53.7K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 52

“آئم سوری۔۔۔ “
پریسا اُسے اتنے غصے میں آتے دیکھ دھیرے سے بولتی شاہ ویز سکندر کو ساکت کر گئی تھی۔۔۔ یہ لڑکی کیوں آج اُس کا ضبط آزمانے پر تلی ہوئی تھی۔۔۔۔
وہ آگے بڑھا تھا اور اُسے دونوں کندھوں سے تھام کر اُوپر اُٹھاتے اپنے مقابل کر گیا تھا۔۔۔۔ اُس کی گرم سانسیں اپنے چہرے پر محسوس کرتے پریسا اندر تک کانپ گئی تھی۔۔۔۔
“میرے ضبط کو مت آزماؤ پری۔۔۔۔ “
شاہ ویز اُس کے گالوں کی نرمی محسوس کرتا پریسا کا دل زور سے دھڑکا گیا تھا۔۔۔۔ اُس کے منہ سے اپنا نام سنتے پریسا نے لرزتی پلیکیں اُٹھا کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
شاہ ویز بھی اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
نگاہوں کا تصادم ہوا تھا۔۔۔
“کیا تم مجھ سے بھی اتنی ہی نفرت کرتے ہو۔۔۔ جتنی میرے گھر والوں سے۔۔۔۔؟؟”
پریسا نے اُس کی آنکھوں میں جھانکتے سوال کیا تھا۔۔۔
“نہیں۔۔۔۔ اُن سے بھی زیادہ نفرت ہے مجھے تم سے۔۔۔۔”
شاہ ویز کو اپنی بانہوں میں مقید سہمی ہرنی بنی اپنی بیوی پر بے اختیار ٹوٹ کر پیار آیا تھا۔۔۔۔
وہ جھکا تھا۔۔۔ اور اُس کی گردن پر اپنے ہونٹوں کا شدت بھرا لمس چھوڑتا پریسا کی دھڑکنیں منتشر کر گیا تھا۔۔۔
پریسا اُس کے کندھے سختی سے دبوچے۔۔۔۔ کتنی ہی دیر کچھ بولنے کے قابل ہی نہیں رہی تھی۔۔۔۔ اُس کی گول مٹول دلکش آنکھوں میں نمی اُترتی نمی شاہ ویز سکندر کو مدہوش کر گئی تھی۔۔۔
“یہ لوگ تمہارے گھر والے نہیں ہیں۔۔۔ تمہارا صرف ایک ہی گھر والا ہے۔۔۔۔ اور وہ میں ہوں۔۔۔۔”
شاہ ویز اُس کے کانپتے وجود کو اُٹھاتا صوفے کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔۔
اُسے صوفے پر بیٹھاتے وہ اُس کے قریب آن بیٹھا تھا۔۔۔
“تم جھوٹ بولتے ہو۔۔۔ تمہیں نفرت نہیں ہے مجھ سے۔۔۔۔ اگر نفرت ہوتی تو ہمیشہ اتنے اچھے سے پیش نہ آتے مجھ سے۔۔۔۔”
پریسا اُسے ایک بار پھر سیگریٹ سلگھاتے دیکھ اب کی بار اپنے خوف پر قابو پاتے بولی تھی۔۔۔۔
شاہ ویز نے نگاہیں گھما کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ جو اب فاصلے پر کھسک چکی تھی۔۔۔
اُس کی بیوی اُس کی دی اہمیت کے بعد ایک بار پھر اُسی روپ میں آچکی تھی۔۔۔ جیسا شاہ ویز اُسے دیکھنا چاہتا تھا۔۔۔
سیاہ لباس میں آج وہ اپنے دلکش وجود کی رعنائیوں کے ساتھ اُس کے دل پر قیامت ڈھا رہی تھی۔۔۔۔ نیٹ کی ہاف سلیوز سے جھانکتی اُس کے دودھیا بازو شاہ ویز سکندر کی توجہ اپنی جانب کھینچ رہے تھے۔۔۔۔
“اگلی بار کمرے سے باہر اِس لباس میں نہ دیکھوں تمہیں میں۔۔۔۔”
شاہ ویز نے اُس کی بات کو نظر انداز کرتے اپنے مخصوص حاکمانہ انداز میں اُسے آرڈر جاری کیا تھا۔۔۔
“کیوں۔۔۔؟؟ کیوں نہ پہنوں۔۔۔ ؟ “
پریسا اُس وقت اُس کی بات سمجھ نہیں پائی تھی۔۔۔ اور اُس کے انداز پر تپ کر پوچھا تھا۔۔۔۔ اُس سے قدرے فاصلے پر بیٹھی وہ بہادر بنی پڑی تھی۔۔۔۔
شاہ ویز آگے کو جھک کر سیگریٹ کو ایش ٹرے میں مسلتا وہاں سے نظر بچا کر کھسکتی پریسا کا ہاتھ تھام کر واپس صوفے پر گراتا اُس پر جھکا تھا۔۔۔۔
پریسا نے گھبرا کر خود پر جھکے شاہ ویز کے خطرناک تیور دیکھے تھے۔۔۔۔۔
“کیونکہ پری صرف شاہ کی ہے۔۔۔ اُس سے نفرت کرنے، محبت کرنے اور اُس کی حُسن کو سراہنے کا حق صرف شاہ ویز سکندر کے پاس ہے۔۔۔۔ تم اگر اِس طرح باہر جانا چاہو تو جاسکتی ہو۔۔۔ لیکن اگر کسی نے تم پر نگاہ اُٹھا کر دیکھا بھی تو اُس انسان کا وہی حال ہوگا جو سفیان کا ہوا ہے۔۔۔۔”
شاہ ویز اُس کی دودھیا کلائی پر اپنے لب رکھتا اُن کی نرمائٹوں کو اپنی سانسوں میں اُتار گیا تھا۔۔۔ جبکہ پریسا لال پڑتے چہرے اور حیا کے بوجھ سے جھکتی پلکوں کے ساتھ ساکت سی بیٹھی اِس شخص کا اپنے لیے جنون دیکھ رہی تھی۔۔۔
شاہ ویز سکندر کا خوف ایک جانب۔۔۔ مگر اپنے وحشی کی اپنے لیے یہ جنونیت دیکھ اُس کے دل میں پھول سے کھل اُٹھے تھے۔۔۔۔۔ آنکھوں میں جگنو سے اُتر آئے تھے۔۔۔
اُس کی اُٹھتی گرتی پلکوں کا دلفریب رقص شاہ ویز سکندر کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر گیا تھا۔۔۔۔
شاہ ویز کی یہ قاتلانہ مسکراہٹ دیکھ پریسا کا دل بہت بُری طرح دھڑک رہا تھا۔۔۔۔
وہ واقعی وجاہت اور خوبصورتی کا شاہکار تھا۔۔۔ جس کی شخصیت کا رعب و دبدبا ہی اتنا تھا کہ اکثر مجرم اُس کا نام سنتے ہی گھٹنے ٹیک لیتے تھے۔۔۔
اگر یہاں شہباز آفندی کو پتا چل جاتا کہ وہ صرف شاہ ویز سکندر ہی نہیں بلکہ بلیک سٹار ہے تو وہ اتنا واویلا کبھی نہ مچا پاتے۔۔۔۔
“تم اِن سب کو کس بات کی سزا دے رہے ہو۔۔۔۔”
پریسا اُس کی گستاخانہ نگاہیں محسوس کرتی جان بوجھ کر بات بدلتے بولی۔۔۔۔
جبکہ شاہ ویز کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا۔۔۔۔
“شاہ ویز سکندر تم نفرت کرتے ہو مجھ سے۔۔۔ پلیز دور رہو۔۔۔۔”
پریسا خود پر جھکتے شاہ ویز کے ہونٹوں پر اپنی نازک ہتھیلی جماتے اُسے باز رکھنے کی معصوم سی کوشش کرتے بولی تھی۔۔۔۔
“مگر تم تو محبت کرتی ہو نا مجھ سے۔۔۔۔۔”
شاہ ویز اُس کی ہتھیلی کو اپنی گرفت میں لیتا۔۔۔ اُس پر جھکا ہی تھا جب اچانک اُس کا موبائل بج پڑا تھا۔۔۔۔۔
پریسا نے سکھ کا سانس لیا تھا۔۔۔۔
مگر شاہ ویز بنا اُس سے دور ہوئے کال اٹینڈ کر گیا تھا۔۔۔
جبکہ دوسری جانب سے آتی نسوانی آواز قریب بیٹھے ہونے کی وجہ سے پریسا کے کانوں میں پڑ چکی تھی۔۔۔۔
شاہ ویز نے کوئی اہم بات ہونے کی وجہ سے اُس سے دور ہونا چاہا تھا۔۔۔۔ جب پریسا اُس کا گریبان مُٹھیوں میں جکڑے نفی میں سر ہلا گئی تھی۔۔۔
شاہ ویز نے اُس کی حرکت پر تیز نگاہوں سے گھورتے چھوڑنے کا اشارہ کیا تھا۔۔۔۔
“تم فکر مت کرو نتاشا میں بس ابھی پہنچتا ہوں وہاں۔۔۔”
شاہ ویز نے بات کرتے پریسا کے جلن سے سُرخ ہوتے چہرے کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
“کہاں جارہے ہو تم۔۔۔۔؟؟ کس لڑکی کے پاس۔۔۔۔؟؟”
پریسا نے اپنی گرفت سخت کیے اُسے شکی نگاہوں سے گھورا تھا۔۔۔
“تم مجھ پر شک کررہی ہو۔۔۔۔؟؟”
شاہ ویز اُس کے گریبان نہ چھوڑنے پر اُس کی کمر میں دونوں بازو حمائل کرتا اُسے اپنے ساتھ کسی بے جان گڑیا کی طرح اُٹھاتا صوفے سے نیچے اُتر آیا تھا۔۔۔
“ہاں۔۔۔۔ تم جیسے گینگسٹرز کے بہت ساری لڑکیوں سے افیئرز ہوتے ہیں۔۔۔۔ کوئی بلا رہی ہوگی تمہیں۔۔۔۔”
پریسا اُس کا گریبان سختی سے دبوچے ہوئے تھی۔۔۔۔
“تمہیں یہ سب بولتے مجھ سے زرا ڈر نہیں لگ رہا۔۔۔؟؟؟”
شاہ ویز اُس کے چہرے پر پھونک مارتا بالوں کو پیچھے ہٹا گیا تھا۔۔۔
“نہیں۔۔۔۔ کیونکہ میں جانتی ہوں تم مجھے کبھی کچھ نہیں کہو گے۔۔۔۔ نہ خود نقصان پہنچاؤ گے۔۔۔ اور نہ کسی اور کو پہنچانے دو گے۔۔۔۔ تم دنیا والوں کے لیے بلیک بیسٹ ہو میرے لیے نہیں۔۔۔۔۔”
پریسا کے ہونٹوں سے نکلنے والے الفاظ شاہ ویز سکندر کو بے خود سا کر گئے تھے۔۔۔۔
“تم خود مجھے بہکاتی ہو۔۔۔۔ اور بعد میں الزام مجھ پر ڈال دیتی ہو۔۔۔۔ اِس بار میرا کوئی قصور نہیں ہے۔۔۔۔”
شاہ ویز اُس کی جانب زومعنیت سے دیکھ اُسے کنفیوز کرتا جھک کر باری باری اُس کے دونوں گال چومتا اُسے نیچے اُتار گیا تھا۔۔۔۔
پریسا اُس کے شدت بھرے لمس پر دھک اُٹھی تھی۔۔۔۔
“میں باہر جا رہا ہوں۔۔۔ تم روم سے نہیں نکلو گی۔۔۔۔”
شاہ ویز نے پلٹ کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
پریسا نے اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔۔۔۔
مگر جیسے ہی اُس نے پورچ سے اُس کی گاڑی نکلتی دیکھی وہ اپنے روم سے نکل آئی تھی۔۔۔
“تم سے بہت محبت کرتی ہوں میں شاہ ویز سکندر۔۔۔ مگر یہ جن لوگوں کو عذاب میں ڈال رکھا ہے نا تم نے۔۔۔۔ بچپن سے اب تک یہی میرے اپنے رہے ہیں۔۔۔ تمہاری خاطر اِن سے منہ نہیں موڑ سکتی۔۔۔۔ اور اگر موقع آیا تو تم سے بھی لڑ جاؤں گی۔۔۔۔”
روم سے نکلتے پریسا کی آنکھوں میں عجیب سا تاثر تھا۔۔۔۔
مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ یہ سب کرکے اپنی زندگی کی کتنی بڑی غلطی کرنے جارہی تھی۔۔۔۔۔

∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

حمدان فل یونیفارم میں ملبوس کمشنر صاحب کے آفس میں داخل ہوا تھا۔۔۔ جہاں پہلے سے بیٹھی ایس پی حبہ کو دیکھ وہ ٹھٹھکا تھا۔۔۔۔
“تشریف لائیں ایس پی حمدان۔۔۔۔۔ مجھے آپ ہی کا انتظار تھا۔۔۔۔”
کمشنر صاحب کے لیے اپنے یہ دونوں ہونہار آفیسرز بہت زیادہ اہمیت رکھتے تھے۔۔۔۔ اِسی لیے وہ ہر مشکل کیس اُنہیں دونوں کا دیتے تھے۔۔۔۔ اور ہمیشہ وہ اُن میں سرخرو بھی ٹھہرے تھے۔۔۔
“جی سر۔۔۔۔”
حمدان خاموشی سے وہاں ٹک گیا تھا۔۔۔۔
“میں نے آج پھر آپ دونوں کو ایک بہت اہم کیس کے سلسلے میں بلایا ہے۔۔۔ جس کے لیے اُوپر سے مجھ پر بہت زیادہ پریشر ہے۔۔۔ اور آج کل ہر دوسرے فرد کی زبان پر یہی قصہ چل رہا ہے۔۔۔۔ “
کمشنر صاحب نے بات کرنے سے پہلے تمہید باندھی تھی۔۔۔ جبکہ وہ دونوں اتنے جینئیس تو تھے ہی کہ آرام سے سمجھ گئے تھے وہ کس کی بتا کررہے ہیں۔۔۔۔
“الیکشن کا وقت قریب آرہا ہے۔۔۔ اور اِس وقت کی سب سے بڑی جماعت کے چیئرمین اقبال کیانی کو قتل کرنے کی دھمکیاں بھی زور پکڑتی جارہی ہیں۔۔۔۔ اب تک اُن کی پارٹی کے دس سے زائد لیڈرز کو موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا ہے۔۔۔۔ اور یہ سب کون کررہا ہے آپ لوگ اچھے سے جانتے ہیں۔۔۔۔ “
کمشنر صاحب کی بات پر حبہ اور حمدان نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ اُنہیں جس بات کا ڈر تھا وہیں ہونے والا تھا۔۔۔۔
“سر آپ ہم سے کیا چاہتے ہیں۔۔۔۔؟؟؟”
حبہ نے اپنے ہاتھ کی مُٹھیوں کو ایک دوسرے میں جکڑے اپنے دل کی غیر ہوتی حالت پر قابو پاتے پوچھا تھا۔۔۔
“تینوں بلیک سٹارز چاہیئں مجھے۔۔۔۔ زندہ یا مردہ۔۔۔ یہ آپ پر ہے۔۔۔۔ اب تک نجانے کتنی ایجنسیز اور فورسز کے ادارے اُن کے خلاف اپنی کئی ٹیمز بھیج چکے ہیں۔۔۔ مگر بلیک سٹارز اتنے منظم طریقے سے کام کرتے ہیں کہ اُن تک پہنچنا تو دور کی بات اُن ٹیمز کا کوئی ایک فرد بھی واپس نہیں مل سکا۔۔۔۔
اُن تینوں نے اپنی بہت بڑی فوج تیار کر رکھی ہے۔۔۔ اور سب سے بڑی بات۔۔۔ اُن میں کوئی غدار نہیں ہے۔۔۔ اگر ایک بھی غدار ہوتا تو اب تک بلیک سٹارز میں سے کسی ایک کی شناخت تو سامنے آچکی ہوتی۔۔۔۔۔۔ لیکن ہماری بہت ساری کوششوں کے بعد ایک آدمی ہمارے ہاتھ لگ چکا ہے۔۔۔ جس سے ہمیں بہت معمولی سی معلومات ملی ہیں۔۔۔ بلیک سٹارز میں ایک لیڈی گینگسٹر بھی ہے۔۔۔ جو بہت زیادہ زہین اور تگڑی کھلاڑی ہے۔۔۔۔ وہ اکیلی درجنوں سے لڑنے کی طاقت رکھتی ہے۔۔۔۔ اُسے کمزور سمجھ کر اُس پر وار کرنا آسان نہیں ہے۔۔ کیونکہ اُس کا جوابی وار آج تک کوئی نہیں سہہ پایا۔۔۔۔۔ مگر وہ اپنے باقی دونوں سٹارز کی کمزوری ہے۔۔۔۔ اُن میں سے اگر ہم کسی ایک کو بھی مار دیں۔۔۔ تو باقی دونوں ویسے ہی کمزور پر جائیں گے۔۔۔۔ کیونکہ یہ تینوں ہی ایک دوسرے کا سپورٹ سسٹم ہیں۔۔۔
باقی دونوں لیڈرز ایک ساتھ کام کرتے ہیں۔۔۔۔ اور اُن کے قہر سے آج تک کوئی نہیں بچ پایا۔۔۔۔ ہمیں اُنہیں کمزور کرنا ہے پہلے۔۔۔ اور پھر ایک ساتھ تینوں پر وار کرنا ہے۔۔۔۔
اِن لوگوں کی دہشت دن بدن ملک میں پھیلتی جارہی ہے۔۔۔ تمام سیاسی جماعتیں اندر سے ڈری ہوئی ہیں۔۔۔ کیونکہ اب تک یہ نجانے کتنے مضبوط سیکورٹی سسٹم توڑ کر سیاسی لیڈرز کے گھروں میں گھس چکے ہیں۔۔۔
اقبال کیانی ہمارے بہت ہی معزز سیاست دان ہیں۔۔۔۔ اُن کی حفاظت کرنا ہمارا اولین فرض ہے۔۔۔۔”
کمشنر صاحب نے ساری تفصیل بتاتے آخر میں اُن دونوں کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
حبہ بالکل ساکت سی اپنی جگہ پر جم سی گئی تھی۔۔۔
“سر مجھے ایک بات سمجھ نہیں آرہی۔۔۔ کہ بلیک سٹارز اتنی ساری سیاسی پارٹیز چھوڑ کر صرف تحریکِ حریت کو ہی ٹارگٹ کیوں کررہے ہیں۔۔۔۔ کیونکہ یہ اقبال کیانی سے کوئی پرسنل دشمنی بھی نہیں لگتی اُن کی۔۔۔۔ “
حمدان نے ناسمجھی سے کمشنر صاحب کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
جب اُسی لمحے آفس کا دروازہ کھلا تھا اور اقبال کیانی اندر داخل ہوا تھا۔۔۔۔ پچاس سے اُوپر کی عمر کا مالک وہ شخص قیمتی پہناوے اور اپنی شخصیت کے دبدبے کے ساتھ وہاں آتا اُن تینوں کو لمحہ بھر کے لیے حیران کر گیا تھا۔۔۔ کمشنر صاحب نے اُنہیں بتایا تھا اِس میٹنگ کے بارے میں۔۔۔ مگر اُنہیں اندازہ نہیں تھا کہ اقبال کیانی خود اُن کے آفس پہنچ جائے گا۔۔۔۔
حبہ اور کمشنر صاحب اُن کو دیکھ اپنی کرسی سے اُٹھے تھے۔۔۔ جبکہ حمدان نے ایسی کوئی زحمت نہیں کی تھی۔۔۔ وہ ویسے ہی ٹانگ پر ٹانگ جمائے سر ہلا کر اقبال کیانی کے سوال کا جواب دے گیا تھا۔۔۔
اُس کا یہ توہین آمیز انداز وہاں موجود تمام افراد نے نوٹ کیا تھا۔۔۔ مگر اِس وقت اقبال کیانی کو اِن آفیسرز کی اشد ضرورت تھی اِس لیے چاہنے کے باوجود وہ کچھ نہیں کہہ پایا تھا۔۔۔۔
“سر آپ نے زحمت کیوں کی۔۔۔۔ مجھے بتا دیتے میں یہ میٹنگ آپ کے گھر پر ہی کروا لیتا۔۔۔ اگر آپ کی اِس میں شرکت کی خواہش تھی تو۔۔۔۔”
کمشنر صاحب کو دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا جیسے اُن کے پیروں تلے ہاتھ رکھ دیں گے۔۔۔ حمدان نے نخوت سے سر جھٹکا تھا۔۔۔ وہ سمجھ گیا تھا کمشنر صاحب کو پروموشن چاہیے تھی۔۔۔
“نہیں۔۔ ہر کام اپنی مقرر جگہ پر ہی اچھا لگتا ہے۔۔۔ تعارف نہیں کروائیں گے اپنے آفیسرز سے۔۔۔۔”
اقبال کیانی کے اندر کے خوف سے آج اُس کی ٹون ہی بولی ہوئی تھی۔۔۔ حمدان پہلے بھی ایک بار اُس سے ملاقات کر چکا تھا۔۔۔ جب یہی شخص خود کو خدا اور باقی انسانوں کو کم تر ترین مخلوق تصور کرتا تھا۔۔
حمدان کو اُس کی یہ حالت دیکھ دل کو سکون محسوس ہوا تھا۔۔۔
“یہ ایس پی حمدان صدیقی اور ایس پی حبہ امتشال ہیں۔۔۔۔ اِن کے کارناموں کے بارے میں تو آپ نے سن ہی رکھا ہے نا۔۔۔ اپنی جان سے بڑھ کر اپنی ڈیوٹی سے محبت کرتے ہیں یہ۔۔۔۔ اور آپ جیسے سیاسی لیڈرز سے بہت عقیدت بھی ہے اِنہیں۔۔۔۔”
کمشنر صاحب نے پرستائش انداز میں تعارف کروایا تھا۔۔۔
“جی بہت زیادہ عقیدت ہے۔۔۔۔ “
حمدان نے بھرپور مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلاتے جواب دیا تھا۔۔۔۔
جبکہ حبہ خاموش کی رہی تھی۔۔۔ اُسے اقبال کیانی کے ساتھ بیٹھے اُس کے بھانجے شہزاد کیانی کی خود پر اُٹھتی نگاہیں انتہائی ناگوار گزر رہی تھیں۔۔۔ جو جب سے آیا تھا اپنی مکروہ نگاہیں اُسی پر گاڑھے بیٹھا تھا۔۔۔ حبہ کو اگر وہاں بیٹھے لوگوں کا خیال نہ ہوتا تو اب تک وہ اِس شخص کا حلیہ بگاڑ دیتی۔۔۔ بہت ضبط کرتی وہ مُٹھیاں بھینچے بیٹھی رہی تھی۔۔۔۔
اُسی لمحے ایک بار پھر دروازہ کھلا تھا اور دو ملازمین لوازمات سے سجی ٹرے گھسیٹتے اندر داخل ہوئے تھے۔۔۔۔۔
سب لوگ ایک دم خاموش ہوئے تھے۔۔
“ارے ڈونٹ وری یہ میرے بہت قابلے اعتماد لوگ ہیں۔۔۔”
کمشنر صاحب نے ملازمین کی جانب اشارہ کرتے اُن سب کو بات جاری رکھنے کا کہا تھا۔۔۔۔
جب حمدان نے نظریں گھما کر نیچے بیٹھ کر تمام لوازمات ٹیبل پر سجاتی ملازمہ کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ سیاہ سادہ سے کپڑوں میں ملبوس چہرا دوپٹے سے ڈھکے ہاتھوں میں چاندی کے کڑے پہنے بیٹھی لڑکی کے پہچاننے میں اُسے ایک سیکنڈ نہیں لگا تھا۔۔
وہ کوئی اور نہیں اُس کی زوجہ محترمہ تھیں۔۔۔ جو اُس سے کال پر اپنے میکے جانے کی اجازت طلب کرکے یہاں پولیس اسٹیشن پہنچی ہوئی تھی۔۔۔
حمدان کی نظریں اب اُسی پر ہی ٹکی ہوئی تھیں۔۔۔ جو نوٹ کرتے ٹرالی سے پلیٹس اُٹھا کر ٹیبل کے رکھی مہروسہ کے ہاتھ لرز گئے تھے۔۔۔
حبہ کا دھیان اِس سب کی جانب تھا ہی نہیں وہ تو بس مُٹھیاں بھینچے شہزاد کیانی کو جان سے مارنے کے منصوبے بنا چکی تھی۔۔۔
اُس نے کمشنر صاحب کے بلانے پر اُن کی جانب دیکھا تھا۔۔۔ جب اگلے ہی لمحے اُس کے کانوں میں شہزاد کیانی کی دردناک چیخیں سنائی دی تھیں۔۔۔۔
شہزاد کیانی نے شاید بے دھیانی میں بجلی کی ننگی تار کو پاؤں سے چھو لیا تھا۔۔۔ لوہے کی کرسی پر بیٹھے ہونے کی وجہ سے وہ شدید کرنٹ کی لپیٹ میں آگیا تھا۔۔۔
حبہ جیسے ہی پلٹی اپنی کرسی کے عین پیچھے کھڑے ملازم کو دیکھ وہ پل بھر کے لیے حیران ہوئی تھی۔۔۔
جب سیاہ پینٹ اور ٹی شرٹ میں داڑھی مونچھوں کے ساتھ سر پر کیپ ڈالے کھڑے شخص کے مسکرا کر آنکھ مارنے پر اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑی ہوئی تھی۔۔۔
“یہ میر حازم سالار کی بیوی کو بُری نگاہوں سے دیکھے اور سمجھے گا بچ جائے گا۔۔۔۔”
سب کی توجہ شہزاد کیانی کی جانب تھی۔۔۔ جو ابھی تک بجلی کے جھٹکے کھا رہا تھا۔۔۔ وہ بالکل دروازے کے ساتھ تھا۔۔۔ اگر کوئی دروازہ کھولنے کی کوشش کرتا تو اُس نے بھی کرنٹ کی لپیٹ میں آجانا تھا۔۔
اپنے کانوں میں پڑتی گھمبیر آواز پر حبہ نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اُسے دیکھا تھا۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔