53.7K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

“پٹھانی صاحبہ۔۔۔۔۔۔”
زوراشہ کے یوں منہ موڑنے پر بہرام نے شرمندگی سے اسے پکارا تھا
“جاو بہرام خان یہاں سے۔۔۔۔۔”
وہ دوسری جانب چہرہ کیے آنسووں کو صاف کرتے بھرائی آواز میں بولی جو دوبارہ اس کا نکلتے اس کا چہرہ بھگو رہے تھے
“پٹھانی صاحبہ ہم کو آپ سے بات کرنا ہے۔۔۔۔”
وہ دو قدم آگے لیتے بولا

“مجھے کوئی بات نہیں کرنی جاو یہاں سے یقیناً تمہارے اس گینگسٹر، نہیں گینگسٹر نہیں مونسٹر کے سردار نے سب بتا دیا ہوگا کیونکہ تمہیں بتائے بنا تو اس کے پیٹ میں ایک نوالا نہ رہے۔۔۔۔۔”
اس کے جلے کٹے لہجے میں کہے الفاظوں پر حددرجہ نازک سچویشن میں بھی مسکراہٹ نے بہرام خان کے لبوں کو چھوا تھا لیکن حالت کے پیش نظر اس نے اس مسکراہٹ کو فوراً رفع دفع کیا تھا

“ہمارا غلطی ہے سب ہمیں سب یوں کھلا نہیں چھوڑنا چاہیے تھا آپ پٹھان سے خفا نہ ہو۔۔۔۔”
بہرام نرمی سے بولا تھا
“اچھا اور وہ مونسٹر جو میری توہین کر کے گیا مجھے بےعزت کر کے گیا وہ نہیں بتایا اس نے۔۔۔۔”
وہ بھپری ہوئی شیرنی کی مانند بولی
“اور کیوں تمہاری غلطی تو کیا تم سب لوگ مجھے بےوقوف بنا کر سب چھپانا چاہتے ہو ایک نہ ایک دن تو مجھے سب معلوم ہو ہی جائے گا اور یقین کرو اس دن پٹھان کا اس دنیا میں آخری دن ہو گا اگر وہ غلط ہوا تو۔۔۔۔”
وہ آنسووں کو بےدردی سے رگڑتی بیڈ سے اٹھی تھی

“پٹھان غلط نہیں ہے پٹھانی صاحبہ۔۔۔۔”
اس نے ابھی بھی پٹھان کے حق میں صفائی پیش کرنا چاہی
“ہاں تم کیوں اس کے خلاف کچھ برا کہنے والے کیونکہ کبھی شیطان کے چیلوں نے بھی شیطان کو برا کہا ہے۔۔۔۔”
اس کے کڑک دار لہجے اور کاٹ دار باتوں پر بہرام خاموش ہوا تھا یا پھر پٹھان کو شیطان اور خود کو شیطان کا چیلا کہلائے جانے پر وہ خاموش ہوا تھا

“تھوڑا صبر کریں وقت آنے پر پٹھان سب بتائے گا پھر آپ پٹھان کے خلاف ایسے الفاظ استعمال کرنے کا حماقت ہر گز نہیں کرے گا اور اس پر بھی پچھتائے گا۔۔۔۔”
وہ صرف اتنا کہتا کمرے سے چلا گیا تھا
“اور انہیں لگتا ہے میں ان کی بات سنوں گی اب تو سچائی جانوں گی اس گینگسٹر مونسٹر جو بھی ہے اس کے بارے سب جاننا ہے یہ ہم سے دور کیا گل کھلاتا رہا ہے جس پر بابا نے ہمیشہ مجھے اس سے علیحدگی کا کہا ضرور کوئی بات ہو گی ورنہ ایک باپ بیٹی کا گھر کیوں اجاڑے۔۔۔۔”
خود سے بڑبڑاتی اس نے ایک ارادہ کیا تھا اور فون اٹھائے دلاور خان کا نمبر ملایا تھا
………………………………
“زویا آج تم ہمارے لیے خود کھانا تیار کر۔۔۔۔”
داود اپنی قمیض کے بٹن بند کرتا آئینے میں زویا کا عکس دیکھتے بولا جو زرا زرا سی خفا تھی
“کہہ تو ایسے رہے ہیں داود خان جیسے بخوشی مجھے کچن میں گھسنے دیا جائے گا۔۔۔۔”
وہ بیڈ شیٹ کے کنارے سہی کرتی منہ بنائے بولی
“وہ تم ہم پر چھوڑ دے کیونکہ اب دن میں ایک وقت تو تمہارے ہاتھ کا بنا کھانا ہے مجھے۔۔۔۔”
وہ پرفیوم کی بوتل اٹھائے خود پر چھڑکنے کی بجائے پر چھڑکتے بولا تو زویا نے بےاختیار اس کی خوشبو پر اپنے ہاتھ کو ناک پر دھرا تھا

“داود مت کریں میرے سر کو چڑھے گا۔۔۔۔”
وہ اس سے بوتل کھینچتی دور اچھالتی بولی
“اور تم جو میرے سر پر چڑھ گیا ہے اس کا کیا۔۔۔۔”
داود انگلیاں اس کے بالوں میں پھنسائے چہرے قریب تر کئیے بولا اس اچانک افتاد پر اس نے آنکھیں گھمائیں تھی

“میں تو نہیں چڑھی۔۔۔۔”
“چڑھ گیا ہے زویا داود خان میرا بےبی۔۔۔۔”
وہ اس کی ناک میں موجود چھوٹی سی لونگ کو لبوں سے چھوتے بولا اس سے پہلے وہ اس کی حرکت پر شرماتی لیکن اس کے منہ سے لفظ “بےبی” سنتی وہ تمام شرم اڑن چھو ہوئی تھی

“یہ واہیات لفظ میرے ساتھ مت استعمال کیا کریں خان۔۔۔۔”
قہ منہ بنائے بولی تھی
“یہ تو محض الفاظ ہے سوچو ہم حرکتیں کیسا کر سکتا ہے ۔۔۔”
وہ بالوں سے اپنا ہاتھ نکالے اس کی گردن پر رکھے خمار زدہ لہجے میں بولا تھا
“اس کا بخوبی اندازہ ہے کس قدر چھیچھورے ہیں آپ۔۔۔۔”
وہ جو اس کے چہرے کے ہر نقش میں مکمل کھویا تھا اس کی بات سنتے بھٹکتی نگاہوں کو سنبھالے اس کی انکھوں میں دیکھا

“چھچھورے کا مطلب۔۔۔۔۔؟”
داود خان نے ناسمجھی سے اس سے پوچھا تو اس نے مسکراہٹ دبائے کندھے اچکائے اور اس سے دور ہوتی دروازے کی جانب گئی تھی
“زویا اس مطلب بتاو ہم کو۔۔۔۔”
اپنے پیچھے داود کی جھنجھلائی آواز سنتے وہ ہنسی تھی
“مطلب درتہ نہ وایم(نہیں بتاونگی مطلب)۔۔۔۔۔۔”
زویا ہنس کر کہتی کمرے سے نکل گئی تھی جب کہ داود نے فون اٹھائے گوگل سے اس کا مطلب تلاشنا شروع کیا تھا
………………………………
دلاور اور بہروز خان جو سمگلز ہونے والی لڑکیوں کے متعلق بات کر رہے تھے کہ دلاور خان کے بجتے فون اور اس پر ان ناون نمبر دیکھتے دلاور نے فون کو اٹھایا تھا
“السلام و علیکم کون۔۔۔۔؟”
“وعلیکم السلام بابا میں زوراشہ۔۔۔۔۔”
زوراشہ کا نام سنتے دلاور خان کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا اس نے فوراً فون کان سے ہٹائے سپیکر پر لگایا تھا تاکہ اس کا بھائی بھی سن لے

“ہہ-ہاں کیا ہوا۔۔۔۔؟”
دلاور بےتابی سے بولا اسے شک ہوا تھا کچھ گڑبڑ ہے جو زوراشہ نے اس سے رابطہ کیا تھا
“مجھے آپ سے ملنا ہے کیا مل سکتے ہیں۔۔۔۔۔؟”
وہ اپنی بھاری ہوتی آواز سے بولی تو وہ دونوں فاتحانہ انداز میں مسکرائے تھے
“ہاں کیا ہوا بچے ہم مل سکتا ہے تم ٹھیک تم رویا ہے۔۔۔۔۔؟”
وہ مصنوعی فکرمندی سے بولا تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی

“راشہ میرے بچے کیا ہوا۔۔۔۔؟”
اب کہ بہروز خان بہترین اداکاری سے پوچھنے لگا
“مجھے کچھ پوچھنا ہے سچ سچ بتائیے گا لیکن ملنے کے بعد۔۔۔۔”
وہ سوں سوں کرتے بولی
“ہاں ہاں کیوں نہیں ہم کو بتا دے کہاں ملنا ہے اور کب۔۔۔۔”
اور پھر جگہ اور وقت کا بتاتے کال کاٹا تھا جب کہ ان دونوں نے شاطرانہ قہقہ لگاتے ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مارا تھا
“مچھلی کانٹے میں پھنس گیا ساتھ وہ شیر کو بھی پنجرے میں پھنسا دے گا۔۔۔”
بہروز ہنستے ہوئے بولا تو دلاور بھی قہقہ لگاتے ہنسا جب کہ دوسری جانب زوراشہ الماری سے سفید گھیرے دار فراق نکالتی واشروم میں گھس گئی تھی اسے اب یہاں سے کیسے نکلنا تھا یہ سوچنا تھا
………………………………
زوراشہ کمرے سے نکلتی تیزی سے زینے اترتی نیچے آئی تو گارڈز کو اگنور کرتے بہرام خان کو تلاشا تھا لیکن وہ اسے کہیں دکھائی نہ دیا تو اس نے سکھ کا سانس بھرا تھا زوراشہ تیز تیز قدم لیتی گھر سے نکلتی اسے یہاں سے نکلنے کے لیے ایک بڑا گیٹ عبور کرنا تھا

“پٹھانی صاحبہ کہاں جانا ہے۔۔۔۔۔؟”
زوراشہ کو کہیں جانے کی تیاری پکڑتے دیکھ ان کا ڈرائیور جو لگ بھگ چالیس سال کا ہو گا اس کے قریب آتا مؤدبانہ انداز میں پوچھنے لگا
“مم-میں خود چلی جاوں گی جہاں جانا ہو گا جاو یہاں سے تم۔۔….”
زوراشہ خود کی گھبراہٹ پر قابو پائے فوراً بولی
“پٹھانی صاحبہ آپ کو بنا گارڈ کے نکلنے کی اجازت نہیں جہاں جانا ہے ہم کو بتا دے۔۔۔۔۔”
وہ ابھی بھی بہت ادب سے بول رہا تھا
“میں تھوڑا باہر تک جا رہی ہوں سمجھ نہیں آتا گاڑی کی ضرورت نہیں جاو یہاں سے۔۔۔۔”
زوراشہ غصے سے بولتی اسے جھاڑ پلائی تھی

“ٹھیک ہے آپ کو ساتھ دو گارڈ لے جانا ہو گا۔۔۔۔”
وہ بھی شاید پکا وفادار تھا پٹھان کا اسی لیے ابھی بھی بضد تھا زوراشہ نے گہرا سانس بھرتے اردگرد دیکھا اور پھر کچھ سوچتے ہوئے حامی بھری تھی

“ٹھیک ہے۔۔۔۔”
اس کے آخر کار مان جانے پر اس ڈرائیور نے سکھ کا سانس بھرا اور دو گارڈز کو زوراشہ کے ساتھ جانے کا اشارہ کیا جو اب زوراشہ کے پیچھے تابعداری سے چل رہے تھے
………………………………
پٹھان کھلے میدان میں دونوں ہاتھ کمر پر لے جائے کھڑا اوپر صاف شفاف آسمان پر نظریں گاڑے ہوئے تھا اسے زوراشہ کی فکر ہوئی تھی کم از کم اسے اس کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کرنا چاہیے تھا لیکن پٹھان کو لگ رہا تھا جو کیا سہی کیا دوبارہ وہ اس کی پرسنل چیزوں کو چھونے کی گستاخی نہیں کرئے گی لیکن شاید وہ بھول گیا تھا اس میں بھی پٹھانوں گا خون دوڑ رہا تھا وہ بھی موسیٰ زار پٹھان کی بیوی تھی جو بات کی تہہ تک جانا بخوبی جانتا تھا اور اپنی ضد پر اٹک رہتا تھا یہاں پٹھان زوراشہ کے معاملے میں شاید پہلی بار غلط ہو گیا تھا

“ابھی وقت نہیں ہے میرے قرار سب بتانے کا میں جانتا ہوں تمہارے دماغ میں میرے خلاف اب صرف بدگمانیاں پل رہی ہونگی لیکن ابھی وقت نہیں اور وقت سے پہلے کئیے کام ہر چیز برباد کر دیتے ہیں اور میں مقصد کے اتنا قریب پہنچ کر سب برباد نہیں کرنا چاہتا۔۔۔۔۔”
خود سے بڑبڑاتا آسمان کو دیکھتے ہی اس نے آنکھوں کو موندا تھا

“یہ سب تمہارے لیے کر رہا ہوں تمہیں بچانا چاہتا ہوں دلاور خان اور بہروز خان کے چنگل سے جو سب ہتھیانے کو تیار ہیں۔۔۔۔۔”
پٹھان نے گہرا سانس بھرتے بھاری ہوتے دل کو ہلکا کرنا چاہا تھا

“تمہاری ماں کو مار دیا تھا، یہ تمہارا باپ نہیں ہے، یہ سب قاتل ہیں، تم بچہ ہے ابھی دور رہو، نہیں یہ سب زبردستی کروایا گیا ہے، وہ راکھیل ہے میرا اور راکھیل کا بیٹی راکھیل ہی ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔”
ماضی کے چند الفاظ اس کے کانوں میں گونجے اور آخری الفاظوں پر اس نے جھٹ سے آنکھیں کھولیں تھی آنکھوں میں لہو دوڑنے لگا تھا

“وہ زوجہ ہے میری راکھیل نہیں۔۔۔۔۔”
پٹھان کی غصے سے رگیں پھول گئیں تھی خود سے بڑبڑاتا گن نکالی اور گن میں موجود تمام گولیا اوپر آسمان کی جانب ہوا کے سپرد کئیں تھی لیکن غصہ اس عمل سے بھی کسی صورت کم نہ ہوا تھا
………………………………
زوراشہ کب سے سوچ رہی تھی ان گارڈز سے کیسے نظر بچہ کر وہ یہاں سے نکلے اسی چکر میں وہ ایک ہی جگہ دس بار چکر لگا چکی تھی اسے لگا شاید گارڈز ہی کہہ دیں کہ تھک گئے ہیں یا بس کریں

جبکہ گارڈز کے چہرے پر تھکن کا ایک اثار بھی نہیں تھا البتہ اس کی ٹانگیں مکمل تھک چکیں تھی اسی لیے ایک قریبی بینچ پر بیٹھ گئی تھی جب کہ گارڈز کچھ فاصلے پر موجود اردگرد دیکھتے آپس میں باتیں جر رہے تھے اور ساتھ ایک سرسری نگاہ اس کی جانب بھی دوڑا لیتے جو فورا ہٹا لیتے تھے

“گارڈ مجھے پیاس لگی ہے پانی لا کر دو۔۔۔۔۔”
اس نے کچھ سوچتے ایک گارڈ سے کہا جس نے سر اثبات میں ہلایا تھا
“اور تم مجھے بھوک لگی ہے کچھ کھانے کو لاو۔۔۔۔”
اس نے دوسرے گارڈ کو بھی حکم دیا تھا
“جی بس وہ اجائے پھر میں لا دیتا ہوں۔۔۔۔”
اس نے چہرہ جھکائے تابعداری سے کہا

“نہیں تم بھی لاکر دو مجھے ابھی کھانا ہے۔۔۔۔”
وہ اسے غصے سے گھورتے ہوئے بولی
“معافی چاہوں گا لیکن پٹھان کے سخت آرڈرز ہیں پٹھانی صاحبہ۔۔۔۔”
اس کے ادب میں رتی برابر فرق نہ آیا تھا جب کہ پٹھان نے دانت کچائے جیسے دانتوں میں پٹھان موجود ہو

اس سے پہلے وہ مزید کچھ سوچتی کہ دوسری جانب شور اٹھا تھا جہاں بچہ اور عورت گاڑی لگنے سے زمین پر گرے تھے

“تم دیکھو انہیں کیا ہوا۔۔۔۔؟”
زوراشہ نے فکرمندی سے انہیں دیکھتے ہوئے کہا
“آپ جائیے گا مت رکیں میں دیکھتا ہوں۔۔۔۔”
وہ اسے کہتا ان کی جانب بڑھا تھا کیونکہ یہاں زیادہ لوگ نہ تھے اور کوئی نہ تھا جو انہیں اٹھاتا کیونکہ گاڑی والا بھی فرار ہو گیا تھا زوراشہ کا اس کے “کہیں نہ جانے” والی بات پر فٹ سے دماغ چلا تھا اور دوسری جانب دیکھا جہاں گارڈ پانی لینے گیا تھا وہ اسے کہیں دکھائی نہ دیا جب کہ یہ گارڈ اس عورت اور بچے کے پاس تھا اس نے موقع پاتے ایک نظر دیکھتے چھپتے چھپاتے وہاں سے بھاگی تھی جب کہ گارڈ بےخبر ان کی مدد کر رہا تھا

وہ گارڈ زوراشہ کو مکمل فراموش کئیے ان کی مدد کرتا انہیں رخصت کیا تھا اور اس راہداری کو دیکھ رہا تھا جہاں سے وہ جا رہے تھے

اور جو گارڈ پانی لینے گیا تھا جب پانی کی بوتل ہاتھ میں لئیے واپس آیا تو زوراشہ کو نا پا کر دوسری گارڈ کے پاس گیا
“اسفند پٹھانی صاحبہ کہاں ہیں۔۔۔۔؟”
“وہ وہاں پر۔۔۔۔۔”
اس نے پلٹ کر جہاں زوراشہ کو چھوڑا تھا وہاں اشارہ کرتے کہا لیکن اس جگہ کو خالی دیکھتے اس کے لفظوں کو بریک لگی تھی

“یی-یہی تو تھیں وو-وہ کہاں گئی۔۔۔۔؟”
وہ اٹکتے ہوئے بولا
“تمہیں کہا تھا اکیلے مت چھوڑنا اب پٹھان ہمیں ایک پل میں زمین میں زندہ گاڑ دے گا۔۔۔۔۔”
پہلے گارڈ نے پریشانی سے کہا تھا
“وہ بچے اور عورت کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا تو میں ان کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔”
وہ خود بھی حددرجہ پریشان تھا

“چلو ڈھونڈھتے ہیں اگر پٹھانی صاحبہ کے بنا گئے تو کفن تو دور کی بات دفن کی بھی جگہ نہیں ملے گی چلو۔۔۔۔”
وہ چہرے پر ایا پسینہ صاف کئیے بولا اور دونوں ڈھونڈھنے لگے تھے