53.7K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

زوباریہ نے پلٹ کر اپنے شوہر کو دیکھا جس نے بےدردی سے اس کے خنجر کھونپا تھا اور اگلا خنجر اس کے دل کے مقام پر مارا تھا وہاں درد ناک چینخیں گونجیں تھی بہرام آگے بڑھا جسے دلاور نے بیچ میں ہی پکڑا تھا
“تم کہاں جاتا ہے۔۔۔۔؟”
“صاحب نن-نہیں۔۔۔۔۔”
بہرام دلاور سے چھوٹنے کی کوشش کرتا چلا رہا تھا جب کہ بہرام کی بیوی ساکت کھڑی پھٹی پھٹی نگاہوں سے سب دیکھ رہی تھی ہوش میں آتی اس نے اردگرد متلاشی نظروں سے دیکھا اور ڈنڈا اٹھا کر دلاور کی پیٹھ پر مارا تھا جو پلٹ کر اسے دیکھتا مکرو ہنسی ہنسا تھا

“نازک جان پر اتنا ستم اچھا نہیں میری جان من۔۔۔۔”
وہ بہرام کو چھوڑتا اس کے ہاتھ سے ڈنڈا کھینچتے بولا جو منہ پر ہاتھ رکھتی پیچھے دیوار سے جا لگی تھی بہرام بہروز کی جانب بڑھا جو زوباریہ کو بےدردی سے مارتا زمین پر مہک کے قریب پھینک چکا تھا مہک نے بامشکل اپنی بہن کو دیکھا آنکھوں سے آنسووں رواں تھے اس کی سانسیں بھی اٹک رہیں تھی جیسے جان لبوں پر ہو

“یہ اچھا نہیں کیا صا۔۔۔۔۔”
بہرام بہروز پر چھپٹا پر سر پر ڈنڈا لگنے کے باعث اسے اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہوا
“یہ لے بہروز بھائی۔۔۔”
دلاور نے ڈنڈا بہروز کے حوالے کیا تھا
“نہیں بہرام۔۔۔”
بہرام کی بیوی روتے ہوئے آگے بڑھی جسے دلاور نے بیچ میں ہی پکڑا تھا
“ارے نہیں چھمک چھلو۔۔۔۔”
وہ اسے مکمل حصار میں لیتا اس کی گردن پر اپنا وحشی پن دیکھانے لگا تھا جب کہ وہ چینختی چلاتی اپنی عزت تو کبھی اپنے سامنے بےدردی سے پیٹتے شوہر کو بچانا چاہتی تھی اس کی چینخوں نے تب دم توڑا جب خنجر بہرام کے پیٹ میں کھونپا اور وہ آخری بند ہوتی آنکھوں سے اہنی بیوی کو دیکھنے لگا جو دلاور خان کی گرفت میں بےبس روتے اسے دیکھ رہی تھی وہاں دو قہقے اور دو بچوں کے رونے کی آواز تھی جب کہ مہک بھی کھلی آنکھوں میں ہی دم توڑ گئی تھی جیسے سب اپنی آنکھوں میں حفظ کر لیا ہوا جب کہ وہ خاتون سائیڈ کرسی پر بیٹھی مشے سے ہر منظر کسی فلم کی مانند دیکھ رہی تھی ساتھ مسکرائے جا رہی تھی

“ان دونوں لڑکوں کا کیا کرنا ہے ۔۔۔؟”
دلاور نے بہرام کی بیوی کے منہ پر ہاتھ رکھتے اپنے بھائی سے پوچھا
“یہ ہمارے کام آئیں گے ان کا زندہ رہنا ضروری ہے۔۔۔۔”
بہروز نے مہک کے ہاس موجود اس چند منٹ کی بچے کو اٹھایا تھا جب کہ اس خاتون نے کونے میں بلکتے اس بچے کو نہایت بےدردی سے اٹھایا تھا

“مم-مجھے بھی مار دو۔۔۔۔”
وہ لڑکی بےجان ہوتے وجود کے ساتھ ہانپتے ہوئے بولی تھی
“نہ تمہارے حسن سے فائدہ اٹھائے بنا تو ہم تم کو کبھی نہیں مار سکتا اور ان بچوں کو کون سنبھالے گا تم ہی سنبھالے گا اور۔۔۔۔۔۔”
وہ بولتا بولتا رکا اور اس کے بالوں سے دبوچے اسکا چہرہ قریب کیا
“آج سے تم آفشاں بہرام خان نہیں بلکہ دلاور خان کا راکھیل ہے راکھیل ہے تم میرا جسے ہم جوتی کی نوک پر رکھے گا۔۔۔۔”
وہ اسے اپنے ساتھ گھسیٹتا ہوا بولا بہرام کی آدھ کھلی آنکھوں نے یہ منظر دیکھا اور اخری نگاہ اہنی روتی گھسٹی بیوی پر ڈالتے وہ بھی بند ہو گئیں تھی

افشاں اور ان بچوں کو ایک کمرے میں چھوڑتے وہ تینوں اب ان تین لاشوں کا سوچ رہے تھے کہ آخر کرنا کیا ہے
“شکر ہے وہ دائی کو پہلے ہی دفعہ کر دیا ورنہ چار لاشیں دفناتے کہاں۔ ۔ ۔ ۔۔۔”
دلاور نے شراب کی بوتل اٹھائے کہا تھا
“ان کو جلا دیتے ہیں تمام قصہ تمام ہو جائے گا اور اس گھر کو بھی تبدیل کر دیتے ہیں سب نوکروں کو بھی ہر چیز نئے سرے سے شروع کرتے ہیں۔۔۔۔”
وہ خاتون بہروز کی گردن پر نامحسوس انداز سے ہاتھ پھیرتی بولی تو بہروز ہنسا تھا
“زربینہ تمہارے ساتھ تو رنگ رلیاں ان کو جلا کر ہی مناوں گا۔۔۔۔”
بہروز زربینہ کے لبوں ہر لگی سرخ لپسٹک کو ہاتھ کی ہشت سے رگڑتے بولا اور تینوں شراب پینے لگے تھے
………………………………
بہرام خان کی چند سانسیں باقی تھیں اسی لیے کچھ گھنٹوں بعد اسے ہوش آیا تو وہ وہی موجود تھے بہرام نے ہمت جمع کرتے آنکھیں کھولیں اور بہت مشکل سے بیٹھا لیکن فوراً گرا تھا پھر اللہ کا نام لیتے پوری قوت جمع کئیے اٹھا تھا اور بامشکل میک اور زوباریہ کی سانسیں دیکھیں جو بند ہو چکیں تھی بہرام نے مہک کی آنکھیں بند کئیں اور کمرے سے نکلتا باہر جھانکا تھا جہاں کوئی نہ تھا

“ہہ-ہم ہر چیز کا بدلا لے گا بب-بہروز خان دد-دلاود مم-میں اپنی بب-بیوی اور ان کک-کا بدلا لے گا۔۔۔۔۔”
وہ بہت مشکل سے الفاظ ادا کرتا ادھر ادھر دیکھنے لگا کہ اسے ایک کمرے سے بچوں کے رونے کی آواز آئی تھی بہرام تقریباً خود کو گھسیٹتا ادھر گیا تھا

“اا-آفشاں۔۔۔۔۔”
اس نے ہولے سے کھٹکھٹاتے اسے پکارا تو آفشاں جو روتے ان دونوں کو چپ کرانے کی سعی کر رہی تھی بہرام کی آواز سنتے فوراً اس جانب آئی
“بب-بہرام ہم کو یہاں سے لے چلو یہ بہت ظالم ہے۔۔۔۔”
وہ روتے ہوئے بولی تو آفشاں کے یہاں ہونے کی یقین دہانی کرتے اس نے کنڈی کھولی اور افشاں کا سہارا لیا تھا
“ہم میں ہمت نہیں آفشاں۔۔۔۔”
وہ اپنا سر اس کے کندھے سے ٹکائے بولا تھا
“مم-مہک اور زوباریہ۔۔۔۔”
“اس نے ان کے بھی زندہ ہونے کے وہم کے تحت اس سے پوچھا جس نے خاموشی سے نفی میں سر ہلایا تھا

“بب-بھاگ جا تم ان دونوں کو لیتا۔۔۔۔”
وہ جلدی سے پیچھے ہوتا بولا تھا
“ہہ-ہم تم کو چھوڑ کر نہیں جائے گا تت-تم بھی ساتھ چلو ۔۔۔۔۔”
وہ بچوں کو اٹھائے بولی اوپر سے وہ خود ماں بننے والی تھی
“اا-اتنا وو-وقت نہیں تت-تم نکلو۔۔۔”
بہرام خان کی ہمت جواب دے رہی تھی اس نے اپنے پیٹ پر سختی سے ہاتھ رکھا جہاں سے خون بری طرح سے کسی فوار کی مانند نکل رہا تھا
“نن-نہیں بہرام ہہ-ہم تیرے بنا نہیں جائے گا چلو۔۔۔”
اس نے اپنا دوپٹہ اتارے وہ ڈیڑھ ماہ کے بچے کو پیچھے اپنی پیٹھ پر باندھا جبکہ چند گھنٹوں کے بچے کو اٹھائے بہرام سے بولی تھی
جس نے سر اثبات میں ہلاتے اس کا ہاتھ تھاما تھا اور باہر کی جانب بھاگنے کی کوشش کرنے لگے بھاگنے کے باعث بہرام کا مزید خون نکل رہا تھا جب کہ آفشاں کے پیٹ میں درد ہو رہی تھی اسے لگا اگر وہ نہ رکی اس کے پیٹ میں موجود اس کا بچہ مر جائے گا

“بب-بہرام ہمارا بچہ۔۔۔۔۔”
وہ رکتے ہوئے اٹکتی سانس سے بولی تو بہرام نے اس سے ایک بچہ پکڑا اور اس کے پیٹ میں ہاتھ رکھا تھا
“ہہ-ہمارا بچہ کو کچھ نہیں ہو گا بس تھوڑا اور کوئی جگہ مل جائے گا۔۔۔۔۔”
اسے حوصلہ دیتے ابھی دو قدم ہی آگے بڑھائے کہ چررر کی آواز سے ایک گاڑی ان کے سامنے تکی جن سے وہ دونوں شیطان باہر نکلے تھے ان دونوں کو لگا شاید وہ اب انہیں الگ کر دیں گے زندگی نے انہیں ساتھ بیتانے کو بس اتنے ہی لمحے دیے تھے آفشاں نے سختی سے بہرام کے ہاتھ کو پکڑا تھا

“یہ سالہ بچ گیا اب نہیں بچے گا۔۔۔۔”
دلاور نے خباثت سے ہنستے گن نکالتے کہا
“نہیں۔۔۔۔۔”
گولی کی آواز کے ساتھ آفشاں کی چینخ بھی گونجی تھی بہرام نے اس کا سہارا لیا تھا آفشاں روتے ہوئے نفی میں سر ہلا رہی تھی بہروز ان کے پاس آتا اس سے بچہ چھینا تھا اور اس پیچھے دھکا دیا کہ وہ زمین ہر گرا تھا جو اکھڑی سانسیں لیتا اپنی آنکھیں بند کر گیا تھا

“بہروز بھائی ابھی ٹھیک سے دیکھ زندہ نہ بچے۔۔۔۔”
دلاور آفشاں کو ہاتھ سے پکڑتے بولا جو روتے ہوئے بہرام کے پاس جانا چاہتی تھی
“مر گیا خبیث۔۔۔۔۔”
بہروز نے اس کی سانسیں چیک کرتے کہا جب کہ آفشاں کی چینخیں وہاں گونجیں تھی اس کی دنیا دہل کر رہ گئی تھی اس خبر سے کہ بہرام مر گیا ہے اس کی چینخوں و پکار پر وہ قہقے لگاتے اسے گھسیٹتے اپنی گاڑی میں پٹخا تھا جب کہ وہ اپنا آپ کھوتے ہوش ہواس سے بےگانہ ہوگئی تھی

“تم پر دل نہ آیا ہوتا میرے بھائی کا تو تم کو یہہ اس کے ساتھ پھینک دیتا۔۔۔۔”
بہرام نے نہوست سے بولتے گاڑی سٹارٹ کی تھی جب کہ دلاور نشے میں ہونے کی وجہ سے اپنے ساتھ گری بےہوش آفشاں کو دیکھتے بےقابو ہو رہا تھا دلاور نے اس کے پیچھے روتے بندھے دیڑھ ماہ کے بچے کو کھولا اور سائیڈ پر پٹخا تھا اور درندوں کی طرح اپنی نظروں سے اور ہاتھوں سے اس کے جسم کو چھونے لگا
………………………………
ان کو ان سب کاموں میں فجر ہو گئی تھی سوچوں نے یہاں ڈیرا ڈالا کہ ملازمین کی موجودگی میں ان لاشوں کا کیا کریں کیونکہ ملازمین کی چہل پہل شروع ہو گئی تھی
“بھائی صاحب کیوں ٹینشن لیتا ہے ہمارے پاس ایک حل ہے۔۔۔”
دلاور نے اپنے سامنے موجود ان دونوں مردہ وجود کو دیکھتے ایک مکر سے کہا جس پر وہ اس کی جانب متوجہ ہوا تو اس نے اسے حل بتایا جا پر بہروز نے قہقہ لگایا اور اپنے چھوٹے بھائی کو داد دی تھی

پھر کچھ ہی دیر میں ان دونوں نے نقلی آنسووں بہاتے ایسے رونا شروع کیا جیسے وہ اپنی بیویوں کے غم میں مرے جا رہے ہوں
کمرے سے نکلتی رونے کی آوازوں پر ملازمین جب وہاں اکھٹے ہوئے تو سامنے کا منظر دیکھتے انہیں لگا گویا وہ خواب دیکھ رہے ہوں انہیں یقین نہیں آ رہا تھا ان کی نرم دل مالکنائیں ابھی کل تک تو ان کے ساتھ تھیں اچانک ایک رات میں کیا ہوا

“صو-صاحب کک-کیا ہوا انہیں۔۔۔۔؟”
ان کا ایک ملازم دو قدم آگے آتا ٹوٹی پھوٹی آواز میں پوچھا
“کھا گیا رات کو چور ہمارا زندگیوں کو مار دیا ان کو۔۔۔۔۔”
بہروز مکر کی تمام حدیں پار کرتا اپنا سر پیٹتے بولا
“چھوڑ گیا ہمیں ہمارے بچوں کو تنہا۔۔۔۔”
اب کہ دلاور کی باری تھی جس نے اپنے رات میں پیدا ہوئے بچے کو بےدردی سے اٹھائے سینے سے لگایا تھا باقی سب ملازمین بھی نیچے پیچھے سر پیٹتے رونے لگے تھے ان پر تو گویا قیامت برپا ہو گئی تھی

تقریباً ایک گھنٹے کے ناٹک کے بعد ان کے دونوں جنازوں کو کندھا دیتے قریبی مسجد میں نماز جنازہ پڑھوائے دفنا دیا تھا اور وہ دونوں ہر چیز سے بےفکر گہری سانس بھرتے بہت خوش نظر آ رہے تھے جب کہ سوگ تو ملازمین کے لیے تھا جو بنا کسی ناٹک کے غم میں مبتلا تھے جب کہ ان دونوں کو زرا فرق نہیں تھا کیونکہ وہ تین دن بعد اس گھر کو تبدیل کرنے کا ارادہ مکمل طور پر کر چکے تھے وہ یہاں موجود ہر ایک چیز کو یہی چھوڑ جانا چاہتے تھے
………………………………
دلاور بہروز سب کو یہی لگتا کہ بہرام خان مر گیا ہے جب کہ ان کے وہاں مردہ سمجھ کے چھوڑ جانے کے بعد وہاں سے گاڑی میں گزرتے کسی جوڑے نے دیکھا تو اسے اٹھاتے اپنے ساتھ ہسپتال لے گئے اور اس کا بہترین علاج کروایا بچنا تھا تو مشکل لیکن اللہ کے کاموں کے آگے کیا مشکل کیا ناممکن
دو مہینے کی انتھک توجہ و علاج کے بعد اسے ہوش آگیا تھا جب کہ دوسری جانب انہوں نے وہ گھر چھوڑتے ایک عالی شان حویلی خریدی تھی جس کی خوبصورتی منہ بولتا ثبات تھی

بہروز نے ایک دائی رکھوائی جو بچوں کو دودھ پلانے کے لیے تھے جب کہ بچوں کا خیال آفشاں اور دائی دونوں مل کر رکھتیں تھی آفشاں مکمل خاموش ہو گئی تھی اس نے دلاور سے رحم کی بھیک مانگی کے جب تک اس کی اولاد پیدا نہ ہو جائے اس کی جان اور عزت کو بخش دے ناجانے اللہ نے اس میں کیسا زرا سا رحم بھر دیا کہ اس نے اس پر رحم کھاتے اس کی عزت کو فلحال بخشا تھا اور پھر آفشاں کی ایک ننی سی بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام اس نے زوراشہ رکھا تھا یہ نام اس نے بہرام نے بڑی محبت سے سوچا تھا جب کہ مہک کے بیٹے کا نام داود بھی اس نے خود ہی رکھا تھا اور زوباریہ کے اس چار ماہ کے بیٹے کا نام موسیٰ زار تھا

بہروز اور دلاور اس کی بیٹی زوراشہ کو مارنا چاہتے تھے لیکن اس نے ہر قسم کی بھیک مانگی اور تاقیامت ان کی اور ان کے بچوں کی خدمت کا وعدہ کیا اور کہا وہ جس مرضی قسم کا کام لے لیں راکھیل سمجھتے تو راکھیل بن جائے گی پر اس کی بچی کو بخش دے بہرام کی آخری نشانی تھی اس کے پاس
بہت گڑگڑانے کے بعد انہوں نے اس کی جان بخشی اور اس پر بہت ظلم کیا جس کو اس نے اپنی بچی اور داقد اور موسیٰ کی خاطر برداشت کیا تھا اس نے دلاور خان کی روز با روز وحشیانہ پن اور درندگی جیسے برداشت کی تھی وہ وہی جانتی تھی

بہروز اور زربینہ بھی اپنی عیاشی میں تھے جب کہ زربینہ کو تب اہنی غلطی کا احساس ہوا جب وہ پیٹ سے ہو گئی زربینہ اس بچے کو گرانا چاہتی تھی اسے بہت کوفت محسوس ہوتی لیکن بہروز نے یہ کہا کہ اگر لڑکا کوا تو فائدہ اور لڑکی ہوئی تو مار دینگے جب کہ افشاں نے یہ کہہ دیا کہ لڑکی ہوئی تو اس کی جھولی میں ڈال دیں جب کہ وہ بھوک گئی وہ دن با دن لاغر ہوتی ننھی جان اتنے بچوں کو کیسے سنبھالے گی

اور پھر نو ماہ بعد وہی ہوا جس کا ڈر تھا زربینہ کو لڑکی ہوئی جس کا نام زویا رکھا اور اس کو افشاں ہی سنبھالتی بہت منت کے بعد زربینہ دن میں اہک بار اسے دودھ پلا دیتی وہ بھی بہت ظالم طریقے سے لیکن فلوقت آفشاں اکیلی ان درندوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی وہ اکیلی تھی کمزور بس اللہ کی مدد کی منتظر تھی جو اس کے ساتھ تھا
………………………………