53.7K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 25

دد-داود داود شکر تم آیا مم-مجھے یہاں سے۔۔۔۔۔”
“داود نہیں کیپٹن داود اور اپنے باپ کا نام آگے لگانا تو توہین ہو گا ہمارا بھی اور کیپٹن کے عہدے کا بھی۔۔۔۔۔”
داود اس کی بات بیچ میں کاٹتا کرسی کی باہنیوں پر دونوں ہاتھ ٹکائے آگے کو جھکتے ہوئے بولتا اس کو مکمل ساکت کر گیا تھا اسے اپنی سماعتوں پر یقین نہ آیا تھا

“کک-کیا مم-مطلب۔۔۔۔۔؟”
بہروز کے حلق سے پھنسے پھنسے سے یہ دو الفاظ نکلے تھے جس پر وہ قہقہ لگاتا پیچھے ہوا تھا
“کیسا لگا شاک دھماکا ہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔”
داود پھر سے زور سے ہنسا تھا اور پھر یک دم سنجیدہ ہوتا اپنے تایا کے حیرت شاک زدہ چہرے کو دیکھا

“لانت بھیجتا ہے ہم اس دن پر جس دن بہروز خان اور دلاور خان کا ساتھ دیا نفرت ہے ہم کو تم سے تمہارے وجود سے تمہارے بھائی سے اور تمہارا وہ ڈائن بیوی سے تھو ہے تم سب پر۔۔۔۔۔”
داود نفرت سے بولا تھا
“بب-بیٹا تم۔۔۔۔۔”
“پلیز ڈونٹ کال می بیٹا نفرت ہے کیپٹن داود خان کو تم لوگوں سے نفرت بےتحاشا ارے تم شاک میں کیوں ہم بتاتا ہے نہ سب۔۔۔۔۔”
داود سینے پر ہاتھ باندھے آخر میں مسکرایا تھا

“جب مورے نے پٹھان کو سب حقیقت بتایا تو وہ دونوں بےخبر تھا کہ ہم باہر کھڑا تمام حقیقت سن رہا ہے یہ سن کر ہمارا خون خول اٹھا دل کیا تم تینوں کا جان لے لے لیکن پھر مورے نے پٹھان کو روکا اور پھر ہم ان کے ساتھ مل گیا پٹھان سے مل گیا اور کہا کہ مل کر ان سب کو برباد کرئے گا لیکن اس کے لیے کسی کا بھروسا جیتنا ضروری تھا تو یہ کام ہم کو کرنا پڑا۔۔۔۔۔”
داود اس کے گرد چکر کاٹتا اسے بتا رہا تھا

“ورنہ پٹھان سے دشمنی کا ڈھونگ رچانا بھی میرے لیے تکلیف دا تھا لیکن پٹھان نے مورے نے سمجھایا ہم کو یہ کرنا ہو گا ہم بہت بار کمزور پڑا لیکن پٹھان ہمارا ہمت بنا اس نے کہا کہ اگر داود خان کمزور پڑ گیا تو تم کمینوں کا بھروسا کیسے جیتے گا پھر ہم پٹھان موسیٰ زار پٹھان کے خلاف کھڑا ہوا اور تم لوگوں کا بھروسا جیتا اور پٹھان کو تم لوگوں کے کرتوت سے آگاہ کرتا اور پھر میں کیپٹن بنا کیپٹن کا عہدہ حاصل کیا جو ہمارے لیے خاص کر پٹھان کے لیے فائدے مند تھا فوج کا کوئی آدمی پٹھان کے خلاف ہاتھ اٹھانے کا یا کوئی کاروائی کرنے کا جرات نہیں کر سکتا تھا یوں ہم اپنے پلین کو بخوبی سر انجام دے رہے تھے۔۔۔۔۔”
داود کے منہ سے یہ تمام سچائی سنتے اس کا سر گھوم رہا تھا اسے لگا یہ سب خواب ہے

“اور پھر کل رات ہم جانتا تھا پٹھان پہاڑوں کے بیچ سے گزرے گا تو وہاں تن اپنے آدمی پٹھان کی موت کے لیے چھوڑا ہے ہم نے پٹھان کا وہاں سے گزرنے پہلے ان تمام آدمیوں کو دوسری جانب غلط انفارمیشن دے کر بھیجا اور اپنے آدمیوں سے ان سب کو جہنم واصل کیا۔۔۔۔”
داود اب اس کے سامنے رکا تھا

“اور پھر پٹھان سے ملتے رات کو ہم نے بتایا کہ تم کہاں موجود ہو گا دلاور خان کا تو معلوم نہیں لیکن تمہارے زریعے ہم بخوبی معلوم کر سکتا ہے تو اب بتاؤ کیسا لگا ہمارا پلین کوئی کمی تو نہیں رہا نہ۔۔۔۔”

“تم داود خان میں تمہارا جان لے لوں گا۔۔۔۔۔”
بہروز خان کرسی سے بندھا اپنی پوری قوت سے چلایا تھا
“جان تم ہم تمہارا لے گا بہروز خان تم نے بہت بےدردی سے مارا ہمارا مور کو ہمارے پٹھان کے مور کو اور اس ڈائن کو ہمارے سر مسلط کیا اور میرے پیارے مور پر آج تک ظلم و ستم کرتا آیا سب برداشت کیا لیکن اب برداشت ختم ہوا اب وقت ہے تم لوگوں گا اپنے گناہوں کی سزا بھگتنے گا۔۔۔۔”
داود نے بولتے ساتھ دو مکے اس کے منہ پر برسائے کہ وہ کرسی سمیت اوندھے منہ گرا تھا
“پڑا رہ ایسے ہی جاہل انسان۔۔۔۔”
داود غصے سے کرسی کو ٹھوکر مارتا کمرے سے نکل گیا تھا کیونکہ اس کا غصہ آوٹ اوف کنٹرول ہو رہا تھا
………………………………
پٹھان تقریباً گیارہ بجے کمرے میں آیا تو کمرہ خالی تھا کہ اچانک واشروم کا دروازہ کھلا اور زوراشہ گیلا چہرہ لیے واشروم سے نکلی تھی پٹھان نے اسے محبت بھری نظروں سے دیکھا جب کہ وہ بنا کوئی رسپانس دیے اسے اگنور کرتی شیشے کے سامنے کھڑی ہوئی تھی

“اس کو کیا ہوا۔۔۔۔۔”
وہ خود سے بڑبڑایا اور بیڈ سے اٹھا اور دروازے کی جانب جاتے اسے بند کیا تھا کہ اچانک اس کی نظر دروازے کے سائیڈ میں موجود باسکٹ پر پڑی جس میں پھول بےقدری سے پڑے تھے اس کے دماغ میں جھماکا ہوا اور بےاختیار اپنا ہاتھ سر پر مارا تھا وہ تو بھول ہی گیا تھا مطلب وہ اس وجہ سے اس سے خفا تھی

“میری جان کل بہت ضروری کام آ گیا تھا اس وجہ سے رات کو نہیں آ سکا۔۔۔۔”
پٹھان اس کی جانب جاتے شرمندگی سے بولا تھا جبکہ وہ خاموشی سے بالوں کو سہی کر رہی تھی
“قربان۔۔۔۔”
پٹھان نے اس کی پشت پر جاتے اسے پیچھے سے حصار میں لیتے محبت سے پکارا اور اس کی گردن کو دھیرے سے لبوں سے چھوا تھا وہ فوراً اس کا حصار توڑتی اس سے دور ہوئی تھی البتہ وہ اس کی جانب بالکل نہیں دیکھ رہی تھی

“اچھا نا اب نہیں ہو پلیز۔۔۔۔”
وہ اس کی گال انگوٹھے کی مدد سے سہلاتے بولا تھا جسے اس نے فوراً جھٹکا تھا پٹھان نے ہونٹ بھینچے تھے
“کچھ کہا ہے میں نے تمہیں جاو جہاں تھے مجھے فرق نہیں پڑتا۔۔۔۔”
وہ اس سے نظریں چرائے بولی شاید آنکھوں میں ابھرتی نمی چھپانا چاہ رہی ہو اور اس کے پاس سے گزرنا چاہا لیکن پٹھان نے اس کا ہاتھ پکڑتے ایک جھٹکے سے کھینچا کہ وہ کسی کٹی شاخ کی مانند اس کے سینے سے آ لگی

“تو کہہ لو میں نے کب روکا ہے اپنے دل کے قرار کو۔۔۔۔۔”
پٹھان اس کو مکمل اپنے حصار میں لیتے بولا جسے وہ توڑنے کی کوشش کر رہی تھی
“تم جہاں تھے وہی رہو آنے کی زحمت کیوں کی دل دکھا ہے میرا اور آپ نہ آپ سے بات کرنے کو دل کررہا ہے نہ آپکی قربت کا دل ہے دور ہو جائیں۔۔۔۔”
وہ بھرائی آواز میں بولتی اس سے دور ہونا چاہیے تھا

“بہرام خان کو پکڑ لیا ہے۔۔۔۔۔”
پٹھان کے سنجیدگی میں کہے الفاظوں پر زوراشہ کے ہاتھ رکے اور اس کی جانب دیکھا جو اب بہت سنجیدہ تھا
“دلاور خان لاپتہ ہے لیکن آخر کب تک اسے بھی ایک دن پکڑ لوں گا۔۔۔۔”
پٹھان ایک ہاتھ اس کی کمر پر ٹکائے جبکہ دوسرے سے اس کے بال سہی کرتے بولا جبکہ وہ خاموش تھی
“میں باری باری ان سب کو ان کے کئیے کی سزا دوں کا ان کو ان کے انجام تک پہنچاوں گا۔۔۔۔۔”
پٹھان اپنی بات مکمل کرتے خاموش ہو گیا تھا تو زوراشہ نے اپنا سر اس کے سینے پر رکھا تھا

“میں نے تمہارا بہت انتظار کیا تمہارے لیے خود کو سجایا تھا پر تم آئے ہی نہیں تو بس دل بہت خفا ہوا تھا۔۔۔۔”
وہ بولتے بولتے اس کے سینے میں منہ چھپا گئی تھی تو اس نے مزید اسے خود میں بھینچا تھا
“ان شاءاللہ وہ وقت دور نہیں جب میں تمہیں اپنی محبت کی شدتوں سے آگاہ کروں گا یہ کچھ خبیثوں کا انجام ہو جائے پھر تم میں اور ہمارے چھوٹے چھوٹے پٹھان پٹھانی۔۔۔۔”
پٹھان آخر میں شرارت سے بولا تو وہ شرما کر مزید اس کے سینے میں گھسی تھی پٹھان نے بھی مسکرا کر اپنے لب اس کے بالوں میں رکھے تھے

“بہروز خان کہاں ہے۔۔۔۔۔؟”
کچھ توقف کے بعد زوراشہ کو یاد آیا تو وہ پوچھ بیٹھی
“اسی گھر میں۔۔۔۔”
اس نے اس کی گال پر چک لگاتے کہا اور واپس اسے خود میں بھینچا تھا مطلب صاف تھا اب وہ اس متعلق کوئی بات نہیں چاہتا تھا
………………………………
زویا کچھ دیر پہلے ہی آفشاں سے پوچھتی ڈاکٹر کے پاس گئی تھی اور واپس آئی تھی جب سے وہ واپس آئی تھی کمرے میں تب سے ٹہل رہی تھی کہ اچانک دروازہ کھلا اور داود اندر داخل ہوتا اس کی بےچینی دور کر گیا تھا وہ بھاگ کے اس کے سینے سے لگی تھی داود نے بھی مسکرا کر اس کے گرد حصار باندھا تھا

“داود میں بہت خوش ہوں۔۔۔۔۔”
خوشی کے ساتھ ساتھ اس کے لہجے میں شرم کا بھی عنصر موجود تھا
“اچھا کیوں خوش ہے تم۔۔۔۔۔؟”
داود نے اس کی کمر سہلاتے کہا تو وہ اس سے الگ ہوتی شرم سے پلکوں کی باڑ گرا گئی تھی دھڑکنیں معمول سے تھوڑا تیز چل رہیں تھی
“بتاو نہ کیا ہوا۔۔۔۔؟”
داود تھوڑی کی مدد سے اس کا چہرا اٹھائے بولا تو وہ لب کچاتی پیچھے ہوئی اور بیڈ پر موجود رپورٹس اس کے سامنے کیں تو اس نے ناسمجھی سے ان کو تھاما تھا
جیسے جیسے داود رپورٹس پڑھ رہا تھا اس کے چہرے کے تاثرات ویسے ہی بدل رہے تھے زویا خاموشی سے اس کے تاثرات دیکھ رہی تھی

“مم-مطلب یہ۔۔۔۔۔”
داود کو سمجھ میں نہ آیا وہ کیا بولے خوشی اس کے انگ انگ میں سما گئی تھی زویا نے نم آنکھوں سے سر اثبات میں ہلایا تھا
“تت-تم نے مجھے اتنا بڑی خوشی دیا مم-میں اوفف زویا۔۔۔۔۔۔”
داود نے بولتے ساتھ اسے کمر سے اٹھایا اور گول گول گھمانے لگا ان دونوں کے قہقے کمرے میں گونج رہے تھے

زربینہ جو ان کے کمرے کے سامنے سے گزر رہی تھی کہ اندر سے آتی ہنسنے کی آوازیں سن کر رک گئی تھی اور نہوست سے کمرے کے بند دروازے کو دیکھا
“ناجانے کون سا خوشیاں ان کو چڑھا ہے۔۔۔۔۔”
وہ حسد کے مارے بند دروازے کو دیکھتے کڑی تھی

“زویا تم نہیں جانتا میں میں بابا بننے والا ہوں تم امی جان اوففف ہم بہت خوش ہے مم-مورے بھی سن کر خوش ہو گا۔۔۔۔”
اسے گھمانے اور خوشی سے بولنے کے باعث اس کی آواز ہانپی ہوئی تھی اور زربینہ جو قدم اگے بڑھانے والی تھی یہ بات سنتی اس کے قدموں کو حسد کی زنجیر نے جکڑا تھا اور اس کا دل کیا ان دونوں کی اس خوشیوں کو آگ لگا دے

“مورے کے علاوہ کسی مت بتانا۔۔۔۔”
داود نے حالات کے پیش نظر اسے بیڈ پر بٹھاتے کہا
“زویا کو۔۔۔۔”
وہ دو لفظ بولتی لب کچانے لگی اسے لگا وہ منع کر دے گا جب کہ وہ مسکرایا تھا
“ہم دونوں بہت جلد یہ خوشخبری پٹھان اور زویا کو دے گے ابھی مجھکو کہیں جانا ہے رات باہر ہو گا کل تک واپس آجائے گا۔۔۔۔۔”
اس نے زویا کے ماتھے پر لب رکھتے کہا اور پھر اسے خود میں بھینچا تھا

“تم دونوں کی خوشیوں کو زربینہ خان نے آگ نا لگایا تو ہمارا نام بدل دینا۔۔۔۔”
زربینہ خود سے بڑبڑاتی پیر پٹختی آگے بڑھ گئی تھی
………………………………
پٹھان کے جانے کے بعد زوراشہ کا دل کیا وہ بہروز خان کو ایک بار دیکھے لیکن پٹھان کا بھی ڈر تھا اگر اسے پتا چلتا وہ اس کی جان نکال دیتا لیکن اس نے تو بس ملنا تھا اور کچھ اپنے حساب بھی چغتا کرنے تھے اور ویسے بھی پٹھان کی رات سے پہلے واپسی نہیں ہونی تھی اسے لیے خود میں ہمت جمع کرتی دراز سے چابی نکالی جو اس نے پٹھان کی دراز سے اس سے چھپ کر نکالی تھی اور دوپٹہ خود پر اوڑھتی کمرے سے نکلی اور نیچے آتی پیچھے کے پورشن میں گئی تھی جو فلحال سنسان پڑا تھا وہ تہہ خانے میں داخل ہوئی تو اسے چینخنے کی آوازیں آنے لگی وہ تھوڑا آگے گئی اور کانپتے ہاتھوں سے دروازہ کھولا جبکہ بہروز خان یوں کسی کے دروازہ کھولنے پر خاموش ہوتا دروازے کی جانب دیکھنے لگا

“زز-زوراشہ مم-میرا بچہ۔۔۔۔۔”
بہروز خان کو یہاں سے فرار کی ایک کرن دکھائی دی تھی
“تت-تایا جان۔۔۔۔۔”
“پٹھان مجھ پر ظلم کر رہا ہے اللہ کے لیے میرا بچہ مجھے آزاد کر دو۔۔۔۔”
بہروز خان مکر بکھیرتے رو رہا تھا
“نن-نہیں میں ایسا نہیں کر سکتی ۔۔۔۔۔”
زوراشہ نے اس سے نظریں چرائے کہا تھا
“ہہ-ہم تمہارے آگے ہاتھ جوڑتا ہے ہم جو یہاں سے نکال دے ورنہ پٹھان جان لے لے گا۔۔۔۔۔”
بہروز کی آواز بلند ہوئی تھی تو زوراشہ نے نفی میں سر ہلایا

“تم کو آفشاں کا قسم ہے ہم نکال دے یہاں سے پپ-پٹھان کا واسطہ پٹھان کا قسم ہے تم کو ہمیں بخش دے۔۔۔۔”
اس کے یوں قسم دینے پر وہ لب کچائے الجھی تھی
“ایک ایک شرط پر۔۔۔۔۔۔”
زوراشہ نے کچھ سوچتے ہوئے کہا تو اس نے ایک امید کے تحت چمکتی آنکھوں سے اس کی جانب دیکھا جو الجھی ہوئی تھی

“آپ یہاں سے بہت دور چلے جائیں گے ہماری زندگیوں ہماری خوشیوں سے دور ہمیشہ کے لیے۔۔۔۔۔”
زوراشہ کی شرط پر اس نے زوروشور سے سر اثبات میں ہلایا تھا
“ہاں بہت دور چلا جائے گا تمہارے پاس واپس کبھی نہیں آئے گا مجھکو جانے دو بس۔۔۔۔۔”
“رکیں میں آتی ہوں۔۔۔۔۔”
زوراشہ یہ کہتے باہر بھاگی تھی جبکہ بہروز شاطرانہ انداز میں مسکرایا تھا وہ ایک بار پھر اسے اپنے جال میں پھنسا چکا تھا
تقریباً پانچ منٹ بعد وہ واپس آئی اور جلدی سے اس کے ہاتھ کھولنے لگی تھی جو تھوڑا مشکل ہو رہا تھا

“ہم تمہارا یہ احسان زندگی بھر نہیں بھولے گا میرا بچہ۔۔۔۔۔”
“بس واپس کبھی مت آئیے گا ورنہ میں دوبارہ پٹھان سے نہیں بچا پاوں گی۔۔۔۔”
وہ اس کے ہاتھ کھول کر پیچھے ہوتے بولی تو وہ کرسی سے اٹھا تھا اور پھر زوراشہ اسے لیے باہر آئی اور بہت احتیاط اور مہارت سے وہ بہروز خان کو یہاں سے فرار کروا چکی تھی اور خوفزدہ بھی تھی پٹھان کے ہاتھوں اپنے ہونے والے انجام کا سوچ کر
وہ جانتی تھی اس نے اس گنہگار کو آزاد کروایا ہے جس پر بےشمار قرض ہیں گناہ کے پٹھان اسے زندہ زمین میں گاڑ دے گا وہ یہ بات بخوبی جانتی تھی
………………………………
داود کے جانے کے بعد زویا اپنے بچے کا سوچتی بہت خوش تھی آفشاں نے بھی انہیں ہزار دعاوں سے نوازا تھا جس وجہ سے وہ اور زیادہ خوش تھے زویا بیڈ پر بیٹھی موبائل میں کچھ دیکھ رہی تھی کہ اہک جھٹکے سے دروازہ کھلا اور زربینہ اندر داخل ہوئی زویا زربینہ کو دیکھتی حیرت میں مبتلا ہوئی تھی وہ اس کے کمرے میں بہت کم یا شاید کبھی آئی ہی نہیں تھی

“امی جان۔۔۔۔”
زویا موبائل بیڈ پر رکھتی اسے پکارتے بیڈ سے اٹھی تھی
“ارے امی جان کی پیاری بیٹی کیسی ہے اور میری ہونے والا نواسا یا نواسی کیسی ہے۔۔۔۔؟”
زربینہ کے پھن بکھیرتے انداز میں کہی بات پر وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی تھی
“تم نے تو بتایا نہیں پر زربینہ نے خود ہی پتا کر لیا کیوں میرا بچہ اپنی امی جان کو اپنے ہونے والے بچے کا خبر نہیں دینا تھا۔۔۔۔”
وہ زویا کے قریب جاتے بولی تو زویا نے کڑوا گھونٹ بھرتے اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھا تھا

“مم-میں بتانے اہہہہہہ۔۔۔۔۔۔”
اس سے پہلے وہ بات مکمل کرتی زربینہ نے بےدردی سے اس کو بالوں سے دبوچا تھا کہ اس کے حلق سے چینخ نکلی جس کا گلا زربینہ کے تھپڑ نے گھونٹا تھا
“میں تم لوگوں کا خوشیاں ملیا میٹ کر دوں گی۔۔۔۔”
وہ روتی ہوئی زویا کے بالوں سے دوبارہ پکڑتی دو تھپڑ جڑے کہ وہ روتی زمین پر گری تھی

“یہ بچہ تو نہیں آئے گا۔۔۔۔۔”
وہ نیچے گری زاروقطار روتی زویا کو دیکھتے بولی اور جا بجا پیروں سے اس کے پیٹ پر ٹھوکریں مارنے لگی جب کہ زویا روتی چلاتی بچاو کے لیے پکارتی اس کی ٹھوکروں سے بچنے کی کوشش کررہی تھی لیکن وہ بےرحم بنی اس کے پیٹ پر بےشمار ٹھوکریں مار رہی تھی

“نن-نہیں۔۔۔۔”
زویا پوری قوت سے حلق کے بل چلائی تھی لیکن زربینہ تو جیسے حیوان بنی ہوئی تھی
“آہہہہ میرا بچہ۔۔۔۔۔۔”
زویا پیٹ پر ہاتھ رکھتی چینخی تھی
………………………………
اسلام و علیکم جو ریڈرز کہہ رہے تھے نہ کہ بہرام خان ہے بہرام کو انہوں نے دیکھا نہیں مردہ سمجھا ہے تو تو شاید ناول آپ لوگوں نے سہی پڑھا نہیں پٹھان کو جب گولی لگتی تو بہرام آیا تھا بچانے اس کے بعد اس سے پہلا سین تھا تیسرے یا چوتھے ایپیسوڈ میں کہ بہروز کہتا ہے موسیٰ سے کہ بہرام خان نے تمہیں بھڑکایا ہے تو خیر وہ الریڈی جانتے تھے بہرام کو اس کے بعد داود کا تکا تو بالکل ٹھیک لگا❤️❤️