Jaan e Darkaf By Sajeela Nisar Readelle50121 Episode 28
No Download Link
Rate this Novel
Episode 28
بہرام آفشاں کا ہاتھ تھامے سمندر کے کنارے چلتے ایک دوسرے سے محوگفتگو تھے جبکہ سمندر کا پانی دھیرے سے ان کے پیروں کو چھوتا واپس لوٹ جاتا
“ہم تم کو پوری دنیا کا سیر کروائے آفشاں۔۔۔۔”
بہرام کی اس بات پر وہ زور سے ہنسی تھی
“اس عمر میں تم کو یہ شوق سوجھ رہا ہے۔۔۔۔”
“عمر کو کیا ہوا ہے جو شوق کی عمر تو ضائع ہوا وہ ہم خواب سمجھ کر بھول گیا اور یہی سمجھتا ہے اب ہمارا شوق کا عمر یہی ہے۔۔۔۔”
بہرام اس کے ہاتھ پر دباو ڈالتا خفگی سے بولا تو اس نے ہنستے نفی میں سر ہلایا تھا
“ایک طویل غم کے پہاڑ کے بعد خوشیاں پھر سے دستک دیا ہے ہم کسی صورت اب اسکو گنوائے گا نہیں اور پٹھان نے چھٹی دی ہے تم جو گھومانے تم کو دنیا دکھانے تمہارے ساتھ پیار کرنے کے لیے۔۔۔۔”
آخر میں بہرام اس کا رخ خود کی جانب کئیے اس کے ماتھے پر مہر ثبت کرتے بولا تو اس کی اس جسارت پر حیرت سے آفشاں کی آنکھیں پھیل گئیں تھی پھر مسکرا کر دوبارہ سے اس کا ہاتھ تھامے چلنے لگی تھی تو وہ بھی خاموشی سے اس کے ساتھ چلنے لگا
………………………………
پٹھان کب سے لاونچ میں ٹہلتا زوراشہ کا منتظر تھا ساتھ ایک نگاہ موبائل پر آگے کو گزرتے وقت پر بھی ڈال لیتا وہ آج اسے ڈنر کے لیے باہر لے جانا چاہتا تھا لیکن مجال ہے وہ تیار ہو جائے ایک گھنٹہ گزر گیا تھا اسے باہر اس کا انتظار کرتے
“زوراشہ پانچ منٹ میں اگر تم باہر نہ نکلی تو ڈوبلیکیٹ چابی سے میں اندر آجاوں گا۔۔۔۔”
پٹھان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تو وہ پھٹ پڑا تھا اوپر سے اس بات کا الگ غم کھائے جا رہا تھا کہ اس نے اسے کمرے سے نکالتے اندر سے کمرہ لاک کیا ہوا تھا اور تیار ہو رہی تھی انہوں نے اس واقع کے بعد اپنا گھر تو تبدیل نہیں کروایا تھا لیکن پہلے پورشن میں شفٹ ہو گئے تھے
“زوراشہ یو ہیو اونلی ٹو مینٹس ورنہ ہم یہی سے باہر چلا جاوں گا وہ بھی ناراض ہو کر۔۔۔۔”
مزید دس منٹ گزرنے کے بعد اب وہ غصے سے تقریباً دھاڑا تھا
“اچھا اچھا بس آ گئی۔۔۔۔”
زوراشہ دروازہ کھولتی ہڑبڑاتی اپنے لانگ فراک کو ایک سائیڈ سے سنبھالے کمرے سے نکلی تھی اور زوراشہ جو اس سے خفا ہو کر اسے ڈانٹنے کا ارادہ رکھتا تھا لیکن اس کا حسین سراپا دیکھتے اس کی زبان کو قفل بندھ گیا تھا وہ حسن کے تمام تر جلوے بکھیرتی اس پر قیامت برپا کرتی مکمل اسے اپنے سحر میں جکڑ گئی تھی
زوراشہ ڈارک براون لانگ پیروں کو چھوتی فراک اس پر ہم رنگ حجاب اور ہلکے سے میک اپ پر ہلکی ہی پنک لپسٹک لگائے اس کے دل کی دنیا کو اتھل پتھل کئیے ٹھاہ کر کے اس کے سینے میں لگ رہی تھی
پٹھان کو اب صبر کا پھل میٹھا ہونے کا مطلب سمجھ آیا تھا اس نے انتظار کا غم ایک طرف رکھتے قدموں کو اس کی جانب بڑھایا تھا جبکہ وہ اسکی بےباک ہوتی نگاہوں سے پزل ہوتی اپنے ہاتھوں کو مسلنے کے ساتھ لبوں کو بھی بری طرح کاٹ رہی تھی
پٹھان نے اس کے قریب پہنچتے ہاتھ بڑھائے اس کی کمر میں ڈالے ایک جھٹکے سے اسے خود کے قریب کیا تھا اتنا قریب کہ زوراشہ اپنے چہرے پر پٹھان کی گرم سانسیں بخوبی محسوس کر سکتی تھی اس کی سانسوں اور معنی خیز نگاہوں کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ آنکھوں کو سختی سے میچ گئی تھی
جب کہ اس کے یوں آنکھوں کو میچنیں اور پٹھان کی قربت کے باعث تیز ہوتی سانسوں کے ساتھ اس کے لبوں کی حرکت پٹھان کو پاگل کر رہی تھی وہ قریب تھا کہ اپنا آپا کھو دیتا
“ڈنر کا ارادہ کینسل کیونکہ موسیٰ زار پٹھان کے اب دل کا ارادہ بن چکا ہے وہ بےایمان ہو چکا ہے تمہارے اس آتش زدہ حسن کو دیکھتے ایک طاقتور عصاب کا مالک شخص کمزور پڑ گیا ہے یقین کرو بہت کمزور۔۔۔۔۔”
پٹھان اس کے کان کے قریب جھکتا سرگوشانہ انداز میں بولتا اس کو بےہوش کرنے کے در پر تھا زوراشہ نے سختی سے اس کی قمیض کو مٹھیوں میں جکڑا تھا
پٹھان اپنے سینے پر دھرے اس کے ہاتھوں کی سختی پر مسکرایا اور اس کے لبوں پر جھکتا خود کی تمام تر بےایمانیاں بےباکیاں ظاہر کر چکا تھا
اپنا شدت بھرا لمس اس پر چھوڑنے کے ساتھ ساتھ وہ اس کی تیز تر دھڑکنوں کو خود کی دھڑکنوں میں اترتا ہوا محسوس کر رہا تھا اور زوراشہ کو لگ رہا تھا اگر پٹھان نے اسے تھاما نہ ہوتا تو اس کی شدت بھری گستاخی پر وہ زمین بوس ہو چکی ہوتی اس کا عمل شدت سے بھر پور تھا جو اس کی سانسیں روک رہا تھا زوراشہ کو بند آنکھوں سے اپنے سر سے حجاب سرکتا ہوا محسوس ہوا تھا وہ بھی اپنا آپ اس کے سپرد کرتی ایک ہاتھ اس کی گردن میں ڈالتی اسے قریب کر گئی تھی
پٹھان نے جب محسوس کیا اس میں جان باقی نہیں رہی تو اس کی سانسوں کو بخشتا اسے ایک جھٹکے سے باہوں میں بھرا اور کمرے میں جاتے پیر کی مدد سے دروازہ بند کرتے اسے نرمی سے بیڈ پر لیٹایا تھا جبکہ وہ اس زرا سی جسارت پر اس سے نظریں نہیں ملا پا رہی تھی وہ مسکراتے دروازہ لاکھ کئیے لائیٹس بند کئیے پلٹا تھا اور بیڈ پر آتے اسے اپنے حصار میں لیتا اپنے تمام تر حقوق بڑی محبت سے وصول کرنے لگا تھا جبکہ وہ بھی اسے اپنا آپ سونپتی بیوی ہونے کے تمام فرض ادا کرنے لگی
………………………………
داود دو دن بعد ڈیوٹی سے گھر آیا تو اسے گھر خالی خالی نظر آیا تھا اس نے تھکے ہارے صوفے پر بیٹھتے زویا کو آواز دی تھی اور آنکھیں موندیں صوفے کی پشت سے سر ٹکاتے ٹانگیں سامنے ٹیبل پر رکھے ریلیکس ہوا تھا لیکن پانچ ہی منٹ میں زویا تو نہیں آئی پر وہ نیند کی وادیوں میں ضرور گم ہو گیا تھا
اس واقع کے بعد داود نے پٹھان کے گھر سے پانچ منٹ کے فاصلے پر ایک خوبصورت فلیٹ خریدا تھا جس میں دو کمرے لاونچ کچن ڈرائینگ روم اور سیڑھیوں سے اوپر جا کر اوپر بھی ایک کمرہ موجود تھا
ابھی اسے سوئے چند منٹ ہی گزرے تھے کہ اسے اپنا سینہ گیلا ہوتا محسوس ہوا اس نے فٹ سے آنکھوں کو کھولا تو زویا اس کے سینے پر سر رکھے بیٹھی تھی جبکہ اس کے گیلے بال اس کے سینے کو گیلا کرتے اس بات کی علامت تھی کہ وہ کچھ دیر پہلے ہی نہائی ہے داود نے دھیرے سے اس کی کمر سہلائی تو وہ فوراً پیچھے ہوئی اور اٹھنے لگی کہ داود نے اس کا ہاتھ تھامتے اس کی کوشش کو ناکام بنایا تھا
“کیا ہوا۔۔۔۔؟اس کے یوں اٹھنے اور اگنور کرنے پر داود نے حیرت سے پوچھا جس نے سر کو نفی میں ہلایا تھا
“پانی لاتی ہوں۔۔۔۔”
زویا اس سے نظریں چرائے بولی تھی
“نہیں ہے پیار بتاو کیا ہوا خفا لگ رہا ہے تم۔۔۔۔”
اس کے یوں پوچھنے پر زویا نے خفگی سے اسے دیکھا تھا
“دو دن بعد آئے ہیں آپ اور پوچھ رہے ہیں کہ خفا لگ رہی ہوں۔۔۔۔۔”
اس کے شکوے پر اس کے لب بےاختیار مسکرا اٹھے اور سر دوبارہ سے پیچھے صوفے کی پشت سے ٹکایا تھا وہ ناراضگی کا تمام معاملہ سمجھ چکا تھا
“یہ تو میرا ڈیوٹی ہے۔۔۔۔۔”
داود نے اسے پیار سے کہا
“تو میں اس گھر میں دیوار سے ٹکریں مارتی پھروں۔۔۔۔”
اس کی خفگی ہنوز برقرار تھی
“تو زوراشہ کو بلا لیا کرو یا خود چلی جایا کرو۔۔۔۔”
اس نے زویا کے چہرے پر چپکی لٹ کو کان سے پیچھے کرتے کہا تو وہ چند پل اسے دیکھتی وہاں سے اٹھی تھی لیکن داود نے اس کا ہاتھ کھینچا تو وہ کسی کٹی شاخ کی مانند اس پر آن گری تھی اس اچانک افتاد پر ایک ہلکی سی چینخ تھی جو اس کے حلق سے برامد ہوئی تھی
“اب اتنا دن کہیں نہیں جائے گا تمہارے ساتھ وقت گزارے گا اور بھی معصوم شوہر کی طرح دن کو ڈیوٹی پر جائے گا اور رات میں تمہارے پاس ہوگا نئی ڈیوٹی پر۔۔۔۔۔”
آخر میں داود نے آنکھ دبائی تو وہ اس کی شرمناک بات پر اسے گھور کر رہ گئی تھی
“شرم تو پر آپ کو آتی نہیں۔۔۔۔”
اس نے اس کے سینے سے اٹھتے ہوئے کہا جس نے کمر پر ہاتھ ڈالے اس کی اس کوشش کو ناکام کیا تھا
“شرم کر لیا تو ہمارا گلاب خان رس گلا خان برفی خان حلوہ خان کہاں سے آئے گا۔۔۔۔”
داود مزید شرارت پر امادہ ہوا تھا جبکہ وہ اس کی بات پر الجھی تھی
“یہ کون ہیں۔۔۔۔۔؟”
اس نے الجھتے ہوئے پوچھا
“ہمارا ہونے والا بچہ۔۔۔۔”
داود کی بات پر زویا نے بےاختیار سر پر ہاتھ مارا اور نفی میں سر ہلایا تھا کہ اس کا کچھ نہیں ہو سکتا جتنا وہ اسے سنجیدہ سمجھتی تھی داود اتنا ہی شرارتی اور رومینٹک تھا جس کے ہاتھوں وہ بری طرح زچ ہو کر رہ جاتی تھی
“آپ نہ ڈیوٹی پر ہی اچھے ہیں داود۔۔۔۔”
وہ زچ ہوتے بولی تھی
“کونسا ڈیوٹی۔۔۔۔۔؟”
“داود ۔۔۔۔۔۔”
اس کے یوں پوچھنے پر وہ اس کا نام لیتی چلا اٹھی تھی جبکہ داود کا قہقہ گونجا تھا
“تم کو شکر کرنا چاہیے اتنا اچھا شوہر ملا ہے جس کو چار کا اجازت ہونے باوجود تمہارے ایک ساتھ گزارا کر رہا ہے۔۔۔۔۔”
اس کی بات پر زویا منہ کھولے اسے دیکھنے لگی
“گزارا کر رہے ہیں آپ میرے ساتھ۔۔۔۔۔؟”
زویا کی سوئی لفظ گزارا پر اٹکی تھی تو اس نے پہلے سر کو اثبات پھر نفی میں ہلایا تھا جبکہ وہ رونی شکل بناتی اس کے سینے پر مکے برساتی اس سے دور ہوتی پیر پٹختی وہاں سے نکلی تھی
“ارے پانی تو پلاو۔۔۔۔۔”
داود نے ہنستے ہوئے پیچھے سے ہانک لگائی تھی
“چار کی اجازت ہے نہ جائیں دوسری کریں جس سے گزارا نہ ہو اور مانگیں اس سے پانی ۔۔۔۔۔”
زویا جو غصے سے دروازہ بند کرنے لگی تھی لیکن داود کی بات کا جواب دینے کے لیے دروازے پر رکتی کڑ کر جواب دیتے کمرے میں جاتی زور سے دروازہ بند کرنا نہ بھولی تھی جبکہ وہ سر کھجاتا کچن میں گیا تھا اس کا ارادا پہلے پانی پینا پھر اس کو منانے کا تھا
………………………………
“پٹھان۔۔۔۔۔۔”
زوراشہ پٹھان کے سینے پر سر رکھے لیٹی تھی بہت سی سوچوں نے اسے گھیرا ہوا تھا جن سے جھٹکارا پانے کے لیے اس نے پٹھان کو پکارا۔۔۔
“ہونہہہ۔۔۔۔۔”
وہ جو آنکھیں موندے لیتا تھا اس کے پکارنے پر اس کا سر تکیے پر رکھے خود اس کے اوپر ہوا تھا
“ایک بات کہنا چاہتی ہوں۔۔۔۔”
اس نے اپنی کنفیوژن پر قابو پاتے کہا
“ہممم بولو۔۔۔۔۔”
پٹھان کی انگلی اس کے چہرے سے ہوتی اب اس کی گردن ہر سرایت کر رہی تھی
“کیا تم یہ سب چھوڑ نہیں سکتے۔۔۔۔۔؟”
پٹھان کو اس سے اس سوال کی قطعاً توقع نہیں تھی اسی لیے اس کی سرایت کرتی انگلی رکی اور نظریں اٹھائے اس کی جانب دیکھا جو اس کے یوں دیکھنے پر نظریں جھکا گئی تھی
“کیا سب۔۔۔۔؟”
وہ جانتے ہوئے بھی پوچھ بیٹھا تھا
“جو تم کرتے ہو خون خرابا قتل و غارت یہ سب مجھے نہیں پسند کوئی تمہیں جب گینگسٹر کہتا ہے قاتل کہتا ہے جب کوئی تم سے وحشت محسوس کرتا ہے۔۔۔۔”
“تمہیں لگتا ہے یہ سب اتنا آسان ہے میں یہاں اس قدر سخت پیر جما چکا ہوں کہ اب زرا سا بھی ہلاؤں تو منہ کے بل گروں گا موت کے علاوہ مجھے اب کوئی چیز اس دلدل سے نہیں نکال سکتی۔۔۔۔۔۔”
پٹھان نے اسے تفصیل سے آگاہ کرتے سمجھانا چاہا تھا کہ جو وہ کہہ رہی ہے وہ آسان نہیں تھا
“پلیز پٹھان ہم یہاں سے دور چلے جائیں گے جہاں صرف تم میں اور ہماری محبت ہوگی نا کسی قسم کی کوئی پریشانی کچھ بھی نہیں پلیز تم میرے لیے میری محبت کے لیے اتنا نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔۔”
وہ پٹھان کا ہاتھ تھامے التجایا انداز میں بولی جبکہ وہ سوچ میں پڑ گیا تھا
ایک بات اس کے دماغ میں گونجی تھی کہ موت کے علاوہ واقع ہی اسے کوئی چیز اس دلدل سے نہیں نکال سکتی تھی
پٹھان نے زوراشہ کو دیکھا جو امید بھری نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی اسے ایک قدم اٹھانا تھا زوراشہ کی حفاظت کے لیے اور الفاظ پھر سے اس کے دماغ میں گونجے تھے “موت کے علاوہ اسے کوئی چیز اس دلدل سے نہیں نکال سکتی”
………………………………
زوراشہ کی آنکھ صبح فون کی بجتی ٹیون سے کھلی تھی جو مسلسل بجے جا رہی تھی اس نے بند آنکھوں سے ہی فون اٹھائے کان سے لگایا تھا
“زوراشہ پٹھان کہاں ہے۔۔۔۔؟”
فون اٹھاتے ہی دوسری جانب سے داود کی چنگارتی ہوئی آواز گونجی تھی
“یہی کمرے میں نہیں کمرے میں نہیں ہیں باہر ہوگا۔۔۔۔”
اس نے آنکھیں کھولتے کہا لیکن بیڈ اور کمرہ خالی دیکھ کر اس نے فوراً کہا تھا
“ٹی وی اون کرو زرا۔۔۔۔۔”
داود کی تھکی ہاری آواز گونجی تو وہ بیڈ سے اٹھتی لاونچ میں آئی اور ٹی وی اون کیا لیکن سامنے چلتی نیوز پر وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے ٹی وی کو دیکھنے لگی تھی ریمورٹ کے ساتھ ساتھ فون بھی ہاتھ سے چھوٹتا زمین بوس ہوا تھا اور اگلے ہی لمحے وہ نیچے بیٹھتی چلی گئی تھی آنسوؤں بےقابو ہوتے پلکوں کی باڑ توڑتے باہر نکلے تھے
………………………………
