53.7K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

داود اور زویا کے جانے کے بعد رات تقریباً بارہ بجے وہ کمرے میں آئی تو اسے سامنے پٹھان بیڈ آنکھوں پر اہک بازو رکھے جب کہ دوسرا ہاتھ سینے پر رکھے لیٹا نظر آیا آنسووں کا گولہ تھا جو اس نے واپس اپنے اندر انڈیلا تھا
زوراشہ بنا آواز پیدا کئیے اس کے قریب گئی اور دھیرے سے بیڈ پر بیٹھی کہ کہیں وہ جاگ ہی نہ جائے اور یہ تک مونچھوں تکے دبے خاموش عنابی لبوں کو تکنے لگی جن سے اسے محبت بھرے الفاظ سننے کہ عادت ہو گئی تھی اب انہیں لبوں سے زہر خند الفاظ سنتے اس کا دل مانو کسی نے نوچا ہو

“بڑے ظالم ہو تم موسیٰ زار پٹھان۔۔۔۔”
اس کے سینے پر دھرے اس کے ہاتھ پر اپنا کپکپاتا ہاتھ رکھتے وہ خیالوں میں اس سے گویا ہوئی تھی پھر ناچاہتے ہوئے بھی دل کی پرجوش فرمائش پر اس نے اس کے سینے پر اپنا سر رکھا تھا
جب کہ پٹھان جو جاگ رہا تھا اس کے ہر عمل کو بخوبی محسوس کر رہا تھا بظاہر وہ بس سونے کی ایکٹنگ کر رہا تھا

پٹھان کو اپنا سینہ دھیرے دھیرے گیلا ہوتا محسوس ہوا اور اس کا لرزتا وجود اس بات کی گواہی تھا کہ وہ دوبارہ سے اسے اپنی سسکیوں سے تکلیف کی گہرائیوں میں گرانا چاہتی تھی ایک پل تو اس کا دل کیا وہ اسے اپنی باہوں میں سمیٹ لے اس کے آنسووں کو اپنے لبوں سے چن لے اور اپنے سینے میں بھینچ کر یہ بتائے کہ وہ اسے کتنا چاہتا ہے

جب اس کی سسکیاں تھمنے کا نام نہ لیں تو اس نے آنکھوں سے بازو ہٹائے اس کے سر اور کچھ سینے پر کچھ بیڈ پر بکھرے ریشمی بالوں کو دیکھا پھر دھیرے سے اس کو کندھے سے تھامے پیچھے کیا تھا جب کہ وہ جو جذبات میں بہہ گئی تھی یک دم اس کے یوں جاگنے اور اسے پیچھے کرنے پر بوکھلا گئی لیکن پھر آنسووں صاف کئیے رونے کے باعث سرخ آنکھوں اور چہرہ لیے پٹھان کا چہرا پڑھنے کی کوشش کرنے لگی جو ہر تاثر سے پاک تھا

“چین سے سونے بھی نہیں دو گی اب۔۔۔۔؟”
پٹھان نے ایک آئیبرواچکائے پوچھا تو اس نے رونی شکل بنائے نفی میں سر ہلایا تو اس نے چند پل اسے دیکھ پھر منہ پھیرتے سامنے دیوار کو دیکھنے لگا
“میں نہیں رہ سکتی تمہارے بغیر لڑ لو سزا دے دو منہ مت پھیرو زوراشہ مر جائے گی…..؟
وہ اس کے چہرے پر دونوں ہاتھ رکھے رخ خود کی جانب کئیے سسکی بھرتے بولی تو اس نے ہاتھ بڑھائے اس کے آنسووں کو صاف کیا جب کہ اس کے چھوتے ہی اس کے رونے میں روانگی آئی تھی

“تمہارے یہ آنسوؤں مجھے پگھلا نہیں سکتے یہ پگھلانے کی بجائے میرا مزید دل بھاری کر رہے ہیں۔۔۔۔۔”
وہ اپنی گیلی ہوئی انگلیوں کو پوروں کو دیکھتے بولا تو اس نے دونوں ہاتھوں سے اس کا ہاتھ تھاما تھا
“بس کرو پٹھان تم اگر حقیقت بتا دیتے تو میں یہ سب نہ کرتی ۔۔۔۔”
وہ اس کے ہاتھ پر اپنے لب رکھتے بولی تو پٹھان نے شکوہ کناں نظروں سے اسے دیکھا تھا جس نے کیسے سب الزام اس پر دھر دیا تھا

“سیریسلی میری غلطی ہے۔۔۔۔؟ میں نے بےاعتباری کی۔۔۔۔۔۔؟ میں نے دھوکہ دیا۔۔۔۔۔؟ جو سکون سے زندگی گزر رہی تھی تمہاری چاہتا تھا ایسے ہی گزرے تم ماضی جان کر روز با روز درد میں نہ گزرو پر یہاں تو الٹا میں ہی غلط ہوں بےوفا۔۔۔۔”
وہ ایک ایک لفظ چبائے بولتا آخر میں اپنا ہاتھ کھینچتے بازو اپنی آنکھوں پر رکھا تھا جب کہ اس نے اس کے بازو پر مکا مارا تھا لیکن وہ ویسے ہی لیٹا رہا اس نے کوئی خاص عمل ظاہر نہ کیا تھا

“مجھے سب جاننا ہے۔۔۔۔”
وہ زبردستی اس کا بازو آنکھوں سے ہٹاتے بولی
“سو جاو یار زوراشہ اس پہر تمہیں کیا سوجھ رہا ہے عجیب ہو مجھے بھی سونے دو۔۔۔۔”
وہ تنگ آکر بولا اور دوسری جانب کروٹ لی اور سینے پر ہاتھ رکھا تھا پٹھان کے سامنے یہ زخم کچھ نہ تھا وہ اس درد کو کسی خاطر میں نہ لاتا تھا

“دن کے وقت بات نہیں کرتے اب موقع ملا تو کہہ رہے یہ کون سا پہر ہے۔۔۔۔۔۔”
پٹھان نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا تو وہ منہ بناتی دوسری طرف آئی اور اس کے بالکل قریب لیٹ کر ایک ہاتھ اور ٹانگ اس کے اوپر رکھی تو پٹھان نے بند آنکھوں سے ہی گہری سانس بھری

“موسیٰ۔۔۔۔۔۔”
کچھ توقف کی خاموشی کے بعد زوراشہ کی زبان میں دوبارہ کھجلی ہوئی تو اس نے پٹھان کو پکارا تھا
“بدتمیز پٹھان۔۔۔۔۔”
اب کہ زوراشہ نے اسے بالوں سے پکڑ کر ہلایا تو اس نے آنکھیں کھولے اسے گھورا اور پھر دوبارہ آنکھیں موند گیا تھا اس کا ایک پرسنٹ ارادہ نہیں تھا اس سے بات کرنے کا

“موسیٰ۔۔۔۔۔۔”
اب کہ اس نے اس کے بالوں میں نرمی سے انگلیاں چلاتے اس کو پکارا تھا
“ہمممم۔۔۔۔۔”
وہ اب کہ چاہ کر بھی خاموش نہ رہ سکا تھا
“مجھے سب جاننا ہے کیا ہے جو تم سب چھپاتے ہو کیا ہے جو سب تمہاری جان کے دشمن ہیں کیا چیز ہے کیا ازیت ناک چیز ہے وہ بتاو مجھے سب جاننا ہے۔۔۔۔۔”
وہ اس کے بالوں کو اس کے ماتھے پر پوچھ رہی تھی جب کہ پٹھان کے چہرے پر کرب واضع تھا

“مت کرو زوراشہ مت ادھیڑو ان ازیت ناک پنوں کو مت کھولو ان دفن رازوں میں چھپے درد کو۔۔۔۔”
وہ بولتا ہوا آخر میں تیز سانس بھرنے لگا
“میں تمہارا درد سمیٹنا چاہتی ہوں بانٹنا چاہتی ہوں پٹھان۔۔۔۔”
وہ اس کی گال پر ایک ہاتھ رکھے بولی تو وہ اسے پیچھے کرتا اٹھ بیٹھا تھا

“کوئی نہیں سمیٹ سکتا اس درد کو جب تک سب ختم نہ ہو جائے تم مت جانو کیونکہ ہر راز تم سے شروع اور تم پر ختم ہے میں نہیں چاہتا تم پل پل اس کو سوچتے ازیت میں مبتلا ہو۔۔۔”
پٹھان کی بات سنتے زوراشہ کو جھٹکا لگا ہر چیز اس سے کیسے منسوب ہو سکتی ہے وہ بھی اٹھی تھی اور اس کے کندھے پر سر رکھا
“جاننا ہے مجھے میں بھی ان نفرتوں ان دشمنیوں کے متعلق جاننا چاہتی ہوں پٹھان پلیز۔۔۔”
اب کہ آخر میں اس کی آواز بھیگی تھی پٹھان نے سر جھکائے اپنے کندھے پر موجود اس کے سر کو دیکھا تھا اور پھر ٹھنڈی آہ بھری تھی وہ دل چھلنی کر دینے والے رازوں کو کھولنے والا تھا جس کو اس نے اتنے عرصے سے سینے میں دفن کیے جھیلا ہوا تھا اور وہ آج اس کا ضبط آزمانا چاہتی تھی
………………………………
“ماضی”

تیز طوفانی گرج چمک کے ساتھ برستی بارش میں ایک لڑکی جو دکھنے میں ماں بننے والی تھی اپنے شوہر کے ساتھ چپکی مکمل بھیگتی تیز تیز قدم بڑھانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی
“بب-بس ہم اور نہیں چل سکتا میرے ساتھ ساتھ پیٹ میں ہلتا ننی جان کو بھی تکلیف ہو رہا یے۔۔۔۔۔۔”
وہ عورت ایک جگہ رکتی اس کا بازو تھامے ہانپتے ہوئے بولی اور ٹھنڈی برف کی مانند گرتی برستی بارش سے اس کا وجود کانپ رہا تھا ہونٹ کپکپا رہے تھے وہ بیس سالہ لڑکی جو دکھنے میں بےحد خوبصورت تھی سفید گوری رنگت سرخ بارش کے باعث کپکپاتے ہونٹ اور چہرے پر پڑتے گلال وہ اس قدر خوبصورت تھی کہ جو ایک بار دیکھتا اس کے لیے نظر ہٹانا محال ہو جاتا

“ہم تمہارے لیے ہی کر رہا ہے میری جان اس بارش سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے صاحب ہمیں اچھا جگہ دے گا کم از کم ہمارا بچہ پیدا ہونے تک تو وہ دے سکتا تب تک ہم خود نیا گھر دیکھ لے گا بس پانچ منٹ کا سفر ہے چلو ورنہ یہ بارش بیمار کر دے گا۔۔۔۔۔”
وہ پچس سالہ لڑکا اس لڑکی کو اپنے حصار میں لیتے بولا گویا وہ تمام تر سردی تمام تر بارش خود برداشت کرنا چاہتا ہو وہ زبردستی خود کے وجود کو اس کے ساتھ گھسیٹتی تقریباً پانچ منٹ بعد وہاں پہنچ گئے تھے وہاں کے موجود گارڈ نے اس لڑکے کو دیکھتے آنے کی اجازت دی تھی

“اور برخودار تم اس وقت یہاں کیا کر رہا ہے۔۔۔۔؟”
اس گارڈ نے ان دونوں کو اپنے چھوٹے سے بنے کمرے میں لے جاتے بولا اور اس لڑکے کے ساتھ موجود لڑکی کو بھی دیکھا جو اس لڑکے کے پیچھے چھپنے کی کوشش کررہی تھی

“خیر تو ہے بھابھی کو بھی ساتھ لایا ہے یہ چادر بھابھی کے اوپر اوڑھ دے۔۔۔۔”
اس گارڈ نے اپنے چادر اٹھاتے اسے تھمائے کہا تو اس نے وہ اس لڑکی پر اوڑھی تھی
“ہم کو صاحب سے ملنا ہے۔۔۔۔”
“اس وقت۔۔۔۔؟”
اس گارڈ کو حیرت ہوئی تھی
“ہاں اس وقت ہم کو پناہ چاہیے انہوں نے کہا تھا وہ ہمیں پناہ دے سکتا ہے۔۔۔۔”
اسکی بات سنتے اس گارڈ نے سر اثبات میں ہلایا تھا
“اچھا چلا جا اندر ہی ہے۔۔۔۔”
وہ لڑکا اپنی بیوی کو اپنے ساتھ لیتا اندر کی جانب بڑھ گیا تھا جب دونوں اندر داخل ہوئے تو ڈرائینگ روم میں ہی بہروز خان اور دلاور خان شراب نوشی کے ساتھ تاش کھیلتے نظر آئے

“خان صاحب۔۔۔۔۔”
اس لڑکے نے بہروز کو پکارا تھا ان دونوں بھائی کی عمر لگ بھگ آٹھائیس سے تیس سال تک تھی اس لڑکے کے پکارنے پر دونوں نے بےوقت اس کی جانب دیکھا
“آو بہرام خان تم خیر تو ہے اس وقت آیا ہے۔۔۔۔”
بہرام خان ان کے کاموں میں بہت وفادار اور ان کا ساتھ تھا اسی لیے اسے آنے جانے کی کوئی روک ٹوک نہ تھی

“خان صاحب مم-میری بیوی ہہ-ہمیں کچھ عرصہ جگہ چاہیے جب تک اس کی ڈلوری نہ ہو جائے۔۔۔۔”
بہرام خان نے بالوں اور کپڑوں سے گرتے ٹپ ٹپ پانی کو ایک نظر دیکھتے کہا تو دونوں نے اس کی بیوی کو دیکھا تھا بہروز خان تو نہیں البتہ دلاور خان کی آنکھوں میں اس کو دیکھتے نیت خراب ہوئی تھی یا یوں کہیں بہروز خان اہنی اصل حالت میں نہیں تھا ورنہ اس کی نیت بھی ڈگمگا جاتی وہ خوبصورت ہی اس قدر تھی جب کہ وہ لڑکی مزید بہرام کے پیچھے چھپی تھی

“اچھا ایسا کرو تم کو تو سب معلوم ہے جو کواٹر خالی ہے وہاں چلا جائے۔۔۔۔۔”
دلاور نے کچھ سوچتے آنکھوں میں حوس کا جہاں لیے کہا تھا تو وہ شکریہ ادا کرتا وہاں سے اپنی بیوی کو لیتا چلا گیا تھا

“بھائی وہ اس کا بیوی کتنا خوبصورت ہے۔۔۔۔۔”
بہرام کے جاتے ہی دلاور نے آگے کو ہوتے اپنے نشے میں چور بھائی سے کہا جو ہنسا تھا
“ہاں خوبصورت تو بہت ہے پر میرے پاس میرا وہ کوٹھے والا عورت ہے ابھی اس سے کام چلا لے گا۔۔۔۔”
اس نے ہنستے ہوئے کہا
“پر ہم کو یہ بہت پسند آیا ہے۔۔۔۔”
اس کے لہجے میں بھی حوس ٹپک رہی تھی

“تم کو پسند آیا تو تمہارا ہی ہو گا۔۔۔۔۔”
“اور ہمارا بیوی جو ہے عذاب جان کا اس کا کیا کریں۔۔۔۔۔”
دلاور اب کہ نہوست سے بولا تھا
“تیرا بیوی بچہ پیدا کرے تو اسے طلاق دے کر فارغ کر اور اپنا بیوی کا بھی کچھ سوچتا ہے۔۔۔۔”
بہروز خان یہ بولتا بولتا پیچھے کو ڈھ گیا تھا جبکہ دلاور بھی ہنستا مزید شراب پیتا وہی ڈھیر ہو گیا تھا
………………………………
ان دونوں کو یہاں رہتے تقریباً پانچ چھے دن گزر گئے تھے وہ لڑکی دلاور اور بہروز خان کی بیوی کے ساتھ گھم مل گئیں تھیں جو اس سے چند سال ہی بڑی تھیں اور آپس میں دونوں بہنیں تھی بہروز کی بیوی کا نام زوباریہ جبکہ دلاور کی بیوی کا نام مہک تھا وہ دونوں شکل و صورت کی خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ اخلاق کی بھی بےحد خوبصورت تھیں

زوباریہ کا ایک ڈیڑھ ماہ کا بیٹا تھا جب کہ مہک ماں بننے والی تھی اور اس کے آخری دن ہی چل رہے تھے چند دنوں میں مہک کی ڈلوری تھی وہ تینوں آپس میں ایک دوسرے کا بہت خیال رکھتیں تھی سب اچھا چل رہا تھا لیکن کسے معلوم تھا ایک دن قیامت برپا ہو گی اور سب کچھ لے اڑے گی
………………………………
وہ انتہائی سرد رات تھی جس میں وہ درد سے دہری ہوتی کراہتی رو رہی تھی پیٹ میں اٹھتا درد اس سے برداشت نہیں ہو رہا تھا
“مہک بس تھوڑا صبر کرو بہرام خان دائی کو لاتا ہی ہو گا۔۔۔۔”
زوباریہ اپنی بہن کی حالت دیتے اسے حوصلہ دیتے بولی جب کہ وہ لڑکی اپنے سات ماہ کے بڑے پیٹ کے ساتھ کبھی دروازے میں جھانکتی تو کبھی زوباریہ کی طرح اسے حوصلہ دیتی

کچھ ہی دیر میں بہرام دائی کو لیتا آگیا تھا اور اس دائی کو کمرے میں لے جایا گیا
“بہرام تمہارا خان صاحب نہیں آیا اس کا بیوی تڑپ رہا ہے درد سے وہ بچہ پیدا کرنے والا ہے اس کو ضرورت ہے اپنا شوہر کا۔۔۔۔”
وہ لڑکی بہرام کے بازو پر اپنا ہاتھ رکھے اردگرد جھانکتے بولی تھی جس نے سر نفی میں ہلایا

“ہمارا بچہ کیسا ہے۔۔۔۔”
بہرام نے اس کا دھیان ہٹانے کے لیے اس کے پیٹ پر ہاتھ رکھتے محبت سے پوچھا
“بالکل ٹھیک ہے بہت جلد ہماری باہوں میں ہو گا۔۔۔۔”
“ابھی تو تم ہماری باہوں میں آجائے ہمارا پیارا بیوی۔۔۔۔”
بہرام نے ہنستے ہوئے اسے حصار میں لیتے سینے سے لگایا تو وہ بھی ہنسی تھی اور اس کے گرد بازووں کا گھیرا باندھا تھا اور پھر فوراً پیچھے ہوئی
“شرم کرو دیکھے گا تو کیا کہے گا۔۔۔۔”
اس نے شرماتے ہوئے کہا تو وہ بھی ہنسی تھی اچانک سے کمرے سے گونجتی چینخوں پر دونوں کی ہنسی کو بریک لگی تھی اور وہ لڑکی اندر گئی جہاں مہک کی چینخیں بلند تھی اس کا دل اندر تک دہل گیا تھا

کچھ دیر بعد ان چینخوں کے ساتھ کسی بچے کے رونے کی بھی آواز گونجی تھی
“خانم صاحبہ ماں کی حالت بہت نازک ہے میرا بچانا مشکل ہے اس کو ہوسپٹل لے جانا ہوگا۔۔۔۔”
جہاں وہ دونوں بچے کی پیدائش پر خوش ہوئیں تھی وہی اس کی اگلی بات سنتے آسمان ان کے سر پر گر پڑا تھا
“مہک تم کو کچھ نہیں ہو گا تم ٹھیک ہو جائے گا ہم بہرام سے کہتا ہے جلدی بندوبست کرے۔۔۔۔”
وہ لڑکی مہک سے بولتی اس سے پہلے باہر جاتی اندر آتے دلاور خان سے بری طرح ٹکرائی دلاور خان نے دلچسپی سے اسے دیکھا جب کہ وہ شرمندگی سے فوراً پیچھے ہوئی البتہ دلاور کے ساتھ بہروز بہرام بھی تھے اور ایک خاتون بھی جو پیچھے تھے

“دلاور خان میرا بہن کا جان خطرے میں ہے یہ کہتی اسے بچانا مشکل ہے ہوسپٹل لے جانا ہوگا۔۔۔۔”
زوباریہ بچہ تیز تیز سانس لیتی مہک کے قریب لیٹاتی روتے ہوئے بولی جب کہ دلاور نے اپنی بیوی کو کوفت سے دیکھا تھا
“لڑکا ہے یا لڑکی۔۔۔۔۔؟”
“بب-بیٹا ہے۔…..”
اب کہ وہ لڑکی بولی اور مہک کو دیکھنے لگی جو اپنے بیٹے کو چھونے کی کوشش کر رہی تھی

“صاحب جلدی کریں آپ کا بیوی کا حالت ٹھیک نہیں۔۔۔۔۔”
اب کہ ان کو یوں خاموش کھڑا دیکھ کر بہرام بولا تھا
“چپ رہو تم۔۔۔۔۔”
بہروز نے بری طرح اسے ڈپٹا اور اس خاتون کا ہاتھ تھامے آگے لایا
“خان خاناں یہ عورت کون ہے۔۔۔۔؟”
زوباریہ نے اس عورت کا ہاتھ اپنے خاوند کے ہاتھ میں دیکھتے حیرت سے پوچھا

“بیوی ہے میرا۔۔۔۔”
اور بہروز کے چند الفاظوں ہر وہاں موجود دلاور اور اس خاتون کے علاوہ تمام شخصیات کے پیروں تلے سے زمین بری طرح کھسکی تھی زوباریہ کے قدم لڑکھڑائے تھے
“جج-جھوٹ۔۔۔۔”
اسے یقین نہیں آرہا تھا جب کہ اگلے لمحے دوبارہ مہک کی چینخ گونجی تھی
“بہرام مہک کو بچا لے۔۔۔۔”
اس لڑکی نے روتے ہوئے مہک سے کہا
“مرنے دے اس کمینی کو۔۔۔۔”
دلاور نے نہوست سے کہا جب کہ وہاں سب کچھ سمجھنے سے قاصر تھے

“مم-میں سب کا بتاونگی تمہارا اصلیت بہروز اور دلاور خان۔۔۔۔”
زوباریہ کہتے ساتھ اپنی بہن کی جانب مڑی اور اسے بامشکل اٹھانا چاہا تھا جب اچانک اس کے ہاتھوں سے اس کی بہن چھوٹتی واپس بستر پر گری تھی زوباریہ نے پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھتی ساکت رہ گئی وہاں سب پتھر کی مہرت بن گئے تھے اور اس کمرے کے کونے میں وہ ایک دیڑھ ماہ کا بچہ پوری قوت سے رونے لگا تھا
………………………………
اسلام و علیکم ایک دو قسط میں ان شاءاللہ میں ماضی ختم کرنے کی کوشش کرونگی اور کن کن کا سروس کا مسئلہ ہے۔۔۔۔؟اس کے علاوہ کس کس نے میرے نیو ناول