53.7K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

اگلے تین روز پٹھان کی پرچھائی بھی اسے نظر نہ آئی تھی وہ تین دن لگا کر پورا گھر گھوم چکی تھی گھر کے اندر مخصوص گارڈز ہی موجود تھے جو اس کی موجودگی کو دیکھتے رخ پھیر لیتے تھے کسی نے بات تو دور کی بات ایک نگاہ اٹھا کر بھی نہ دیکھا تھا
پٹھان سہی کہتا تھا کہ کسی میں ہمت نہیں وہ اس ہر سرسری سی نگاہ بھی ڈال جائیں
گھر میں صرف عورتیں ملازمین تھیں اور کچھ بزرگ تھے جو گارڈن پودوں کی دیکھ بال کے کیے تھے وہ بھی کام انتہائی ضروری کام ہو یا کچھ چاہیے ہو تو گھر داخل ہوتے ورنہ جو جو ان کا کام وہی سر انجام دیتے اور گارڈن کی دوسری سائیڈ پر ان کو سرونٹ کواٹر دے رکھا تھا جس میں سب ملازمین رہتے تھے

“یہ تین دن سے پٹھان کا بچہ کہاں غائب ہے۔۔۔۔؟”
زوراشہ پہلی حصے میں لاونچ میں ادھر ادھر گھومتی مسلسل پٹھان کے بارے سوچ رہی تھی پھر کچھ سوچتی کچن میں گئی جہاں ایک لڑکی جو لگ بھگ تیس سال کی ہو گی اور دو تین ادھڑ عمر کی عورتیں موجود اپنا اپنا کام سر انجام دے رہیں تھی

“کچھ چاہیے تھا پٹھانی صاحبہ تو آواز لگا دیتیں۔۔۔۔”
ان میں سے ایک اڈھیر عمر کی عورت دوپٹے سے گیلے ہاتھ صاف کرتے مسکراہٹ لبوں پر سجائے نرم لہجے میں بولی تھی
“تین دن سے پٹھان گھر پر موجود نہیں کیا آپ کو معلوم ہے وہ کہاں ہو گا۔۔۔۔؟”
اس نے بنا کوئی تمہید باندھے شیلف پر پڑے ڈونگے سے ڈھکن اٹھایا تھا جس میں گرم کھیر موجود تھی جیسے ابھی ابھی بنائی ہو

“پٹھانی صاحبہ ہمیں کیسے معلوم ہو سکتا ہے پٹھان کہاں جاتے ہیں یہ تو ان کا روز کا معمول ہے وہ مہینہ مہینہ گھر سے غائب رہتے ہیں۔۔۔۔۔۔”
ان میں سے دوسری عورت بولی تو وہ لفظ “مہینے” پر ٹھٹھکی تھی

“تو تم لوگ یہاں کیا کرتے ہو یقیناً ایک اکیلے پٹھان کے کیے اتنے ملازمین،اور جب وہ گھر نہیں ہوتے رب کیا کرتے ہو۔۔۔۔؟”
وہ کرسی پر بیٹھتی اپنی حیرت چھپائے پوچھنے لگی تو وہ عورتیں مسکرائیں تھیں

“ہم اپنے لیے اور گھر میں موجود ہر فرد کے لیے کھانا بناتی ہیں یہاں تک کہ گارڈز مالی سب کے لیے۔۔۔۔۔”
وہ تیس سالہ لڑکی گندے برتنوں کو سینک میں رکھتے بولی تھی لیکن زوراشہ جو پہلے ہی الجھی ہوئی تھی اس کے جواب سے مزید الجھ گئی تھی

“کیسا کھانا بناتی ہیں۔۔۔۔؟”
کھانا ایک جیسا ہی بنتا ہے ہم بھی وہی کھانا کھاتے ہیں جو پٹھان کھاتے ہیں پٹھان کے کھانے کے بعد ہم اپنے کواٹرز میں کھانا کھاتی ہیں جب کہ مردوں کا دسترخواں گارڈن میں لگایا جاتا ہے۔۔۔”
وہ تفصیل سے ہر چیز بتاتیں اس پر حیرتوں کے پہاڑ گرا رہیں تھی بہت سے سوالوں نے اس کے دماغ میں ڈیرا ڈالا تھا بہت سی الجھنوں میں وہ الجھ گئی تھی اس نے تو گارڈن میں ان چار دنوں میں ان کو کھاتے نہیں دیکھا تھا یا شاید جس وقت وہ کھاتے تھے اس نے اس وقت دیکھا نہ ہو

“لیکن یہ سب۔۔۔۔”
وہ جھنجھلا کر صرف اتنا ہی بول سکی تھی اسے سمجھ نہ آیا تھا کہ اپنے تمام سوالوں میں سے کون سا سوال پہلے پوچھے
“پٹھانی صاحبہ پٹھان ہمیں اپنی فیملی سمجھتے ہیں جب سے وہ یہاں آئے ہیں ہم ملازمین مالی تب سے یہی موجود ہیں البتہ گارڈز کی ڈیوٹیاں تبدیل ہوتی رہتی ہیں پٹھان نے ہمارے ساتھ کبھی فرق نہیں برتا۔۔۔۔۔”
اس کی بات سنتے زوراشہ نے گہرا سانس بھرا تھا

“تم سب لوگو پشتون ہو۔۔۔؟”
“نہیں ہم لوگ پنجاب سے ہیں۔۔۔۔”
ان میں سے ایک عورت برتنوں کو دھوتے بولی اس سے پہلے وہ مزید کچھ بولتی ہارن کی آواز پر وہ چونکی تھی ضرور پٹھان آ گیا تھا ان کی جانب مسکراہٹ اچھالتی مزید پوچھنے کا ارادہ ترک کرتی کچن سے نکلی تھی

پٹھان جو بہرام سے باتیں کرتا لاونچ کی حدود میں پہنچا تھا کہ سامنے زوراشہ کو کھڑے دیکھ کر نظروں سے اس کا مکمل جائزہ لینے لگا جو لائیٹ پنک فراک میں سر پر دوپٹہ لیے جن سے چند لیٹیں نکلیں ہوئیں تھی سیدھا اس کے دل میں اتر رہی تھی اس نے ملازمین سے کہہ کر اس کی ضرورت کی ہر چیز منگوا کر اپنے کمرے میں سیٹ کروا دی تھی وہ اس پر ہی نظریں مرکوز رکھے بہرام سے بات کر رہا تھا کہ زوراشہ اس کی جانب آئی تھی

“کہاں تھے پٹھان تین دن سے۔۔۔۔۔؟”
وہ اس کے پاس آتی منہ پھلائے بولی تو پٹھان بولتا بولتا رکا اور ماتھے پر بل ڈالے اسے دیکھا جو مکمل اس کے تاثرات کو اگنور کرے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی جب کہ بہرام نے نظریں جھکائے اپنی مسکراہٹ دبائی تھی

“اجازت چاہے گا پٹھان اس معاملے میں پھر بعد میں گفتگو کرے گا۔۔۔۔”
بہرام کو اس وقت جانا ہی مناسب لگا اسی لیے پٹھان سے جانے کی اجازت لی جس نے ہاتھ کے اشارے سے اجازت دی تھی اس کے جاتے ہی وہ دو قدم اس کے نزدیک ہوا تھا

“کیا نظر نہیں آ رہا تھا میں بہرام سے بات کر رہا تھا جو یوں آ کر اس کے سامنے استفارہ کرنے لگی اس کی اجازت کس نے دی ہے تمہیں۔۔۔۔”
وہ ایک ایک لفظ چبائے بولا تھا ماتھے پر ابھرتی نسیں اس بات کی نشانی تھی کہ اسے زوراشہ کا یوں ایسے بہرام کے سامنے اس سوال کرنا ناگوار گزرا تھا

“میرے اللہ نے حق دیا ہے بیوی ہوں آپ کی۔۔۔۔”
وہ سینے پر ہاتھ باندھے کندھے اچکائے بولی
“اچھا۔۔۔۔۔”
اس نے آگے بڑھتے اس کے بندھے بازووں سے پکڑا تھا اور تھوڑا قریب کیا تھا
“یہ عمل مجھے سخت ناگوار گزرا ہے دوبارہ مت دہرانا پٹھانی۔۔۔۔۔”
وہ یہ کہتا ایک نگاہ اس پر ڈالے آگے بڑھ گیا تھا

“لیکن میں تمہاری بیوی ہوں۔۔۔”
اس نے دبی دبی آواز میں کہا
“اچھا میری زوجہ محترمہ بیوی کا فرض ادا کر دو کپڑے نکال دو میرے۔۔۔۔۔”
وہ بنا پیچھے مڑے کہتا سیڑھیاں چڑھنے لگا تھا جب کہ وہ بھی منہ بناتی اس کے پیچھے لپکی تھی
………………………………
داود دلاور کے کمرے میں داخل ہوا تو وہاں دلاور کے ساتھ ساتھ بہروز بھی موجود تھا اس نے گہرا سانس بھرا تھا وہ جانتا تھا کسی اچھی بات کی امید نہیں
“جی بابا یاد فرمایا کوئی کام تھا۔۔۔۔”
وہ صوفے پر برجمان ہوتے ہوئے بلانے کی وجہ دریافت کی تھی تو دلاور نے ایک نظر بہروز کو دیکھتے سر اثبات میں ہلایا اور بیڈ سے اٹھتا دو پیپرز اس کے سامنے ٹیبل پر رکھے تھے

“یہ کیا ہے۔۔۔۔؟”
اس نے ان دونوں پیپرز کو دیکھتے ان سے پوچھا تھا
“دیکھ لے خود۔۔۔”
بہروز کے کہنے پر اس نے دونوں پیپرز اٹھائے تھے اور باری باری دیکھنے لگا پھر ہونٹ بھینچے اپنے باپ اور تایا کو دیکھا جن کا مطلب وہ بخوبی سمجھ گیا تھا

“طلاق کا پیپرز تیار کروا چکا ہے ہم فیصلہ تم پر ایک کام دیا ہے وہ نہ تم کر سکا تو باقی کام خاک کرے گا زیادہ وقت نہیں تمہارے پاس یہ کام تم نہ کرا سکا تو اپنی بیوی اور اپنے سائین کر لینا۔۔۔۔”
دلاور کی بات پر وہ پیپرز ٹیبل پر غصے سے پھینکتا کھڑا ہوا تھا

“مزاق سمجھا ہوا ہے نکاح اور طلاق کو۔۔۔۔”
غصے بھری نگاہ ان پر ڈالتا منہ میں بڑبڑاتا کمرے سے نکل گیا تھا
“دلاور اپنے لڑکے کو قابو میں کر ورنہ سب ہاتھ سے نکل جائے گا۔۔۔۔”
بہروز نے دلاور کے کندھے پر ہاتھ رکھتے کہا جس کی آنکھوں میں مرچیاں لگ رہیں تھی سب کچھ ہاتھ سے نکل جانے کے ڈر سے
………………………………
زوراشہ شیشے کے سامنے بیٹھی بنار سنگھار کرتی شیشے سے ایک نگاہ پیچھے بیڈ پر لیٹے پٹھان پر بھی ڈال لیتی جو ایک بازو سر کے نیچے جب کہ دوسرا سینے پر رکھے بنا پلک چھپکے ٹکٹکی باندھے اسے دیکھ رہا تھا

“ایسے کیا دیکھ رہے ہو پٹھان۔۔۔۔۔؟”
حیا سے بوجھل پلکوں کی باڑ اٹھائے اس نے شیشے میں نظر آتے اس کے عکس کو دیکھتے پوچھا جس کی نگاہوں میں زرا فرق نہ آیا تھا
“تمہیں تو کہیں جانا تھا۔۔۔۔”
اس نے بات کا رخ بدلا
“ہمممم۔۔۔۔۔”
اس نے محض “ہممم” بولنے پر ہی اکتفا کیا تھا

“کب جانا ہے۔۔۔۔؟پھر کب آو گے۔۔۔۔؟”
وہ بالوں کو کنگھی سے ترتیب دیتے پوچھنے لگی
“معلوم نہیں واپسی۔۔۔۔”
اس کے سرسری سے جواب پر اس کا چہرہ یک دم مرجھا گیا تھا جو پٹھان نے بخوبی محسوس کیا تھا

“ادھر آو۔۔۔۔”
وہ اس کے مانند پڑتے چہرے کو دیکھتے حکم صادر کیا تو وہ کنگھی ڈریسنگ پر رکھتی اٹھی اور اس کی جانب آئی تھی جس نے تھوڑا ادھر کھسکتے اپنا ایک ہاتھ آگے بڑھایا ہوا تھا زوراشہ نے اس کے قریب آتے اس کے ہاتھ کو تھاما تھا اور زرا سا اوپر اٹھتے تکیہ اونچا کرتے اس پر سر ٹکایا تھا اور اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا جو زرا سی جگہ پر آسانی سے بیٹھ گئی تھی

“چہرہ کیوں مرجھا گیا ہے۔۔۔۔۔؟”
وہ اس کا ہاتھ اپنے دل کے مقام پر رکھتے پوچھنے لگا تھا اس کی بےترتیب سی ادھم مچاتی دھڑکنوں کی کھنک ہاتھ سے ہوتی دل میں اترتی ہوئی محسوس ہوتی اس کی دھڑکنوں میں بھی ایک طوفان برپا کر گئیں تھی

“بولو بھی۔۔۔۔”
اس کو خاموش پا کر اس کی اٹھتی گرتی پلکوں کو دیکھتے دوبارہ پوچھا تھا
“میں یہاں اکیلی کیا کروں گی آگے بھی تم تین دن بعد آئے ہو۔۔۔۔”
وہ آہستگی سے بولتی اپنا ہاتھ اس کے دل کے مقام سے ہٹانا چاہا جسے پٹھان نے سختی سے تھاما ہوا تھا

“میرے کام بہت اہم ہیں۔۔۔۔۔”
وہ اس کی مخمور انگلیوں میں اپنی انگلیاں پھنسائے بولا تھا
“مجھ سے بھی اہم ہیں۔۔۔۔؟”
وہ لب کچائے اس سے پوچھنے لگی
“تمہیں اپنے کاموں میں اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتا۔۔۔”
کمال مہارت سے اس نے بات کا پینترا بدلا تھا
“لیکن میں اکیلی بور ہو جاتی ہوں۔۔۔۔”وہ منہ بنائے بولی تھی
“تمہیں تمہاری بکس منگوا دیتا ہوں سٹڈی کرو تمہیں یونیورسٹی کا ہر لیکچر مل جایا کرے گا۔۔۔۔”
اس نے اس بات کا بھی حل نکالا تو وہ منہ پھلائے اپنا ہاتھ اس کی گرفت سے نکالا تھا جسے اس نے آسانی سے چھوڑ دیا تھا

“ادھر میرے پاس لیٹو۔۔۔۔۔”
وہ تھوڑا اور ادھر ہوتا اپنا بازو بیڈ پر پھیلایا تو وہ لب کچائے شرم کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ کبھی اسے تو کبھی بیڈ ہر پھیلے اس کے ہاتھ کو دیکھنے لگی
“اوکے مت آو۔۔۔۔”
وہ غصے سے کہتا اپنا بازو اٹھاتا اپنی آنکھوں ہر رکھ چکا تھا شاید وہ اسے ناراضگی دیکھا رہا تھا چند لمحوں میں ہی اسے اپنے سینے پر اس کے مرمری سے ہاتھ کا لمس موجود ہوا لیکن اس نے بازو آنکھوں سے ہٹایا نہ تھا اور پھر وہ دوسری جانب سے آتی اس کے سینے پر سر رکھے ایک بازو اس کے گرد پھیلا گئی تھی پٹھان کے لبوں پر بےاختیار فاتحانہ مسکراہٹ پھیلی تھی اور آنکھوں سے بازو ہٹائے خود کے سر کے نیچے رکھا تھا جب کہ دوسرے ہاتھ سے اسے مزید اپنے حصار میں لیا تھا

“تم سے ایک بات پوچھوں۔۔۔۔؟”
کچھ دیر خاموشی کی بعد کمرے میں بھاری سانسوں کے علاوہ زوراشہ کی آواز بھی گونجی تھی
“میرے کام کے علاوہ پوچھو کیونکہ اس حوالے سے جواب نہیں دینا چاہتا۔۔۔۔”
وہ صاف گوئی سے بولا تو وہ خاموش ہوئی تھی
“پوچھو خاموش کیوں ہو گئی ہو۔۔۔۔۔؟”
اس کی خاموشی دیکھتے پٹھان نے اس سے کہا تھا

“تم مجھ سے کتنی محبت کرتے ہو۔۔۔۔؟”
یہ سوال اس نے بڑی ہمت جمع کرنے کے بعد پوچھا تھا
“تمہیں کس نے کہا میں تم سے محبت کرتا ہوں۔۔۔۔؟”
سوال کے بدلے “ایسا” سوال سن کر اس نے ایک جھٹکے سے سر اس کے سینے سے اٹھائے اسے دیکھا تھا

“تو تم مجھ سے محبت نہیں کرتے۔۔۔۔؟”
اس نے بڑی امیدوں کے ساتھ پوچھا تھا
“نہیں۔۔۔۔۔”
سنجیدگی سے دیا اس کا یک لفظی جواب اس کا دل توڑ گیا تھا
“تو پھر مجھے تم نے اپنے ساتھ کیوں رکھا کیوں لائے اپنے ساتھ۔۔۔۔؟”
وہ اس کے سینے پر ہاتھ رکھے ہلکا سا دباو دیتے پوچھنے لگی

“کیوں کے تم میری بیوی ہو، میری شریک حیات، میری متاعِ جاں ہو۔۔۔۔”
وہ نرمی سے اس کے بالوں کو اپنی گرفت میں لیتا لبوں پر نگاہیں ٹکائے ایک جذب سے بولا تھا
“اور اگر بیوی نہ ہوتی تو اپنے ساتھ نہ لاتے۔۔۔؟اپنے ساتھ نہ رکھتے۔۔۔۔۔؟”

“استغفرُللہ ہمارا دین نکاح کے بغیر کسی عورت کو ساتھ رکھنے کی اجازت نہیں دیتا تو تمہیں کیسے رکھ سکتا۔۔۔۔”
وہ مسکراہٹ دبائے بولتا اس کی غصے سے بھری آنکھوں میں دیکھا تھا

“پٹھان۔۔۔۔۔”
وہ غصے سے چلاتی اس کے سینے پر مکا مارا تھا جب کہ اس کا زندگی سے بھرپور قہقہ پورے کمرے میں گونجا تھا وہ مبہوث سی اس کو ہنستے ہوئے دیکھ رہی تھی جو ہنسنے کے ساتھ اس کے بالوں میں بھی ہاتھ پھیر رہا تھا

“تمہاری پاس ہر بات کا الٹا ہی جواب ہوتا ہے کبھی سیدھا مت دینا۔۔۔۔”
وہ اس کے سینے پر ناخن مارتے بولی تو اس کی ہنسی کو بریک لگی اور تھوڑا سر اٹھائے سینے پر موجود اس کے ناخنوں کے نشان دیکھے تھے جہاں نشانات کے ساتھ ساتھ سرخی بھی پھیلی تھی

“تم سوال سیدھے کر لیا کرو۔۔۔۔”
وہ واپس سر تکیے پر رکھتے بولا تھا
“میں نے سہی سوال ہی کیا تھا۔۔۔۔”
وہ اس کے سینے سے اٹھتے ہوئے بولی اور بیٹھتے ہوئے ناراضگی سے اسے دیکھا تھا جو بڑی فرصت سے اس کی ہر اک ادا پر صدقے واری جا رہا تھا

“بتاو کرتے ہو محبت۔۔۔۔۔۔؟”
وہ کچھ توقف کے بعد پھر سے پوچھ بیٹھی تھی

“میرے سینے پر مکے برسائے اور پھر ناخنوں سے زخمی کر دیا اس سے بڑھ کر قدرے بلند آواز سے بولی ان سب کے باوجود تمہیں ایک غصیلا لفظ تک نہیں کہا کیا یہ محبت سے بڑھ کر نہیں۔۔۔؟ اور کیا چاہتی ہو۔۔۔۔۔؟”
اس کے شدت بھرے جواب پر وہ خاموش ہو گئی تھی

“میری قربت چاہتی ہو۔۔۔۔؟ میرا سکون بخش لمس۔۔۔؟ یا میری توجہ۔۔۔۔۔؟ یہ سب چاہتی ہو۔۔۔۔۔؟”
اس کے سوالوں اس کی باتوں پر زوراشہ کے پاس ایک بھی جواب نہ تھا
“میں کچھ نہیں چاہتی محبت نہیں جب تو ان سب کا فائدہ بھی نہیں۔۔۔۔”
وہ منہ میں بڑبڑائی تھی اور بیڈ سے اترنے لگی تھی اس کی بڑبڑاہٹ سنتے پٹھان نے دانت پیسے اور بازو سے پکڑ کر کھینچتے رخ خود کی جانب کیا تھا

“پاگل ہو زوراشہ سمجھتی کیوں نہیں تم جاو یہاں سے۔۔۔۔۔”
پہلے غصے سے کہتا آخر میں ایک جھٹکے سے اس کا بازو چھوڑا تھا وہ اس کا موڈ بری طرح اوف کر چکی تھی اس کے اس رویے سے اس کی آنکھیں نم ہوئیں تھی اس کی آنکھوں کی نمی دیکھتے پٹھان نے گہرا سانس بھرا اور خاموش نظروں سے اسے دیکھا تھا

“ادھر آ جاو۔۔۔۔”
نرمی سے بولتا واپس اپنا بازو بیڈ پر پھیلایا تو وہ خفگی سے اس کے سینے پر مکے برساتی واپس سر رکھ چکی تھی جب کہ اسے ان مکوں کا زرا فرق نہ پڑا تھا اس کے سر رکھتے ہی وہ اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتا آنکھیں موند گیا تھا جب کہ جہاں اس نے جانا تھا وہاں کا ارادہ ترک کر چکا تھا
………………………………