53.7K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

ناجانے کون سا پہر تھا جب چہرے پر کسی کا نرم گرم لمس اور بالوں میں چلتی کسی کی انگلیوں کے باعث اس کی پلکوں میں زرا سی جنبش ہوئی تھی اس نے دھیرے سے اپنی آنکھیں کھولیں تو نظر چھت پر گھومتے پنکھے سے ٹکرائی تھی اچانک سے اس کے سامنے وہ منظر گھوم گیا کہ وہ تو درخت کے ساتھ بیٹھی تھی اور کسی نے اس کے منہ پر رومال رکھتے اسے بےہوش کر دیا تھا تو مطلب وہ اغواہ ہو چکی تھی لفظ “اغواہ” پر اس کے ہوش مکمل بیدار ہو گئے تھے آنکھیں نمکین پانی سے بھر گئیں تھی

وہ جو رونے کی تیاری پکڑ چکی تھی کہ اسے لگا جیسے کوئی اسے اپنی نظروں کے حصار میں لیے ہوئے ہے اس نے گردن موڑی تو نظر بالکل قریب بیٹھے اس شخص کے سینے سے ٹکرائی اس سے پہلے وہ چلاتی اس شخص نے اس کے لبوں پر نرمی سے اپنا ہاتھ رکھتے اسے چینخنے سے باز رکھا تھا زویا نے خوف سے چہرے کی جانب دیکھا تو چہرے پر خوف کی بجائے حیرت نے جگہ لے لی تھی اس شخص کا ہاتھ اب اس کے لبوں سے ہٹتا اب تھوڑی پر آیا تھا

“دد-داود۔۔۔۔۔”
وہ بولتی اس کے سینے سے لگی رونے لگی تھی
“داود مم-مجھے کسی نے اغواہ کروا لیا تھا آ-آپ نے بچا لیا مجھے۔۔۔۔”
اس کی آواز میں نمی گھل سی گئی تھی تو وہ ہنسا تھا اس کو ہنستا دیکھ کر اس نے سینے سے سر اٹھائے اس کو دیکھا تھا

“آپ نے ہی اغواہ کروایا تھا کیا۔۔۔۔؟”
اس نے ناک رگڑتے پوچھا تھا
“ہم نے تم کو کہا تھا ہم تم کو کبھی طلاق نہیں دے گا تم سے بہت محبت کرتا ہے۔۔۔۔”
وہ اس کے ماتھے پر شدت سے لب رکھتے بولا تھا
“مطلب آپ۔۔۔آپ نے ایسا کیوں کیا۔۔۔۔۔؟”
وہ اس کو پیچھے کرتی حیرت سے پوچھنے لگی
“ہم تم کو مزید اس دلدل میں رہنے نہیں دے سکتا تھا اسی لیے ہم موقع دیکھا اور تم کو اٹھا کر یہاں لے آیا جہاں ہم دونوں ہونگے اور ہمارا محبت۔۔۔۔”
وہ اس کی گال کو دھیرے سے لبوں سے چھوتے بولا تھا

“لیکن حویلی میں سب۔۔۔سب مجھے غلط سمجھیں گے امی جان نے تو سب کو ہمارے خلاف کر دیا ہو گا۔۔۔۔”
وہ پریشانی سے بولی تھی
“زندگی تم ہمارے ساتھ گزارنا ہے ہمیں تو معلوم ہے نہ ہمارا جان کیسا ہے اس کا کردار صاف شفاف ہے تو کسی کو کیا لینا دینا۔۔۔۔”
وہ اب دھیرے سے اس کی دوسری گال پر بھی وہی عمل دہرا چکا تھا
“لیکن۔۔۔۔”
وہ ابھی بھی الجھی ہوئی تھی

“ہم تمہیں کسی صورت طلاق نہیں دے گا پٹھان طلاق دے نہ دے ہم تمہیں نہیں دے گا تم ہمارا محبت ہے اور ہم نے کہا تھا جس دن داود خان تم کو دوسروں کے رحم و کرم پر چھوڑے گا اس دن تم ہماری ہی گن سے ہمارا جان لے لینا۔۔۔۔”
وہ اس کی کمر پر ہاتھ رکھتا دھیرے دھیرے سے سہلاتا ہوا بولا تھا

“میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں داود مجھے کبھی مت چھوڑئیے گا۔۔۔۔”
وہ نم آنکھوں سے اس کے گلے سے لگی تھی
“ہم تمہیں کبھی نہیں چھوڑے گا تم میں ہمارا جان بستا ہے تم ہمارا محبت ہمارا غیرت ہمارا عزت ہے تم زویا داود خان ہے۔۔۔۔”
وہ بولنے کے ساتھ اس کے سر پر پیار بھی کر رہا تھا

“لیکن حویلی والے۔۔۔۔”
وہ اس سے تھوڑا پیچھے ہوتی اس سر پر لٹکی تلوار کے بارے دریافت کرنے لگی تھی
“حویلی والوں نے کہا ہے تم کو ڈھونڈھ کر ہم سب کے سامنے طلاق دے اور پھر وہ تمہارا جان لے لے گا۔۔۔۔۔”
“آپ نے کیا کہا پھر۔۔۔۔؟”
وہ اٹھ کر بیٹھتے ہوئے پوچھنے لگی تھی

“ہم نے جو بھی کہا لیکن تمہارا جان لینے سے پہلے ان کو داود کا لاش گرانا ہو گا۔۔۔۔”
وہ اس کے بےترتیب بالوں کو سہی کرتا بولا تو وہ خاموش ہو گئی تھی
“اب تم اس گھر میں رہے گا ہم بھی روز آئے گا کوئی بھی آئے تم دروازہ مت کھولنا ہمارے پاس دوسرا چابی ہے ہم خود کھول لیا کرے گا ضرورت کا ہر چیز موجود ہے۔۔۔”
وہ بیڈ سے اٹھتا ہوا بولا اور پیروں میں شوز پہننے لگا تھا

“آپ کہاں جا رہے ہیں۔۔۔۔؟”
وہ بھی بیڈ سے اٹھی تھی
“ابھی ہمیں جانا ہو گا ہم رات میں آئے گا تمہارے ساتھ ہی گزارے گا۔۔۔۔”
وہ جھک کر ماتھے پر پیار کرتا اس کی گال تھپتھپائی اور مسکراہٹ اچھالتا داخلی دروازے کی جانب گیا تھا زویا بھی اس کے پیچھے لپکی تھی اور اس کے جاتے ہی ہدایات کے مطابق دروازے کو اچھے سے لاک کیا تھا زویا کے چہرے سے مسکراہٹ نہیں جا رہی تھی وہ بہت خوش تھی کم از کم داود اب اسے کسی حال میں بھی نہیں چھوڑے گا وہ اس سے بےپناہ محبت کرتا ہے اسی لیے وہ ان لوگوں سے نکال کر اسے الگ تھلگ لے آیا تھا
………………………………
زوراشہ زویا کی وجہ سے آدھ منہ ہو گئی تھی جب سے آفشاں نے اسے فون کر کے بتایا تھا کہ داود زویا کو طلاق دینے کے لیے راضی ہو گیا ہے تب سے مزید پریشانی نے اسے آن گھیرا تھا الٹا پٹھان پر الگ سے غصہ جسے کوئی فرق ہی نہیں پڑ رہا تھا پٹھان ڈرائینگ روم میں ایک مہمان کے ساتھ موجود تھا اور اس کا دل کر رہا تھا کہ وہ ڈرائینگ روم میں جا کر پٹھان کا منہ توڑ دے لیکن محض اس کا دل ہی کر رہا تھا وہ اس پر عمل درامد کرنے کے متعلق سوچ بھی نہیں سکتی تھی کیونکہ وہ اپنے قہر سے اسے بھسم کرنے میں ایک پل کی بھی دیری نہ لگاتا

پٹھان کمرے میں داخل ہوا تو زوراشہ کو اگنور کرتا الماری کی جانب بڑھا تھا
“پٹھان زویا کے بارے معلوم ہوا کہاں ہے وہ۔۔۔۔؟”
وہ بیڈ سے کھڑی ہوتے پوچھنے لگی جس نے گردن موڑے ایک نظر اسے دیکھا پھر واپس الماری میں سے کچھ ڈھونڈھنے لگا تھا
“پٹھان میں کچھ پوچھ رہی ہوں۔۔۔۔”
وہ غصے سے بولی تھی لیکن آواز آہستہ تھی
“تمہارے فصول سوالات کے جوابات دینے کا میرے پاس وقت نہیں۔۔۔۔”
وہ ایک فائل نکالے اس میں کچھ کاغذات دیکھتے ہوئے مصروف سا بولا تھا

“آپ کی بہن لاپتہ ہے حویلی میں سب زویا کی جان لینے پر تل گئے ہیں لالہ طلاق دینے کے حق میں ہیں اور آپ کو یہ سب فضول لگ رہا ہے۔۔۔”
وہ غصے سے چلائی تھی
“ہممم۔۔۔۔۔”
اس نے محض “ہمم” بولنے پر ہی اکتفا کیا تھا زوراشہ نے غصے سے آگے بڑھتے اس کے ہاتھ سے فائیل کھینچتے بیڈ پر پھینکی تھی اس عمل کے باعث پٹھان کے غصے سے رگیں تن گئیں تھی اس نے سختی سے اپنی مٹھیاں بھینچیں تھی دماغ کی نسیں پھول گئی تھی کوئی اور ہوتا تو وہ اسے شوٹ کر چکا ہوتا لیکن یہاں بات زوراشہ کی تھی “کسی اور” کی نہیں

“یہ کیا گھٹیا حرکت ہے زوراشہ۔۔۔۔۔؟”
وہ غصے سے دھاڑا کہ زوراشہ کو اس کا غصہ دیکھتے اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا لیکن وہ فلوقت کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی
“تمہیں کچھ بکواس کر رہی ہوں میں سمجھتے نہیں تم۔۔۔۔”
“زوراشہ زبان کو لگام ڈالو سوچ سمجھ کر بولو کہیں میرے صبر کا پیمانہ لبریز نہ ہو جائے سمجھیں ۔۔۔۔۔”
وہ انگلی اٹھائے اسے وارن کر گیا تھا زوراشہ نے کڑوا گھونٹ بھرتے اسے دیکھا تھا

“زویا ناجانے کہاں ہو گی تمہیں اس کی زرا فکر نہیں۔۔۔۔”
وہ آواز کو آہستہ رکھتے بولی تھی یقیناً وہ اب اپنی آواز کو بلند کر کے اس سے بات کرتی کسی قسم کا رسک نہیں لے سکتی تھی
“اس کے لیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں مل جائے گی۔۔۔۔”
وہ اس سے دو قدم کے فاصلے پر کھڑا ہوتا خود بھی آہستگی سے بولا تھا لیکن لہجہ حددرجہ سنجیدہ تھا

“پٹھان پلیز کچھ کریں لالہ زویا کو طلاق دے دیں گے پلیز کچھ کریں ورنہ سب تباہ ہو جائے گا سب ختم ہو جائے گا۔۔۔۔”
وہ قدم قدم پیچھے لیتی نفی میں سر ہلائے بول رہی تھی
“شششش ریلیکس کچھ نہیں ہو گا۔۔۔۔”
اس نے ایک ہی چست میں اس کو بازو سے پکڑ کر قریب کرتے ریلیکس رہنے کا کہا تھا

“زویا کو بچا لیں لالہ طلاق دے دیں گے۔۔۔۔”
“ریلیکس کچھ نہیں ہوتا داود نہیں دے گا طلاق۔۔۔۔”
وہ اس کا چہرہ نرمی سے تھامے بولا تھا
“نن-نہیں جھوٹ تمہیں فکر نہیں لالہ نے سب کے سامنے طلاق کا کہا ہے اور خان خاناں نے کہا ہے جیسے ہی زویا ملی جان سے مار دیں گے اور۔۔۔”

“کوئی کچھ نہیں کرے گا زویا داود کے پاس ہے محفوظ ہے داود نے ہی اغواہ کروایا ہے۔۔۔۔”
پٹھان اس کی بات بیچ میں کاٹتا ہوا بولا تو وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی تھی
“یہ تم کیا کہہ رہے ہو۔۔۔۔؟”
وہ حیرت سے آنکھیں پھاڑے اسے پوچھنے لگی تھی
“وہی جو تم نے سنا ہے پٹھانی۔۔۔۔”
وہ بےاختیار جھک کر اس کی تھوڑی پر اپنا نرم گرم لمس چھوڑنے لگا تھا وہ ہوش میں آتی اس کے سینے پر ہاتھ رکھے اسے پیچھے دھکیلنے کی ناکام کوشش کرتے خود پیچھے ہوئی تھی جب کہ اس کی یہ کوشش پٹھان نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈالتے ناکام بنائی تھی اور اس کو گلے سے لگاتے حصار کو تنگ ترین کیا تھا

“کک-کیا کر رہے ہو موسیٰ میرا دم گھٹ رہا ہے۔۔۔۔”
وہ اس کی گرفت میں بن پانی کی مچھلی کی طرح مچلتے ہوئے پھولی ہوئی سانس سے بولی تھی
“موسیٰ سنائی۔۔۔سنائی نہیں دے رہا۔۔۔۔”
اس کا سانس بند ہو رہا تھا لیکن اس کی گرفت کم ہونے کی بجائے مزید مضبوط ہوئی تھی
“مم-موسیٰ۔۔۔۔۔”
زوراشہ کے منہ سے اب گھٹی گھٹی سی آواز نکلی تھی اس پر رحم کھاتے اس نے نرمی سے چھوڑا تھا اور شرارت بھری نگاہوں سے اسے تیز تیز سانسیں لیتے دیکھا تھا

“پٹھان تم۔۔۔۔”
وہ جارحانہ انداز میں اس کی جانب بڑھی لیکن پٹھان نے اس کا ارادہ بھانپتے اس کی دونوں کلائیوں کو اپنی گرفت میں لیا تھا
“اچھا تو مقابلہ۔۔۔۔”
وہ ایک آئبرو اچکائے شرارت بھری نظروں کے ساتھ شیطانی مسکراہٹ لبوں پر سجائے اس سے بولا تھا
“پٹھان تمہارا منہ توڑنے کو دل کر رہا ہے میرا۔۔۔۔”
وہ خفگی سے بولی تو اس نے ایک ہاتھ میں اس کی دونوں کلائیاں پکڑتے اپنی داڑھی کھجائی تھی اور اپنے ایک ہاتھ میں موجود اس کی دونوں کلائیوں کو دیکھا تھا

“جان تم میں ہے نہیں میرے ایک ہاتھ میں تمہاری دونوں کلائیاں سما گئی ہیں میری گرفت سے آزاد کروا نہ سکی اور باتیں دیکھو زرا منہ توڑ دوں گی مینڈکی کو بھی زکام ہونہہہ۔۔۔۔”
وہ اپنی باتوں سے اسے مکمل تپا چکا تھا وہ غصے سے ناک پھلائے اسے کھا جانے والی نظروں سے گھور رہی تھی

“تم مینڈک۔۔۔۔”
“اچھا اور کچھ۔۔۔”
وہ دھیرے سے ہنسا تھا
“جب تم کہتے ہو نہ کہ اچھا اور کچھ تو میرا دل کرتا ہے کہ۔۔۔۔”
“تمہارا دل رومینس کو کرتا ہے ہاں کیوں نہ کرے شوہر جو اتنا خوبرو جوان ملا ہے۔۔۔۔”
وہ اس کی بات اچکتے ہوئے فورا سے بولا تو وہ منہ کھولے اس کی بےباک بات پر اسے دیکھنے لگی تھی
“ابھی یہ بات فٹ ہے مینڈکی کو بھی زکام۔۔۔۔”
وہ آنکھیں چھوٹی کئیے بولی تھی

“میل ہوں میں مینڈک آئے گا۔۔۔۔”
“ہاں وہی مینڈک جو بھی ہو۔۔۔۔”
اس نے گویا آنکھ سے مکھی اڑائی تو پٹھان نے مسکرا کر نفی میں سر ہلایا اور اس کی کلائیوں کو چھوڑتا ڈریسنگ کی جانب گیا تھا اور پھر صوفے سے رومال اٹھائے سر پر باندھنے لگا تھا

“کہیں جا رہے ہو تم۔۔۔۔؟”
اس نے اس کو سر پر رومال باندھتے دیکھ پوچھا تھا جس نے اثبات میں سر ہلاتے آدھا رومال باندھنے کے بعد جیب سے فون نکالا تھا اور مسکرا کر موبائل کی سکرین دیکھی پھر واپس رومال باندھنے لگا تھا

“یہ مسکرایا کیوں جا رہا ہے ایسا کیا تھا موبائل میں۔۔۔۔۔”
وہ کمر پر ہاتھ ٹکائے لڑاکا عورتوں کی مانند آنکھیں چھوٹی کئیے پوچھنے لگی تھی
“کیوں تم نے بھی مسکرانا ہے۔۔۔۔”
وہ والٹ اٹھانے کے بعد چابی دراز میں دیکھنے لگا پھر سوچا شاید بہرام کے پاس ہے سو سر جھٹکتا زوراشہ کی جانب بڑھا تھا
“مجھے دیر ہو جائے گی کھانا کھا کر سو جانا۔۔۔۔”
ماتھے پر محبت سے لمس چھوڑتا پیچھے ہوا اور اس کی آنکھوں میں موجود ہزاروں سوالوں کو فلحال خدا حافظ کہتا کمرے سے نکلا تھا
………………………………