53.7K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

ویسی قیدیوں جیسی اور ظلم و ستم میں ڈوبی زندگی گزارتے بہت سال گزر گئے تھے ان سالوں میں ایک بار پھر آفشاں امید سے ہوئی تھی اور وہ بچہ دلاور کی حوس کا تھا جب دلاور کو بچے کا علم ہوا تو اس نے آفشاں کو اتنا مارا کہ وہ بچہ ضائع ہو گیا یوں دھیرے دھیرے سالوں گزرتے رہے سب جواں ہو گئے تھے جب کہ اتنے سالوں کے عرصے میں نہ تو آفشاں یہ جان پائی کہ بہرام زندہ ہے نہ وہ اس سے ملا تھا آفشاں بہرام کو مردہ ہی سمجھتی تھی اور بہرام بھی ناجانے کہاں تھا کچھ خبر نہ تھی چاروں بچے آپس میں بہت محبت سے رہتے تھے جب کہ دلاور بہروز اور زربینہ کی عیاشیوں میں رتی برابر فرق نہ آیا تھا اور پہلے سے دگنی جائیداد بنا چکے تھے اس کے برعکس انہوں نے حرام کام بھی شروع کر دیا تھا
………………………………
موسیٰ کب سے داود کو کہیں اور نظریں گاڑے دیکھ رہا تھا جب رہا نہ گیا تو اس کے پاس آیا جب کہ وہ نظریں کہیں اور نہیں زوراشہ کے ساتھ سٹڈی کرتی زویا پر تھیں اس نے ایک دھمکہ اس کے جڑا تو وہ جو اپنے دھیان میں تھا کراہ اٹھا تھا

“یہ کہاں تم نظروں کو ٹکایا ہوا ہے۔۔۔۔۔؟”
“موسیٰ موٹے پٹھان۔۔۔۔۔”
داود نے اس اس کے کندھے کے گرد بازو حمائل کرتے پکارا
“موسیٰ زار پٹھان۔۔۔۔”
موسیٰ نے چباتے ہوئے اپنے نام کی تصیح کی تھی جانتا تھا داود اسے چڑانے کے لیے ایسے نام لیتا تھا

“ہاں وہی پٹھان ہم کو یہ تمہارا بہن بہت پسند ہے ہم بیاہ رچائے گا اس کے ساتھ اہہہہہ۔۔۔۔۔۔”
داود جو زویا کو دیکھتے اپنے دھیان میں بول رہا تھا کہ موسیٰ کے ایک اور مکا مارنے پر وہ کراہ گیا
“تم کو شرم نہیں آتا کتنا بےشرمی سے ہمارے سامنے تم ہماری بہن کے بارے ایسی بات کر رہا ہے۔۔۔۔”
موسیٰ اس کی گردن جو اپنے قبضے میں لے چکا تھا

“تم سے شرم کیسا تم کو تو سب پتا ہے….”
وہ مکمل ڈھٹائی سے بولا جب کہ اس کی بات سن کر اس نے مزید اس کی گردن پر دباؤ ڈالا
“ارے کیا کر رہا ہے مارے گا کیا….؟”
“کچھ نہیں اپنا بہنوئی بنانے کی تیاری کروا رہا ہے ہم۔۔۔۔۔”
پٹھان کی بات پر وہ ہنسا اور اس سے الگ ہوا تھا پھر دونوں حویلی سے نکلتے کھیتوں کی جانب بڑھ گئے تھے
………………………………
ایک دن پٹھان لائیبریری میں موجود بکس دیکھ رہا تھا کہ اسے خوفیا دراز سے ایک فائل ملی جس میں مہک زوباریہ کی تصویروں کے ساتھ زوراشہ کے کچھ ڈاکومینٹس تھے جن میں اس کے نام کے ساتھ بہرام خان کا نام موجود تھا اور نیچے ہی بہرام خان اور آفشاں کے ساتھ کھڑے تصویر تھی جس میں اس کا پیٹ بڑا تھا اور بھی بہت سی پکس تھیں کچھ تصویریں اس کی بھی تھیں ان دونوں ساتھ یہ پکس تب کی تھیں جب آفشاں مہک اور زوباریہ کے ساتھ رہی تھی

پٹھان کے لیے یہ سب سمجھنا قاصر تھا پھر اسے ایک اور تصویر ملی جس میں مہک اور زوباریہ کی لاش تھی وہ ہر چیز اپنے ساتھ لیتا پہلے اپنی ماں سے پوچھنے کا ارادہ کیا لیکن چونکہ اس کی ماں یا باپ کسی کی بھی تصویر وہاں موجود نہ تھی تو اس نے آفشاں سے اس کے متعلق پوچھنا مناسب سمجھا

آفشاں سے اس متعلق پوچھنے پر پہلے تو وہ ٹالتی رہی لیکن وہ بھی ضدی پٹھان تھا سب جان کر ہی دم کیا لیکن اسے لگا شاید اسے یہ سب نہیں جاننا چاہیے تھا اسے لگا جیسے یہ سب خواب یا کوئی گھٹیہ مزاق ہو کہ آفشاں ابھی ہنس کر کہہ دے گی کہ میں تو بس مزاق کیا پٹھان کا غصہ تو آپے سے باہر ہو گیا تھا وہ تو ابھی زربینہ دلاور اور بہروز کی جان کے در پر تھا لیکن بامشکل آفشاں نے روکا اور اسے سمجھایا کہ جیسے انہوں نے سب چھینا ویسے چھیننا ہے یوں آسان موت نہیں دینا جو ستم انہوں نے کیا اس ستم سے انہیں واقف کروانا ضروری ہے

پٹھان کو ان تینوں سے گھن سی محسوس ہونے لگی تھی اور پھر اس نے ایک پلین بنایا
اس نے اپنے وفادار وکیل کے زریعے جائیداد زمین تمام کارخانوں ہر چیز کے پیپرز بنوائے جو کہ دلاور اور بہروز کے نام تھے اور پھر ایک رات انہیں مکمل شراب کے نشے سے چور کرتا ان تمام پیپرز پر سائن کروائے تھے اس نے تمام جائیداد زویا زوراشہ اور افشاں کے نام کروائی تھی

یہ طوفان اگلے روز ان دونوں پر گرا تو ان سے سنبھلنا مشکل ہو گیا تھا لیکن انہیں یہ یاد نہیں تھا کہ یہ سب ان دونوں کے نام ہوا کیسے جب کہ وہ صرف یہی سوچ رہے تھے کہ شاید وہ نشے کی حالت میں یہ سب کر بیٹھے ہوں
انہوں نے وہ تمام پیپرز اپنے نام زویا اور زوراشہ سے کروانا چاہے لیکن پٹھان نے اندر دو شرائط لکھوائیں تھی کہ ان دونوں کے شادی ہونے تک کوئی بھی جائیداد اپنے نام نہیں لگوا سکتا ان کی شادی بعد ادھی جائیداد ان کے شوہروں کے نام بھی ہو گی اور پھر وہ دونوں سائن کر کے کسی کے بھی نام کر سکتے ہیں جبکہ دوسری شرط یہ تھی کہ جب تک وہ تینوں افراد جن کے نام یہ تمان جائیداد ہے وہ سائن نہ کریں گے یہ کسی اور کو نہیں مل سکتی جبکہ دلاور اور بہروز کو یہ تک نہ پتا چل سکا کہ وہ تیسرا شخص کون ہے
………………………………
دلاور اور بہروز نے آپس نیں یہ فیصلہ کیا کہ وہ زویا کا نکاح داود اور پٹھان کا نکاح زوراشہ سے کروایا جائے انہیں لگا تمام بچے ان کے بس میں ہیں وہ بعد میں آسانی سے ایک سائن سے واپس ساری جائیداد اپنے نام کروا لیں گے پٹھان کے پلین کے مطابق وہ وہ دونوں بری طرح اس کے شکنجے میں آرہے تھے

تقریباً ایک ہفتے بعد بہت ہفراتفری کے ساتھ ان کا نکاح ہو گیا تھا جب کہ پٹھان جیسا چاہتا تھا سیم ویسا ہی ہوا نکاح کے اگلے روز ہی جب سائن کا کہا تو پٹھان سرے سے ہی مکر بیا جب کہ داود تو راضی ہوا لیکن کوئی فائدہ نہ تھا جبکہ زویا اور زوراشہ اپنی ہی مستی میں تھیں ہر فکر سے دور ان کو تو یہ بھی نہ پتا تھا کہ ہر چیز کی مالک ہیں یہ جبکہ وہ لوگ چاہتے تھے کہ کسی طرح پٹھان مان جائے اور اس پر دستخط کرنے کے لیے راضی ہو جائے لیکن وہ کسی صورت نہیں مانا اور دن بدن شراب پینے لگا تاکہ وہ اس گھر سے نکلنے کے لیے کوئی چارہ جوئی کر سکے وہ چاہتا تو سیدھا سیدھا گھر چھوڑ کر جا سکتا تھا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا وہ چاہتا تھا کہ اس کا باپ یا چچا خود اسے گھر سے باہر نکالیں وہ اپنے سب کے سامنے تاکہ سب پر ہر چیز آشکار ہو یہ آشکار ہو جائے کہ وہ اب اس گھر کا فرد نہیں ہے ۔

وہ روز رات دیر سے نشے کی حالت میں آتا تھا یا یہ کہنا مناسب ہوگا کہ وہ نشے کی حالت میں ہونے کی بھرپور ایکٹنگ کرتا تھا جب کہ وہ اس حرام چیز سے پہلے دن سے ہی دور تھا

اب دلاور خان اور بہروز خان یہ چاہتے تھے کہ پٹھان کسی طرح ذوراشہ کو طلاق دے دے اور اس کی شادی کسی اور کے ساتھ کروا کر بڑی آسانی سے سائن کروا لیں اسے بےشمار دھمکیاں دی یہ کہا کہ اگر وہ سائین یا زوراشہ کو طلاق نہیں دے گا تو داود زویا کو طلاق دے گا پٹھان نے بہت بار سوچا کہ وہ تمام حقیقت سے اسے آگاہ کر دے لیکن وہ خاموش ہو جاتا کہ کہیں وہ اسے ناسمجھے اور تمام بات اپنے باپ یا اس کے باپ کو بتا دی تو یہی سب سوچتے وہ خاموش ہو گیا تھا
پٹھان بھی اپنے نام کا ایک ہی تھا اس نے ان کے تمام پلینز کو ملیامیٹ کردیا تھا اور پھر ایک دن اسے گھر سے نکلنے کا کہہ دیا وہ بھی جیسے موقع کی تلاش میں تھا اور اس نے وہاں سے نکلتے ہی سب سے پہلے اپنا لب و لہجہ تبدیل کیا تھا

اس کے بعد پٹھان کو اب دنیا کا سب سے طاقتور انسان بننا تھا اس نے ایک گینگ میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا اور بڑی مہارت سے اس میں شامل ہوتے تمام خوفیا ٹریننگ لیتے اس کے مالک کو مار کر اس کی جگہ خود سنبھالی تھی
ایک دن اسے بہرام خان ملا اسے یقین نہ آیا تھا کہ بہرام زندہ ہے وہ کسی نہ کسی طرح افشاں کو بہرام کے زندہ ہونے کی اطلاع دینا چاہتا تھا پٹھان نے بہرام کو ہر چیز بتائی تو بہرام نے بھی اہنے بچ جانے اور وہ کہاں تھا یہ سب بتایا پٹھان نے اسے اپنے ساتھ ملاتے سب سے قریبی وفادار قرار دے دیا تھا
دھیرے دھیرے کرتے اس کے پاوں مزید پھیلتے گئے اور اس کا ایک نام بن گیا تھا

اس کا نام جگہ جگہ عام ہو گیا تھا موسیٰ زار پٹھان ایک نام نہیں بلکہ ایک خوف ایک دہشت تھا تمام بڑی بڑی گینگز بھی اس سے خوف کھانے لگیں تھی
پٹھان نے موقع کی تلاش دیکھتے آفشاں اور بہرام کی ملاقات بھی کروائی تھی اتنے عرصے کی تڑپ میں سوائے ان کے آنسووں بہنے کے الفاظ زیادہ نہ نکلے تھے

پٹھان نے اللہ کی مدد اور بہرام کے ساتھ مل کر اپنے قدم بہت مضبوطی سے جما لیے تھے اس کی طاقت کی شاخیں دور دور تک پھیل گئیں تھی اب بس بہروز اور دلاور کی جڑیں تھی جنہیں وہ دھیرے دھیرے کر کے کاٹ رہا تھا
………………………………
“یہ تھے میرے زخم جن کو تم نے بہت بےدردی سے کریدا ہے۔۔۔۔۔۔”
پٹھان گہرا سانس بھرتے بولا اور اپنے کندھے پر ہچکیاں بھرتی زوراشہ کو دیکھا تھا پٹھان نے چہرہ دوسری جانب موڑا اور اپنی آنکھوں کو رگڑا تھا جو تکلیف درد دکھ اور مارے ضبط کے بےتحاشہ سرخ پڑ چکیں تھی

“بابا میرے بابا نہیں تت-تو بہرام میرے بابا ہیں اور داود لالہ مم-میرے سگے لالہ نہیں اور میں۔۔۔۔۔۔”
رونے سے بندھی ہچکیوں کے باعث اس سے بولنا محال ہوا تھا پٹھان اسے پیچھے کرتا بیڈ سے پیر لٹکائے سلپر پہننے لگا

“میرے پیچھے مت آنا۔۔۔۔۔”
بنا اس کی جانب دیکھتے بولا اور شال اٹھاتے خود پر اوڑھتا کمرے کے ساتھ بنے ٹیرس پر گیا تھا وہاں پر انٹر ہوتے ہی ٹھنڈی ہوا نے اس کے جسم کو چھوا تھا جسے اس نے آنکھیں بند کرتے خود میں سمویا تھا اور وہاں گہری رات میں اندھیرے میں تنہائی میں کھڑا گہرے گہرے سانس لیتا تو کبھی سینے کو مسلتا وہ بہت بےبس ہو رہا تھا دل میں موجود درد کسی صورت کم نہیں ہو رہا تھا
………………………………
زوراشہ ابھی تک صدمے کی حالت میں بیڈ پر بیٹھی تھی پھر خود بھی بیڈ سے اٹھتی اپنا دوپٹہ اٹھایا اور کمرے سے نکلی تھی کیونکہ اس کمرے میں سانس لینا محال تھا اسے لگا جیسے اکسیجن اس کے لیے کم ہو گئی ہو وہ سیڑھیاں اترتی سب سے آخری فلور پر آئی تو سامنے ہی اسے شیر خان اندر داخل ہوتا دکھائی دیا تھا شیر خان کو دیکھتے دوبارہ سے اس کی آنکھیں نمکین پانی سے بھر گئیں تھی

شیر خان جو ابھی آفشاں سے مل کر واپس آ رہا تھا رات کے اس پہر زوراشہ کو وہاں دیکھتے وہ ٹھٹکا تھا اور اوپر سے اس کا رویا چہرہ اسے لگا شاید پھر سے پٹھان اور زوراشہ کی تلخ کلامی ہو گئی ہے

“پٹھانی صاحبہ آپ اس وقت یہاں۔۔۔۔۔”
شیر خان اپنی حیرت پر قابو پاتا آگے آیا اور کچھ فاصلے پر کھڑے ہوتے اس سے پوچھا تھا جس نے بنا جواب دیے قدم اس کی جانب بڑھائے اور اس کے سینے سے لگی تھی جبکہ بہرام آنکھیں پھاڑے حیرتوں کے سمندر میں غوطہ زن یوتا اس کے سینے سے لگے وجود کو دیکھنے لگا

“پپ-پٹھانی صاحبہ۔۔۔۔۔”
بہرام ہکلایا تھا جبکہ ہاتھ اس سے فاصلے پر اٹھائے ہوئے تھے
“بابا۔۔۔۔۔”
وہ روتے ہوئے ہچکیوں کے درمیان بولی تھی جبکہ بہرام کو اپنی سماعتوں پر یقین نہ آیا تھا یہ چند گھنٹوں میں کیا ہو گیا تھا ابھی کچھ گھنٹوں پہلے تو وہ بہرام خان تھا اب اچانک وہ بھی رات کے اس پہر وہ بھی اس کے منہ سے لفظ “بابا” سن کر اسے سمجھ نہ آیا وہ کیا ریکشن دے خوش ہو یا اسے بھی اپنے سینے میں بھینچے یا کیا کرے وہ سمجھنے سے قاصر تھا تڑپ تو وہ بھی رہا تھا اپنے خون اپنی بیٹی کو اتنے برسوں سے سینے سے لگانے سے اور آج جب وہ اسے بابا پکار رہی تھی سینے سے لگا رہی تھی لیکن وہ تھا کہ سکتے میں ڈوبا ہوا تھا

“بابا آپ میرے بابا ہیں آپ ہیں بابا۔۔۔۔۔”
وہ روتے ہوئے بول رہی تھی
“زوراشہ میرا بچہ۔۔۔۔”
اس کے دوبارہ بار بار بابا پکارنے پر اس کا سکتہ ٹوٹا تھا تو اس نے بھی بازو اس کے گرد حمائل کرتے نم آواز میں بولا تھا اور کتنی ہی دیر وہاں دونوں کی سسکیاں گونجتی رہیں دونوں ایک دوسرے کے سینے سے لگے روتے رہے

“آپ میرے بابا ہیں دلاور خان نہیں آپ ہیں میری رگوں میں آپ کا خون ہے میں آپ کا خون ہوں آپ بہرام نہیں آپ بابا ہیں میرے۔۔۔۔”
وہ اس سے تھوڑا الگ ہوتی بہرام کے آنسووں صاف کرتے بولی تھی جب کہ بہرام اس کے سر پر ہاتھ پھیرتا اثبات میں ہلا رہا تھا
“تم میرا بچہ زوراشہ تم میرا خون ہے آفشاں میرے جگر کا ٹوٹا میرا بیوی ہے تم میرا بیٹی ہے اور میں تمہارا بدنصیب باپ۔۔۔۔”
بہرام روتے ہوئے بولا تھا اور پھر دونوں باپ بیٹی ماتھے سے ماتھا ٹکائے بےتحاشہ رونے لگے
………………………………