No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
یہ خوبصورت سورج جو پورا دن اپنی چمک دیکھاتا جو عروج کی حدوں کو چھوتا ہے لیکن شام ڈھلتے ہی یہ بھی اپنے زوال کو پہنچ جاتا ہے کیونکہ اسے بھی عشق ہے چاند سے٫ چاند کو عروج بخشنے کے لیے وہ ہٹ جاتا ہے تھوڑا پیچھے کہ دیکھ سکے اپنے عشق کو یوں رات کی تاریخی میں چاروں سو اپنا حسن بکھیرتے
یہ عشق کمبخت ہوتا ہی ایسا ہے کہاں خیال رہتا ہے خود کی ذات کا اس میں تو بس یہ ہے کہ میں کچھ نہیں “سب تو ہی تو ہے”
ناجانے وہ کتنے سالوں بعد یا یوں کہو ایک عمر گزارنے کے بعد کھلے آسمان کی نیلی چادر تلے بیٹھا اپنے سامنے تاروں نیں گھرے اس مکمل چودھویں کے چاند کو تک رہا تھا اس نے چاند کو دیکھتے دیکھتے ایک گہرا سانس بھرا گویا ہر چیز سے تھک گیا ہو صرف سکون چاہتا ہو بس
بہرام خان جو ساری سیکیورٹی چیک کرتا گارڈن میں تازہ ہوا لینے آیا تھا پٹھان کو وہاں یوں بیٹھے دیکھ چونکا تھا چونکنا بھی برحق تھا بھلا اس نے اس عرصے میں کب یوں پٹھان کو بیٹھے دیکھا تھا وہ بھی خاص تر چاند کو تکتے
“بہرام خان سوچوں کو جھٹکتے ہوئے جس لیے آئے ہو وہ کام کر سکتے ہو۔۔۔۔”
پٹھان کی آواز پر وہ مزید چونکا پھر سر جھٹکا جانتا تھا وہ اس کی آہٹ سے جان چکا تھا
“آپ آج یہاں کیا کر رہا ہے۔۔۔؟”
وہ پٹھان سے تھوڑا فاصلے پر کھڑے ہوتے پوچھنے لگا تھا جس نے اس کے سوال پر اپنا چہرہ جھکائے تھکا سا سانس لیا تھا
“تھک گیا ہوں میں بہرام خان دنیا کو اپنی آنکھ سے جلا کر راکھ کر دینے والا دل میں جلتی آگ کو کیسے بھجائے اس سلگتی آگ نے میرے تن بدن کو جھلسا کر رکھ دیا ہے…”
وہ اپنے دل میں اٹھتے طوفان کی زد میں آیا بہرام خان سے کہتا اپنا دل ہلکا کر رہا تھا اور اس کے الفاظ سنتے بہرام خان کی حیرت کی انتہا نہ رہی تھی وہ جو چٹانوں سی مضبوطی رکھنے والا شخص تھا یوں خود میں چھڑتی جنگ میں الجھا ہوا تھا کوئی بھی نہیں سوچ سکتا
پٹھان کرسی سے اٹھا تھا اور ایک نظر اسے حیرت میں مبتلا دیکھا تو ہونٹوں پر تبسم پھیلتے ختم ہو گیا تھا
“یوں مراقبے میں مت جاو سو جاو۔۔۔”
وہ یہ کہتا اس کے پاس سے گزرا تھا
“آپ کہاں جا رہے ہیں۔۔۔؟”
وہ بےاختیار پوچھ بیٹھا تھا
“اس سلگتی آگ کو بھجانے۔۔۔۔”
پٹھان کی بات سنتے وہ جھنجھلایا تھا اس سے پہلے وہ مزید کچھ بولتا پٹھان کا سایہ بھی اس کی نظروں سے اوجھل ہو گیا تھا
………………………………
رات کا دوسرا پہر چل رہا تھا پر مجال ہے کہ زوراشہ کو نیند آن گھیرے وہ دس بجے سے لیٹی سونے کی کوشش نیں ہلکان ہو رہی تھی اور رات کا دوسرا پہر شروع ہو گیا تھا اسے یوں ایک سے دوسری جانب کروٹیں بدلتے وہ سختی سے آنکھیں میچیں لیٹی نیند کو خود پر مہربان کروانے کی کوشش کر رہی تھی
“تم موسیٰ زار پٹھان کی ملکیت ہو بیوی ہو تم پٹھانی ہو میری پٹھان کی پٹھانی۔۔۔”
کان میں گونجتے پٹھان کے الفاظوں نے اسے پٹ سے آنکھیں کھولنے پر مجبور کر دیا تھا
“موسیٰ زار پٹھان۔۔۔۔”
اس نے زیر لب اس کا نام بڑبڑایا تھا
“جی میری جان۔۔۔۔۔”
اپنے کان کے قریب سرگوشانہ آواز سنتے اس کے حلق سے چینخ برامد ہوئی لیکن موسیٰ نے بروقت اس کے منہ پر اپنا بھاری برکم ہاتھ رکھتے اس دل خراش چینخ کو روکا تھا
زوراشہ پانچ سو کی سپیڈ سے دھڑکتے دل اور خوف سے پھیلی آنکھوں ہلکے لیمپ کی روشنی سے اپنے اوپر جھکے پٹھان کو دیکھ رہی تھی جو خاموشی سے اس سہمی ہرنی کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا
“یوں سہمے سہمے لفظوں میں میرا نام پکار کر اس کی توہین مت کیا کرو میرا نام پورے حق سے اپنی اس زبان سے ادا کیا کرو۔۔۔۔”
وہ اپنی ہتھیلی اس کے ہونٹوں سے پھیرتا ہٹا چکا تھا جب کہ ابھی بھی وہ خوف کی ماری اس کو دیکھ رہی تھی ہوش میں آتی فوراً اس کو پیچھے کرنا چاہا تھا لیکن وہ اس زرا برابر بھی وہاں سے ہلا نہ سکی تھی
“موسیٰ پلیز یہاں سے چلے جاو اگر کسی نے دیکھ لیا تو قیامت برپا ہو جائے گی۔۔۔”
وہ خوف سے پہلے دروازہ اور پھر اسے دیکھتے بولی تھی
“اسی قیامت کا تو منتظر ہوں میں بھی تو دیکھتا ہوں کون پٹھان کے سینے میں کتنی گولیاں اتارنے کی ہمت رکھتا ہے۔۔۔”
وہ بےخوفی سے بولا تھا
“سمجھنے کی کوشش کرو پٹھان بڑے ابا لالہ کسی نے بھی نے دیکھ لیا تو جان لے لیں گے آپ کی۔۔۔”
وہ خوفزدہ تھی اس کے لیے خوفزدہ تھی جس کی آنکھوں میں خوف کی رمق تک نہ تھی
“ڈر رہی ہو میرے لیے یہ خوف پٹھان کی بیوی ہوتے تم پر شبہ نہیں دیتا دوبارہ یہ خوف نہ دیکھوں۔۔۔”
اس کی بات پر زوراشہ نے بےبسی سے اسے دیکھا تھا جو اسے بالکل نہیں سمجھ رہا تھا
“اور رہی بات خان خاناں کی تو وہ محض گرج ہی سکتے ہیں برسنا ان کا کام نہیں یا یوں کہو ان کو آج تک کبھی برسنا آیا ہی نہیں۔۔۔۔”
وہ اپنے کو اس کی گال پر دھیرے سے پھیرتے بولا تھا
“وہ آپ کے بابا ہیں پٹھان۔۔۔۔”
اس نے اپنی گال پر سرایت کرتی اس کی انگلی کو تھامے آنکھیں پھیلائے کہا تھا
“تو تم میری بیوی ہو قربان۔۔۔”
وہ اپنی اگلی سمیت اس کا ہاتھ اپنے لبوں تک لے جاتا اسی کے انداز میں بولا
“بیوی مت کہا کرو وہی بیوی جسے یہاں چھوڑ کر چلے گئے تھے اور کیا کہا تھا سب کے سامنے کہ طلاق نامہ بھجوا دو گے۔۔۔۔”
وہ بھرائی آواز میں بولتی اپنا ہاتھ کھینچ چکی تھی
“تمہیں یہاں سے لے بھی جاوں گا وہ بھی سب کے سامنے۔۔۔”
“مجھے تم پر یقین نہیں۔۔۔۔”
وہ دو ٹوک انداز میں بولی تو اس کے ہونٹ مسکرا اٹھے تھے
“قابلِ داد حوصلہ ہے تمہارا میری پٹھانی کہ چہرہ خوف سے تمتما اٹھتا ہے اور زبان
زبان ہے کہ بولتے وقت زرا سا نہیں لڑکھڑاتی۔۔۔”
وہ ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیرے لہجے میں دنیا جہاں کی سختی سمیٹے بولتا اسے پل میں خوف کی گہری کھائی میں گرا گیا تھا وہ اس شخص کو سمجھنے سے قاصر تھی جو پل میں کیسا تو پل میں کیسا
اس سے پہلے وہ کچھ بولتی باہر سے قدموں کی چاپ سنائی دی تھی اور اسی کے ساتھ زوراشہ کی جان بھی حلق کو آئی تھی جب کہ اس کے برعکس پٹھان پرسکون تھا
“پپ-پٹھان۔۔۔۔”
وہ ہکلائی تھی
“ہممم جانان۔۔۔۔”
وہ پرسکون سا اس کی گال چھوتے بولا تھا
“پٹھان جائیں یہاں سے مم-مجھے لگتا ہے کوئی یہی آ رہا ہے پلیز جائیں پٹھان کسی نے دیکھ لیا پلیز۔۔۔”
وہ ہکلاتی آنکھوں میں آنسووں لیے اس سے کہہ رہی تھی جو ماتھے پر بل ڈالے اسے دیکھ رہا تھا
“ریلیکس زوراشہ۔۔۔۔”
اس نے اپنا لہجہ بہت مشکل سے نارمل رکھتے کہا تھا زوراشہ کی نظریں دروازے کی جانب تھیں کیونکہ قدموں کی چاپ دروازے کے سامنے رکی تھی
“پلیز جاو یہاں سے۔۔۔۔”
وہ اس کی قمیض کو دبوچے بولی تھی
“خاموش ریلیکس کچھ نہیں ہوتا۔۔۔۔”
وہ اس کو تھوڑی سے تھامے اس کا رخ خود کی جانب کئیے پیار سے بولا تھا لیکن وہ بار بار نفی میں سر ہلاتی اسے جانے کا کہہ رہی تھی
“زوراشہ۔۔۔۔”
پٹھان آہستہ آواز میں بولا لیکن لہجہ تنبیہ تھا جو زوراشہ نے محسوس نہ کیا تھا
“پٹھان میں تمہیں کھونا نہیں چاہتی جاو کسی نے دیکھ لیا آپ کی جان لے لیں گے اور۔۔۔۔۔۔”
زوراشہ جو روتے ہوئے اسے جانے کے پرتول رہی تھی لیکن اگلے ہی لمحے پٹھان نے گن نکالے اس کے ہونٹوں پر رکھتے اس کی زبان کو بریک لگائی تھی زوراشہ خوف سے آنکھیں پھیلائے کبھی پٹھان تو کبھی ہونٹوں پر ٹکی گن کو دیکھ رہی تھی
قدموں کی دوبارہ سے ہوتی آواز پر پٹھان نے دروازے کی جانب دیکھا جو دھیرے دھیرے مدھم ہو رہی تھی اور کچھ ہی پلوں میں ختم ہو گئی تھی آواز کے ختم ہوتے ہی پٹھان نے کڑے تیوروں سے ڈری سہمی زوراشہ کو دیکھا تھا
“ایک بات کان کھول کر سنو اگر یہ خوف ڈر آنسوؤں مجھے تمہارے چہرے پر دوبارہ نظر آئے تو اس گن کی ساری گولیاں تمہارے منہ میں اتار دوں گا سمجھی۔۔۔۔”
وہ چہرہ قریب کرتے غرا کر بولتا اس کے رونگٹے کھڑے کر گیا تھا
“مجھے زہر لگتے ہیں وہ لوگ جو خوف کو اپنی کمزوری بنائے دوسروں کو خود پر سوار کرنے کا موقع دیتے ہیں اور۔۔۔۔”
وہ غصے کی زیادتی سے اپنا تپتا سرخ چہرہ لیے بولتا بولتا رکا تھا اور اس کی آنسووں بھری آنکھوں میں دیکھا
“اور میں پل پل خوف سے جینے سے بہتر ایک ہی پل میں اس کا خوف ختم کرتے دنیا سے رفع دفع کرنے کا قائل ہوں چاہے وہ میری شریک حیات ہی کیوں نہ ہو۔۔۔۔”
زوراشہ خود کے چہرے پر محسوس کرتی اس کی سانسوں سے یوں محسوس کرنے لگی گویا اگلا سانس ہی اس سے چھین لیا گیا ہو یا شاید یہ اس کا وقت آخر چل رہا ہو کیونکہ پٹھان نہایت خطرناک ارادوں سے اسے دیکھ رہا تھا پٹھان کی گن ہونٹوں سے سرکتی اس کی تھوڑی تک ائی اور اس کی مدد سے اس کا چہرہ اٹھایا تھا
“سمجھی یا ایک اگزیمپل سے سمجھاوں۔۔۔۔”
پٹھان اس پر خود کا خوف طاری کئیے خود کے سینے میں سکون اترتا محسوس کر رہا تھا
“مم-میں تت-تمہارے لیے ڈڈ-ڈر۔۔۔۔۔”
وہ بامشکل اتنا بولتی سسکی بھر گئی تھی لیکن اس کی بات پر اس نے ایک آئبرواچکائے اسے دیکھا تھا
“دوبارہ نہیں صرف اتنا زہن میں رکھو اللہ کے بعد میرے علاوہ کسی کا بھی خوف تمہارے دل میں نہ ہو۔۔۔۔”
وہ گن کو دھیرے دھیرے اس کی تھوڑی پر پھیرتے بولا تھا
“اور سب سے اہم جب ایک بات کہی ہے کہ خاموش زوراشہ تو مطلب خاموش مطلب پٹھان پر یقین کرو میری جان ناکہ رو پیٹ کر جس نے نہیں بھی سننا اسے بھی سنا دو۔۔۔”
وہ اب گن اس کی گردن پر لاتے سمجھانے کے انداز میں بولا جیسے سامنے دس سالہ بچی ہو ناسمجھ بچی جسے پیار محبت ڈرا کر سمجھایا جائے اس نے سختی سے اپنی آنکھیں میچیں تھی
“کیا سب ٹھیک نہیں ہو سکتا۔۔۔۔؟”
وہ بند آنکھوں سے ہی بہت ہی مدھم آواز میں بولی جسے پٹھان بامشکل سن پایا تھا
“پٹھان خدا کے لیے سب ٹھیک کر دو۔۔۔۔”
وہ آنکھیں کھولتی ہچکیاں بھرتے بولی تھی وہ خاموش تھا خاموشی سے اس کا چہرہ تک رہا تھا
“پٹھان بولو نہ تم کیوں ہو گئے ایسے کیوں سب کو بنا لیا اپنا دشمن کیوں مجھے تکلیف دے رہے۔۔۔”
وہ سسکیاں بھرتی اپنا دل ہلکا کر رہی تھی
“میں فلحال کسی قسم کے جواب کا متحمل نہیں ہو سکتا اور مت کرو اپنے آنسوؤں ضائع ورنہ گھر کے موجود ہر فرد کو اپنے دل میں اٹھتی آگ میں جھلسا کر خاکستر کر دوں گا۔۔۔۔”
آنسوؤں کو نرمی سے صاف کرتا پیچھے ہوا اور بیڈ سے اتر کر اسے دیکھا تھا جو چٹ لیٹی سمندر سے گہری آنکھوں میں ہیروں سے بھی قمیتی موتی جگمگاتے اسے دیکھ رہی تھی
“تم آئے کیسے تھے۔۔۔۔؟”
اس کو دروازے کی جانب بڑھتے دیکھ اس نے یاد آنے پر پوچھا تھا
“کمرے میں داخل ہونے کا سب سے بہترین راستہ شاید دروازہ ہی ہے۔۔۔۔”
وہ دروازے کی جانب اشارہ کرتا اپنے خوبصورت بالوں میں ہاتھ پھیر گیا تھا جو رومال کی قید سے آزاد اردگرد پھیلے ہوئے تھے
“اتنے کڑے پہرے میں کیسے آئے۔۔۔۔؟”
اس نے رونا بھولے لہجے میں دنیا جہان کی حیرت سموئے کہا
“تمہارے پٹھان کے لیے کچھ مشکل نہیں اتنی چھوٹی چھوٹی باتوں پر حیران ہو گی تو میرے مزید کارنامے سنتی یقیناً تمہارے بیڈ کے ساتھ ڈرپ رکھنی پڑے گی کیونکہ تمہیں بےہوشی کے دورے پڑیں گے۔۔۔۔”
پٹھان اپنے الفاظوں سے طنز کا تیر چلاتا روم سے نکلا تھا جب کہ اس کی بات سنتے وہ منہ کھولے اسے دیکھنے لگی پھر اپنے دانت کچائے تھے
“بدتمیز مجال ہے جو بیوی کو کبھی سیدھا جواب دے دے۔۔۔۔۔”
خود سے بڑبڑاتی کڑتی جلتی واپس لیٹی تھی لیکن پریشان بھی تھی کہ کوئی دیکھ ہی نہ لے
………………………………
پٹھان زوراشہ کے کمرے سے نکلا کہ نظر ساتھ والے کمرے کی جانب اٹھی جس کا ہلکا سا دروازہ کھلا تھا جس سے روشنی باہر کو جھانک رہی تھی اس کے قدم غیرارادائی طور پر اس کمرے کی جانب اٹھے اور اس ہلکے سے کھلے دروازے سے اندر جھانکا جہا بیڈ پر موجود وجود شاید خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہا تھا
ہولے سے دروازہ کھولتے وہ اندر داخل ہوا تھا اور بنا کوئی قدموں کی چاپ پیدا کیا وہ بیڈ کے قریب جاتا اس پر بیٹھتے اس وجود کو دیکھا تھا اس نے ہاتھ بڑھائے دھیرے سے اس کے سر پر پھیرا تھا
“کافی وقت کے بعد تمہیں دیکھ رہا ہوں تمہارا چہرہ مرجھا چکا یے لیکن میں سب ٹھیک کرونگا تم دیکھنا تمہارا چہرا پھر سے کھل اٹھے گا۔۔۔”
وہ دھیرے سے اس کے ماتھے پر لب رکھتے من ہی من میں سوچ رہا تھا وہ لڑکی جو کچی سی نیند میں سو رہی تھی یوں کسی کو قریب دیکھ کر گڑبڑاتے اٹھی تھی اور آنکھیں کھولتی فورآ پیچھے ہوئی لیکن موسیٰ کو دیکھتے وہ شاید پلک جھپکنا بھول گئی تھی
“موسیٰ۔۔۔۔۔”
وہ ہوش میں آتی فوراً اس کے سینے سے لگی تھی
“موسیٰ کیسے ہیں آپ٫ آپ کب آئے آپ کتنے کمزور لگ رہے ہیں۔۔۔۔”
وہ پیچھے ہوتی اس کے چہرے کو چھوتے بولی تو وہ مسکرایا تھا
“زویا میری جان تم مجھے چھوڑو صرف خود کا دھیان دو تم خود کو ٹھیک رکھو گی تو موسیٰ بھی ٹھیک رہے گا۔۔۔۔”
وہ دنیا جہان کی نرمی لہجے میں سموئے بولا اس کا کوئی آدمی اس کو اس لہجے میں بات کرتے دیکھتا تو یقیناً غشی جا دورہ پڑ جاتا
“آپ کو بہت یاد کرتی ہوں موسیٰ۔۔۔۔”
وہ سوں سوں کرتے دوبارہ اس کے سینے سے لگی تھی اور یہ منظر ان دونوں کے علاوہ کوئی تیسرا بھی تھا جسے دیکھتے آنکھ میں مرچی لگ گئی تھی سینے میں اٹھتی جلن آنکھوں میں چبھتی مرچی اور دماغ میں خولتا خون لیے وہ وہی سے واپس مڑی تھی ناجانے کون سی قیامت تھی جو اب درپیش تھی
