53.7K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

زوراشہ بچ بچا کر دلاور کی بتائی گئی جگہ پر پہنچی جو کہ پہاڑوں کے بیچ میں موجود ایریا تھا جس میں بہت سے ٹرک موجود تھے اور بہت سے آدمی کام کر رہے تھے جن کی تعداد سو سے بھی زیادہ تھی
زوراشہ گھبرائی سی اپنے دوپٹے پر گرفت مضبوط کئیے اردگرد ان کو دیکھتے اپنے باپ کو ڈھونڈھ رہی تھی

“میڈم۔۔۔۔”
وہ جو اپنی گھبراہٹ پر قابو پائے چھوٹے چھوٹے قدم لیتی جا رہی تھی کہ پیچھے سے آتی آواز پر یکدم اچھلی تھی اور پلٹ کر گھبرا کر اس بڑی مونچھوں والے سانڈ آئی مین آدمی کو دیکھا جو مونچھوں کو تاؤ دیتا مکمل اس کا جائزہ لیتا اسے ہی دیکھ رہا تھا اسے ایک پل میں لگا وہ نہ آتی یہاں پر پھر یہ سوچ کر مطمئین تھی کہ اس کا باپ اور تایا یہی ہیں

“دلاور خان اس کمرے میں آپ کے منتظر ہیں۔۔۔۔”
وہ آدمی زوراشہ کی نظروں میں چھائی الجھن کو دیکھتے جلدی سے بولا تھا زوراشہ بنا اسے کوئی جواب دیے اس کمرے کی جانب بڑھی اور گہرا سانس لیتے دروازہ کھولا تو سامنے ہی اس کا باپ اور تایا کرسیوں پر بیٹھے نظر آئے

“آو میرا بچہ۔۔۔۔۔”
دلاور لہجے میں زہر زدہ مٹھاس ملائے اٹھتے ہوئے باہیں پھیلائے بولا تو وہ بنا کسی دیری کے اس کے سینے سے لگی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی جب کے بہروز خان نے باپ بیٹی میں چلتے ایموشنل ڈرامے پر آنکھیں گھمائیں تھیں کیونکہ دلاور خان کہ مکار جھوٹے آنسوؤں پر محض وہ آنکھیں ہی گھما سکتا تھا زوراشہ دلاور سے ملتی بہروز سے ملی اور کرسی پر بیٹھی تھی

“بتاو بچہ کیا بات تھا۔۔۔۔۔؟”
دلاور دو منٹ کی خاموشی کے بعد ڈائیرکٹ مدعے کی بات پر آیا تھا
“مجھے موسیٰ زار پٹھان کے بارے میں مکمل سچائی جاننی ہے کون ہے وہ۔۔۔؟ہم سے دور رہتا وہ کیا کرتا رہا ہے۔۔۔۔؟اور کیوں آپ سب ہمیں طلاق کے لیے کہتے ہیں۔۔۔۔۔؟”
زوراشہ کے سوالوں پر ان دونوں کی آنکھوں میں جاگتی شیطانیت اس بات کی گواہی تھی کہ سب ان کے پلین کے حساب سے تھا

“بب-بیٹا تم ایسی اچانک یہ سب۔۔۔۔؟”
دلاور نے مصنوعی حیرت سے اسے پوچھا تھا
“بابا پلیز سب سچ بتائیں کچھ مت چھپائیں کیونکہ ایسا ضرور کچھ ہے جو بات طلاق تک پہنچ جاتی ہے۔۔۔۔”
وہ بےتابی سے نچلا لب کچائے بولی تھی

“بیٹا ہم بتانا تو نہیں چاہتا کیونکہ تم پٹھان سے محبت کرتا ہے ہم تمہارا دل نہیں توڑنا چاہتا تھا اور چاہتا تھا سب خاموشی سے ہو جائے لیکن تم اتنا اسرار کرتا ہے تو بتا دیتا ہے ہم۔۔۔۔۔”
دلاور اپنے جھوٹے آنسوؤں صاف کرتا بہروز کو دیکھے زوراشہ سے بولا تو وہ بےچینی سے اسے دیکھنے لگی

“پٹھان ہمارا نافرمانی کرتا دن رات شراب پیتا تھا جب ہم روکا تو نشے میں ہم سے بدتمیزی کرتا اور پھر ہم نے اس کو کہا کہ تم اگر نشے کر کے ہمارا نام خراب کرئے گا تو ہم اپنی بیٹی کا نکاح توڑوا دے گا اور گھر سے نکال دے گا۔۔۔۔”
دلاور خاموش ہوتے زوراشہ کو دیکھنے لگا جو پوری توجہ سے ان کی جانب ہی متوجہ تھی

“پھر اس نے گھر چھوڑنے کا فیصلہ کیا کہ وہ نشہ نہیں ہم کو اور تمہیں بھی چھوڑنے کو تیار ہے ہم بہت سمجھایا اس کو لیکن وہ مانا ہی نہیں اور گھر چھوڑنے کے بعد بڑے بڑے گینگسٹرز سے مل گیا اور ہر گناہ زدہ کام کرنے لگا لڑکیوں ساتھ رات گزارنا اس کے لیے عام تھا قتل و غارت سمگلز لڑکیوں کا سمگلز سب بری عادتوں کو اس نے اپنا ضرورت بنا لیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔”
زوراشہ کے چہرے پر چھائی حیرت و بےیقینی اور اس میں موجود اس بات کی سچائی کہ وہ ان کی جھوٹی کہانی پر یقین کر رہی ہے

“پھر پھر کیا ہوا۔۔۔۔؟”
وہ اپنے باپ کو خاموش پاکر دوبارہ پوچھنے لگی
“پھر اس نے سب سے بڑے گینگسٹر کو قتل کرتے اس کا سیٹ سنبھال لیا اور یوں موسیٰ زار پٹھان پاکستان کیا باقی ملکوں میں بھی جانا مانا گینگسٹر مانا گیا بس بیٹا اب اس کو اللہ ہی ہدایت دے سکتا ہے۔۔۔۔۔۔”
آخر میں دلاور خان نے یوں افسوس کا مظاہرہ کیا جیسے اسے حقیقتا بہت افسوس ہو جب کہ زوراشہ کی آنکھوں سے آنسوؤں لڑیوں کی مانند بہہ رہے تھے اور بہروز خان بھی بڑی مہارت سے اداکاری کرتا اپنے بیٹے کے غم سے رو رہا تھا

“اتنا بڑا دھوکا مجھے یقین نہیں آ رہا وہ ایسا کیسے کر سکتا ہے۔۔۔۔”
وہ چہرہ ہاتھوں میں چھپائے زاروقطار رونے لگی جب کہ وہ فونوں مکار بھائیوں نے آپس میں شاطرانہ مسکراہٹ اچھالی تھی اور بنا زوراشہ کو معلوم پڑے اس کی ایک تصویر کھینچے پٹھان کو سینڈ کی تھی یقیناً اب وہ اپنا اگلا وار کرنے والے تھے کیونکہ پہلے میں وہ کامیاب ہو چکے تھے
………………………………
پٹھان خود کا غصہ مکمل ٹھنڈا کرتا گھر میں داخل ہونے کے بعد کمرے میں داخل ہوا تو خالی کمرہ اسے منہ چڑھا رہا تھا پٹھان نے سر جھٹکا تھا اسے لگا زوراشہ کہیں باہر گارڈن یا کچن میں ہو گی اور پھر اپنے پہنے سفید قمیض کے بٹن کھولنے لگا کہ میسج کی ٹیون پر وہ قمیض کے بٹنوں کو چھوڑے موبائل اٹھایا اور میسج کھولا لیکن میسج کھولتے ہی اسے لگا اس پر ساتوں آسمان گر گئے ہوں

“زوراشہ۔۔۔۔۔”
پٹھان کو اپنی آواز کسی گہری کھائی سے آتی سنائی دی تھی اس نے دوبارہ سے اس تصویر کو دیکھا جس کے ساتھ لوکیشن بھی سینڈ کی گئی تھی وہ ہوش میں آتا بنا کسی دیری کے کمرے سے نکلتا دو دو سیڑھیاں ایک ساتھ پھلانگتا نیچے آیا تھا
“بہرام خان۔۔۔۔”
نیچے آتا وہ پوری قوت سے چلایا تھا
“بہرام خان۔۔۔۔۔”
دوبارہ سے چلانے پر بہرام ہڑبڑاتا ہوا اس کے پاس آیا
“کک-کیا ہوا پٹھان۔۔۔۔۔؟”
وہ ہڑبڑاتا بولا تھا

“زوراشہ کہاں ہے۔۔۔۔۔؟”
“پپ-پٹھان کمرے۔۔۔۔”
“نہیں ہے وہ اپنے کمرے میں۔۔۔۔۔”
پٹھان اس کی بات کاٹے اسے قدر بلند آواز میں دھاڑا کہ وہاں کی موجود درو دیوار کانپ اٹھی تھی
“لیکن۔۔۔۔”
وہ الجھا تھا آخر کیا ہوا
“یہ دیکھو۔۔۔۔”
پٹھان نے موبائل اس کے سامنے کیا تھا
“سب گارڈز کو بلاو ابھی کہ ابھی۔۔۔۔”
وہ رومال سر سے اتارے صوفے پر پھینکتے ہوئے بولا اور اگلے ایک ہی منٹ میں سب لائن وائز اس کے سامنے موجود تھے

“کہاں ہے زوراشہ تم لوگ ایک اس کی حفاظت نہ کر سکے میرے گھر سے وہ کیسے غائب ہو گئی مر گئے تھے تم سب لوگ بتاو۔۔۔۔”
وہ ان کے سامنے ادھر سے ادھر قدم لیتا غصے سے بولا تو سب کو اپنی روح فنا ہوتی نظر آئی تھی
“کہاں ہے وہ۔۔۔۔؟”
اس کی دھاڑ پر بہرام سمیت سب کے دل دہل اٹھے تھے
“جلدی بولو ورنہ سب کلمہ پڑھ لیں۔۔۔۔۔”
وہ بہرام کی گن نکالتا ان کی طرف کرتے بولا تو سب قدم پیچھے لینے لگی تھے

“ہہ-ہم کو معاف کر دو پٹھان۔۔۔۔۔”
وہ چالیں پنتالیس سالہ ڈرائیور ایک قدم پیچھے لیتا بولا اور سب کچھ اسے بتانے لگا تھا
“کہاں ہیں وہ دونوں گارڈز۔۔۔۔”
پٹھان نے خونخوار نظروں سے اسے گھورتے گہرے گہرے سانس لیتے ان دونوں گارڈز کے متعلق پوچھا تھا
چند ہی منٹوں میں وہ دونوں گارڈز پٹھان کے قدموں میں موجود تھے
“پٹھان ہمیں معاف کر دیں ہماری کوئی غلطی نہیں پٹھان ہمیں معاف کر دیں۔۔۔۔۔”
وہ دونوں روتے گڑگڑاتے اس کے پیروں میں معاف مانگ رہے تھے جب کہ پٹھان پتھریلے تاثرات لیے انہیں دیکھ رہا تھا

“اور تم دونوں کو لگتا ہے کہ تم دونوں کی غلطی قابلِ معافی ہے بتاو ہاں۔۔۔۔؟”
وہ گن کو لوڈ کئیے رخ ان کی جانب کرتے بولا تھا
“ہم جانتے ہیں غلطی سنگین ہے پر ہمیں نہیں پتا تھا پٹھانی صاحبہ ہمیں چکھما دے کر بھاگ جائیں گی اور آہہہہ۔۔۔۔۔”
اس سے پہلے وہ اپنی بات مکمل کرتا پٹھان نے اس کو بالوں سے پکڑے بےدردی سے اس کا چہرا اٹھایا کہ وہ کراہ اٹھا تھا

“تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی یہ کہنے کی کہ وہ بھاگ گئی ہے۔۔۔۔۔”
پٹھان غرا کر کہتا بالوں کو زور سے جھٹکا کہ وہ پیچھے کو گرا تھا
“میرے زوراشہ کو واپس لانے تک یہ دونوں قبر میں موجود ہوں اور باقی سب کو بھی کڑی سے کڑی سزا دیتے غائب کر دو مجھے ان میں سے کوئی ایک بھی میرے گھر نہیں چاہیے۔۔۔۔۔”
وہ بہرام کی جانب مڑتا اپنا سر دبائے بولا تھا جو شدت سے پھٹ رہا تھا

“نہیں پٹھان پلیز ہماری کوئی غلطی نہیں بہرام خان ہماری غلطی نہیں۔۔۔۔۔”
وہ دونوں اپنی موت کا سنتے دوبارہ اس کے پیروں میں گرتے گڑگڑانے لگے اور بہرام خان سے کہنے لگے جو بےبسی سے انہیں دیکھ رہا تھا
“میرا دماغ مت خراب کرو ورنہ میں خود یہ نیک کام سرانجام دے سکتا ہوں۔۔۔۔”
پٹھان ان کو گڑگڑاتا دیکھ انگلی اٹھائے آہستہ آواز میں بولا جب کہ ان کے گڑگڑانے میں زرا کمی نہ آئی تھی

“ان سب کو دفع کرو بہرام۔۔۔۔”
ایک ناگوار نظر ان پر ڈالتا بہرام کی سائیڈ سے نکلا تھا
“ہہ-ہم آتا ہے پٹھان تمہارے ساتھ تم اکیلا نہیں جائے۔۔۔۔”
بہرام فوراً اس کے پیچھے لپکا تھا جب کہ پٹھان نے بنا پلٹے ہاتھ اٹھائے اس کو روکا تھا
“مجھے تمہاری ضرورت نہیں بہرام میں خود جا سکتا ہوں تم نہیں آو گے تمہاری یہی سزا ہے۔۔۔۔”
پٹھان کڑے لہجے میں کہتا اس کے قدموں میں زنجیر باندھ گیا تھا اس نے بےبسی سے پٹھان کی غائب ہوتی پشت کو دیکھا تھا
………………………………
پٹھان کالی خوبصورت گاڑی جو اس نے زوراشہ کو تحفے میں دینی تھی اس کو نکالے اس کی ڈرائیونگ سیٹ سنبھالے رش ڈرائیونگ کرتا اس جگہ کی جانب گامزن ہو گیا تھا من میں ان گنت سوالات تھے اور بہت سے خدشات نے اسے گھیرا ہوا تھا پٹھان دھول اڑاتی گاڑی کو ان پہاڑوں کے درمیان لائے ایک جھٹکے سے روکا تھا اور گاڑی سے باہر نکلا تھا

وہ مٹھیاں بھینچے کھڑا اردگرد اس پر تاک لگائے کھڑے آدمیوں کو دیکھ رہا تھا اس کا دل کیا سب کو زمین میں گاڑتا زوراشہ تک پہنچ جائے

“سرکار پٹھان آ گیا۔۔۔۔۔”
ایک شخص کمرے میں داخل ہوتا بہروز کے کان کے قریب جھکتے بولا جس نے فاتحانہ انداز میں سر اثبات میں ہلایا تھا
“بچے چلو چلتے ہیں باہر تھوڑا ہوا لے کر تم فریش ہو جائے۔۔۔۔۔”
بہروز اٹھتے ہوئے بولا تو وہ بھی آنسووں صاف کئیے اٹھی تھی وہ اتنے وقت میں پٹھان کے اندر ناہونے والی برائیاں بھی اسے بتا چکے تھے

“بابا آپ بتائیں اب مجھے کیا کرنا چاہیے اور۔۔۔۔۔”
وہ جو دلاور سے بات کرتی کمرے سے باہر نکلی تھی کہ سامنے پٹھان کو دیکھتے اس کی زبان گویا کنگ رہ گئی ہو وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے پٹھان کو دیکھنے لگی جو زوراشہ کو دیکھتے ہی مسکرایا تھا

“میں آ گیا ہوں میرے قربان یہ لوگ تمہیں کچھ نہیں کر سکتے میرے ہوتے تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔۔۔۔”
پٹھان قدم اس کی جانب لیتا بہت محبت سے بولا تھا
“تم کس خوش فہمی میں ہے پٹھان تم کو کیا لگتا ہے ہم تمہارا بیوی کو اٹھوا کر لایا ہے۔۔۔۔”
دلاور کے الفاظوں پر اس نے اپنے قدموں کو روکا تھا اور قہربرساتی نظروں سے دلاور کو روکا

“نہیں پٹھان نہیں تمہارا بیوی خود چل کر ہمارے پاس آیا ہے بتاو نہ بچے۔۔۔۔”
پہلے شاطرانہ مسکراہٹ سے پٹھان کو کہتے آخر میں زوراشہ کی جانب پلٹتے بولا جو یک ٹک پٹھان کو دیکھ رہی تھی

“بکواس بند ایک لفظ نہیں۔۔۔۔”
وہ انگلی اٹھائے دلاور خان سے بولا تھا
“بتاو نہ بچے تم اپنے شوہر کو۔۔۔۔”
بہروز نے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے کہا جیسے کہہ رہا ہو ہم تمہارے ساتھ ہیں
“زوراشہ یہ سچ ہے۔۔۔۔؟”
اس نے دل میں اٹھتی ہوک کو سائیڈ پر رکھے زوراشہ سے پوچھا جس نے اپنے فراق کو مٹھیوں میں جکڑے لب کچائے اسے دیکھا تھا

“بتاو زوراشہ۔۔۔۔”
وہ ایک دم سے دھاڑا تو اس کی دھاڑ پر وہ اچھلی تھی اور جلدی سے سر اثبات میں ہلایا تھا جب کہ اس کے یوں سر اثبات میں ہلانے پر پٹھان نے بےیقینی سے اسے دیکھا اسے لگا وہ آج پہلی بار شکست زدہ ہو گیا ہو اس نے بامشکل خود کو قابو کیا تھا اور پھر اردگرد دیکھا جہاں دلاور اور بہروز کے آدمیوں نے اسے گھیرا تھا اور پھر دوبارہ زوراشہ کو دیکھا تھا جو آنسووں بھری آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی

“کیوں زوراشہ کیوں میری بیوی کیوں ایسا کیا۔۔۔۔؟”
وہ آہستہ آواز میں اس سے پوچھنے لگا لہجہ ابھی بھی حیرتوں کے سمندر میں ڈوبا ہوا تھا
“پٹھان۔۔۔۔”
“زوراشہ جواب دو۔۔۔۔؟”
پٹھان گن نکالے اس سے پوچھنے لگا کیونکہ اسے معلوم تھا اب آر یا پار ہو گا اور اس کی گن میں صرف آٹھ گولیاں تھی اور یہاں آدمی سو سے بھی زیادہ تھے جن کے پاس بےشمار گنز تھیں اسے ان آدمیوں کا غم نہ تھا اسے صرف اپنی بیوی کی بےوفائی کا غم تھا

“جب ہم کسی سے بےانتہا محبت کریں قربان اور بدلے میں بےوفائی دھوکہ ملے تو یہاں درد ہوتا ہے۔۔۔۔”
وہ بولتا ہوا گن کو اپنے دل کے مقام پر رکھا تھا جب کہ زوراشہ نے منہ پر ہاتھ رکھے اپنی سسکی دبائی تھی

“اپنے پٹھان پر زرا بھی یقین نہیں تھا جو دشمنوں میں سچائی کی تلاش میں آگئی کیا پٹھان کی زبان سے زیادہ اس کے دشمنوں کی زبان سچائی اگلتی ہے۔۔۔۔”
اس کا لہجہ شکست زدہ تھا

“اوو پٹھان کیسا ہے میرا بچہ ہم سے بھی بات کر بیوی کے علاوہ باپ چاچا بھی موجود ہے۔۔۔۔”
بہروز نے گن آسمان کی جانب کئیے گولی چلاتے اسے خود کی جانب متوجہ کیا جس نے بےزاریت سے انہیں دیکھا تھا وہ اس کے درد میں جشن مناتے اسے زہر لگ رہے تھے

پٹھان نے گہرا سانس بھرے چہرہ جھکائے اپنی گن کو دیکھا تھا
“موسیٰ۔۔۔”
اتنی بکواس جگہ اور لوگوں میں پٹھان کو اپنے دل کے مرہم زدہ آواز سنائی دی تھی لیکن جو فلوقت اس کی سماعتوں کو چیرتی اس کا دل بھی چیر گئی تھی پٹھان نے سرد نگاہوں سے اسے دیکھا تھا

“پٹھان کے نزدیک بےوفاوں ، غداروں کی سزا محض موت ہے زوراشہ پٹھان کم از کم تم واحد تھی جسے میں بےوفاوں میں نہیں ڈھونڈھتا تھا میری زوجہ تم واحد تھی جس پر میں نے اپنی تمام تر وفائیں محبتیں نچھاور کئیں اور تم نے میرے دشمنوں سے مل کر بڑی محبت سے میری محبت کو شرمندہ کیا میری محبت تو غارت کیا۔۔۔۔”

اس کی آنکھوں میں کیا نہ تھا کرب دکھ تکلیف کرچی کرچی ہوئے ارمان وہ سختی سے آنکھیں میچتا اپنا رخ زوراشہ سے پھیر گیا تھا جو اس کا رخ خود سے یوں پھیرے جانے پر تڑپ اٹھی تھی جب کہ اس کا باپ چاچا تماشائی بنے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ سجائے کھڑے تھے

“میرے خیال سے اب کچھ نہیں بچا۔۔..”
پٹھان نے گن سامنے اس کی جانب کرتے کہا اور شکوہ کناہ نظروں سے زوراشہ کو دیکھا تھا پھر اگلے ہی لمحے گولی کی آواز گونجی اور وہاں گہرا سکوت چھا گیا تھا اسی کے ساتھ سفید سوٹ دھیرے دھیرے خون سے لت پت ہوتا سرخ ہو گیا تھا
………………………………
السلام و علیکم کیسی لگی قسط۔۔۔۔؟برے کمنٹ سے پرہیز کیجئیے گا اچھا اچھا تبصرہ دیجئیے گا کیونکہ مجھے یقین ہے سب نیکسٹ کا ویٹ کریں گے تو اچھے کمنٹس کی صورت ہی نیکسٹ قسط جلدی آجائے گی اور دل دکھانے والے کمنٹس سے بھی پرہیز کرئیے گا❤️❤️