53.7K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

وہ لڑکھڑاتے قدم اور حلق کو آتی جان کے ساتھ ایک قدم پیچھے ہوئی تھی
“بابا۔۔۔۔۔”
پھولی سانس سے بولتی اسے اپنی آواز کسی گہری کھائی سے آتی سنائی دی تھی اور اس سے پہلے وہ ہوش میں آتی دروازے پر ہاتھ ڈالتی اسے بند کرنا چاہا کہ بہروز نے اس کا ارادہ بھانپتے بیچ میں کھڑے ہوتے دروازے کو بند ہونے سے روکا تھا اور زویا کا دروازے سے ہاتھ اٹھاتے ایک جھٹکے سے چھوڑا کہ وہ پیچھے کو گری تھی اس کے گرتے ہی بہروز دلاور اندر داخل ہوئے جب کہ کچھ گارڈز دروازے سے فاصلے پر کھڑے تھے

“تم کیا سمجھا تھا ہم سے چھپ کر بیٹھ جائے گا۔۔۔۔۔”
بہروز نے نیچے بیٹھتے اس کو بالوں سے دبوچتے کہا جس نے سسکتے ہوئے اپنے بال اس کی سخت ترین گرفت سے آزاد کروانے چاہے تھے اس کی گرفت اتنی سخت تھی کہ زویا کو ایسا لگا جیسے بال اس کے سر سے اکھڑ جائیں گے

“اس سے پوچھا اس کا وہ نامراد عاشق کہاں ہے۔۔۔۔؟”
دلاور نے پورا گھر دیکھتے جو کہ خالی تھا اس کے پاس آتا نحوست سے بولا
“بول میرا بچہ تیرا وہ خبیث عاشق کہاں ہے جس کے ساتھ تم بھاگا تھی۔۔۔”
بہروز اس کے بال چھوڑے گردن سے دبوچے بولا کہ اسے سانس لینا محال لگا تھا تو مطلب وہ بات سے بےخبر تھے جس کے ساتھ وہ آئی تھی وہ کوئی اور نہیں بلکہ داود تھا

“بتا۔۔۔۔”
بہروز ہاتھ کا دباؤ بڑھاتے بولا کہ زویا کو اپنی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھاتا ہوا محسوس ہوا
“لے چلو اس کو اس کا انجام پٹھان کے ساتھ ساتھ باقی سب مخالفین کے لیے بھی عبرت کا نشان بنائے گا……”
دلاور نے بہروز کے کندھے پر ہاتھ رکھے کہا تو بہروز نے ایک جھٹکے سے اس کے گلے کو چھوڑا کہ وہ اوندھے منہ گری بری طرح کھانسنے لگی اور تیز تیز سانس لینے لگی بہروز اسے بازو سے سختی سے پکڑتا اٹھایا اور باہر لانے لگا یہ تک دیکھے بنا کہ باہر گارڈز موجود ہیں اور دوپٹہ اس کے سر کیا جسم پر بھی سہی سے موجود نہ تھا اس کو باہر لاتے ہی گارڈز نے چیرہ جھکائے گاڑیوں کا رخ کیا تھا جب کہ وہ کسی کٹی ڈالی کی مانند ان کے ساتھ گھسیٹی گئی تھی
………………………………
“ناظرین ہم آپ کو بتاتے چلیں گے ایک اور ملک کا ناسور ایک اور دہشت گرد ہماری پاک فوج کی حراست میں جو کہ رات کے اندھیرے میں اپنے ایک گروہ کے ساتھ میجر عمیر کو قتل کرنے کے ارادے سے آتے خود ہی اسی کھائی میں گر گئے اس کا تمام گروہ جہنم واصل کرنے کے بعد ہمارے ہاک فوج نے ان کے سربراہ کو اپنی حراست میں لے لیا جہ ناظرین آج کی یہ تازہ ترین خبر تھی کہ۔۔۔۔۔”

پٹھان سینے پر ہاتھ باندھے کھڑا سامنے سکرین پر چلتی نیوز کو دیکھ رہا تھا جسے نیوز اینکر اپنی فراٹے دار چلتی زبان سے بیان کر رہی تھی وہ اور بھی کچھ بول رہی تھی جس پر پٹھان نے گہرا سانس بھرا تھا

“کیا حکم ہے پٹھان۔۔۔۔۔؟”
بہرام اس کے پیچھے آتا بولا تو پٹھان جو گہری سوچ میں مبتلا تھا یک دم چونکا تھا
“گاڑی نکالو۔۔۔۔۔”
سپاٹ لہجے میں کہتا وہاں سے نکلا تھا جب کہ بہرام نے اس کے حکم کی پیروی کرتے قدم اس کے پیچھے بڑھائے تھے۔۔۔۔
………………………………
بہروز زویا کو تقریباً گھسیٹتا ہوا حویلی کے اندر لایا اور ایک جھٹکے سے لاونچ میں چھوڑا کہ وہ اوندھے منہ زمین پر گری
“آ گیا بدکردار عورت۔۔۔۔۔”
زربینہ جو انہی کی منتظر تھی زویا کو دیکھتے تمسخرانہ انداز میں بولتی

“کیا کر رہا ہے خان۔۔۔۔؟”
آفشاں زویا کو یوں ملازمین کے سامنے دوپٹے سے بےنیاز اور بدتر حالت میں دیکھتی تڑپ اٹھی اور آگے بڑھتی اس پر چادر اوڑھی تھی
“آفشاں بتا دے اس کو کہ اس کے پاس زیادہ وقت نہیں جان کا امان چاہتا ہے سزا میں کمی چاہتا ہے تو اس خبیث کا نام بتا دے جس کے ساتھ بھاگ کر اس نے ہمارا عزت خاک میں ملایا ہے۔۔۔۔۔”
دلاور آگے بڑھتا قہر آلود انداز میں بولا تو آفشاں نے بےبسی سے زویا کو دیکھا جو آنسوؤں بہاتی نفی میں سر ہلا رہی تھی

“ہم کو تم پر یقین ہے بچے لیکن یہ نہیں سمجھتا۔۔۔۔۔”
آفشاں نرمی سے اس کے آنسوؤں صاف کئیے محبت سے بولی تھی اس کی آنکھوں میں بھی زویا کی حالت دیکھتے نمی اتری تھی

“جی بابا آپ نے کہا کہ ضروری۔۔۔۔۔”
داود جو اپنی رو میں بولتا لاونچ میں داخل ہوا تھا لیکن زویا کو سامنے زمین پر موجود دیکھ اس کے باقی کے الفاظ منہ میں ہی فب کر رہ گئے تھے وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے زویا کو دیکھنے لگا اس کو لگا جیسے زمین اس کے پیروں تلے سے سرک گئی ہو سامنے زویا تھی اس کی جان اس کا سب کچھ اس کی محبت دل میں ٹھیسوں کا سمندر اٹھا تھا

“تمہارا ہمارا عزت کا جنازہ نکالنے والا بہت محنت کے بعد مل گیا بس یہ ایک بار اپنے عاشق کا نام بتا دے پھر اس کو گولی تم ہی مارے گا۔۔۔۔”
دلاور بنا داود کے تاثرات نوٹ کئیے اپنی ہی بولتا لہجے میں موجود نفرت باہر نکال رہا تھا

“زویا۔۔۔۔۔”
داود سن ہی کہاں رہا تھا اس کی نگاہیں تو سامنے خود کو دیکھتی روتی زویا پر تھیں جو مسلسل روتی صرف اسے ہی دیکھے جا رہی تھی داود کا دل کیا وہ اسے اپنے ساتھ لیتا کہیں سے غائب کر دے لیکن اسے فلحال دماغ سے کام لینا تھا
داود نے اردگرد دیکھا جہاں ملازمین ایک دوسرے کے کانوں میں گھسے سرگوشیاں کر رہے تھے یہ سب دیکھتے اس کا دل کیا ملازمین کے ساتھ ساتھ اپنے باپ تایا کو بھی شوٹ کر دے غصے سے اس کے دماغ کی رگیں پھول گئی تھی

“تماشا ہو رہا ہے یہاں دفعہ ہو جائے سب۔۔۔۔۔”
داود ملازمین کو دیکھتا اس قدر بلند آواز میں دھاڑا کہ وہ وہ ڈر سے اچھلتے ایک سیکنڈ میں غائب ہوئے تھے اور پھر قہر آلود نگاہوں سے اپنے باپ تایا کو دیکھا

“کیا سے ملا یہ۔۔۔۔۔؟”
“ایک گھر میں چھپا بیٹھا تھا پر آخر کب تک چھپا رہتا ہماری نظروں سے تو ہوا میں موجود دوسری مخلوق بھی اوجھل نہ رہے یہ تو پھر معمولی سی انسان تھا۔۔۔۔۔”
بہروز خان کے لفظ لفظ سے تکبر جھلک رہا تھا جو داود کو ایک آنکھ نہ بھایا تھا

“ہم آج ہی اس کا کام تمام کرتے پٹھان کو۔۔۔۔۔”
“رک جائیں۔۔۔۔۔”
بہروز جو بولتا کڑے تیوروں سے زویا کی جانب بڑھا تھا کہ داود کی بلند و بالا آواز نے اس کی بات کاٹتے اس کے قدموں کو بھی روکا تھا

“یہ میرا گنہگار ہے سزا بھی ہم خود دے گا۔۔۔۔”
وہ نظروں میں محبت کا جہاں سموئے قدم قدم اس کی جانب لیتے بولا اور اس کے پاس نیچے بیٹھا تھا
“بچے یہ بےقصور ہے۔۔۔۔۔۔”
آفشاں نے داود کے خطرناک ارادے دیکھتے گویا منت کی تھی تو اس نے گردن موڑے اپنی ماں کو دیکھا
“جائیں یہاں سے جائیں۔۔۔۔”
پہلے آہستہ سے بولتا آخر میں چلایا تو وہ اٹھتی پیچھے ہوئی تھی

“تم کب تک میرے سے بچ سکتا تھا ۔۔۔۔”
اس نے نرمی سے زویا کو بالوں سے پکڑتے چہرہ خود کے چہرے کے قریب تر کیا تھا گرفت حددرجہ نرم تھی لیکن دیکھنے والے کو گماں ہوتا کہ جیسے گرفت میں چٹانوں سی سختی ہو زویا نے آنسووں بھری نگاہوں سے اس کی نگاہوں میں دیکھا تھا جن میں کیا کچھ نہ تھا ہمت تھی تسلی تھی محبت تھی حوصلہ تھا

داود نے اسے محبت سے فلائنگ کس دی تھی سب کی جانب اس کی پشت ہونے کے باعث کوئی اس کی حرکت نہ دیکھ سکا تھا زویا ہولے سے مسکرائی تھی تو داود بھی مسکرایا

“داود اچھی اس کو طلاق دے اتنی راتوں میں نجانے اس کے ساتھ کیا گل کھلاتے ہمارا منہ کالا کیا ہوگا۔۔۔۔”
زربینہ کی کڑی جلی بات پر داود کے لب سکڑے تھے اور زویا کو بالوں سے چھوڑتا بازو سے پکڑے زمین سے اٹھایا تھا

“ہم اس کو طلاق نہیں دے گا۔۔۔۔”
اس کے اعلانیہ انداز پر ان تینوں کو گہرا شاک لگا تھا
“یہ کیا بکواس کر رہا ہے طلاق دے ابھی کہ ابھی تاکہ اس خبیث کا نام جانتے اسے زمین میں زندہ گاڑ دیں۔۔۔۔۔”
دلاور نے دانت پیستے ہوئے داود سے کہا جس کے ماتھے پر بل پڑے تھے

“یہ ہمارا گنہگار ہے اس نے ہمارے ساتھ ہماری محبت ساتھ بےوفائی کی یے تو سزا جا حق بھی ہمارا بنتا ہے۔۔۔۔۔”
وہ ان تینوں کو باری باری دیکھتے بولا
“تو دے طلاق سزا میں یہی کرنا تھا تم۔۔۔۔۔”
بہروز داود کی بات سے نالاں ہوتے بولا تھا

“ہم اسے طلاق نہیں دے گا اسے ہم اپنے ساتھ رکھتے پل پل سزا دے گا کہ اس کا روح کانپ جائے گا موت کو ترسے گا پر نصیب نہ ہو گی روز ہر سیکنڈ ہماری جانب سے دی گئی ازیتوں سے مرے گا۔۔۔۔”
داود زویا کی جانب مڑتا مسکرا کر بولا اور پھر تاثرات سنجیدہ کئیے پلٹ کر ان تینوں کی جانب دیکھا تھا جو بےچینی سے پہلووں بدل گئے تھے

“ہمارا یہ آخری فیصلہ ہے ہمارے علاوہ کسی کو سزا کا حق نہیں اگر کسی نے سوچا بھی تو ہمارا گولی زویا سے پہلے اس کے سینے میں پیوست ہو گی اور تم۔۔۔۔”
وارن نظروں سے انہیں دیکھتے ہوئے بولتا زویا کو بازو سے کھینچے اس کی جانب مڑا

“تم میرے کمرے میں رہے گا اب تمہیں بتاوں گا شوہر کے ساتھ غداری کا انجام۔۔۔۔۔”
سرگوشانہ انداز میں کہتا اس کا بازو پکڑے اپنے ساتھ لیتا سیڑھیوں کی جانب بڑھا تھا

“آپ نے داود کو روکا کیوں نہیں۔۔۔۔؟”
زربینہ بہروز کو دیکھتے غصے سے بولی
“سزا کا حق وہ چاہتا ہے تو ہمارا خاموش رہنا بہتر تھا ورنہ وہ ناجانے کیا کر گزرتا۔۔۔۔”
بہروز نے فلحال زربینہ کو ٹالنا چاہا کیونکہ وہ خود ابھی داود کی بات کا مطلب سمجھنے سے قاصر رھا جبکہ زربینہ ان دونوں کے ایک کمرے میں رہ کر سزا دی ے پر مطمئن نہیں تھی کوئی نہ کوئی گڑبڑ تھی جس کا پتہ اب زربینہ کو لگانا تھا کیونکہ وہ کسی صورت ان دونوں کو اکھٹا نہیں دیکھ سکتی تھی
………………………………
داود نے زویا کو کمرے میں لاتے دروازے کو لاک کیا اور پلٹ کر ایک ہی چست میں اس تک پہنچتا اس کی گردن میں ہاتھ ڈالے چہرہ قریب تر کئیے اس کے گلاب لبوں پر اپنے تشنہ لب رکھتے ان کو مکمل گرفت میں لیا تھا اس اچانک افتاد پر زویا کو اپنا سانس مکمل بند ہوتا محسوس ہوا تھا جیسے جیسے لمحہ گزرتا داود کی سختی میں نرمی آئی تھی اور پھر کچھ دیر بعد وہ اس پر رحم کھاتا چہرہ اٹھایا تھا البتہ پیچھے نہیں ہوا تھا جب کہ وہ آنکھیں بند کئیے گہرے سانس لیتی اپنی سانسوں کو بحال کر رہی تھی

“تم کو بہت تکلیف دیا نہ انہوں نے دوبارہ کوئی ایسا گستاخی نہیں کرے گا میری جان یہ وعدہ ہے داود دلاور خان کا۔۔۔۔”
وہ اس کے پھٹے ہونٹ کو انگوٹھے کی مدد سے سہلاتے بولا جہاں خون جم چکا تھا
“آپ سچ میں مجھے سزا دیں گے۔۔۔۔؟”
وہ جواب جاننے کے باوجود قلب کے سکون کے لیے دوبارہ پوچھ بیٹھی تھی
“ہاں دوں گا محبت بھری سزا۔۔۔۔”
وہ اس کی تھوڑی کو ہولے سے دانتوں سے چھوئے بولا

“میں بہت ڈر گئی تھی۔۔۔۔۔”
یک دم کچھ دیر پہلے کا سوچتی وہ سسکی تھی تو داود نے اسے خود میں بھینچا تھا
“میرے ہوتے ڈرنے کا ضرورت نہیں۔۔۔۔۔”
وہ اس کی گردن پر اپنی گرم سانسیں بکھیرتا اس پر اپنا لمس چھوڑے بولا تو وہ مزید اس کے ساتھ چپکتی اس کی قربت میں سب بھولنے لگی تھی
………………………………
زوراشہ صوفے پر بیٹھی مسلسل پٹھان کو دیکھ رہی تھی جس کی بھاری سانسیں اس بات کی علامت تھیں کہ وہ سو چکا ہے اس کے سو جانے کی مکمل تسلی کرتے وہ اٹھی اور دھیرے سے سائیڈ ٹیبل سے اس کا موبائل اٹھاتی ایک نظر سوئے ہوئے پٹھان کو دیکھ کر بنا آواز پیدا کئیے کمرے سے نکلی تھی

“میں بھی دیکھتی ہوں کون ہے جس سے میری جان میری جان کر کے بات کرتا ہے یہ میرا بدتمیز شوہر۔۔۔۔”
وہ خود سے بڑبڑاتی بند دروازے کو دیکھا اور فون ان لاک کیا تھا وہ اس کا لگایا پاسورڈ پہلے ہی دیکھ چکی تھی کیونکہ وہ اکثر اس کے سامنے اپنا فون ان لاک کرتا تھا

“کدھر گئی کنٹیکٹ لسٹ اگر پٹھان اٹھ گیا نہ تو تیری روح پرواز کروانے میں ایک پل کی بھی دیری نہیں لگائے گا۔۔۔۔”
وہ کنٹیکٹ لسٹ کھولتے خود سے ہی بڑبڑائی تھی

“کیا کر رہی ہو۔۔۔۔؟”
وہ جو اپنے دھیان میں کھول رہی تھی پیچھے سے آتی آواز پر یک دم اچھلی تھی