53.7K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 30

زوراشہ اپنے کمرے میں بیڈ پر لیٹی چھت کو گھور رہی تھی آنسووں آنکھوں سے پھسلتے کچھ بالوں میں جذب تو کچھ تکیہ اپنے اندر ان آنسووں کو سمو رہا تھا اس کی جان پھانسی پر لٹکی ہوئی تھی بار بار یہ سوچتے کہ موسیٰ کو کل پھانسی کی سزا سنائی جائے گی اگر اسے معلوم ہوتا موسیٰ یہ کر بیٹھے گا تو وہ کبھی بھی اسے یہ سب چھوڑنے کو نہ کہتی

جب کہ دوسری جانب پٹھان کا بھی یہی حال تھا وہ جیل میں موجود زمین پر لیٹا اوپر جالوں سے بھری چھت کو دیکھتا سوچوں کا مرکز کچھ اور تھا اسے اللہ پر پورا یقین تھا کیونکہ موسیٰ نے آج تک کبھی کسی بےگناہ کی جان نہیں لی تھی اس نے خود کے تمام الزامات اسی لیے قبول کئیے کہ یا تو سزائے موت پاتے وہ زوراشہ کو بچا سکتا تھا یا پھر رہائی پاتے وہ ان تمام جرموں سے نجات پانے کے بعد ہمیشہ کے لیے زوراشہ کو یہاں سے لیتا غائب ہو جاتا جہاں صرف وہ دونوں ہوتے
معاملہ صرف آر یا پار کا تھا اور نوے فیصد چانسسز پھانسی کے تھے جسے وہ زوراشہ کی خاطر دل و جان سے قبول کر بیٹھا تھا
………………………………
زوراشہ رات آٹھ بجے مردہ جسم لیے بیڈ سے اٹھی تھی ایک دن میں ہی اس کی حالت بدتر ہو گئی تھی وہ پہلے والی زوراشہ کسی صورت نہیں لگ رہی تھی
اس نے کمرے کو دیکھا جو بالکل صاف تھا پھر مردہ قدموں سے الماری کی جانب گئی اور اس میں سے سرخ رنگ کا فراق نکالا تھا یہ رنگ پٹھان کو بہت پسند تھا دماغ گے گوشوں میں ماضی کی ایک جھلک گونجی تھی

“قربان تم ایسا کرو تمام سوٹ سرخ خرید لو ہر وقت ریڈ ڈریسز پہنا کرو۔۔۔۔۔”
پٹھان زوراشہ کی الماری کھولے اس کے نیلے کالے سوٹوں کو دیکھ کر زوراشہ سے بولا جو بیڈ پر بیٹھی ناخن تراش رہی تھی
“مجھے خاص پسند نہیں سرخ رنگ۔۔۔۔”
وہ ناک چڑھائے بولی تھی
“لیکن تمہارے شوہر کو تو بےتحاشا پسند ہے نہ۔۔۔۔”
وہ اس کی الماری بند کئیے اپنی الماری کھولے بولتا اندر سے رومال نکالنے لگا

“کیوں تمہیں کیوں یہ ڈیش رنگ پسند ہے۔۔۔۔۔؟”
وہ اب پیروں کے ناخن تراشتے اس سے پوچھنے لگی
“کیونکہ یہ رنگ خون سے ملتا جلتا ہے اس سے متشابہ رکھتا ہے اور خون تو پٹھان کی جان ہے جنون ہے۔۔۔۔۔”
پٹھان پیچھے پلٹتے اسے دیکھتے ایک جذب سے بولا تو اس نے جھرجھری لی جبکہ اس کے یوں جھرجھری لینے پر اس کے لب مسکرائے تھے
“ڈراتے کیوں ہو پٹھان۔۔۔۔۔”
اس نے گلا تر کرتے کہا تو پٹھان کا قہقہ گونجا

یہ قہقہ اسے آج بھی کہیں کمرے میں سنائی دیا تھا زوراشہ کی آنکھوں میں پھر سے نمکین پانی جمع ہوا تھا اس نے تلخی سے اس یاد کو جھٹکا تھا اور اس سوٹ کو سینے سے لگاتی واشروم میں گھس گئی تھی

دس منٹ کے وہ نم بال کمر پر ڈالے نم چہرہ لیے واشروم سے نکلی اور شیشے کے سامنے کھڑی ہوتی وہاں موجود چیزوں کو ادھر ادھر کرنے لگی

اسے نہیں معلوم تھا پٹھان آئے گا یا نہیں بھلا وہ کیسے آ سکتا تھا جیل سے نکل کر اتنے کڑے پہرے پر اور اس پر تو پہرا ڈبل تھا اس کا وہاں سے نکل کر اس کے پاس آنا ناممکن سے بھی ناممکن تھا لیکن پھر بھی اسے اس کی بات ماننی تھی اس کے لیے خود کو سجانا تھا سنوارنا تھا وہ آئے نہ آئے اسے خود کو اس کے رنگ میں رنگانا تھا اس کی بات کا پاس رکھتے اس کے لیے تیار ہونا تھا

ان تمام چیزوں کو دیکھتے اس کا دل کیس خود کا چہرہ ان چیزوں سے بےدردی سے رنگ دے لیکن وہ ایسا نہیں کر سکتی تھی اسی لیے نم دھندھلائی آنکھوں سے میک اپ کرنے لگی اور ریڈ بلڈ لپسٹک اٹھائے اسے اپنے لبوں کی زینت بنایا تھا اور پھر کمرے سے نکلتی گارڈن کی طرف گئی تھی اتنا بڑا پورا گھر سنسان پڑا تھا آفشاں بھی زویا کے ساتھ تھی وہ لوگ اس کے ساتھ ہی تھے لیکن اس نے تنہا رہنے کو کہا تو وہ اس کو خیال رکھنے کا کہتے چلے گئے تھے اور گھر میں گارڈ تو دور کی بات کوئی فی میل ملازمہ بھی نہیں تھی
وہ گارڈن سے چند سرخ پھولوں کو توڑ کر لاتی بیڈ پر سجائے تھے اور ایک گلاس میں ٹھنڈا پانی بھرتی اس میں چند پتیاں ڈالے بیڈ پر بیٹھی آگے پیچھے ہوتی سوئیوں کو ٹکٹکی باندھے دیکھنے لگی تھی
………………………………
زوراشہ کی ویسے ہی ناجانے کب آنکھ لگی اسے اندازہ بھی نہ ہو سکا تھا اچانک اسے اپنے چہرے پر گرم سانسیں اور لمس کے ساتھ بالوں میں نرماہٹ سی محسوس ہوئی تو جانے پہچانے لمس پر وہ ہوکے سے کسمسائی اور دھیرے سے آنکھیں کھولیں تو خود پر جھکے شخص کو دیکھتے اسے اپنی آنکھیں پر یقین نہ ہوا تھا اسے لگا وہ کوئی خواب دیکھ رہی ہو اس نے نیند سے سرخ آنکھوں کو سختی سے میچے کھولا تھا کہ شاید یہ خواب یے ٹوٹ جائے لیکن وہ چہرہ وہی کا وہی تھا جو اسے دلچسپ نگاہوں سے دیکھ رہا تھا

“پپ-پٹھان۔۔۔۔۔”
وہ اس پکارتے اس کے سینے سے لگتی بلک بلک کر رونے لگی جبکہ اس نے اس کے گرد حصار باندھتے اس کو بہت تنگ کیا تھا اور آنکھیں موندیں اس کی قربت محسوس کرنے لگا تھا

“من-مجھے نہیں معلوم تھا تم سچ میں آجاو گے مم-مجھے یقین نہیں ہو رہا تت-تم ہو۔۔۔۔وہ اس سے الگ ہوتی منہ پر دونوں ہاتھ رکھے نم آنکھوں سے حیرت سے بولی رہی تھی اور دوبارہ اس کے سینے سے لگی تھی اور پھر دوبارہ پیچھے ہوتی اس کے چہرے کو تھاما تھا جو مسکرا کر اسے دیکھ رہا تھا

“تم کیسے آئے پٹھان مطلب۔۔۔”
“شششش…..”
وہ جو حیرت سے یہ سوال کر رہی تھی کہ اس کا سوال مکمل ہونے سے پہلے اس نے انگلی اس کے لبوں پر رکھتے خاموش کروایا تھا
“میں نے اپنے قربان سے کہا تھا میں آونگا تو بھلا پٹھان بھی کبھی اپنی بات سے مکرا ہے خاص کر وہ بات وہ وعدہ جو اس نے اپنی شریک حیات سے کیا ہو۔۔۔۔”
وہ انگلی کی مدد سے اس کے لبوں پر لگی ریڈ بلڈ لپسٹک کو خراب کرتی اردگرد پھلاتے نظریں ان پر ٹکائے بولا تھا

“میں تمہیں بہت یاد کر رہی تھی۔۔۔۔”
وہ اس کی انگلی پر اپنے لب رکھتی اس کے ہاتھ کو تھامے سوں سوں کرتے بولی اور وہ کیسے آیا اس سوال کو دفع کیا تھا اسے کیا لینا دینا وہ کیسے آیا وہ اگیا تھا یہی اس کے لیے کافی تھا
“میں نے بھی تمہیں بہت یاد کیا جان من۔۔۔۔”
وہ مزید اس کے قریب ہوتا اس کے چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں بھرا تھا اور اس کے ماتھے پر مہر ثبت کی تھی

“پٹھان۔۔۔۔۔”
زوراشہ اسے خود پر دھیرے دھیرے قابض ہوتے دیکھ اس کا نام پکارا تھا جس نے چہرہ اٹھائے بہکی نگاہوں سے اسے دیکھا تھا
“کل کیا ہو گا۔۔۔۔؟”
اس نے لب کچائے پوچھا تھا
“جو منظور خدا ہو گا وہی ہو گا۔۔۔۔۔”
اس نے اس کے گلے میں موجود دوپٹہ اتار کر زمین پر پھینکتے کہا تھا
“مجھے ڈر لگ رہا ہے کل کہیں تم مجھ سے جدا نہ ہو جاو میں مرجاونگی پٹھان کیوں کیا تم نے ایسا۔۔۔۔؟”
وہ اس کا گریبان کو اہنے مٹھیوں میں جکڑے پھر سے رو دی تھی

“ایک بار مرنا اچھا یا روز روز اس دلدل میں مرنا اچھا بتاو۔۔۔۔؟ایک بار کا مرنا اچھا ہے میری جان ورنہ یہ لوگ ہم دونوں کو محبت سے رہنے نہ دیتے میں یہ سب چھوڑ بھی دیتا تو یہ لوگ مجھے پھر بھی سزائے موت دلوانے کے لیے پوری زندگی لگا دیتے۔۔۔۔”
پٹھان نے اس کے آنسووں کو نرمی سے صاف کرتے ہوئے کہا

“پھر ہمیں یہ جو آج لمحہ نصیب ہوا ہے یہ بھی نہ ہوتا ایک گینگسٹر کی زندگی یہی ہے میری جان کیا کبھی کسی گینگسٹر کو بھی امن سے رہنے دیا ہے جس نے بےتحاشا قتل کئیے ہوں کیا وہ یوں بنا کسی چیز کے آزاد رہ سکتا ہے کیا یہ سب بہت ضروری تھا یہ سب میں نے تمہارے لیے کیا ہے ورنہ اگر میں یہ سب نا چھوڑتا تو عدالت پولیس میں ہمت نہ تھی میری طرف نگاہ اٹھا کے بھی دیکھ لے۔۔۔۔۔”
وہ اپنی بات مکمل کئیے دوبارہ اس پر جھکا تھا وہ جو دوبارہ کچھ پوچھنے والی تھی کہ پٹھان کا ہاتھ اپنے منہ پر رکھنے سے خاموش ہو گئی تھی

پٹھان اس کے ساتھ ہر لمحہ ہر سیکنڈ بہت یادگار گزار رہا تھا وہ نہیں جانتا تھا یہ اس کے ساتھ گزاری آخری رات ہے یا اس کے بعد بھی وہ اس کے ساتھ رہے گا وہ یہ سب سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا اور نہ زوراشہ کو سوچنے دینا چاہتا تھا وہ مکمل اسے اپنی قربت میں قید کر دینا چاہتا تھا

“میں تمہارے لیے ایک چیز لایا ہوں۔۔۔۔۔”
کچھ توقف کے بعد پٹھان اس سے دور ہٹتا بولا تو وہ بھی بالوں کو ٹھیک کرتی اٹھی تھی اور اشتیاق سے اسے دیکھنے لگی جو جیب سے کچھ نکال رہا تھا جیب سے گن نکلتے دیکھ اس نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس گن کو دیکھا تھا جس نے مسکرا کر اسے صوفے پر اچھالا اور دوسری جانب سے ایک خوبصورت باریک تار اور ایک نگ والا لاکٹ نکالا تھا

“کیسا ہوا یہ۔۔۔۔۔؟”
اس نے وہ لاکٹ اس کے سامنے لہراتے ہوئے پوچھا جس کی آنکھوں میں پسندیدگی کی چمک اٹھی تھی
“بہت خوبصورت۔۔۔۔”
زوراشہ اسے انگلیوں کی پوروں سے چھوتے بولی تو اس نے مسکرا کر اس کا رخ موڑتے گردن سے اس کے بال ہٹاتے اس لاکٹ کو پہنایا تھا اور وہاں پر اپنے لب رکھتے اسے پیچھے سے باہوں میں بھرا تھا اور ویسے ہی اسے باہوں میں بھرتے بیڈ پر لیٹتا اوپر تک اسکے اور اپنے اوپر کمبل تان لیا تھا
………………………………
صبح زوراشہ کی آنکھ کھلی تو پورا کمرہ خالی تھا سوائے پٹھان کی خوشبو کے وہاں اس کے علاوہ کوئی نہ تھا اس نے اہنے برابر میں دیکھا جہاں پھول کی چند پتیاں تھی اسے لگا یہ سب خواب ہے لیکن گلے میں موجود پٹھان کا دیا لاکٹ اور جسم ہر موجود پٹھان کی قمیض اس بات کی علامت تھی کہ وہ خواب نہیں سب حقیقت تھا اس نے لاکٹ کو انگلی کی مدد سے اٹھائے اس ہر اپنے لب رکھے اور پٹھان کی پہنی قمیض کی بازو کو ناک کے قریب لے جاتے اس کی خوشبو محسوس کرنے لگی تھی وہ جو اپنے کی خوابوں میں کھوئی ہوئی تھی فون کی بجتی بیل پر وہ اچھلی تھی اور فون دیکھا جہاں داود کی کال آ رہی تھی

اس نے بنا دیری کئیے فون اٹھایا تھا
“جی لالہ…..”
زوراشہ گہرا سانس بھرتے بولی تھی
“میں کچھ دیر میں آ رہا ہوں ریڈی ہو جاو کورٹ میں جانا ہے ہمیں۔۔۔۔۔”
داود نے زویا کے کپڑے الماری سے نکالتے کہا تو زوراشہ نے افسردگی سے اوکے کہتے فون رکھا تھا اور بیڈ سے اٹھتی زمین سے اپنے کپڑے اٹھا کر سائیڈ ہر رکھتی الماری سے دوسرا سوٹ نکالا تھا اور جلدی سے واشروم میں فریش ہونے چلی گئی تھی
………………………………
آج پھر پٹھان کو کٹہرے میں لایا گیا تھا جو کل کی نسبت آج بہت نکھرا نکھرا اور فریش لگ رہا تھا وجہ کل رات زوراشہ کی قربت تھی سر پر بندھے رومال سے نکلے ماتھے پر بکھرے بالوں کو ایک ادا سے پیچھے کرتے زوراشہ کو دیکھا جو ٹک ٹکی باندھے است ہی دیکھ رہی تھی اس کے دیکھنے پر وہ چہرہ جھکا گئی تھی پھر پٹھان نے جج کو دیکھا جو آج پریشان لگ رہا تھا اس نے سر جھٹکا اس کا کیا لینا دینا تھا جج سے

ایک پولیس آفیسر جج کے پاس آیا اور اس کے کان میں کچھ کہا جا نے پٹھان کو دیکھتے گہرا سانس بھرا تھا اور پھر سر کو اثبات میں ہلایا
“مقدمہ شروع کرنے سے پہلے میں ایک بات مسٹر پٹھان سے کہنا چاہوں گا کہ آپ کو جو بھی سزا سنائی جائے اس سے آپ باہر موجود بڑی تعداد میں عوام سے ہمدردی نہ لینا چاہیں گے یقیناً ایسا ہی ہو گا کیونکہ وہ عوام یہ چاہتی ہے آپ کو موت کی سزا نہ سنائی جائے لیکن یہاں وہی فیصلہ ہو گا جو حق ہے۔۔۔۔۔”
وہ بولتے بولتے رکا تھا اور پٹھان کو دیکھا جو داڑھی کھجائے اسے ہی دیکھ رہا تھا جیسے بتانا چاہ رہا ہو بولتے رہو مجھے تمہاری کسی بات میں کوئی دلچسپی نہیں

“یقیناً لوگ اپے سے باہر ہو چکی ہیں جن کو ہماری پولیس نے ایک وقت کے لیے روکا ہے میں حیران ہوں اتنے بڑے قاتل گینگسٹر ملک کے مشہور گینگسٹر کے لیے یہ عوام دعا گو کیوں ہے وہ کیوں آزادی چاہتی ہے خیر عوام اپنا بھلا نہیں سمجھتی۔۔۔۔”
جج آخر میں ٹھنڈی آہ بھر کر رہ گیا تھا

“عدالت شروع کی جائے۔۔۔۔”
جج کے حکم پر وہ وکیل سامنے آیا تھا اور سر کو خم دیا تھا
“کچھ بھی نہیں بچا بولنے کو جج صاحب حقیقت سامنے ہے مسٹر موسیٰ زار پٹھان اپنا جرم قبول کر چکے ہیں اور اتنے قتل کئیے ہیں کہ ان کی گنتی بھی نہیں یاد میری صرف اتنی درخواست ہے تمام بےگناہوں کا خود کا بدلا پٹھان کو سزا کی صورت دیا جائے شکریہ مائے لارڈ۔۔۔۔”
وہ وکیل اپنی بات کہتا پیچھے ہٹ گیا تھا

“آپ کچھ کہنا چاہیں گے اپنی صفائی میں مسٹر پٹھان۔۔۔۔۔؟”
وہ جج اب پٹھان کی جانب متوجہ ہوا جس نے نفی میں سر ہلایا تھا اس کے نفی میں سر ہلانے پر جج نے کچھ سوچتے اپنا قلم اٹھایا تھا یقیناً وہ فیصلہ لکھنے لگا تھا وہاں سب کی دھڑکنیں تھم گئیں تھی اور باہر عدالت کے سب اس بات سے منتظر تھے کہ ناجانے کیا فیصلہ ہو گا جج نے لکھنا شروع کیا تھا

“یہ عدالت موسیٰ زار پٹھان کے اعتراف جرم اور بےشمار ان گنت قتلوں پر اسے سزائے موت یعنی پھانسی کی سزا سناتی ہے۔۔۔۔”
الفاظ تھے یا پگھلا ہوا سیسہ جو ان کے کانوں میں انڈیلا گیا تھا