53.7K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

وہ گولیوں کے اٹھتے شور پر فوراً سے دروازے کی جانب لپکا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا ابھی زوراشہ چلانا شروع کر دے گی اور اس کی توقع جے عین برکس وہ جیسے کمرے سے نکلا اسے اپنے کمرے سے چینخنے کی آواز آنے لگی تھی وہ فوراً اپنے کمرے میں داخل ہوا اور زوراشہ کو دیکھا جو کانوں پر ہاتھ رکھے مسلسل چینخ رہی تھی

“زوراشہ۔۔۔۔”
وہ اسے پکارتا اس کے پاس پہنچتا اس کو کندھوں سے تھاما تھا
“زوراشہ میں ہوں ڈرو مت چلانا بند کرو۔۔۔”
وہ اسے مسلسل یہی کہتا خاموش کروانے کی کوشش کر رہا تھا جب کہ وہ آنکھیں بند کیے چلاتی جیسے کچھ سن ہی نہ رہی ہو
“ڈیم اٹ زوراشہ آنکھیں کھولو اور دیکھو میں ہوں۔۔۔۔۔”
اسے اس کی اس حرکت پر بہت غصہ آیا پٹھان نے جھنجھلاتے ہوئے اس کے منہ پر اپنا بھاری برکم ہاتھ رکھتے اس کی گولیوں کے شور کے ساتھ بڑھتی چینخوں کا گلا دبایا تھا منہ پر یوں ہاتھ رکھے جانے پر وہ ہوش میں آتی پٹ سے آنکھیں کھولیں اور اپنے سامنے پٹھان کو موجود پاتی اسے پکارتے اس کے سینے سے لگ گئی تھی

“پٹھان یہ گولیاں پلیز بچا لو یہ لوگ ہمیں مم-مار۔۔۔۔”
وہ اس کی قمیض کو سختی سے مٹھیوں میں جکڑے اس کے سینے سے لگی سسکتے ہوئے بامشکل بولی تھی

“کچھ نہیں ہو گا۔۔۔۔”
وہ نرمی سے اسے خود سے الگ کرتا دراز سے اپنا ریوالور نکالا تھا جو ہمیشہ کی طرح اب بھی فل ہی تھا
“کمرے سے مت نکلنا میں کچھ دیر میں آتا ہوں۔۔۔”
وہ اس کی گال کو نرمی سے چھوتا پلٹا تھا لیکن زوراشہ نے فوراً اس کا ہاتھ تھاما تھا
“نن-نہیں پٹھان تم مت جاو تمہیں کچھ ہو جائے گا۔۔۔۔۔”
اس نے سختی سے اس کا ہاتھ پکڑتے فوراً سے اسے جانے سے روکا تھا اس سے پہلے وہ اس کی بات پر اسے سخت الفاظوں سے نوازتا بیڈ پر پڑا اس کا فون جگمگ ہوا تھا اس نے اپنا ہاتھ اس سے چھڑواتے فون اٹھایا جس پر بہرام کی کال تھی وہ شاید واپس آ چکا تھا اس نے بنا کسی دیری کے وہ کال اٹھائی تھی

“ہاں بہرام کیا تم آگئے ہو۔۔۔؟اور باہر کیا صورتحال ہے۔۔۔۔؟”
اس نے ماتھے پر بل ڈالے ایک ہاتھ سے فون کان کے ساتھ لگائے جب کہ دوسرے سے گن کی نوک کو دھیرے دھیرے ماتھے پر سہلانے لگا تھا
“پٹھان ہم کو خبر نلا تو فوراً آ گیا اور تم فکر نہ کرے ہمیں پہلے سے اندازہ تھا کہ وہ لوگ گھر سے فاصلے پر تاک لگائے بیٹھے ہیں ہمارا نظر چارو سو تھا۔۔۔۔”
بہرام کی بات سنتے اس نے اپنے ہاتھ میں موجود گن کو دیکھا تھا

“اچھا کتنے لوگ مارے گئے ان کے۔۔۔۔؟”
وہ اس قدر نارملی انداز میں پوچھ رہا تھا کہ زوراشہ پٹھی پٹھی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی جس کے چہرے پر خوف پریشان کچھ بھی نہیں تھا بلکہ لہجہ اور تاثرات ہمیشہ کی طرح نارمل لیکن سنجیدہ تھے

“میں آتا ہوں۔۔۔۔”
بہرام کی آگے سے بات سنتے اس نے فوراً کہا تھا
“نہیں پٹھان تم پھٹانی صاحبہ کے ساتھ رہے ہم سب سنبھال چکا ہے جتنے آدمی تھے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا یہی سمجھیں نشانہ بازی کر رہے ہیں آپ فکر مت کر سب انڈر کورر ہے۔۔۔۔”
بہرام کی بات سنتے اس نے گہرا سانس بھرا اور فون کاٹا تھا گولیوں کی آوازیں اب بھی آ رہیں تھیں لیکن آگے سے کافی مدھم تھیں

پٹھان نے فون بیڈ پر پھینکتے زوراشہ کو دیکھا جو ابھی بھی پٹھی پٹھی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی اس نے ہونٹ بھینچے دو قدم اس کے قریب لیے تھے وہ آج اپنی پٹھانی کی وجہ سے اس نیک کام میں حصہ نہ لے سکا تھا اس کے زہن میں ایک سوچ ابھری تھی جسے فلوقت اس نے رفع دفع کیا تھا

“تمہیں میرے ہوتے کوئی چھو بھی نہیں سکتا تم پٹھان کی پناہوں میں ہو ان پناہوں میں کسی چیز کی بھی رسائی ناممکن ہے۔۔۔۔”
وہ بھاری روعب دار آواز میں بولتا گن کی نوک اس کی گال پر پھیری تھی
“اور تمہیں ان سب کی عادت ڈالنی ہو گی کیونکہ یہ ہمارا روز کا کام ہے یہ کوئی نئی بات نہیں کہ پٹھان کی تباہی کے لیے کوئی اٹھا ہے روز نیا اٹھتا ہے اور روز ہی پٹھان اسے زمین میں دفنا دیتا ہے۔۔۔۔”
وہ اسے سمجھا کم ڈرا زیادہ رہا تھا

“آپ کک-کو کچھ ہو سکتا تھا آپ کے گھر پر گولیاں۔۔۔۔۔”
اپنی گال پر گھومتی گن کی نوک سے وہ اٹکی ہوئی سانس سے بولی تھی
“یہ پہلی بار نہیں چلیں بتایا تو ہے معمول کا کام ہے یہ سب عادت ڈال لو ان کی۔۔۔۔”
وہ گن کو بھی بیڈ پر پھینکتے ہوئے بولا تھا تو وہ کچھ پل اسے دیکھنے کے بعد اس کے سینے سے لگتی پٹھان کو حیرت کا جھٹکا دلا گئی تھی اسے لگا پہلے وہ خوف سے اس کے قریب آئی تھی لیکن اب اسے منوں حیرت نے گھیر لیا تھا

“تمہیں کچھ ہو گیا تو میرا کیا ہو گا میں کہاں جاوں گی۔۔۔۔”
وہ اس کے سینے سے لگی بھرائی آواز میں بولی تھی
“حویلی چلی جانا۔۔۔۔”
وہ ایک ہاتھ سے اس کے گرد حصار باندھتے بولا جب کہ دوسرا اس کے بالوں میں سرایت کر رہا تھا اس کی بات سنتے اس نے سینے سے سر اٹھائی خفگی سے اسے دیکھا زوراشہ کی خفگی بھری شکل دیکھتے وہ مسکرایا تھا

“کچھ نہیں ہو گا مجھے۔۔۔۔”
اب کہ وہ مسکرا کر بولا تو وہ منہ پھلائے واپس سر اس کے سینے سے ٹکا گئی تھی جب کہ اس نے دونوں ہاتھ اس کے گرد باندھتے اس کو سینے میں بھینچا تھا باہر گولیوں کی آواز ختم ہو گئیں تھی جانتا تھا جب تک نیچے جائے گا بہرام گھر کے باہر کا ایریا مکمل صاف کروا چکا ہو گا اور وہ یہ بھی جانتا تھا خون کی ایک چھینٹ نے بھی اس کے گھر کے اندرونی حصے کو گندا نہ کیا ہو گا
………………………………

زویا کی ناجانے کس پہر آنکھ کھلی تو خود کو داود کے حصار میں پایا تھا اس نے ہاتھ بڑھائے اسے چھوا جیسے دیکھنا چاہ رہی ہو کہ کہیں خواب تو نہیں لیکن اس کی نیند کے باعث بھاری سانسیں اس کے قریب ہونے کی علامت تھیں آج کتنے ہی عرصے بعد وہ اسے اپنی پناہوں میں لیے سویا تھا وہ جس قدر بھی اس سے خفا رہ لے لیکن آخر کو اس کا شوہر تھا اس کی محبت تھا وہ ایک ہاتھ اس کے سینے پر رکھی تھوڑا اٹھی تھی اور اس کی تھوڑی بڑی داڑھی مو انگلی کی پوروں سے چھوا تھا

“ہم حقیقت میں تمہارے قریب ہے۔۔۔۔”
داود کی آواز پر وہ گڑبڑا اٹھی تھی اور فوراً پیچھے ہونا چاہا لیکن داود نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈالتے اس کو اٹھنے سے باز رکھا تھا اور آنکھیں کھولتے اسے دیکھا جس میں نیند کی خماری ابھی باقی تھی اور کچی نیند سے جاگنے کی وجہ سے آنکھوں میں سرخ ڈوریاں تھیں

“آآ-آپ گئے نہیں۔۔۔۔۔؟”
وہ نظریں اس کی خمار زدہ نگاہوں سے چراتے ہوئے بولی تھی
“اگر ہم چلا جاتا تو تمہارے منہ پر یہ حیا کے بکھرے رنگ کیسے دیکھ پاتا۔۔۔۔”
وہ چہرے پر جھولتی کچھ آوارہ لٹوں کو کان کے پیچھے اڑیستے ہوئے بولا تھا
“اگر کسی کو معلوم ہو گیا کہ آپ ہمارے کمرے میں ہیں تو الگ سے فساد شروع ہو جائے گا۔۔۔۔”
اس نے ماتھے پر فکر کے اثار سجائے کہا تو وہ مسکرایا
“ہم سنبھال لے گا تم فکر مت کر۔۔۔۔”
“ایسے ہی سنبھالیں گے جیسے ہمیشہ سنبھالتے۔۔۔۔؟”
اس نے اس کی قمیض کے بٹن کو دیکھتے کہا جس پر داود کی تمام خماری ہوا ہوئی تھی زویا نے اس کے سنجیدہ چہرے کی جانب دیکھا اور پھر نظریں جھا گئی

“ہمارا موڈ خراب کرنے کا ضرورت نہیں فلحال جو وقت ہے اس سے لطف اندوز ہو جاو۔۔۔۔”
وہ اس کا سر اپنے سینے پر رکھتا اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتا دوبارہ آنکھیں موند گیا تھا جب کہ وہ بھی اس کی قمیض کے بٹن کو چھیڑتی آنکھیں بند کر گئی تھی
………………………………
اگلے روز تقریباً دو بجے کا وقت تھا جب بہرام نے پٹھان کو کسی کی آمد کی اطلاع دی تھی جس کا سن کر پٹھان کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ پھیلی تھی
پٹھان اپنی چال میں غرور لیے ڈرائینگ روم میں داخل ہوا جہاں اس کا باپ اور چاچا سامنے صوفے پر برجمان تھے اور ان کے پیچھے دو آدمی کھڑے تھے جب کہ باقی گارڈز گھر کے باہر تھے جن کے چہروں پر پٹھان کو دیکھتے ناگواریت اور نفرت کے ملے جلے تاثرات تھے

“پٹھان اپنے اس چھوٹے سے محل میں تہے دل کی گہرائیوں سے خوشآمدید کہتا ہے۔۔۔۔۔”
روعب دار آواز میں بولتا ان کے سامنے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ جمائے بیٹھا تھا جب کہ اس کے پیچھے بہرام کھڑا تھا

“بکواس کرو کس لیے بلایا ہے۔۔۔۔؟”
بہروز خان اجلت میں بولا تھا
“اتنا خوف موسیٰ زار پٹھان کا کہ آتے ہوئے پوری فون کو لے آئے ہو پراوڈ اوف یو موسیٰ زار پٹھان۔۔۔۔۔”
پہلے تمسخرانہ اڑاتے انداز میں ان سے کہتا آخر میں خود کا کندھا تھپتھپایا تھا جب کہ وہ دونوں مٹھیاں بھینچ کر رہ گئے تھے
“تمہارا ان فضول باتوں کا ہمارے پاس وقت نہیں پٹھان۔۔۔۔۔؟”
اب کہ دلاور غصے سے بولا تھا

“وقت ہے تو یہاں پر میری ایک پکار پر چلے آئے اور یا شاید میرے سے اتنی شدید محبت کہ جیسے میرے بلاوے کے منتظر ہو۔۔۔۔”
وہ ایک آنکھ دبائے بولتا ان کو مزید تپا گیا تھا
“اگر یہی فضول میں وقت ضائع کرنا ہے تو ہم یہاں رکنا ضروری نہیں سمجھتا۔۔۔۔”
بہروز اپنے بیٹے کو قہر برساتی نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا

“اچھا جیسا مناسب لگے جانا چاہیں تو چلے جائیں…”
وہ کندھے اچکاتا دل جلانے والی مسکراہٹ ان کی جانب اچھالتے ہوئے بولا تھا

“پٹھان بولو ورنہ یہی زندہ زمین میں گاڑ دے گا ہم۔۔۔۔۔”
بہروز اور دلاور کے پیچھے کھڑا ایک آدمی گن نکالتے بولا تو پٹھان نے ماتھے پر بل ڈالے سنجیدگی سے اسے دیکھا پھر پیچھے ہاتھ کیا جس میں بنا کسی دیری کے بہروز نے گن تھمائی تھی اور اگلے ہی لمحے اس گن سے نکلتی گولی اس آدمی کا دماغ اڑا گئی تھی بہروز اور دلاور پٹھی پٹھی نگاہوں سے اسے دیکھنے لگے تھے

“پٹھان۔۔۔۔۔؟”
بہروز طیش کے عالم میں جلاتا کھڑا ہوا تھا
“آواز نیچی رکھیں بہروز خان یہ میرا گھر ہے تمہاری حویلی نہیں جہاں میں اونچا ایک لفظ بھی برداشت کروں سمجھے آپ اور یہ کون ہوتا ہے ہمارے معاملات میں بولنے والا ویسے بھی اس نے دو لڑکیوں کا ریپ کیا تھا اس کی یہی سزا تھی۔۔۔۔”
وہ ویسے ہی ٹانگ پر ٹانگ جمائے مطمئین سا بولا تھا

“تمہارا ہمت کیسے ہوا ہمارے آدمی کو مارنے کا۔۔۔۔۔۔؟”
وہ ابھی بھی ویسے ہی چلایا تھا
“آپ کو لگام ڈالنا چاہیے تھے یوں بےلگام گدھے رکھیں گے جو کہیں بھی منہ اٹھائے بھونکنا شروع ہو جائیں تو پٹھان کو لگام ڈالنا بخوبی آتا ہے۔۔۔۔”
اس کے اطمینان میں رتی برابر فرق نہ آیا تھا

“تم۔۔۔۔۔”
“میرے گھر پر حملہ کروانے کے بعد بھی آپ دونوں زندہ ہیں غنیمت سمجھیں احسان سمجھیں میرا۔۔۔۔”
اس سے پہلے دلاور کچھ بولتا پٹھان اس کی بات بیچ میں ٹوک کر بولا تھا
“خوش قسمتی سمجھیں کہ پٹھان اپنے گھر آئے مہمانوں کا خون نہیں بہاتا اور بن بلائے مہمانوں کا خون نہیں بچاتا۔۔۔۔”
آخر میں اشارہ پیچھے گرے اس مردہ شخص کی جانب تھا

“ہم نے کوئی حملہ نہیں کروایا۔۔۔۔۔۔”
بہروز نے نظریں چرائے کہا تھا
“بچہ سمجھا ہے کیا جو پہلے کی طرح بہلائیں گے اور میں آپ لوگوں کی جھوٹی باتوں میں بہل جاوں گا۔۔۔۔۔”
اس نے ایک آئبرواچکائے کہا

“یی-یہ سب پٹیاں تم کو بہرام خان کا پڑھایا ہوا ہے ہم کو معلوم ہے یہ خناس تمہارے دماغ میں کس نے بھرا ہے۔۔۔۔”
دلاور بھی کھڑا ہوتا پٹھان کے پیچھے کھڑے بہرام کو دیکھتے بولا جو سر پر رومال باندھے بےتاثر نگاہوں نے انہیں دیکھ رہا تھا

“بہرام خان کے خلاف ایک لفظ بھی میرے لیے ناقابل برداشت ہے میں اپنا اصول توڑ کر خون بہانے میں ایک پل کی بھی دیری نہیں لگاوں گا اور باہر موجود آپ لوگوں کے دم جھلے میرا خاک بھی نہیں بگاڑ سکیں گے۔۔۔۔۔”
وہ سفاک لہجے میں بولتا ان کو گڑبڑانے پر مجبور کر گیا تھا

“تم ایک ملازم کی خاطر اب اپنے باپ چاچا کا خون بہائے گا پٹھان۔۔۔۔۔”
بہروز نے نہوست بھری نگاہ بہرام پر ڈالتے کہا تو پٹھان گہرا سانس لیتا خود بھی کھڑا ہوا تھا
“بہرام کوئی ملازم نہیں یہ بات آپ دونوں بخوبی جانتے ہیں یا آپ لوگ ملازموں کی نوکریاں اتنی کر چکے ہیں کہ سوچ صرف ملازمیت تک ہی محدود رہ گئی ہے۔۔۔۔۔”
آخر میں کہی بات بہرام اور دلاور کے تن بدن کو آگ لگا گئی تھی ماضی جھناک سے ان کے سامنے لوٹا تو ںےاختیار انہوں نے جھرجھری لی تھی

“ایک دن تم پچھتائے گا۔۔۔۔”
بہرام نے انگلی اٹھائے کہا تو پٹھان نے ان کی اٹھی انگلی دیکھی پھر ان کے غصے سے سرخ چہروں کو دیکھا تھا
“آپ لوگوں نے جو کیا اس پر آج تک نہ پچھتاوا ہوا تو میں بھی آپ ہی کا خون ہوں آپ ہی کی اولاد ہوں۔۔۔۔”
وہ بےلچک لہجے میں بولا تھا

“اور تیار رہیے گا سود سمیت بدلے کے لیے۔۔۔۔”
وہ سرد مہری سے بولا تھا
“کیا کرئے گے ہاں حویلی پر حملہ بتاو۔۔۔۔؟دلاور دو قدم آگے بڑھا تھا
“نیچ لوگ نیچ سوچ چچچچچ۔۔۔۔”
پٹھان کا طنزیہ انداز اور بات سن کر ان کا من کیا اس گھر کو پٹھان کے اوپر ڈھا دیں جو سکون سے ان کا سکون غارت کر رہا تھا

“کھانے کا وقت نہیں یقیناً آپ لوگ ابھی جانا چاہیں گے۔۔۔۔”
دلاور جس نے کچھ بولنے کے لیے لب وا کئیے تھے کہ پٹھان نے ان کے الفاظوں کو وہی بریک لگاتے تمیز سے دفع کرنا چاہا تھا وہ دونوں احساس توہین سے سرخ پڑتے ایک کاٹ دار نگاہ دونوں پر ڈالے وہاں سے نکل گئے تھے جبکہ پٹھان نے گہرا سانس بھرا تھا

“پٹھان۔۔۔۔۔”
بہرام اس کی جانب آئے اسے پکارا تھا
“تمیں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں بہرام۔۔۔۔۔”
پٹھان اپنے دونوں ہاتھوں کو دیکھتے بولا کیونکہ وہ جانتا تھا بہرام کیا کہنے والا ہے اس کی بات سنتے بہرام خاموش ہو گیا تھا جب کہ بہرام بھی جانتا تھا کہ پٹھان کس قدر تکلیف سے گزر رہا ہے