53.7K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

صبح کا طلوع ہوا سورج دھیرے دھیرے غروب ہونے کو تھا اور شام کے سائے مکمل پھیلنے کو تھے اور اس پھیلتی تاریخی کو نظرانداز کئیے داود خان اپنی زمینوں میں ایک درخت سے ٹیک لگائے بیٹھا سیگرٹ پھونک رہا تھا ناجانے اس کے دماغ میں کیا چل رہا تھا یہ تو اللہ کے بعد صرف وہی جانتا تھا ایک جانب وہ طلاق کی حامی بھر آیا تھا تو دوسری جانب زویا سے محبت کے دم بھر آیا تھا

گاڑی کے ہارن کی آواز پر داود چونکا اور فصلوں کے ساتھ موجود خالی میدان میں دیکھا جہاں کھڑی گاڑی میں بیٹھا کوئی بنا بریک کے ہارن مار رہا تھا جیسے اپنے ہاتھ کو ہارن پر رکھ کر بھول گیا ہو
اس گاڑی کو دیکھتے داود نے گہرا سانس بھرا تھا کیونکہ وہ اس گاڑی کو لاکھوں میں بھی پہچان سکتا تھا اور گاڑی کے اندر بیٹھے نفوس کو بھی
اور پھر وہ شخص غلطی سے ہارن سے ہاتھ اٹھانے کے بعد گاڑی سے نکلتا مسکرا کر داود کو دیکھا جو اسے کڑے تیوروں سے گھورتا دوسری سیگرٹ سلگا گیا تھا

“اجازت ہے میں آپ کے سیگرٹ نوشی کے دوران نہایت ادب سے مخل ہونا چاہتا ہوں۔۔۔۔”
دل جلانے والی مسکراہٹ لبوں پر سجائے وہ قدم اس کی جانب بڑھائے بولا تھا
“ہم نے اجازت نہ بھی دیا تو پٹھان تم کون سا یہاں سے واپس مڑ جائے گا۔۔۔۔”
اس نے سر جھٹکتے رخ دوسری جانب موڑتے کہا تو وہ کھل کر مسکرایا تھا

“ارے تم تو بخوبی پہچانتے ہو مجھے۔۔۔۔”
پٹھان بالکل اس کے ساتھ بیٹھتے درخت سے ٹیک لگائے بولا تو اس نے گردن موڑے ایک نگاہ اس پر ڈالی اور واپس سیدھا سامنے فصلوں کو کبھی دیکھتا تو کبھی اس کی شان سے کھڑی گاڑی کو

“تم یہاں کیوں آیا ہے۔۔۔۔؟”
آخر کار رہا نہ گیا تو اس کے آنے کا سبب پوچھا تھا
“جس لیے تم آئے ہو بیویوں کے ستائے۔۔۔۔”
وہ ایک آنکھ دبائے بولا یقیناً وہ مزاق کے موڈ میں تھا
“پٹھان ہم کو غصہ مت دلاو ہمارا مزاق کا کوئی موڈ نہیں۔۔۔۔”
وہ گہرا سانس بھرتے بولا تھا
“لیکن میرا تو مزاق کا ہی موڈ ہے۔۔۔۔”
وہ اس کی انگلی اور انگوٹھے کے درمیان دبی سیگرٹ کو ایک نظر دیکھتے بولا تھا

“تم نے یہ عادت ابھی بھی نہیں چھوڑی ادھر دو یہ بچوں کا کام نہیں۔۔۔۔۔”
پٹھان اس کے ہاتھ سے آدھ جلی سیگرٹ پکڑتا کش لگائے بولا تھا
“تمہارا لگایا گیا عادت ہے تمہارے ہی طرح ضدی اتنا آسانی سے کیسے جائیگا۔۔۔۔”
وہ پچھلے وقت کو یاد کرتا سر جھٹکتا بولا تو وہ مسکرایا تھا

“مجھ سے نفرت کے باوجود میری لگائی گئی عادتوں سے اتنی محبت۔۔۔۔”
اس کے لہجے میں موجود کرب داود نے بخوبی محسوس کیا تھا اسی لیے چہرہ جھکائے سختی سے آنکھوں کو میچا تھا
کوئی سوچ سکتا تھا یہ دونوں وہی تھے جو ماضی میں ایک دوسرے کے بنا سانس تک نہ لیتے تھے
کیا کوئی کہہ سکتا تھا کتنی ہٹ دھرمی سے داود نے پٹھان سے اسکی ہی بہن کے ساتھ محبت کا اعتراف کیا تھا جس پر محض پٹھان نے رشتہ پکا کی حامی بھری تھی
کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ماضی میں ان کو “ایک” ہی کہا جانا بہتر لگتا تھا اور یوں کہا جاتا کہ پٹھان ہے تو داود اور اگر داود ہے تو پٹھان دونوں ایک دوسرے کے بغیر ادھورے

اور اب کیا کوئی سوچ سکتا وہی جان کے دشمن۔۔۔۔پٹھان تو نہیں البتہ داود ضرور اس کی جان کا دشمن بن گیا تھا

“تمہیں کیا کہوں دوست بھائی کزن سالہ صاحب یا بہنوئی۔۔۔۔۔؟”
پٹھان اس سیگرٹ کو دور اچھالے پوچھنے لگا تھا
“نہ دوست ہے ہم نہ کزن نہ بھائی اور دہا بات سالہ اور بہنوئی کی تو یا سالہ رہونگا یا بہنوئی یہ تم پر انحصار کرتا ہے۔۔۔۔۔”
وہ نیچے سے اٹھتا ہوا بولا تو پٹھان کے لب مسکرائے تھے

“اور میں تمہیں مجبور کر دوں گا تم خود مجھے کہو گے کہ میں تمہیں دوست بھائی کزن سالہ اور بہنوئی سب کہوں۔۔۔۔”
وہ بھی نیچھے سے اٹھا تو داود نے منہ بنایا تھا

“تم کو اپنا بہن کو ڈھونڈھنا چاہیے ان باتوں پر دھیان مت دے۔۔”
وہ اردگرد دیکھے بولا تھا
“اور تمہیں اپنی بیوی کو ڈھونڈھنا چاہیے۔۔۔۔”
پٹھان نے موبائل کی ٹیون پر موبائل دیکھتے کہا جہاں بہرام کا میسج تھا

“تمہیں دیکھ کر لگتا نہیں ہے کہ تمہیں اپنی بہن کا فکر ہو گی۔۔۔۔”
داود نے جھنجھلا کر کہا
“اور تمہیں بھی دیکھ کر لگتا نہیں تم نے میری بہن کو اغواہ کیا ہو گا۔۔۔۔”
پٹھان کی دل جلانے والے انداز میں کہی بات پر اسے شدید حیرت کا جھٹکا لگا تھا وہ آنکھیں پھاڑے اسے دیکھنے لگا تھا

“اتنی حیرت واللہ میں سب خبر رکھتا ہوں اپنے قریبی عزیز لوگوں کی مجھے اپنی بہن کی فکر نہیں کیونکہ وہ داود خان کی بیوی ہے اور اس کے پاس ہے۔۔۔۔”
وہ اس کے قریب ہوتا کان کے قریب سرگوشانہ انداز میں بولتا ایک آنکھ دبا کر کہتا اپنی گاڑی کی جانب بڑھا گیا تھا جب کہ داود وہی حیرت کی مورت بنے کھڑا تھا پھر ہوش آنے پر اردگرد دیکھا پٹھان جا چکا تھا اور اندھیرا بھی چاروں سو مکمل پھیل چکا تھا
………………………………
پٹھان جو زمینوں سے نکلتا سڑک کی جانب گاڑی گھمانے لگا تھا کہ سامنے سے آتی گاڑی کو دیکھتے یک دم بریک لگائی جب کہ اس گاڑی نے بھی بریک لگائی تھی
گاڑی کو دیکھتے پٹھان نے دونوں ہاتھ سٹیرنگ پر رکھتے سر اس پر ٹکائے ہنسا تھا کیونکہ وہ کسی اور کی گاڑی نہیں بلکہ بہروز خان کی گاڑی تھی
اور سامنے موجود گاڑی میں بہروز نے اپنی گرفت سٹیرنگ پر مضبوط کی تھی اور دل چاہا کہ گاڑی کی سپیڈ بڑھاتا پٹھان کے اوپر سے گزر دے لیکن وہی سدا کا ڈرپوک خود کی جان کے ڈر سے صرف یہ سوچ ہی سکا تھا

“خان خاناں زرا گاڑی سائیڈ پر لگائیں جلدی ہے آپکی بہو آئی مین میری زوجہ محترمہ میری منتظر ہو گی۔۔۔۔”
وہ بہروز کو گاڑی سے نکلتا دیکھا اپنا زرا سا سر گاڑی سے نکالے اس نے تپانے والے انداز میں کہا تھا

“تمہارا ہمت بھی کیسے ہوا بہروز خان کی حدود میں داخل ہونے کا۔۔۔۔۔؟”
وہ اس کے قریب آتے غصے سے بولا
“ٹھنڈے ہوں صبر کریں زرا۔۔۔۔”
ایک ہاتھ اٹھائے ٹھنڈے ہونے کا کہتا سیٹ بیلٹ کھولی اور گاڑی سے نکلا تھا
“کیا کہہ رہے تھے بہروز خان کے حدود میں داخل ہونے کی ہمت کیسے ہوئی تو ڈئیر بہروز خان یہاں موجود ایک پھوٹی کوڑی بھی تمہاری ملکیت میں نہیں۔۔۔۔”
وہ ٹھنڈے ٹھار لہجے میں بولتا اس کے ہاتھ پیر پھلا گیا تھا یقیناً وہ ہر راز سے واقف تھا جو اتنا ہٹ دھرمی سے انہیں ان کی اوقات یاد دلاتا تھا

“تمہارا بہن لاپتہ ہے بھاگ گیا گھر سے کچھ خبر ہے۔۔۔۔”
اب کہ بہروز چاہتا تھا وہ اس کی دگھتی رگ پر پیر رکھے لیکن وہ پٹھان تھا موسیٰ زار پٹھان

“ارے واہ زویا گھر چھوڑ کر بھاگ گئی واہ پراوڈ اوف یو پٹھان تیری بہن تم پر ہی گئی ہے۔۔۔۔”
وہ خود کا کندھا تھپتھپاتا داد دینے والے انداز میں بولتا اس کو سلگا گیا تھا
“اور ایک اور بات میری بہن ہونے کے ساتھ ساتھ وہ آپ کی بیٹی بھی ہے شاید۔۔۔۔”
پٹھان نے ان کو یادہانی کروانا ضروری سمجھا تھا

“نہیں ہے بیٹی وہ میرا وہ صرف تمہارا بہن ہے۔۔۔۔”
وہ حقارت آمیز لہجے میں بولے تھے
“دولت کے معاملے میں آپ کی بیٹی ورنہ صرف میری بہن کتنے اندھے ہو گئے ہیں دولت نے اندھا کر دیا ہے شرم کریں۔۔۔۔”
وہ سینے پر ہاتھ باندھے افسوس زدہ لہجے میں بولا تھا اور ایک نفرت بھری نگاہ ان پر ڈالتا پلٹا تھا لیکن بہرام کی آواز نے اس کے قدموں کو جام کیا تھا

“جہاں بھی ملا تمہارا بہن سب سے پہلے اسے گولیوں سے چھلنی کرتے اس کی لاش گاوں کے بیچ و بیچ لٹکاوں گا اور تم بےبس مہرت بنے سب دیکھو گے۔۔۔۔”
اس کے الفاظوں نے پٹھان کے سینے پر میں غصے کا طوفان کھڑا کر دیا تھا پٹھان نے مٹھیاں بھینچے سخت الفاظوں سے روکا تھا لیکن غصہ روکے بھی نہیں رک رہا تھا

پٹھان نے جھکتے پیر کی سائیڈ سے گن نکالے پلٹا اور بنا دیکھے بہروز کی گاڑی کے اگلے ٹائیرز پر ساری گولیاں مارتے اپنا غصہ ٹھنڈا کیا تھا جب کہ بہروز منہ کھولے اپنی گاڑی کو دیکھ رہا تھا جس کے اگلے دونوں ٹائیرز اپنی جان گوا بیٹھے تھے

“نیکسٹ ٹائیم سوچ سمجھ کر بولیے گا ورنہ آپ پر برسیں گی یہ گولیاں۔۔۔۔”
گن کی نوک پر پھونک مار کر پھنکار بھرتے اپنی گاڑی میں بیٹھا تھا جب کہ بہروز خاموشی سے قہربرساتی نظروں سے اسے تک رہا تھا اس کے گاڑی سٹارٹ کر کے آگے لاتے ہی بہروز فورا پیچھے ہوا تھا اس کا کیا بھروسہ وہ اس کے اوپر سے ہی نہ گزار دے
………………………………
زویا برتن سمیٹتی کمرے میں آئی تو سامنے داود بیڈ پر قمیض اتارے تھکن چہرے پر سجائے لیٹا ہوا تھا زویا کو دروازے پر کھڑا دیکھ مسکرایا تھا
“آگے آئے ہمارے پہلو میں۔۔۔۔”
وہ اپنے پہلووں پر ہاتھ مارتا بولا تو وہ لب دانتوں میں کچائے دروازہ بند کرتی اس کے پاس آئی تھی اور تھوڑی نروس سی بیڈ پر لیٹی تھی
داود نے ہاتھ بڑھاتے بیچ میں حائل دوریاں کم کرتے اس کا سر اپنے سینے پر رکھا تھا

“ہم آج بہت خوش ہے زویا۔۔۔۔”
وہ اس کی کمر سہلاتا بولا تھا خوشی اس کے لہجے سے عیاں تھی
“میں بھی بہت خوش ہوں لیکن شاید مستقبل میں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے اگر حویلی میں معلوم ہو گیا یہ سب آپ نے کیا اور میں آپ کے ساتھ ہوں تو۔۔۔۔۔”
اس نے کب سے پنپتا سوال ظاہر کیا تھا

“تو میرا جان میں سب سنبھال لے گا ورنہ دونوں جنت میں اکھٹے۔۔۔۔”
وہ اسے نیچے کرتا خود اس کے اوپر ہوتا شرارت سے بولا تو اس نے آنکھیں دیکھائیں تھی
“میرے سے محبت کرتے ہیں نہ داود۔۔۔۔۔”
وہ اس کے سینے پر موجود ہلکے ہلکے بالوں پر انگلی پھیرتے بولی تھی

“بہت بہت بہت۔۔۔۔”
وہ اتنا بولتا اس کی گردن پر جھکتا اپنے دانت گاڑے کہ اس کے منہ سے سسکی نکلی تھی
“داود یہ محبت ہے۔۔۔۔؟”
وہ اس کے بازووں پر تھپڑ مارتے بولی
“نہیں میرا جان محبت کرتا ہے۔۔۔۔”
وہ اس کے چہرے پر جھکتا اپنے سینے پر رکھے دونوں ہاتھوں کو اپنی مٹھی میں جکڑتے بیڈ سے لگایا تھا جب کہ وہ کلائیوں کو آزاد کرونے کی مکمل کوشش کررہی تھی وہ جتنی مزاحمت کرتا داود اپنے گرفت اتنی ہی مضبوط کر رہا تھا

“تا زمہ دا چاہت اخری حد یی(تم میری چاہت کی آخری حد ہو)۔۔۔۔۔”
وہ زرا سا سر اٹھائے اس کی گہرہ تیز سانسیں خود کے چہرے پر مکمل محسوس کرتے شدت بھرے لہجے میں بولتا دوبارہ سے جھکا تھا جب وہ اس کے ایک ہاتھ کو آزاد کرتا اس کے سر کے نیچے رکھتا بالوں سے نرمی سے پکڑتا اوپر کو اٹھایا تھا

“تا زمہ دنیا یی(تم میری دنیا ہو)۔۔۔۔”
وہ اس کے کان کے قریب جھکتا سرگوشانہ انداز میں بولتا کان کی لو پو دھیرے سے چومتا پیچھے ہوا تھا اور اس کا لالگی بھرا چہرہ دیکھنے لگا جو بند آنکھوں سے تیز سانس لے رہی تھی

“یہ ہے ہمارا محبت ہمارا چاہت ہمارا سکون ہمارا سب کچھ۔۔۔۔۔”
وہ انگوٹھے کی مدد سے اس کی گال سہلائے بولا تھا
“ابھی نن-نیند۔۔۔۔”
“ہاں ہم بھی وہی چاہتا ہے تمہارے آغوش میں محبت کرتے کرتے نیند کی وادیوں میں گم ہو جائیں۔۔۔”
وہ اس کی بات کاٹ کر بولتا اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھے مزید بولنے سے باز رکھا تھا اور سائیڈ لیمپ بجھاتے اسے مکمل اپنے حصار میں لے چکا تھا
………………………………
رات تقریباً ایک بج گیا تھا اور نیند تھی جو زوراشہ کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی اوپر سے پٹھان کے لیے الگ پریشان تھی جو ابھی تک نہیں آیا تھا وہ اس کا کام جانتی تھی لیکن پھر بھی اس کے لیے پریشان تھی

“ناجانے پٹھان کہاں ہو گا۔۔۔۔”
وہ بیڈ پر بیٹھتے بولی اور پھر کچھ سوچتے بیڈ سے اٹھتی سلیپر پہنتے دوپٹہ صوفے سے اٹھائے اللہ کا نام لیتی کمرے سے نکلی تھی
پورا گھر اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا زینے اترتے اسے خیال آیا کہ کاش وہ موبائل اٹھا لیتی جو پٹھان نے اگلے روز ہی اسے حویلی سے منگوا دیا تھا

وہ دوسرا حصہ بھی عبور کرتی پہلے حصے میں پہنچی اور اس کی سیڑھیاں اترتے لاونچ میں آئی تھی مکمل خاموشی میں اس کی جوتی کی آواز ناچاہتے ہوئے بھی شور برپا کر رہی تھی رات کے وقت گھر کے اندر کوئی گارڈ موجود نہ تھا جب کہ وہ جانتی تھی تمام گارڈز باہری حصے میں ہونگے اور ملازمین سرونٹ کواٹر میں

“مجھے ڈرنے کے لیے اکیلے چھوڑ دیا یے پٹھان کے بچے نے۔۔۔۔”
وہ آرام آرام سے پیر رکھتی آگے بڑھ رہی تھی کہ جوتی آواز پیدا نہ کرئے لیکن وہ اتنی ہی اس کے ساتھ دغا بازی کرتی آواز پیدا کر رتی اسے ڈرا رہی تھی

اچانک اسے لگا اس کے پیچھے کوئی موجود اسے تک رہا ہے اس نے اپنے قدم روکے تھوگ نگلا اور پلٹ کر دیکھا لیکن کوئی نہیں تھا اور جلد از جلد سوئچ بورڈ کے پاس پہنچتی سوئچ چلانا چاہتی تھی لیکن ایک قدم مزید بڑھایا ہی تھا کہ اسے لگا کوئی اس کے پیچھے سے گزرا ہے
دل تھا کہ سینہ چیر کر باہر آنے کو تھا اسے شدت سے احساس ہوا کہ وہ کمرے سے نکلی ہی کیوں اور پھر اسے کچھ آواز سنائی دی تھی

“کک-ون ہے یہاں پہ پپ-پٹھان تم ہو۔۔۔۔؟”
وہ دھڑکتے دل کے ساتھ اٹکتے ہوئے بولی کہ ایک دم سے کوئی چیز گری جس پر خوف سے اس کی چینخ نکلی اور بنا اردگرد دیکھے اندھیرے میں بھاگنی لگی تھی یہ دیکھے بنا وہ سیڑھیوں جانب جا رہی ہے یا باہر گیٹ جانب بس چینخ مارتی وہاں سے بھاگی تھی
……………………………..