53.7K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 29

ا

سامنے ٹی وی پر چلتی نیوز رپورٹر کی فر فر چلتی زبان سے اس نے وحشت سے کانوں پر ہاتھ دھرے تھے وہ کیا کر بیٹھی اسے نہیں معلوم تھا پٹھان یہ کر گزرے گا اسے نہیں معلوم تھا وہ اس کی محبت اس کے لیے ایسا کر دے گا اس نے کہا تھا موت کے علاوہ اسے کوئی چیز اس دلدل سے نہیں نکال سکتی وہ سچ میں خود کو موت کے منہ میں دھکیل چکا تھا

داود ہڑبڑی میں گھر میں داخل ہوتا لاونچ میں پہنچتا زوراشہ کے پاس آیا تھا وہ جانتا تھا ابھی زوراشہ کس حال میں ہو گی اسی لیے وہ فوراً آ گیا تھا

“راشہ میرا بہن۔۔۔۔۔”
داود نے اسے کندھوں سے تھامے افسوس سے پکارا جو چند ہی منٹوں میں بےحال ہو گئی تھی
“لالہ پپ-پٹھان نے یہ کیا کر دیا میں ہوں قصور وار اس نے میری وجہ سے کیا ہے۔۔۔۔۔”
زوراشہ اس سے پہلے بےقابو ہوتی خود کے کو مارتی داود نے سختی سے اس کے ہاتھ پکڑتے اسے سینے سے لگایا تھا وہ خود پریشان تھا ابھی زویا کو مشکل سے سنبھالا تھا اس نے لیکن اسے لگتا تھا کہ زوراشہ کو سنبھالنا اس کے لیے مشکل ترین کام ہے

“جی ناظرین ہم آپ کو بتاتے چلیں مشہور گینگسٹر موسیٰ زار پٹھان نے بھری عدالت میں پیش ہوتے خود کی گرفتاری دے دی جی یہ ناقابل یقین بات سامنے آئی ہے کہ مشہور گینگسٹر، قاتل، ظالم ملزم نے خود۔۔۔۔۔”
اس سے پہلے نیوز رپورڑٹی کی فراٹے بھرتی آواز مزید بکواس(بقول داود) کے کرتی اس نے ریمورٹ سے اس کی چلتی بکواس بند کی تھی
………………………………
“جی موسیٰ زار پٹھان آپ کیا اس متعلق بتانا چاہیں گے کہ آپ نے اچانک ایسا کیوں کیا۔۔۔۔۔۔؟ کیا اقع آپ ایک بڑے گینگسٹر ہیں۔۔۔۔؟ کیا واقع آپ ایک قاتل ہیں۔۔۔۔۔؟”
بہت سے نیوز رپورٹرز عدالت کے سامنے موسیٰ کو گھیرے کھڑے تھے جو ان کا سوال اکتاہت سے سنتا خود کا کان کھجا رہا تھا

“نہیں میں سڑک چھاپ گنڈا ہوں اگر نہیں یقین تو میں آپ پر ایگزیمپل دے سکتا ہوں صرف اور صرف ایک گولی کا کام ہے بس پھر دوبارہ ایسے واہیات اور فضول سوال کرنے کے قابل نہیں رہیں گی آپ۔۔۔۔۔”
پٹھان کے سرد پتھریلے لہجے میں کہی بات پر اس نے تھوگ نگلا تھا اور فوراً پیچھے ہٹی تھی کہ کچھ نیوز رپورٹرز کا رخ دوسری اور ہوا جہاں گاڑی سے زوراشہ نکلی تھی زوراشہ اور پٹھان نے بےوقت ایک دوسرے کی طرف دیکھا ایک کی نگاہوں میں تڑپ تھی تو دوسرے کی نگاہوں میں تڑپ کے ساتھ شکوہ تھا

“آپ کیا کہننا چاہیں گی مسسز پٹھان آپ کے ساتھ آپ کے شوہر برا سلوک کرتے تھے جیسے باقیوں کے ساتھ کرتے یا پھر۔۔۔۔”
نیوز ایکنر کے سوال پر زوراشہ کا منہ غصے سے سرخ پڑ گیا تھا
“شٹ اپ۔۔۔۔۔”
وہ دو لفظوں میں ان کا منہ بند کرتی عدالت کے اندر بڑھ گئی تھی البتہ اس نے پٹھان کو دوبارہ نہ دیکھا تھا جس پر وہ گہری سانس بھر کر رہ گیا جبکہ زویا بھی زوراشہ کے پیچھے لپکی تھی داود اور بہرام خان نے پٹھان کی طرف جانا چاہا لیکن پولیس نے بیچ میں ہی روک دیا تھا
پٹھان نے ان دونوں کو آنکھوں سے اشارہ کیا تو پریشانی سے اسے دیکھنے لگے جو زوراشہ کی شکوہ کناں نظروں سے خائف ہو رہا تھا

اگلے دو منٹ میں وہ پولیس کے گھیرے میں موجود عدلت کے اندر داخل ہوا نظریں زوراشہ کی متلاشی تھیں جو زویا کی آڑ میں نم آنکھوں سے اس کا دیدار کر رہی تھی
پٹھان کے کٹہرے میں داخل ہوتے ہی اس کی نظر سامنے دشمن جاں پر پڑی جو رونے کی تیاری پکڑی ہوئی تھی اس نے آنکھوں سے کیا ہوا پوچھنے کا اشارہ کیا تو وہ خفگی سے چہرہ جھکا گئی تھی جبکہ پٹھان مسکرایا تھا اور دوسری اور دیکھا جہاں جج اپنے نشت پر آکر بیٹھا تھا

“خاموشی اختیار کریں۔۔۔۔۔”
بھری عدالت میں تیز ہوتی چہ مگیوں پر جج نے خاموش رہنے کا حکم دیا تو وہاں کمرہ عدالت میں خاموشی چھا گئی
“عدالت شروع کی جائے۔۔۔”
جج کے حکم پر ایک وکیل اٹھا تھا اور سر کو خم دیتا پٹھان کی جانب مڑا
“موسیٰ زار پٹھان مشہور گینگسٹر قاتل ملزم بےگناہ لوگوں کا مجرم کیسے ہو۔۔۔۔۔؟”
وہ وکیل سینے پر ہاتھ باندھے اس سے پوچھنے لگا

“تم کس کی طرف سے یہ سب کہتے مجھ سے ایسا سوال پوچھ رہے ہو۔۔۔۔؟”
موسیٰ کے ایک آئبرواچکا کر پوچھنے پر وہ گڑبڑایا تھا
“میں ان بےگناہ لوگوں کی طرف سے ہوں جن کو آپ نے قتل کیا میں ان بےسہارا لوگوں کی طرف سے ہوں جن کے سر کے سائبان کو آپ نے ان سے دور کیا میں ان کی طرف سے ہوں جن بچوں کو آپ نے یتیم کیا۔۔۔۔۔”
وہ وکیل بھری عدالت میں بلند آواز میں بولا تھا

“ہاہاہا اچھا بڑی بات ہے۔۔۔۔۔”
پٹھان اس کی چنگارتی آواز کو تحمل سے سنتا ہنستے ہوئے بولا تو وہاں موجود ہر شخص کو اس کی دماغی حالت پر شک سا ہوا تھا
“آپ یوں ہنس کر ہمارا مزاق نہیں بنا سکتے مسٹر موسیٰ زار پٹھان یہ عدالت کی توہین ہے۔۔۔۔”
اس وکیل نے اس کے ہنسنے پر چوٹ کی تھی

“یہ کون سے قانون میں لکھا ہے کہ عدالت میں ہنسنا عدالت کی توہین ہے۔۔۔۔۔”
پٹھان کے انداز ابھی بھی نارمل اور تحملانا تھا جیسے یہاں مزاق چل رہا ہو
“قانون ہم نے پڑھا ہے ہم قانون کو بہتر جانتے ہیں مسٹر پٹھان۔۔۔۔”
اس وکیل نے بڑے غرور سے خود کے سینے پر انگلی رکھے کہا تھا

“جس قانون کو تم لوگ پڑھ کر یہاں پہنچے یو نہ وہ موسیٰ زار پٹھان کا ہی لکھا ہوا ہے اور پٹھان کا اپنا قانون اپنے رولز ہیں۔۔۔۔۔”
پٹھان چٹانوں سی سختی اپنے لہجے میں لیے سنجیدہ نگاہوں سے اس کو دیکھتے بولا جو اس کی سرد نگاہوں سے گھبراتے رخ پھیر گیا تھا عدالت میں ایک بار پھر سے شور اٹھا تھا
“آرڈر آرڈر خاموش ہو جائیں۔۔۔۔۔”
جج کے دوبارہ حکم پر وہ شور مدھم ہوتا ختم ہو گیا تھا

“آپ اپنی حد میں رہیں موسیٰ زار پٹھان یہ عدالت آپ کے زیر اثر نہیں جو یوں جو چاہے بولیں۔۔۔۔”
جج نے پٹھان کو تنبیہ انداز میں کہا
“یہ عدالت کس لیے لگی ہے۔۔۔؟ یہ وکیل کس لیے۔۔۔؟ یہ مقدمہ کس لیے۔۔۔؟”
پٹھان جج کی جانب مڑتا سوال داغنے لگا
“آپ بھول رہے ہیں مسٹر پٹھان آپ اپنا وکیل بلائیں جو آپ کا کیس لڑے اور ایسے سوال وہ کرے آپ نہیں۔۔۔۔۔”
جج کی بجائے وہ وکیل اس سے بولا تھا

“میں ہوں اپنا وکیل میں خود خود کی جانب سے بولوں گا اور ایسے سوال میں کیوں نہیں کر سکتا کیس میرا ہے کسی اور کا نہیں تو ظاہری بات میں ہی کرونگا یا میری بجائے کسی تیسرے نے سولی پر لٹک جانا ہے۔۔۔۔۔”
پٹھان ہاتھ اٹھائے بولا اور آخر میں تمسخرانہ انداز میں بولتا اسے لاجواب کر گیا تھا ایک بار پھر سے شور گونجا تھا جو دو منٹ تک خاموش کروا دیا گیا تھا

“کیا یہ قانون کے خلاف ہے جج صاحب۔۔۔۔۔؟”
اب کہ اس نے جج سے پوچھا جس نے گھورتے ہوئے نفی میں سر ہلایا تو پٹھان سر کو خم دیتے مسکرایا تھا
“تو بتائیں کس لیے ہے یہ مقدمہ۔۔۔؟کس لیے یہ عدالت لگی ہے۔۔۔۔؟”
اب پٹھان اس وکیل سے مخاطب تھا
“آپ سے اعتراف جرم کروایا جا سکے آپ کو سزا دی جا سکے۔۔۔۔”
اس وکیل نے اپنی جانب سے لاجواب کر دینے والا جواب دیا تھا

“میں اپنے جرم کا اعتراف پہلے ہی کر چکا ہوں خود اعتراف جرم کرتے عدالت میں پیش ہوا ہوں دے دیں سزا تمام جرم قبول کرتا ہوں تو اب کیسا کیس۔۔۔۔؟”
اس کی بات پر زوراشہ نے نفی میں سر ہلائے اسے دیکھا تھا جبکہ داود کا دل کیا اپنا سر پیٹ لے اور بہرام خود منہ کھولے پٹھان کو دیکھ رہا تھا

“ان تمام جرموں کو قبول کرنے کی وجہ۔۔۔۔؟”
“چلو مجرم قبول نہ کرے تب مسئلہ اگر کر لے تب مسئلہ آخر تم لوگوں کا مسئلہ کیا ہے عدالت چاہتی کیا ہے جرم کو قبول کروانا کر لیا قبول اب کیوں کیا جرم قبول اس پر بھی مسئلہ۔۔۔۔”
پٹھان گہرا سانس بھرتے بولا تھا
“سوال کرنا ہمارا حق ہے اور جواب دینا آپ کا فرض ہے مسٹر موسیٰ زار پٹھان۔۔۔۔”
اس وکیل نے چباتے ہوئے کہا تھا

“ویسے بھی تو پولیس عدالت موسیٰ زار پٹھان کے پیچھے ماری ماری پھر رہی تھی ویسے بھی تو ناکارہ پولیس اتنے عرصے سے میرے خلاف ثبوت اکھٹے کر رہی تھی میں نے صرف ان پر ترس کھاتے ان کی مشک اسان کی ہے۔۔۔۔”
اس نے کندھے اچکاتے کہا
“بات مت گھمائیں میرا سوال ابھی بھی وہی ہے جواب دیں جو بات کہی ہے اس کو تفصیل سے سمجھائیں۔۔۔۔”
وہ وکیل اس کے ہاتھوں مکمل زچ ہو کر رہ گیا

“میں جواب دے چکا ہوں سمجھدار کے لیے اتنا ہی کافی ہے اور کم عقل کو پوری کتاب بھی لکھ دو تو وہ اخر میں یہی کہے گا کہ سمجھ میں نہیں آیا۔۔۔۔”
“مسٹر پٹھان۔۔۔۔۔”
اس قدر توہین ہر وہ وکیل سرخ چہرہ لیے تقریباً چلایا تھا

“پوائنٹ ٹو بی نوٹٹڈ جج صاحب یہ بھری عدالت میں بےمقصد چلا رہے ہیں جبکہ یہ ایک مجرم سے سوال کر رہے ہیں اور مجرم خود کا وکیل بنتا صرف جواب دے رہا یے۔۔۔۔”
پٹھان اب معصومیت کے تمام رکارڈ توڑتا جج کی جانب گھوما تھا جو خاموشی سے سب سن اور دیکھ رہا تھا

“جج صاحب اگر آپ اجازت دیں تو میں مسسز پٹھان کو کٹہرے میں چند سوالات کے لیے بلانا چاہوں گا۔۔۔۔”
وکیل ہاتھ میں تھامے کچھ پیپرز کو ٹیبل پر رکھے دونوں ہاتھوں کو اپس میں ملائے جج سے اجازت طلب کرنے لگا

“کس لیے۔۔۔۔؟ کیسے سوال۔۔۔۔؟کیسے وکیل ہو تم میں جرم قبول کر چکا ہوں اب کیسے سوال میری شریک حیات سے۔۔۔۔”
اب کہ پٹھان کے ماتھے پر بل ڈلے تو وہ غصے سے بولا
“اپنے غصے کو قابو میں رکھیں مسٹر پٹھان یہ عدالت ہے آپکا گھر نہیں۔۔۔۔۔”
جج صاحب نے دوبارہ سے تنبیہ کی تھی

“آہہہ پٹھان ہونا بھی کوئی آسان کام نہیں ہر وقت خون کو گرم رکھنا پڑتا ہے۔۔۔۔۔”
پٹھان نے گہری سانس بھرتے کہا تھا کیونکہ کب کس بات سے دماغ شاٹ ہو جائے پتا نہیں چلتا
“جج صاحب۔۔۔۔”
اس سے پہلے وکیل بولتا جج نے خاموش رہنے کا اشارہ کیا
“عدالت کا وقت ختم ہوا جاتا ہے باقی کا فیصلہ کل تمام باتوں اور مسٹر موسیٰ زار پٹھان کے اعتراف جرم پر عدالت اپنا فیصلہ سنائے گی تب تک موسیٰ زار پٹھان کو پولیس کے گھیرے میں باحفاظت جیل لے جایا جائے۔۔۔۔”
پٹھان واتحانہ انداز میں مسکرایا تھا کیونکہ وہ یہی تو چاہتا تھا کہ عدالت کا وقت ختم ہو جائے جبکہ یہی ہوا تھا وکیل نے دانت کچائے پٹھان کو دیکھا تھا جس نے مسکرا کر ایک آنکھ اسے دبائی تھی جج جا چکا تھا اب پٹھان کی زندگی کس فیصلہ کل ہونا تھا سب یہ بات بخوبی جانتے تھے کہ کل پٹھان کو سزائے موت سنائی جائے گی

پٹھان پولیس کے گھیرے میں عدالت سے باہر نکلا تو دھیرے دھیرے عدالت خالی ہوئی تھی

“پٹھان۔۔۔۔۔”
زوراشہ عدالت سے بھاگ کر باہر نکلتی اسے پکارا تو وہ رکا تھا اور پلٹ کر اسے دیکھا جو نم آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی پٹھان کے ہاتھ کے اشارے پر وہ بھاگتی ہوئی اس کے پاس آتی سینے سے لگی تھی یہ سب اتنی جلدی ہوا کو پولیس کو اسے روکنے کا موقع ہی نہ ملا وہاں لوگوں کے ساتھ ساتھ نیوز رپورٹر بھی دوبارہ سے شروع ہو چکیں تھی اور ان کی دھڑا دھڑ پکس لینے لگے تھے

پولیس نے ان کو روکنا چاہا لیکن پٹھان کی گھوری اور داود اور بہرام کے بیچ میں آنے پر وہ دو منٹ کا کہتے پیچھے ہوئے تھے

“موسیٰ تم نے ایسا کیوں کیا۔۔۔؟”
وہ روتے ہوئے بول رہی تھی
“تم نے کہا تھا یہ سب چھوڑ دوں۔۔۔۔”
وہ سرگوشانہ آواز میں بولا
“یہ سب چھوڑنے کو کہا تھا مجھے ہمیشہ کے لیے چھوڑنے کو نہیں سب جانتے ہیں کل تمہیں سس-سزائے موت۔۔۔”
اس کے رونے میں مزید روانی آئی تھی
“کل کی کل دیکھیں گے اللہ نے چاہا تو کل وقت بدل جائے گا خیر میری بات سنو جان من میری دلربا۔۔۔۔۔”
وہ مزید اس کے قریب ہوتا اس کے کان میں بولا تھا جبکہ باقی سب تجسس سے انہیں دیکھ رہے تھے جن کو خاک بھی سنائی نہیں دے رہا تھا

“آج رات خود کو بہت خوبصورت تیار کرنا کمرے کو سجانا میں آوں گا رات کو خوبصورت بنائیں گے ایک دوسرے کی باہوں میں بہکیں گے ایک دوسرے کی قربت میں مر جائیں گے۔۔۔۔”
اس کے بولنے کی وجہ سے اس کے ہونٹ زوراشہ کے کان سے مس ہو رہے تھے

“فنا ہو جاوں گا میں تجھ میں میری فنائے جاناں۔۔۔۔۔”
وہ اس کی گال سے لب ٹچ کرتے بولا وہ بھول گیا تھا وہ ایک بھرے مجمعے میں موجود ہیں

“ناظرین آپ دیکھ رہے ہیں شرم کو ایک سائیڈ پر رکھے کیسے ایک دوسرے کے قریب سرگوشیاں کر رہے ہیں ناجانے اب کونسی نئی پلیننگ کو ترتیب دی جا رہی ہے آپ کو اس پر ایکشن لینا چاہیے۔۔۔۔۔”
وہ لڑکی مائیک ہاتھ میں تھامے ان کو آنکھیں پھاڑ کر دیکھتی بول رہی تھی

“بچے کی پلیننگ کر رہے ہیں فالتو میڈیا اب ہسبنڈ وائف کی کوئی پرائیویسی بھی ہوتی پر جن کی خود کی کوئی پرائیویسی نہ ہو وہ دوسروں کی پرائیویسی کو کیسے سمجھیں گے گھٹیا میڈیا۔۔۔۔”
اس لڑکی کی بات سنتا پٹھان زوراشہ کو خود سے الگ کرتا غصے سے دھاڑا تھا کہ وہاں یک دم خاموشی چھا گئی جبکہ وہ لڑکی احساس توہین سے نکس سا منہ لے کر رہ گئی تھی پٹھان کے رومینٹک موڈ کس وہ بری طرح ستیاناس کر گئی تھی

پٹھان نے گہرا سانس بھرے انہیں اگنور کرتے زوراشہ کے ماتھے پر پیار کیا اور زویا کا چہرا تھپتھپاتے پولیس کے ساتھ وہاں سے چلا گیا تھا