No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
زربینہ خان جلی کڑتی کمرے میں داخل ہوئی تو سامنے اپنے خاوند کو خواب خرگوش کے مزے لوٹتے دیکھ اس نے دانت پیسے تھے اور دوپٹے کے کونے کو ہاتھ پر گرائے قدم بیڈ کی جانب بڑھائے تھے
“خان خاناں اٹھیں۔۔۔۔”
زربینہ نے آواز کو بلند رکھتے اس کا کندھا ہلائے کہا تو وہ ایک دم سے گڑبڑا کر اٹھا اور زربینہ کو قہر برساتی نظروں سے دیکھا جو اس سے دگنا طیش کے عالم میں اسے دیکھ رہی تھی
“کیا قیامت برپا ہو گئی ہے جو ہمارے گھر کی عورتوں کی آواز یوں بلند ہونے پر مجبور ہو گئی ہے۔۔۔۔”
اس نے اپنا غصہ قابو کرتے کہا
“آپ یہاں غفلت کی نیند پڑے رہیں اور وہاں آپ کا سپوت آپ کی ناک کے نیچے کڑے پہرے کے باوجود اس حویلی میں داخل ہونے کے ساتھ ساتھ آپ کی بہو سے بھی مل چکا ہے۔۔۔۔”
اس کی آواز میں زرا فرق نہ آیا تھا
“یہ کیا بکواس کر رہی ہو ہوش گنوا بیٹھی ہو کیا موسیٰ زار پٹھان کبھی اس حویلی میں میرے ہوتے داخل نہیں ہو سکتا۔۔۔۔”
وہ طیش کے عالم میں بیڈ سے اٹھتے ہوئے بولا
“وہ آپ کے ہوتے ہی اس حویلی میں کیا آپ کی بہو کے کمرے میں بھی داخل ہو گیا ہے میں اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آ رہی ہوں آپ محض باتیں ہی کر سکتے ہیں۔۔۔۔”
اس نے پہلوو بدلتے آگ کے بھڑکتے شعلوں کو مزید بھڑکایا تھا بہروز خان مٹھیاں بھینچتا اپنی گن نکالی تھی یقیناً وہ آج اپنے اکلوتے بیٹے کی جان کے در پر تھا
“موسیٰ زار پٹھان۔۔۔۔۔”
بہروز خان کمرے سے نکلتا پوری قوت سے اس کا نام لیتے چلایا تھا
“موسیٰ۔۔۔۔۔”
اس کا نام دوبارہ اپنی زبان سے لیتے سامنے دیوار میں ایک فائر کیا تھا
موسیٰ جو کمرے میں بیٹھا زویا سے باتیں کر رہا تھا اپنے نام کی پکار پر چونکا اور پھر گولی کی آواز پر گہرا سانس بھر کر رہ گیا تھا
“موسیٰ آپ یہاں سے جائیں جلدی بابا کو آپ کے آنے کا خبر ہو چکا ہے۔۔۔۔”
زویا آنسوؤں کو صاف کرتے بولی تو وہ خاموشی سے بیڈ سے اترتا کمرے سے باہر جانے لگا کہ زویا نے اس کا ہاتھ پکڑا تھا
“موسیٰ نہیں۔۔۔۔”
اس نے نفی میں سر ہلایا تو موسیٰ نے اپنا ہاتھ چھڑواتے اس کا ہاتھ پکڑا اور بنا اس کی سنے روم سے نکلا تھا
زوراشہ جو گولی کی آواز پر ہڑبڑا کر اٹھتی دوپٹہ خود پر اوڑھتی کمرے سے نکلی تھی کہ ساتھ والے کمرے سے زویا اور پٹھان کو دیکھتے دیکھ اس کا دل حلق کو آیا تھا
“پپ_پٹھان ابھی تک تم یہی ہو۔۔۔۔”
وہ فوراً اس کی جانب بڑھتے پریشانی سے بولی
“پٹھان آپ میرے کمرے کی کھڑکی سے چلے جائیں کوئی نہیں دیکھے گا لیکن بڑے پاپا نے قیامت کھڑی کر دینی ہے پلیز جائیں ان کو تمہاری موجودگی کا علم ہو گیا ہے۔۔۔۔”
بار بار موسیٰ کا گونجتا نام سنتے زوراشہ نے بولتے ہوئے اس کا ہاتھ پکڑا اور کمرے میں لے جانا چاہا
“چپ ہو جاو دونوں۔۔۔۔”
وہ زویا کے نان سٹاپ بہتے آنسووں اور زوراشہ کی چلتی زبان سے اکتا کر بولا تھا اور دوبارہ سے اپنا نام سنتے وہ مزید اکتایا تھا
“یار خان خاناں میں صبر نہیں۔۔۔”
وہ گہرا سانس بھر کر نفی میں سر ہلاتا سیڑھیوں کی جانب قدم بڑھائے تھے زویا اور زوراشہ کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اسے کہیں غائب کر دیں جو نڈر سا اب نیچے جا رہا تھا
“زوراشہ چلو۔۔۔”
زویا زوراشہ کو بت بنا دیکھ بولی اور اس کا ہاتھ پکڑتے پٹھان کے پیچھے جانے لگے
“موسیٰ زار پٹھان باہر نکلو ورنہ تمہاری بیوی کو جان سے مار دونگا۔۔۔۔”
بہروز نے ایک اور گولی ہوا کے سپرد کرتے چلا کر کہا
“کوئی اتنی اوقات لے کر پیدا نہیں ہوا کہ پٹھان کے ہوتے اس کی بیوی کو کوئی ہاتھ لگا سکے اور یار کیا خان خاناں یوں ایسے کیوں اتنا چلا رہے ہو بہرا نہیں ہوں میں۔۔۔۔”
وہ پہلے چٹانوں سی سختی لئیے بولتا آخر میں کان کھجائے دھیرے سے سیڑھیاں اترتے بولا تھا بہروز اپنے سامنے موسیٰ کو دیکھتے گویا پاگل ہو گیا ہو اس کا دل کیا وہ گن میں موجود تمام گولیاں پٹھان کے سینے میں پیوست کر دے
“تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی میری حویلی میں داخل ہونے کی ہاں۔۔۔۔۔؟”
وہ گن کا رخ اس کی جانب کئیے بولا جو اس کی بات سنتا آخری سیڑھی پر رکا تھا اس سے کچھ سیڑھیاں اوپر زویا اور زوراشہ بھی کانپتی ٹانگوں کے ساتھ ایک دوسرے کو تھامے کھڑیں تھی
“آپ کی حویلی ہونہہ۔۔۔۔؟”
اس نے ایک ائیبرواچکائے پوچھا تو بہروز گڑبڑا اٹھا تھا
“یہ حرام خور یہاں کیا کر رہی ہے۔۔۔۔؟”
داود جو ڈیرے سے لوٹتا حویلی آیا تھا لیکن پٹھان کو دیکھتا آگ بگولا ہوئے پوچھنے لگا
“زبان کو لگام ڈالو ورنہ کتوں والی لگام تمہارے گلے میں ڈالوں گا داود خان۔۔۔۔”
پٹھان نے ماتھے پر بل ڈالے سرد مہری سے کہا تھا اپنی اس قدر توہین پر داود کا چہرہ سرخ پڑ گیا تھا
وہاں گھر کے تمام مکین اکھٹے ہو چکے تھے عورتیں تو گویا سانپ سونگ کر کھڑی ہوئیں تھی
“تم یہاں کیوں آئے ہو پٹھان۔۔۔۔؟”
دلاور خان نے سنجیدگی سے پٹھان سے استفارہ کیا جو اب ہر تاثر سے پاک نظروں سے دلاور خان کو دیکھنے لگا تھا
“اپنی بیوی اور بہن سے ملنے آیا تھا۔۔۔۔”
اس نے اطمینان سے کہا تھا
“تمہارا اس گھر سے کوئی رشتہ نہیں موسیٰ زار پٹھان۔۔۔۔۔”
داود نے غصے سے بولتے آگے قدم بڑھائے لیکن دلاور نے ہاتھ کے اشارے سے روکتے اس کے قدموں کو زنجیر ڈالی تھی
“میرا اس گھر سے کتنا گہرا رشتہ ہے سب بخوبی جانتے ہیں اور اس رشتے کی مزید گہرائی جاننا ہو تو بہروز خان اور اس کے چہیتے بھائی دلاور خان سے پوچھ لینا۔۔۔۔”
پٹھان نے استہزایہ انداز میں ہنستے کہا تو دلاور اور بہروز اپنی مٹھیاں بھینچ کر رہ گئے تھے
“اگر تمہارا آج ہی قصہ ختم کر دیں تو کتنا سکون ہو جائے ہماری زندگی میں۔۔۔۔۔”
بہروز خان نے لوڈ گن اس کی جانب کرتے فائر کیا تھا لیکن خان نے اپنا کندھا پیچھے کو سرکاتے ہلکا سا مڑا تھا کہ گولی اس کے پاس سے ہوتی دیوار میں جا لگی تھی زویا اور زوراشہ کی چینخ حویلی کی درودیوار تک ہلا گئیں گھی
پٹھان نے ماتھے پر بل ڈالے بہروز خان کو دیکھا بےتاثر نگاہیں جن میں امڈتا لہو اس کی آنکھوں کو مزید خوفناک بناتا بہروز خان کو کانپنے پر مجبور کر گیا تھا
“افسوس خان خاناں اتنا غلط نشانہ ساری عمر آپ کا نشانہ ٹھیک نہ ہو سکا چچچچ ۔۔۔۔۔”
وہ افسوس ناک لہجے میں بولتا وہاں موجود ہر شخصیت کو ٹھٹکنے پر مجبور کر گیا تھا
“پٹھان دفع ہو جاو یہاں سے ورنہ۔۔۔۔”
داود غصے سے بولتا آگے بڑھا تھا
“جسٹ شٹ اپ۔۔شٹ اپ کسی کی زبان اس کے منع سے باہر نہ نکلے ورنہ منہ گولیوں سے بھر دوں گا۔۔۔۔”
پٹھان داود کی بات بیچ میں کاٹتا ہوری قوت سے چلاتا دیواروں کے ساتھ ساتھ دلوں کو بھی دہلا گیا تھا اس کا سفاک انداز دیکھتے سب خاموش مورت بن گئے تھے
پٹھان نے قدم پیچھے لیتے زویا سے زوراشہ کا ہاتھ چھڑوایا اور اس کا ہاتھ تھامے نیچے لایا تھا
“میں اپنی بیوی کو لے جا رہا ہوں دیکھتا ہوں کیسے کوئی گھٹیا شخص اپنے مقصد میں کامیاب ہوتا ہے۔۔۔۔”
حتمی انداز میں بولتا زوراشہ کو دیکھا جو نفی میں سر ہلا رہی تھی
“تمہاری بھول ہے پٹھان کہ تم زوراشہ کو اپنے ساتھ لے جاو گے یا تم اپنے پیروں پر سلامت اس حویلی سے نکل سکو گے۔۔۔۔”
بہروز خان استہزایہ انداز میں ہنستا بولا تھا جب کہ باقی سب خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے
“کسی ایرے غیرے سے بات کرنا پٹھان اپنی توہین سمجھتا ہے۔۔۔۔۔”
اس نے بہروز کی بات کو ناک پر بیٹھی مکھی کی مانند ہوا میں اڑایا تھا جبکہ بہروز کا چہرہ مائے بےعزتی کے بےتحاشہ سرخ ہو گیا تھا
“یہ تمہارا باپ ہے پٹھان۔۔۔۔”
اتنے وقت میں زرینہ خان تھی جو ابھی بولی تھی شاید یہی اس کی غلطی تھی
“لیکن آپ میری ماں نہیں ہیں سو اپنی حد میں رہیں ورنہ حدوں کو یاد کروانا میں بخوبی جانتا ہوں۔۔۔۔”
کاٹ دار لہجے میں بولتا اس کی زبان کو قفل لگا گیا تھا ایک خاموش نظر تمام نفوس پر ڈالے اس نے زوراشہ کا ہاتھ پکڑے دو قدم ہی بڑھائے تھے کہ داود سامنے آیا تھا
“نہیں پٹھان۔۔۔۔”
وہ اپنا ہاتھ آزاد کروانے کی کوشش کرتے بولی تھی
“تم ہمارا بہن کو اتنی آسانی سے نہیں لے جا سکتا۔۔۔۔۔”
وہ گن نکالے اس کے سینے پر اس کی نوک رکھتے بولا
“اب تمہیں اپنا تماشا شروع کرنے کی ضرورت نہیں۔۔۔۔”
اس نے نارملی انداز میں کہا جیسے اسے خود کے سینے پر رکھی گن سے زرا فرق نہ ہڑا ہو یہ انداز داود کو سلگا گیا تھا اور اگلے ہیل لمحے داود نے پٹھان کو مکا مارنا چاہا لیکن بروقت پٹھان نے اس کا ہاتھ پکڑتے روکا تھا اور قہر برساتی نظروں سے اسے دیکھتا اپنی گن نکالتے لوڈ کرتے اس کے ماتھے پر رکھی تھی یہ سب اتنی جلدی ہوا کہ سب ہق دق ہو کر رہ گئے تھے
“تمہیں تو لگام ڈالوں۔۔۔۔”
اس نے چبا کر کہا تھا اور ٹریگر دبانا چاہا
‘نہیں موسیٰ۔۔۔۔”
زویا ہوش میں آتی چلائی تو اس نے گردن موڑے سیڑھیوں پر روتی ایک سنجیدہ نگاہ اس پر ڈالی تھی اور پھر داود کو دیکھا جس کا ایک ہاتھ موسیٰ کی گرفت میں تھا جسے موسیٰ نے مڑورتے ہوئے پکڑا تھا جب کہ اس کے ماتھے پر گن اس کی زندگی صرف ایک گولی کی محتاج تھی
“جاو اپنی بہن کے لیے تمہیں بخشا خیرات میں دی تمہیں تمہاری زندگی دوبارہ میرا راستہ مت روکنا اور یہ بچوں کا کھیل نہیں جسے تم ہاتھ میں پکڑ کر مجھ پر تانے ہوئے تھے۔۔۔۔”
وہ ایک جھٹکے سے اس چھوڑتا پیچھے ہوا جو دوسرے ہاتھ سے اپنا ہاتھ پکڑے اسے گھور رہا تھا
“اور یہ جن پر تم اتنا اترا رہے ہو نہ بہروز خان اور دلاور خان جانتے ہو یہ خاموش کیوں ہیں تاکہ ان کی پول نہ کھل جائے جو ماضی میں انہوں نے کارنامہ کیا ہے نہ کہیں وہ نہ کھل جائے اور۔۔۔”
یہ کہتے وہ ایک قدم آگے بڑھتا اسے دیکھنے لگا جو ناسمجھی سے پٹھان کو دیکھ رہا تھا
“اور یہ کٹھ پتلیوں کی مانند تم سب کو نچا رہے ہیں اور تم اس کوٹھے میں ناچنے والی عورتوں سے بھی بدتر ہو جو ان کی انگلیوں پر ناچ رہے ہو یقین نہ ہو تو ان سے ضرور پوچھ لینا میرے اور زوراشہ کے نکاح کا سبب۔۔۔۔”
بےلچک لہجے میں اتنا بول کر پیچھے ہوا اور زوراشہ کا ہاتھ تھاما تھا
“یہ کیا کہہ رہا ہے بابا بڑے ابا۔۔۔۔؟”
داود نے شکی نگاہوں سے ان دونوں کو دیکھتے استفارہ کیا جو پٹھان کی چلاکی پر دانت پیستے ہوئے اسے دیکھ رہے تھے ان کی خاموشی پر پٹھان کے ہونٹوں پر فاتحانہ مسکراہٹ ابھری اور زوراشہ کو لیتا باہری دروازے کی جانب قدم بڑھائے تھے
سوائے زویا اور افشاں کے علاوہ سب کا سکون غارت ہو گیا تھا وہ جو کہتے تھے پٹھان میں اتنی ہمت نہیں اتنے پہرے میں ان کے ہوتے یہاں داخل ہو جائے یا زوراشہ کو لے جائے وہ آج کسی بھی خون خرابے کے بنا اکیلا شیروں کی طرح ان کے سامنے ان کو اپنی باتوں سے الجھائے ایک دوسرے کے بیچ شک پیدا کیا بڑے استحاق سے زوراشہ کو اپنے ساتھ لے گیا تھا
جس زوروشور سے اس نے سب کے سامنے طلاق کہا تھا اسی زوروشور سے سب کے سامنے اس کا ہاتھ تھامے لے گیا تھا اور وہ کچھ نہیں کر سکے تھے صرف ہاتھ ملتے رہ گئے تھے جب کہ دلاور اور بہروز داود نے بےشمار سوالوں پر ایک خاموش نگاہ ڈالے اندر اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے تھے
………………………………
“پٹھان چھوڑیں مجھے مجھے نہیں جانا چھوڑیں۔۔۔”
زوراشہ مسلسل پٹھان سے اپنا ہاتھ آزاد کروانے کی کوشش کرتے روتے ہوئے بول رہی تھی پٹھان نے غصے سے اسے گاڑی کے ساتھ لگایا تھا
“کیا مسئلہ ہے زوراشہ۔۔۔؟”
اس نے ماتھے پر بےشمار سلوٹیں ڈالے پوچھا تھا
“مجھے نہیں جانا میں مورے اور زویا کو ان کے بیچ ہر گز نہیں چھوڑ سکتی آپ اتنے بےحس کیسے ہو سکتے ہیں ان دونوں کو اکیلے وہاں کیسے چھوڑ سکتے ہیں۔۔۔۔”
وہ روتے ہوئے اس کے سینے پر ہاتھ رکھے پیچھے دھکیلنا چاہا لیکن وہ فولادی جسم رکھنے والے مرد کو ایک انچ بھی پیچھے نہ ہلا سکی تھی
“کچھ نہیں ہو گا ان دونوں کو۔۔۔۔”
وہ نرمی سے اس کے آنسووں صاف کرتے بولا وہ جتنا مرضی سخت گیر ہو جائے لیکن وہ بھی ایک دل رکھتا تھا جو اس کی شریک حیات کے لیے دھڑکتا تھا اسی لیے ہمیشہ وہ چاہ کر بھی اس کے ساتھ سختی سے پیش نہیں آ سکتا تھا وہ اپنی باتوں سے جتنا بھی غصہ دلا دے وہ یہی کوشش کرتا اپنے غصے کا شکار اسے نہ بنائے ابھی بھی وہ اس سے محبت سے بات کر رہا تھا
“آپ جھوٹ بول رہے ہیں آپ کو ان کی کوئی فکر نہیں پٹھان آپ انہیں کیسے اکیلا چھوڑ سکتے ہیں۔۔۔۔”
وہ روتے ہوئے اس کے سینے پر مکے برسا رہی تھی پٹھان نے اس کے ہاتھوں کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں پکڑا تھا
“یقین رکھو قربان۔۔۔۔”
وہ اس کے ہاتھ نرمی سے اپنے لبوں سے لگاتے بولا تو اس نے فوراً اپنے ہاتھوں کو کھینچا تھا
“تم بہت برے ہو میں اپنی مورے اور زویا کو یوں نہیں۔۔۔”
“شششش۔۔۔۔۔”
وہ اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھتا اس کو خاموش کروا گیا تھا
“جب تم میرے بات نہیں نہ سمجھتی میرے اندر غصے کا طوفان برپا ہو جاتا ہے جو میرے لیے دبانا سب سے مشکل ہوتا ہے مت آزماو میرا صبر یقین رکھو زمہ جان(میری جان)۔۔۔”
وہ ابھی بھی سخت الفاظ کہنے سے گریز کر رہا تھا وہ سوں سوں کرتی اسے دیکھنے لگی تھی
“اگر انہیں کچھ ہو گیا۔۔۔۔؟”
“تو تم اپنے پٹھان سے اس کا حساب لینا اب چلو۔۔۔۔”
اتنا کہتے مزید کچھ سنے اس کا ہاتھ پکڑتے اس کو گاڑی میں بیٹھایا وہ مزید کچھ بولتی پٹھان کی پتھریلی سفاک نگاہیں دیکھتی خاموش ہو گئی تھی
………………………………
فجر کا وقت شروع ہونے کو تھا آذانوں کی آواز چاروں سو گونجتی دلوں میں عجیب تار چھیڑ رہی تھی وہ آذانوں کی سحر انگیز آواز دنیا میں موجود تمام آلات سے نکلنے والے بےترتیب سازوں سے پرسوز تھی
حویلی میں موجود سب مکین کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی جب سے پٹھان زوراشہ کو لے گیا تھا ان کو اپنا سب ڈوبتا ہوا نظر آ رہا تھا
زویا نماز سے پہلے کمرے سے نکلی نیچے آئی تھی اور کچن میں جانے کے ارادے سے اس جانب قدم بڑھائے پوری حویلی ایسے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی جیسے برسوں سے خالی ہو اور اس سے دگنا اندھیرا اس حویلی میں ہلتے سانپوں کے بیچ تھا
اس اندھیرے میں زویا سنبھال سنبھال کر قدم رکھتی کچن میں جا رہی تھی کہ کچن کے دروازے پر پہنچتے ہی اس سے پہلے وہ اندر داخل ہوتی کسی نے اس کے ہاتھ کو پکڑا تھا اپنا یوں ہاتھ پکڑے جانے پر وہ ایک دم سے خوف سے اچھلی تھی لیکن اس لمس کو محسوس کرتے اس کے خوف میں کمی آئی تھی
“یہاں کیا کر رہا یے تم۔۔۔۔۔؟”
اس اندھیرے میں داود کی آواز زویا کی سماعتوں سے ٹکرائی تھی تو اس کو اپنی جان حلق میں آتی محسوس ہوئی
“میں پانی۔۔۔۔”
کمر پر سکتے ہاتھ سے زویا کے الفاظ کہیں منہ میں ہی دب گئے اور آنکھوں میں اترتے خوف سے وہ اندھیرے میں داود کے چہرے کو تلاشنے لگی تھی
“پلیز داود۔۔۔۔”
وہ بھرائی آواز میں بولتی اس کی گرفت سے آزاد ہونے لگی جو اسے مکمل اپنے حصار میں لے چکا تھا
“ہم سن رہا ہے بولو۔۔۔۔”
داود کی سرگوشی اسے اپنے کان کے قریب سنائی دی تھی اس پر اس کی دہکتی سانسیں اس کا کان سلگا گئیں تھی
“آپ دور ہو جائیں کوئی دیکھ لے گا داود۔۔۔”
وہ اس کی گرفت میں مچلتی منمنائی تھی
“ہم جو کہہ رہا ہے اس کا جواب دو۔۔۔”
اب کہ آواز کے ساتھ گرفت بھی سخت ہوئی تھی
“پپپانی پینے آئی تتتھی۔۔۔۔”
زویا کے منہ سے پھنسے پھنسے سے الفاظ نکلے تھے
“ہمیں بھی ضرورت ہے کسی چیز کا۔۔۔۔”
داود کا دوسرا ہاتھا اب اس کے بالوں میں سرایت کر رہا تھا زویا کی آنکھوں میں بےتحاشہ نمی اتری تھی اس نے بےبسی سے اس کی قمیض کو دبوچا تھا اور لب کچاتی اپنے آنسووں کو روک رہی تھی
………………………………
