53.7K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

“زوراشہ۔۔۔۔”
وہ اس کا نام پکارتا بنا کسی دیری کے اس کی جانب لپکا تھا
“کیا ہوا زوراشہ چینخ کیوں رہی ہو بتاو۔۔۔۔”
اس کو مسلسل چینختے اور روتے دیکھ اس نے چہرے پر فکرمندی کے اثار ڈالے اس کا چہرہ تھوڑی سے تھامے رخ خود کی جانب کرتے پوچھا تھا

“وو۔وہ۔۔۔۔۔”
اس نے ہکلاتے ہوئے سامنے فرش کی جانب اشارہ کیا تو اس نے اشارے کی سمت دیکھا تو گہرا سانس بھرتا اسے چھوڑا اس جانب گیا تھا کیونکہ فرش پر ایک بوکس اوندھا گرا جس سے دو چھوٹے سانپ اور پانچ کے قریب بچھو تھے

پٹھان نے باکس پکڑے جیسے سانپ کو اٹھایا زوراشہ کی چینخ پھر سے بلند ہوئی تھی اس کی چینخ پر اس نے گردن موڑے اسے دیکھا تھا جو پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی

“زہر نہیں ان میں۔۔۔۔”
ماتھے پر سجی لکیروں کو سیدھا کرتے بولا اور جلدی سے ان کو باکس میں ڈال کر باکس بند کرتا دروازے کی جانب بڑھتا باہر جھانکا اور گارڈ کو آواز دیتے وہ باکس اس کے حوالے کیا تھا
اس کام سے فارغ ہوتا وہ اب زوراشہ کی طرف آیا تھا جو منہ پر ہاتھ رکھی مزید چینخوں کا گلا گھونٹے دیوار کے ساتھ لگی کھڑی تھی زوراشہ کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ دیوار کے اندر گھس جاتی

“کچھ بھی نہیں ہوا اتنا چینخ چلا کر گھر سر پر اٹھانے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔۔”
وہ اس کے قریب آتا آہستہ آواز میں پوچھا تھا
“یہ معمولی سی بات نہیں تھی تت-تم نے جان بوجھ کر انہیں یہاں رکھا تھا نہ تت-تم مجھے ڈرانا چاہتے تھے اور۔۔۔اور قید۔۔۔۔”
بولتے بولتے اس کی ہچکی بندھ گئی تھی جب کہ پٹھان لبوں کو بھینچے ماتھے پر پڑتی سلوٹوں کے ساتھ اسے سنجیدگی کی انتہا کو چھوتے ہوئے دیکھ رہا تھا

“مجھے یاد نہیں رہا ورنہ ان کو روم سے پہلے باہر کر چکا ہوتا۔۔۔۔”
“جج-جھوٹ تم مجھے یہاں قید کرنا چاہتے ہو مجھے نہیں رہنا حویلی جانا ہے پٹھان مجھے جانا ہے۔۔۔۔”
وہ روتے ہوئے اسے پیچھے دھکا دیتے بولی تھی اور پھر سوں سوں کرتے اسے دیکھنے لگی جس کا سرخ پڑتا چہرہ ضبط کی جانب اشارہ کر رہا تھا

“کون سا قید کیا ہے میں نے تمہیں۔۔۔؟میں نے کب منع کیا کہ کمرے سے نہ نکلو جو یوں قید کا الزام میرے سر پر لگا رہی ہو۔۔۔۔؟”
وہ ایک قدم آگے لیتا اپنی سیاہ آنکھوں کو اس کی آنسوؤں سے لبریز آنکھوں میں گاڑے پوچھنے لگا تھا

“تو کیوں رکھا انہیں کمرے میں کیوں کمرے میں چھوڑ کر باہر چلے گئے بتاو۔۔۔۔؟”
اس کی آواز بلند ہوئی تھی اور یہ اس کی دی گئی ڈھیل کا ہی نتیجہ تھا

“تمہیں صفائی دینا ضروری نہیں سمجھتا جو من میں آئے سمجھ لو جو بات تھی واضع تمہارے گوشگزار کر چکا ہوں۔۔۔۔”
اس نے ایک ایک لفظ کو دانتوں میں پیستے ہوئے کہا
“مجھے حویلی جانا ہے موسیٰ مجھے نہیں رہنا یہاں واپس چھوڑ کر آو۔۔۔۔”
وہ اس کے سینے پر مکے برسائے بولی تو اس نے اس کے دونوں ہاتھوں کو تھاما تھا

“تمہاری زبان سے دوبارہ حویلی جانے کا زکر بھی ہوا تو ان بچھووں سانپوں کو کاٹ کر کھانا بنا کر کھلاوں گا تاکہ یہ زبان دوبارہ اول فول نہ بک سکے۔۔۔۔۔”
اس نے زوراشہ کی کلائی میں موجود چند چوڑیوں پر اپنی گرفت سخت کی کہ وہ ٹوٹ کر کچھ اس کے یاتھ تو کچھ زوراشہ کی کلائی میں چبھی تھیں پٹھان کو تو فرق نہ پڑا البتہ زوراشہ کی “سسسی” نکلی تھی

“میں اتنا روئی اتنا چینخی لیکن کوئی گارڈ نہیں آیا بچانے کے لیے۔۔۔۔؟”
وہ کچھ دیر پہلے کے بارے میں سوچتی پھر سے رونے لگی تھی
“میری اجازت کے بنا کوئی گارڈ تمہاری موجودگی میں یہاں قدم بھی نہیں رکھ سکتا تمہاری طرف دیکھنا تو دور کی بات۔۔۔”
اس نے بےلچک لہجے میں کہا
“جان بوجھ کر کیا ہے نہ تم نے یہ سب۔۔۔؟”
“جو مرضی سمجھو۔۔۔۔”
وہ اسے کسی صورت کسی قسم کی بھی صفائی نہیں دینا چاہتا تھا اسی لیے بات کو ختم کرنا چاہا

“دیکھو اسی ظلم ستم کے لیے لائے ہو نہ مجھے تم اپنے ساتھ بتاو۔۔۔۔۔؟”
وہ سوں سوں کرتے اس سے استفارہ کرنے لگی تھی اور اس کی بات سنتے پٹھان نے کمال مہارت سے اپنی مسکراہٹ دبائی تھی
“ہاں اسی ظلم و ستم کے لیے لایا ہوں اور کچھ۔۔۔۔؟”
اس نے نہایت تابعدار شوہر ہونے کا بظاہرہ ثبوت دیتے ہوئے کہا اور نظر اس کی کلائیوں پر ٹھہری جہاں ہلکا ہلکا خون جما ہوا تھا

“تمہیں مجھ سے کوئی محبت وغیرہ کچھ نہیں وہ طلاق والی بات سچ ہے نہ۔۔۔؟”
اس نے پھر سے پوچھا تو اس نے کلائیوں سے نگاہ ہٹاتے اس کے چہرے پر ٹکائی تھی
“ہاں نہیں ہے محبت اور کچھ۔۔۔؟”
وہ پھر سے اسی انداز میں بولا تھا

“تم دوسری شادی کرو گے نہ۔۔۔۔؟”
اس نے اسی امید سے پوچھا گویا وہ انکار ہی کر دے
“ایسا کچھ زہن میں آیا تو نہیں لیکن دوسری شادی کا آئیڈیا برا نہیں خیر اور کچھ۔۔۔۔؟”
وہ پرحدت و دلکش لہجے میں بولا تھا

“اس کو اسی گھر میں رکھو گے ہاں بتاو۔۔۔؟”
اس نے ایک قدم آگے لیتے اسے سے گھورتے ہوئے پوچھا تھا
“نہیں اس کے لیے نیا محل بناوں گا خوبصورت سا اور کچھ۔۔۔۔؟”
اس نے اپنے لب دانتوں میں دبائے کہا یقیناً وہ اپنی مسکراہٹ روکنے کے در پر تھا

“ہاں ایک اور بات پھر تاریخ رقم ہو گی نیوز پیپرز٫ ٹی وی٫ جگہ جگہ کونے کونے میں پھر ایک بات دہرائی جائے گی۔۔۔۔”
وہ بولتے بولتے رکی اور پٹھان کو دیکھا جو ناسمجھی سے اسے دیکھ رہا تھا

“کہ موسیٰ زار پٹھان جس کی دہشت جگہ جگہ عام ہے لیکن اپنی پہلی بیوی کے ہاتھوں نہایت بےدردی سے قتل کر دیا گیا۔۔۔۔”
اس کے چبا کر کہنے پر اس نے اپنے امڈنے والے قہقے کو رکا تھا اور پرشوق نگاہوں سے اسے دیکھا جو ایسے دیکھ رہی تھی جیسے کچا چبا جائے گی

“سیریسلی۔۔۔۔؟”
اس نے ایک آئبرواچکائے اس سے پوچھا جس کی آنکھوں میں آنسووں پھر سے امڈے تھے
“تم بہت برے ہو موسیٰ استعمال کر رہے ہو میرا ان سب سے بدلا لینے کے لیے اسی لیے تم اپنے ساتھ لائے ہو۔۔۔۔”
اس کی بات سنتے پٹھان نے مٹھیاں بھینچی تھی

“استعمال والی بات کو ایک بار چھوڑو یہ بتاو جس بدلے کا زکر کر رہی ہو اس بارے علم ہے۔۔۔۔؟”
اس نے سرد مہری سے پوچھا تو زوراشہ نے نفی میں سر ہلایا تھا
“تو پھر اچھی بیوی ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے یوں فالتو کی بکواس مت کرو اتنا سر پر چڑھا لیا ہے کہ تمہاری کب سے چلتی بکواس کے باوجود کچھ نہیں کہا تو مزید تمہیں کسی چیز کی خواہش نہیں رہنی چاہیے ۔۔۔”
وہ سخت لہجے میں کہتا نرمی سے اس کے بال چہرے سے ہٹائے تھے اور ایک کاٹ دار نگاہ اس پر ڈالے روم سے نکل گیا تھا اور وہ دوبارہ رونے کی تیاری پکڑ چکی تھی
“بدتمیز زرا تمیز نہیں۔۔۔۔”
خود سے بڑبڑاتی آدھ کھلے دروازے کو دیکھا تھا
…………………………..
زویا جب سے کمرے میں آئی تھی صرف آنسووں بہا رہی تھی ایک طرف جان سے عزیز بھائی اور اس کی بیوی جس کے ساتھ محبت کے علاوہ اور بھی کئی رشتے اور دوسری جانب شوہر اس کی بےشمار محبتوں کا اکیلا وارث وہ دونوں کے بنا نہیں رہ سکتی تھی
ان کی جنگ میں زوراشہ اور زویا دونوں پھنس کر رہ گئی تھی دونوں کا لفظ “طلاق” کے سہارے چھوڑے سولی پر لٹکایا ہوا تھا گلے پر ایک تلوار سی لٹکی تھی جو کبھی بھی چل سکتی تھی

دھیرے سے دروازہ کھلا تھا جس سے مکمل تاریخی میں ڈوبے کمرے میں ہلکی سی روشنی کی پھوار پھیلی تھی جو اگلے ہی منٹ ختم ہو گئی تھی اور قدموں کی چاپ کمرے میں سنائی دینے لگی تھی زویا بخوبی واقف تھی آنے والی شخصیت کون ہو سکتی ہے اسی لیے اس نے پوچھنا گوارا نہ کیا تھا

داود نے آگے بڑھتے سائیڈ لیمپ جلایا تھا اور اس کی جانب دیکھا جو بیڈ پر بیٹھی آنسووں بہا رہی تھی چہرہ نمکین پانی سے گیلا تھا اور ٹماٹر کی طرح سرخ بھی اوپر سے آنکھوں کے گرد پھیلی سرخی اس کے بےتحاشہ رونے کی علامت تھی

“کیوں رو رہا ہے اب تم۔۔۔؟”
داود نے اس کے پاس بیٹھتے پیار سے پوچھا
“آپ کہہ تو ایسے رہے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔۔۔۔”
وہ اس کے یوں پوچھنے پر تلملا اٹھی تھی
“تو جو ہوا ہے اس کو بھول جاو کیونکہ ویسا کچھ نہیں ہوگا۔۔۔”
اس نے اس کو یقین دلانا چاہا تھا
“آپ پر یقین اب میرے لیے ناممکن کام ہے پلیز داود اکیلا چھوڑ دیں جائیں یہاں سے۔۔۔۔”
وہ اس کی جانب سے اپنا منہ موڑ گئی تھی اور داود یوں منہ موڑنے پر تڑپ اٹھا تھا

“یوں منہ مت موڑ زویا ہم تمہیں کبھی نہیں چھوڑے گا کبھی طلاق نہیں دے گا۔۔۔۔”
وہ اس کا رخ خود کی جانب کئیے بولا تھا
“اچھا تو طلاق نہ دینے کی جو شرط ہے وہ بھی دوبارہ سے زہن دہانی کر لیں کیونکہ ہو گا تو وہی جو بابا اور چھوٹے ابا کہیں گے کیونکہ آپ تو بس “جی حضوری” ہی کر سکتے ہیں…”
وہ طنز کا تیر چلاتی اس کو غصہ دلا رہی تھی

“ہمارا غیرت کو مت للکارو زویا داود خان۔۔۔۔”
وہ اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ کی سخت گرفت میں لیتے بولا
“میں بھی آپ کی غیرت ہی ہوں جسے روز بےعزت کیا جاتا ہے تب کہاں سو جاتی ہے آپ کی غیرت بزدل ہیں آپ۔۔۔۔”
وہ بےدردی سے اپنا ہاتھ اس کی گرفت سے کھینچ گئی تھی

“ہم نے بتایا کہ ہم تم سے بہت محبت کرتا ہے نہیں چھوڑے گا تمہیں بشرطیکہ پٹھان زوراشہ کو طلاق دے۔۔۔۔”
وہ غصے سے بولا تھا
“ہاں تو اتنا بزدل رشتہ ہے ہمارا کہ شرطوں پر چل رہا ہے اتنی بےکار محبت ہے ہماری نکاح کی بھی توہین کر دی ہے آپ سب نے۔۔۔۔”
وہ بھرائی آواز میں بولی تھی
“تو پٹھان سے کہو کہ ہمارا بہن کو طلاق دے۔۔۔”
اس نے اسے کسی صورت قائل کرنا چاہا تھا

“آپ کیسے بھائی ہیں اپنی بہن کو ہی طلاق دلوا رہے ہیں اور آپ سے اچھا بہت اچھا ہے پٹھان جو اپنی من مانی تو کر سکتا ہے کسی کے ہاتھوں کھلونا تو نہیں سب سے بڑی بات اپنی بیوی کے حق میں بول سکتا ہے۔۔۔۔۔”
“زویا بار بار تم ہمارا یوں توہین نہیں کر سکتا۔۔۔”
وہ تنبیہ انداز میں دیکھتے ہوئے بولا تھا

“حقیقت ہے۔۔۔۔۔”
اس نے اپنی آنکھوں کو رگڑا تھا
داود نے کچھ پل اسے دیکھنے کے بعد آگے کو مزید قریب کھسکتے اس کا چہرہ تھاما اور اس کی گال پر اپنے لب رکھے تھے یہ سب اتنی جلدی ہوا کہ زویا کو سمجھ نہ آیا جب سمجھ آیا تو ڈھیروں شرم نے اسے گھیر لیا تھا
اس نے یہی عمل دوسری گال پر بھی دہرایا تھا اور دھیرے سے لمس چھوڑتا چہرہ پیچھے کئیے اس کے سرخیاں بھرے چہرے جو دیکھنے لگا

“پرسکون ہو جاو ہم تم سے محبت کرتا ہے ہر بار سمجھاتا ہے۔۔۔۔۔”
وہ اتنا بولتا اس کی تھوڑی پر جھکا تھا اس عمل سے وہ گڑبڑا اٹھی تھی اور اس کے سینے پر ہاتھ رکھتے اسے فوراً پیچھے کیا تھا
“یی-یہ آپ کیا کر رہے۔۔۔۔۔”
“بیوی بیوی کا رٹ لگایا تھا اور اب یہ بھی ہم بتائیں کہ کیا کر رہا ہے ہم چاہتا ہے کہ تم پرسکون ہو جائے۔۔۔”
وہ اسے دھیرے سے بولتا ہاتھ بڑھا کر کمر سے تھامتا اپنے سینے سے لگا گیا تھا اور اس کی کمر کو دھیرے دھیرے سہلاتا صرف ایک فقرہ دہرا رہا تھا کہ “ہم تم سے محبت کرتا ہے” اور وہ بھی اس کی پناہوں میں پرسکون سی جلد ہی نیند کی دنیا میں پہنچ گئی تھی
………………………………
بہت سی گہری سوچیں تھیں جنہوں نے موسیٰ کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا وہ اپنے کمرے سے نکلتا ساتھ والے کمرے میں آ گیا تھا بہت سی ایسی باتیں تھی جو زوراشہ نے بولتے ہوئے اس کا دل زخمی کیا تھا لیکن اس نے بڑی مہارت سے صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان باتوں کو برداشت کیا تھا اور نرمی سے کام لیا تھا
کیونکہ وہ اس کی بیوی تھی اس کی عزت اس کی غیرت اور سب سے بڑھ کر وہ اس سے محبت کرتا تھا اس کے دل و دماغ کی ملکہ تھی بےشک وہ اسے کبھی نہیں بتاتا تھا لیکن اس کے ہر عمل سے اس کی محبت جھلکتی تھی جسے زوراشہ بالکل نہیں سمجھتی تھی

“زمہ قربان زہ ستا زڑگے یم(میرے قربان تم میرا دل ہو)۔۔۔۔۔”
وہ صوفے پر بیٹھا ٹانگے ٹیبل پر جمائے خود سے بڑبڑاتا سر پیچھے صوفے کی پشت سے ٹکا گیا تھا

“تم بہت برے ہو موسیٰ استعمال کر رہے ہو میرا ان سب سے بدلا لینے کے لیے اسی لیے تم اپنے ساتھ لائے ہو۔۔۔۔”
زوراشہ کے الفاظ یک دم سے اس کی سماعتوں میں گونجے تو اس نے پٹ سے اپنی آنکھیں وا کیں تھی اور چھت کو دیکھا تھا

“آئی ہیٹ یو زوراشہ میں نے تمہارا کبھی استعمال نہیں کیا لیونے(پاگل)۔۔۔۔۔”
وہ خفگی لہجے میں سموئے چھت کو گھورتے ہوئے بولا تھا
“اور رہی بات ساتھ لانے کی تو میرے قلب کی بڑھتی بےچینی٫میرے دل میں اٹھتے محبت کے طوفان نے تمہیں اپنے ساتھ لانے پر مجبور کیا تھا۔۔۔۔”
وہ اب صفائی دے رہا تھا اس کی کہی باتوں کی اب خود کو صفائی دے رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ جیسا زوراشہ نے سوچا ویسا کچھ نہیں وہ تو اپنے بےقابو دل کے ہاتھوں مجبور تھا

وہ انہیں سوچوں میں گم تھا کہ اچانک سے اٹھتے شور پر وہ فوراً سے سیدھا ہوا تھا جب تک وہ باہر مچی ہفراتفری کو سمجھا تھا گولیوں کی چیر دینے والی آواز اس کے کانوں میں گونجی تھی