53.7K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

وہ اندھا دھند بنا آگے دیکھے پیچھے دیکھتے بھاگتی آگے سے آنے والے وجود سے بری طرح ٹکرائی تھی اس سے پہلے وہ گرتی کسی نے اسے گرنے سے بچایا تھا تو وہ اس کی باہوں میں موجود بھاگنے کی وجہ سے تیز تیز سانس لینے لگی اور اندھیرے میں خوف سے اس شخص کا چہرہ دیکھنا چاہا وہ چینخنا چاہتی تھی لیکن آواز جیسے گم ہو گئی ہو

“قربان کیا ہوا۔۔۔۔؟”
وہ اس کو تھوڑا قریب کرتا فکر مندی سے پوچھنے لگا زوراشہ پٹھان کی آواز سنتے فوراً اس کے سینے سے لگتی رونے لگی اور اس کے گرد ہاتھ پھیلاتی اس کی کمر سے سختی سے اس کی قمیض کو پکڑا تھا
“تمہارے گھر بب-بھوت ہے مم-مجھے نہیں رہنا یہاں تم مجھے یہاں پاگل کک-کرنے کے لیے لائے ہو نہ۔۔۔۔”
وہ اسی کی پناہوں میں موجود اسی سے اس کی شکایت لگاتی اسے مسکرانے پر مجبور کر گئی تھی

“میرے گھر میں کوئی جن بھوت نہیں میری جان۔۔۔۔”
وہ اس کے گرد بازووں کا گھیرا باندھے مزید خود میں اسے بھینچتا اپنے منہ کو اس کے کھلے بالوں میں دیتے ان بالوں سے آتی مہک کو اپنے اندر اتارنے لگا تھا

“جج-جھوٹ بھوت ہے یہاں مم-میں نے دیکھا۔۔۔”
“اچھا کیسا تھا دکھنے میں وہ۔۔۔۔؟”
وہ ہنستا ہوا پوچھنے لگا تو وہ خاموشی ہو گئی
“یہ تو میں نے نہیں دیکھا لیکن پٹھان سچ میں تھا پہلے میرے پیچھے کوئی تھا پھر ایسے لگا پیچھے سے کوئی گزرا تھا اور پھر کوئی چیز بھی گری تھی۔۔۔۔”
وہ کچھ دیر بعد اس کے سینے سے زرا سا سر اٹھائے اندھیرے میں اس کا چہرہ تلاشنے کی کوشش کرتے بولی تھی تو وہ مسکرایا اسے سب سمجھ آ گیا تھا یہ بھی کہ وہ کون ہو سکتا ہے

“اچھا چھوڑو دوبارہ ایسا نہیں ہو گا چلو چلتے ہیں کمرے میں۔۔۔۔”
وہ اس کے ماتھے سے اپنا ماتھا ٹکائے بولا تھا
“پہلے لائیٹس جلاو مجھے تم بھی نظر نہیں آ رہے۔۔۔۔”
وہ ایک ہاتھ اس کے دل کے مقام جب کہ دوسرا ہاتھ اس کی گردن سے ہوتے منہ پر پھیرنے لگی تھی تو وہ اسے ایسے ہی اپنے ساتھ لیے سوئچ بورڈ کی جانب آیا اور ایک ہی جھٹکے میں ہورا لاونچ روشنیوں میں نہا گیا تھا زوراشہ نے اردگرد دیکھا کوئی نہیں تھا

“دیکھو کوئی نہیں ہے۔۔۔۔”
پٹھان نے بھی اردگرد دیکھتے آہستگی سے کہا
“جتنی دیر تم نے باتیں کی ہیں اتنی دیر میں تو کوئی آسانی سے واک کرتا بھی بھاگ سکتا ہے۔۔۔۔”
اس نے منہ بنائے کہا
“واک کرتا بھاگ سکتا۔۔۔۔”
وہ زیر لب بولا پھر سر جھٹکا تھا وہ جانتا تھا زوراشہ کے بنا سر پیر کی باتیں

“چھوڑو کوئی گارڈ ہو گا۔۔۔۔”
وہ اس کے کندھے کے گرد بازو حمائل کیے اسے ساتھ لیے قدم سیڑھیوں کی جانب بڑھائے تھے
“لیکن وہ چوروں کی طرح کیوں آیا تھا۔۔۔۔؟”
اس کا دماغ ابھی بھی وہی اٹکا ہوا تھا
“کیونکہ اس کی بہت خاص وجہ ہے اب اس ٹاپک کو چھوڑو۔۔۔۔”
اس نے اس بات کو ختم کرنا چاہا تو اس نے کندھے اچکائے تھے اور بڑے مزے سے اس کی کمر میں ہاتھ ڈالے اس کے ساتھ چلنے لگی

“پٹھان ایک بات میرے زہن میں بہت عرصے سے گھوم رہی ہے۔۔۔۔”
وہ پہلے فلور کی سیڑھیاں دھیرے دھیرے چڑھتے اس سے بولی تھی
“کیا بات۔۔۔۔؟”
وہ بھی اسے حصار میں لیے اسی رفتار سے سیڑھیاں چڑھ رہا تھا
“میں نے بابا اور مورے کو کبھی ایک کمرے میں سوتے نہیں دیکھا۔۔۔۔”
زوراشہ کی بات پر اس کے چلتے قدم یک دم رکے اور ایک جھٹکے سے اس کی جانب دیکھا جو پہلے ہی اسے دیکھ رہی تھی
“تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہو گی۔۔۔”
اس نے نظریں چرائے کہا تھا
“نہیں کوئی غلط فہمی نہیں بس یہ بات مجھے بہت تنگ کرتی وہ الگ کمرے میں رہتیں اور اسے کمرہ کہنا اس کی توہین تھا کیونکہ وہ کوئی سٹور روم جیسا ہی تھا۔۔۔۔”
اس نے نفی میں سر ہلاتے کہا

“میں پہلے ہوسٹل میں رہتی تھی لیکن جب بھی گھر آتی مورے بابا ساتھ ایک کمرے میں نہیں سوتی بلکہ میرے ساتھ سوتی تھی جب وجہ دریافت کروں تو کہہ دیتی کہ وہ اس لیے میرے پاس سوتی کہ جتنے دن آتی وہ مجھے پیار کر سکیں۔۔۔”
وہ دوسرے فلور کی جانب مڑتے ہوئے بولی جب کہ پٹھان خاموش تھا بھلا وہ کیا جواب دیتا

“اور جب سے گھر آئی ہوں وہ اس کمرے میں ہی رہتیں ہیں الگ کمرے میں بہت بار پوچھا تو کبھ ڈانٹ دیتیں یا کہہ دیتیں کہ جب تمہارے بابا سے لڑائی ہو تو وہاں سوتی ہیں تو کیا ہر روز لڑائی ہی رہتی۔۔۔۔؟”
اس کی باتوں اس کے سوالوں پر پٹھان نے ہونٹ بھینچے تھے

“مجھے نہیں معلوم کبھی پوچھا نہیں۔۔۔”
اس نے کندھے اچکاتے رخ دوسری جانب کیا اور دوسرے فلور کی سیڑھیاں چڑھتے تیسرے میں پہنچے تھے
“پھر بھی بتاو نہ۔۔۔۔”
“نہیں معلوم زوراشہ مجھے کیسے معلوم ہو سکتا ہے۔۔۔۔”
وہ جھنجھلا کر بولتا دروازہ کھولا اور اس سے پہلے اندر داخل ہوا یہ ایسا سوال تھا جس سے وہ ہمیشہ بھاگتا تھا کیونکہ اس کا جواب بہت ازیت ناک تھا اس ایک بات کے پیچھے چھپے سب راز تھے جن کو وہ چھپائے ہوئے تھا اور وہ چاہتا تھا زوراشہ فلحال ان رازوں کی ایک تہہ تک بھی نہ پہنچے

“پٹھان تم بہت بدتمیز ہو۔۔۔۔”
وہ بچوں جیسے منہ پھلائے بولتی بیڈ پر بیٹھی تھی اور ٹائیم دیکھا جہاں دو بجنے میں تھوڑا وقت تھا
“تم اتنی دیر کہاں تھے ویسے۔۔۔۔”
وہ اسے قمیض کے اوپر دو بٹن کھولتے دیکھ پیر ہلاتی پوچھنے لگی
“کام تھا تھوڑا۔۔۔۔”
اس نے موبائل والٹ اور چابیاں صوفے پر اچھالتے کہا اور نیچے جھکتے گن نکالی تھی

“ہائے میں مر جاواں۔۔۔۔۔۔”
وہ گن دیکھتی دونوں پیر اوپر کرتے بےاختیار بولی تو وہ اس کے انداز پر نفی میں سر ہلاتا ہنستا تھا اس سے پہلے وہ گن واپس رکھتا اس کی آنکھیں چمکیں تھی اور چمکتی آنکھوں میں شرارت تھی اس نے بڑی پھرتیلی سے اپنے تاثرات سنجیدہ کیے اور اس کی جانب مڑا تھا

“زوراشہ گن چلانی آتی ہے۔۔۔۔”
وہ گن کا رخ اس کی جانب کرتے بولا تو وہ تھوڑا اور پیچھے کھسکی
“ارے پٹھان پاگل ہو اس کو پیچھے کرو ۔۔۔۔۔”
وہ آنکھیں پھلائے اسے دیکھتے بولی اور مزید پیچھے کو کھسکنے لگی پٹھان نے اسے پیروں سے پکڑتے آگے کو کھینچا اور ایک گھٹنا بیڈ پر رکھے اسے پیچھے کھسکنے سے باز رکھا تھا اور اس پر جھکتے گن سے کی گال پر پھیری تھی

“تمہیں یہ چلانا سیکھاونگا۔۔۔۔”
وہ دھیرے دھیرے اس کی گال پر پھیرتے بولا تھا
“کک-کھانے میں چمچ چلانا نہیں آتا گن کیا خاک چلاوں گی۔۔۔۔”
وہ آنکھیں میچے بولی تھی تو وہ نظروں سے اس کے چہرے کے ہر ایک نقش کو چھونے لگا تھا

“تمہارا میرے لیے یہ خوف مجھے فتح دلاتا ہے۔۔….”
وہ اس کے چہرے پر طاری ہوتے خوف کو دیکھتے بولا
“مجھے ہرا کر کیا تمہیں فتح ملے گے۔۔۔۔؟”
وہ بند آنکھوں سے ہی بولی تھی
“میری فتح میں ہی تمہاری فتح ہے چاہے وہ جیسے بھی ہو میرے دل۔۔۔۔”
وہ چہرہ قریب تر کرتا بولا تو بولتے ہوئے اس کی سانسیں اس کے چہرے واضع محسوس ہوئیں تھی جس سے اس کی ڈھڑکنوں میں اشتعال برپا ہو گیا تھا پٹھان نے گن تھوڑا دور تکیے کے پاس اچھالی تھی وہ اس کا دل مکمل بےایمان کر چکی تھی

“تمہارے یہ خوبصورت سرخ گلاب کی مانند نرم و نازک لب اس قدر حسین ہیں کہ میرے الفاظ اسے بیان کرنے سے قاصر ہیں۔۔۔۔”
وہ اس کے لبوں کو انگوٹھے کی مدد سے سہلاتے بولا تو اس کی جان ہوا ہوئی تھی

“تمہارے چہرے پر موجود ہر نقش کو دیکھتے میں لاجواب سا ہو جاتا ہوں میرے جذبوں پر لگا پہرہ بےاختیار اپنا بندھ توڑ دیتا ہے اور سینے میں دھڑکتا دل۔۔۔۔”
وہ بولتے بولتے رکا اور اس کا ہاتھ اپنے دل کے مقام پر رکھا تھا
“یہ جو میرے سینے میں دل دھڑکتا ہے نہ صرف تمہارے نام کی تسبیح کرنے لگتا ہے تمہیں پکارنے لگتا ہے۔۔۔۔۔”
اپنے دل کے مقام پر رکھا ہاتھ اٹھاتے اس نے اپنے لبوں سے لگایا تھا

“زوراشہ کیا تم مجھ سے محبت کرتی ہو۔۔۔۔؟”
وہ اپنا انگوٹھا اس کی شہ رگ پر پھیرتے بولا تو اسے سانس کینا دوبھر لگا تھا اس کی سانس گویا گلے میں ہی اٹک گئی ہو
“بتاو چپ مت رہو۔۔۔۔”
اس کے انداز سے اس کی بےچینی واضع ہوئی تھی زوراشہ سے بولنا محال تھا اسی لیے بند آنکھوں سے ہی اپنے سر کو اثبات میں ہلایا تھا
“میں تمہارے منہ سے سننا چاہتا ہوں میری سماعتیں تمہارے اظہار کی منتظر ہیں وہ سکون چاہتی ہیں تمہارے الفاظوں سے۔۔۔۔”
وہ اس وہ ماتھا اس کے ماتھے سے ٹکائے بولا تھا

“موسیٰ زار پٹھان۔۔۔۔”
پھولی ہوئی سانس میں وہ اس کا نام پکارتی خاموش ہو گئی تھی
“تمہاری خاموشی بہکا رہی ہے کچھ بولتے ہوئے مجھے لگام ڈالو میرے جذباتوں کو لگام ڈالو۔۔۔۔”
زوراشہ کو اس کی ناک اپنی گال پر ٹچ ہوتی محسوس ہوئی تو وہ رخ دوسری جانب موڑے بڑی سانسیں لیتے سانسوں کو بحال کرنا چاہا تھا وہ اپنے چہرے کو گردن پر اس کا جابجا لمس محسوس کرتی اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھے پیچھے دھکیلنا چاہا تھا لیکن وہ زرا بھی پیچھے نہ ہوتا اپنی شدتوں کو مزید بڑھا گیا تھا

“موسیٰ زار پٹھان پلیز دور ہو جاو وو-ورنہ میں مر جاوں گی۔۔۔۔”
وہ اس کی بڑھتی شدتوں سے گھبراتے بھاری لہجے میں بولی تھی
“میں نے کچھ پوچھا ہے تم سے۔۔۔۔؟”
وہ اس پر ترس کھاتا چہرہ اٹھائے حددرجہ سنجیدگی سے دوبارہ بولا تھا
“محبت، محبت کرتی ہوں تم سے۔۔۔۔”
وہ اسے خود کی جانب تکتا پا کر فوراً پلکوں کی باڑ گرا گئی تھی اس میں اتنی سکت نہ تھی وہ اس کی سیاہ آنکھوں میں دیکھ پاتی

“میری طرف دیکھو میری آنکھوں میں دیکھو اور بتاو۔۔۔۔”
وہ تھوڑی سے پکڑتے ہوئے بولا تو اس نے پلکوں کی جھالر اٹھاتے اس کی بہکی بہکی نگاہوں میں دیکھا تھا

“بب-بہت چاہتی ہوں تمہیں مم-میری چاہتوں کے اکلوتے وارث ہو تم میری۔۔۔۔۔”
وہ کہتے کہتے رکی اور لمبے سانس بھرنے لگی تھی
“میری محبت ہو تم۔۔۔۔”
بولتے بولتے اس کی آنکھوں میں نمی دوڑ گئی تھی وہ سمجھنے سے قاصر تھا یہ نمی کس چیز کی تھی
“کیا ہوا۔۔۔۔۔؟”
اس نے حددرجہ نرم لہجے میں پوچھا تو اس نے نفی میں سر ہلایا اور سختی سے آنکھیں میچ کر کھولتی واپس اس کی جانب دیکھا

“تمہیں معلوم ہیں تمہاری یہ آنکھیں اس قدر خوبصورت ہیں کہ تم جس جانب بھی نگاہ دوڑاو وہ چیز ایک جھلک میں ہی تمہاری اسیر ہو جائے۔۔۔۔”
وہ اس کی پلکوں کو انگلیوں کی پوروں سے چھوتے بولا

“میری ہر نگاہ تمہاری جانب اٹھتی ہے تمہیں تو آج تک خود کا اسیر نہ کر سکی۔۔۔۔”
وہ جو بامشکل اپنی نمی کو پیچھے دھکیل سکی تھی پھر سے نم ہوتیں ایک آنسووں اس کی آنکھ سے ٹوٹتا اس کے بالوں میں جذب ہو گیا تھا زوراشہ نے فوراً رخ دروازے کی جانب کیا تھا جب کہ وہ بےتاثر نگاہوں سے ابھی بھی اسے تکے جا رہا تھا

“میں نے کچھ دیر پہلے اتنا سب جو کہا وہ کیا تھا۔۔۔۔۔؟”
اس نے اس کا منہ ہلکے سے دبوچنے کے انداز میں پکڑتے رخ خود کی جانب کرتے سپاٹ انداز میں پوچھا تھا
“کیا۔۔۔۔؟”
اس کے “کیا” پر اس کا دماغ بھک سے اڑا تھا
“نفرت تھی بےکار باتیں تھیں۔۔۔”
غصے سے اکھڑے لہجے میں بولتا پیچھے ہوا تو وہ لب کچائے اسے دیکھنے لگی جو بیڈ پر بیٹھا منہ پر ہاتھ پھیر رہا تھا اس نے خود کی زبان کو کوسا کہ کیا چلا جاتا اگر دو منٹ اپنی بکواس بند رکھ لیتی

“پپ-پٹھان۔۔۔۔”
اس نے اٹھتے اس پکارا تو وہ بیڈ سے اٹھ گیا تھا اور پھر پلٹ کر گن تکیے کے پاس سے اٹھاتا دل کیا دیوار میں دے مارے لیکن دراز میں پٹخنے والے انداز میں رکھی تھی

“مجھے معاف۔۔۔۔”
“شٹ اپ جسٹ شٹ اپ۔۔۔۔”
انگلی اٹھائے وہ غصے سے دھاڑا تھا تو وہ اسے غصے سے لال پیلا ہوتے دیکھ رہی تھی اور فوراً بیڈ سے اٹھتی ایک ہی جست میں اس کے گلے سے لگی تھی

“اچھا سوری نہ پٹھان۔۔۔۔”
وہ مکمل اس کے ساتھ چمٹتے ہوئے بولی تو پٹھان نے اسے پیچھے کرنا چاہا لیکن وہ اور اس کے ساتھ چپکی تو اس نے چیرہ جھکائے اسے دیکھا جو اس کے سینے میں منہ چھپائے ہوئے تھی

“پاگل کر رہی ہو تم مجھے۔۔۔۔”
زہن میں سوچتا اسے نرمی سے تھوڑا پیچھے کرتا شدت سے اس کی صبیح پیشانی پر اپنے لب رکھے تھے اور گردن میں ہاتھ ڈالے چہرہ قریب کیا تو وہ ایڑھیاں اٹھائے مزید اس کے قریب ہوئی تھی

“بیوی ہو میری تمہارا اسیر نہیں ہو گا تو کس کا ہونگا پٹھانی۔۔۔۔”
اپنا چہرہ قریب تر کر کے بولتا شدت بھری گستاخی کی کہ وہ مچلنے لگی وہ پیچھے ہوا تو اس کے زخمی ہونٹوں کو دیکھا جس سے ہلکا سا خون جم گیا تھا
“سو جاو۔۔۔۔۔”
ہونٹ کو انگوٹھے کی مدد سے سہلاتا اسے دیکھا جس کے چہرے پر درد کے اثار تھے وہ دھیرے سے اسے گود میں بھرتا بیڈ پر لیٹانے کے بعد اٹھتا لائیٹ بند کی اور خود بھی بیڈ پر لیٹتا اسے حصار میں لیتے آنکھیں موند گیا تھا وہ بھی پرسکون سی اپنی ہونٹ کو سہلاتی آنکھوں کو بند کر گئی تھی
………………………………
پٹھان اڈے پر موجود باہری علاقوں سے آئے لوگوں سے گندم کی ڈیل کرتا ان سے فارغ ہوتا باہر نکلا جہاں کھلے میدان جس میں بےشمار ٹرک اور آدمی تھی اور بہت سی مشینیں تھی جہاں کام ہو رہا تھا پٹھان نے بہرام خان کو دیکھا جو ٹرک پر گندم کی بوریاں کوڈ کرواتا ان کی ترتیب سہی کروا رہا تھا اور مال حفاظت سے پہچانے کی نصیحت کر رہا تھا

“شکایت ملی ہے تمہاری بہرام خان۔۔۔۔”
پٹھان اس کے پاس آتا بولا تو وہ چونکا تھا پھر چہرہ جھکا کر مسکرایا تھا
“دوبارہ میری بیوی کو ایسے مت ڈرانا۔۔۔۔”
“ہم نے کب ڈرایا وہ خود ڈر گیا تھا۔۔۔۔”
اس نے فوراً سے کہا تو پٹھان بھی مسکرایا تھا

“میری زوجہ محترمہ پہلے تم بھوت اور بعد میں چور قرار دے رہی تھی۔۔۔۔۔”
“پٹھانی صاحبہ کی طرف سے ایسے القابات بھی قبول ہیں۔۔۔۔”
اس سر پر بندھے رومال کو تھوڑا پیچھے کھسکاتا شرارت سے بولا تو پٹھان ہنسا تھا اس کو ہنستا دیکھ بہرام خان بھی ہنسا تھا

“باز آجاو بہرام خان کہیں یہ نہ ہو جب اسے علم ہو وہ چور بھوت تم تھے تو مجھے تمہیں نکلوانے کا مطالبہ کر دے۔۔۔۔”
پٹھان ہنستے ہوئے بولا تو بہرام نے ہنستے ہوئے نفی میں سر ہلایا
“اتنا قربانی تو اب دے ہی سکتا ہے ہم۔۔۔۔”
“لیکن پٹھان کسی غلط فہمی کی بنا پر تمہیں قربان نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔”
وہ اس کا کندھا تھپتھپاتا سنجیدگی سے بولا تو اس نے سر کو خم دیتے شکریہ ادا کیا تھا اور پھر دونوں اڈے سے نکلتے ٹرک کو دیکھنے لگے تھے
………………………………
م ایک اور بات بھی بتاوں اگر چاہیں تو وہ پوسٹ ریڈ کر سکتیں ہیں ورنہ مرضی آپ کی❤️❤️اور آج کی قسط میں ایک ہنٹ تھا شاید اپ لوگ سمجھیں نہ ہوں🙊🙊