Jaan e Darkaf By Sajeela Nisar Readelle50121 Episode 26
No Download Link
Rate this Novel
Episode 26
داود تقریباً بھاگتا ہوا گھر میں داخل ہوا تھا اور ہڑبڑی میں دو دو سیڑھیاں چھوڑتے اوپر چڑھتا ایک جھٹکے سے دروازہ کھول کر اپنے کمرے میں داخل ہو گیا اور وہی رک کر تیز تیز سانس لیتے سامنے بیڈ پر آفشاں کے ساتھ بیٹھی زویا کو دیکھا جو اسے دیکھتی مزید رونے لگی تھی
داود قدم قدم لیتا اس کے قریب آیا تھا اور آفشاں کو دیکھا جو خود کے آنسوؤں چھپانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی
زویا روتی ہوئی اٹھ کر اس کے سینے سے لگتی مزید بلند آواز میں رونے لگی تھی داود نے مٹھیاں بھینچتے سختی سے آنکھوں کو میچا تھا آفشاں داود کے کندھے پر ہاتھ رکھتی وہاں سے چلی گئی تھی کیونکہ غم منانے کے لیے ان دونوں کو اس وقت تنہائی کی ضرورت تھی
“دد-داود ہمارا بچہ داود مار دیا ۔۔۔۔۔۔”
وہ روتے ہوئے چلائی تھی جب کہ داود کا خود پر سے قابو جا رہا تھا اسے سختی سے خود میں بھینچے اپنا منہ اس کے بالوں میں چھپایا گویا اپنے آنسووں بھی چھپانا چاہ رہا ہو آس کی آنکھوں سے آنسووں نکلتے اس کے بالوں اور کچھ گردن پر گر رہے تھے وہ بھی بکھری سی اس کے سینے سے لگی خود پر ٹوٹا پہاڑ بیان کررہی تھی
“کک-کوئی ماں ایسے کیسے کر کر سکتی ہے داود۔۔۔۔”
زویا اس کے گریبان کو مٹھیوں میں سختی سے جکڑے چلائی تو داود نے اپنے گریبان پر موجود اس کے ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھے سر اس کے سر سے ٹکایا تھا
“بدلہ کے گا داود خان ہر ایک چیز ہر ایک درد اور تمہارے ہر ایک آنسووں کا۔۔۔۔”
داود ایک کرب سے بولا اور پھر پیچھے ہوتا اسے بیڈ پر بٹھائے خود بھی ساتھ بیٹھتے اس کا سر سینے سے لگایا تھا جو مسلسل رو رہی تھی داود خود ٹوٹ بکھر گیا تھا وہ کیا اسے حوصلہ دیتا یا چپ کرواتا وہ خود بکھر چکا تھا اس کا دل رو بری طرح رو رہا تھا
“داود کسی کو مت چھوڑئیے گا وہ ماں نہیں آج سے میری بدلہ لوں گی میں خود۔۔۔۔”
زویا نے اس کے سینے سے سر اٹھائے سرخ آنکھوں سے اسے دیکھتے کہا اس کے آنکھوں میں بھی اب اتنی ہی بدلے کی آگ بھڑک رہی تھی جتنی آگ برسوں سے داود کی آنکھوں اور سینے میں موجود تھی
“میرا بات غور سے سنو تم کو کچھ بتاتا ہے اب سہی وقت ہے تم سب جان سکے۔۔۔۔”
داود نے اسے کندھوں سے تھامے کہا تھا اور دھیرے دھیرے سب بتانے لگا
………………………………
زوراشہ خود کے خوف اور گھبراہٹ پر قابو پاتی بیڈ پر بیٹھی مسلس اپنے ہاتھ مسلتی آگے ہونے والی قیامت کا سوچ رہی تھی کہ ایک دھاڑ سے دروازہ کھلنے کی وجہ سے وہ بیڈ سے اچھلی تھی اور کڑوا گھونٹ بھرا کیونکہ پٹھان تھا جو طیش کے عالم میں اسے ہی دیکھ رہا تھا
“پپ-پٹھان آہہہہ۔۔۔۔۔”
اس سے پہلے وہ ہکلاتی ہوئی اپنی بات مکمل کرتی پٹھان ایک ہی چست میں اس تک پہنچتا سختی سے اسے بالوں سے دبوچا تھا
“تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی بہروز خان کو وہاں سے آزاد کروانے کی بتاو تم دھوکے باز عورت۔۔۔۔”
پٹھان غصے سے دھاڑتا اسے سختی سے پیڈ پر پھینکا تھا جبکہ وہ تیز دھڑکنوں کے ساتھ رو رہی تھی اور ساتھ میں اس طیش میں مبتلا شوہر کو دیکھا جو آج اسے قتل کرنے کے در پر تھا
“زوراشہ آہہہہ۔۔۔۔”
پٹھان اپنے بالوں کو مٹھیوں میں جکڑتا چلاتے ہوئے بیڈ پر بیٹھا تھا اسے بہروز کے بھاگنے سے زیادہ دوبارہ اس کی بےوفائی کا غم تھا وہ ایک بار پھر اسے دھوکا دے چکی تھی وہ بھی بہت بری طرح وہ سب حقیقت ان غداروں ان قاتلوں کی حقیقت جاننے کے باوجود اس کو کیسے دھوکا دے سکتی تھی
“ایک بار پھر پھر دھوکا۔۔۔۔”
وہ بیڈ سے اٹھتا ڈریسنگ پر موجود تمام چیزیں نیچے پھینک چکا تھا اور کمرے میں ہر چیز کی نہایت بےدردی سے توڑ پھوڑ کرنے لگا جبکہ زوراشہ بیڈ پر موجود بیڈ شیٹ کو سختی سے مٹھیوں میں جکڑے سسکیاں بھرتی ڈر سے اسے دیکھ رہی تھی
“تم کیسے دوبارہ مجھے دھوکا دے سکتی ہو زوراشہ کیسے۔۔۔۔”
پٹھان کا غصہ آوٹ اوف کنٹرول ہو رہا تھا اس نے آخر میں دراز سے گن نکالی تھی پٹھان کے ہاتھ میں موجود گن دیکھتے اس کی آنکھیں خوف سے پھیلیں تھی
“کاش یہ گن خود پر چلائی ہوتی کم از کم تمہاری دوبارہ سے بےوفائی دیکھنے کے لیے میں زندہ تو نہ ہوتا یا پھر۔۔۔۔”
وہ بولتے بولتے رکا اور اس کے قریب آتے اس کے بالوں کو مٹھیوں میں جکڑے گن اس کی کنپٹی پر رکھی تھی اس کے یوں گن رکھنے پر اس کو اپنا سانس لینا محال لگا تھا
“یا تم پر چلائی ہوتی کم از کم تم دوبارہ بےوفائی کرنے کے لیے موجود نہ ہوتی۔۔۔۔”
نفرت بھرے لہجے میں اس سے بولتا ایک جھٹکے میں اس کے بالوں کو چھوڑے گن دیوار میں دے ماری تھی زوراشہ کی چینخ نکلی اور وہ فوراً بیڈ سے اترتی اس سے فاصلے پر کھڑی ہوئی تھی
“تم اس قابل نہیں کہ میرے ساتھ رہو تم بہروز خان دلاور خان اور اس حویلی کے ہی قابل ہو دفعہ ہو جاو میرے اس گھر سے دوبارہ شکل نہیں دیکھنا چاہتا میں تمہاری زندگی بھر کے لیے۔۔۔۔”
پٹھان کے الفاظ تھے یا خنجر جو ایک پل میں اس کا دل سینہ روح ہر چیز چیر گئے تھے
“نن-نہیں پٹھان۔۔۔۔۔”
وہ روتی نفی میں سر ہلاتی اس کے پیروں میں بیٹھی تھی
“نن-نہیں پٹھان معاف کر دو ایک آخری بار اس نے تمہاری قسم دی تھی میں مجبور ہو گئی مجھے معاف کر دو بس ایک بار۔۔۔۔”
وہ اس کے پیروں میں گری روتی بول رہی تھی جب کہ وہ اس کی طرف دیکھنا بھی ضروری نہیں سمجھ رہا تھا
“چلی جاو تمہاری صورت سے بھی نفرت ہے موسیٰ زار پٹھان کو جاو یہاں سے موسیٰ کے گھر موسیٰ کے دل میں کسی بےوفا کی کوئی جگہ نہیں تم جہاں سے آئی ہو اسی جگہ کے قابل ہو۔۔۔۔۔۔”
وہ بےحس بنا اس کی بنا کسی سسکی پر ترس کھائے بولا تھا
“پپ-پلیز پٹھان آخری موقع ۔۔۔۔۔”
“دیا تھا موقع اب نہیں دے سکتا چلی جاو۔۔۔۔”
پٹھان نے بولتے ساتھ مڑنا چاہا لیکن اس نے سختی سے اس کے قدموں کو پکڑا تھا
“بی اماں۔۔۔۔”
پٹھان کے چلا کر بی اماں پکارنے پر زوراشہ نے ناسمجھی سے اسے دیکھا پٹھان کے مزید تین چار پر دھاڑ کر اس کا نام پکارنے پر وہ ہڑبڑاتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی
“جج-جی پٹھان۔۔۔۔”
“زوراشہ کا سامان پیک کر دو اور بہرام سے کہو اسے حویلی چھوڑ آئے۔۔۔۔”
وہ بےرحم بن چکا تھا آخر بےرحم بھی کیوں نہ بنتا وہ دوبارہ سے اس کے ساتھ دھوکا کر چکی تھی وہ ملازمہ سے بولتا بنا اس کی طرف دیکھے کمرے سے جا چکا تھا
“پٹھان پلیز پٹھان۔۔۔۔”
جبکہ وہ جزباتی انداز میں اس کے پیچھے جانا چاہا لیکن ملازمہ نے بیچ میں ہی روکا تھا وہ جس حالت میں تھی باہر گارڈز موجود تھے وہ باہر نہ ہی جاتی تو اچھا تھا
………………………………
پٹھان اپنے کمرے سے نکلتا نیچے پہلے پورشن میں کسی کمرے میں بیڈ پر بیٹھا ہاتھ میں موجود سیگرٹ کو دیکھ رہا تھا جسے اس نے اب تک سلگایا نہیں تھا ایک عرصہ ہوا تھا اسے سیگرٹ پئیے وہ یہ شوق داود کے ساتھ ہورے کرتا تھا جب سے دونوں الگ ہوئے تھے پٹھان نے اس سے وعدہ کیا تھا کہ ان کی موت کے بعد ہی اس کے ساتھ اب سیگرٹ سلگائے گا اس نے گہرا سانس بھرتے سیگرٹ دور اچھالی تھی اور قمیض کی جیب سے اپنا فون نکالے اسے گھمانے لگا وہ ایک خبر کا منتظر تھا جو کہ اسے مل نہیں رہی تھی
اس نے پھر کچھ سوچتے فون پر نمبر ڈائل کیا اور اپنے کان سے لگایا تھا تیسری بیل پر فون اٹھانے پر بھاری آواز گونجی تھی
“جو کام کہا تھا وہ ہوا۔۔۔۔؟”
پٹھان نے آہستگی سے تھکے ہارے لہجے میں پوچھا تھا
“میں حویلی ہوں۔۔۔۔”
دوسری جانب سے سپاٹ لہجے میں الفاظ گونجے تھے
“تم حویلی کیا کر رہے ہو اور جو کام کہا تھا وہ تم تو حویلی سے نکل گئے تھے نہ۔۔۔۔”
پٹھان نے ضبط کئیے اسے کہا تھا جس نے بیڈ پر سوئی زویا کی جانب دیکھا جو کچھ دیر پہلے ہی سوئی تھی
“موسیٰ۔۔۔۔۔”
اس کی آواز مزید بھاری ہو رہی تھی اس سے الفاظ کہنا مشکل ہو گیا تھا اسی لیے اس کا نام پکارتے ہی خاموش ہوتے ہونٹوں کو سختی سے بھینچے جذباتوں کو قابو میں کیا تھا
“داود تمہارا لہجہ کیا کچھ ہوا ہے۔۔۔۔؟”
پٹھان کو کچھ غلط ہونے کی نشاندھی ہوئی تھی
“ایک بار پھر مل کر انہوں نے ہمارا خوشیاں کھا لیا۔۔۔۔۔”
داود نے سختی سے اپنی آنکھوں کو رگڑا تھا
“کیا مطلب۔۔۔۔؟”
وہ ابھی بھی اس کی پہلیوں میں کہی بات پر الجھا ہوا تھا تو داود دھیرے دھیرے سب بتانے لگا داود کی باتیں موسیٰ کے کانوں میں گویا سیسہ پگھلا رہی ہوں اسے لگا زمین اس کے پیروں سے کھسک رہی ہو
“پٹھان میں ان سب کو زندہ زمین میں گاڑ دے گا اس نے میرا سب خوشیاں چھین لیا ان ظالم نے۔۔۔۔۔”
پٹھان ابھی تک سکتے میں تھا اسے یقین نہیں آ رہا تھا کوئی اتنا بےرحم کیسے ہو سکتا ہے ابھی تو وہ ننھی جان اس دنیا میں آئی بھی نہیں تھی اور اس کو کتنی بےدردی سے مار دیا
“ابھی تو دو پل خوشی محسوس بھی نہیں کیا تھا۔۔۔۔۔”
داود کی دوبارہ سے گونجتی آواز نے اس کا سکتہ توڑا تھا
“تت-تم زویا کے ساتھ رہو میں دیکھ لوں گا زوراشہ بھی آ رہی ہے رات تک وہ پھر زویا کے ساتھ ہو گی ہم سب کا بدلا لیں گے کسی کو نہیں چھوڑیں گے سب کو ان کے کئیے کی سزا دینگے۔۔۔۔۔”
پٹھان نے خود پر قابو پائے جس ضبط کی انتہا سے گزرتے بول رہا تھا وہ وہی جانتا تھا
“ہممم خدا حافظ۔۔۔۔”
داود کال بند کرتا زویا کے پاس بیٹھتا اس کے بالوں میں انگلیاں چلانے لگا تھا سوچ نے کہیں اور ڈیرا جمایا تھا وہ جانتا تھا پٹھان کے لیے مشکل نہیں وہ خود سنبھال سکتا ہے سب کام ویسے بھی فلحال جب تک زوراشہ نہ آتی اسے زویا کے پاس ہونا چاہیے
پٹھان چند لمحے فون کو گھورنے کے بعد بیڈ سے اٹھتا کمرے سے نکلا تو سامنے نظر بہرام کے سینے سے لگی روتی زوراشہ پر گئی تو بےاختیار گہری سانس خارج ہوئی تھی اور قدم ان کی جانب بڑھائے
قدموں کی چاپ پر دونوں نے پیچھے دیکھا تو پٹھان کو دیکھ کر زوراشہ کو مزید رونا آیا جو اسے ایک نظر دیکھنی کی غلطی تک نہیں کر رہا تھا
“تمہاری بیٹی کو کسی بھروسے مند کے ساتھ حویلی بھیج دو تم میرے ساتھ چلو۔۔۔۔۔”
پٹھان کے “تمہاری بیٹی” کا طرز مخاطب سن کر اس کی سسکیاں گونجی تھی اور پٹھان کا ہاتھ تھاما اس سے پہلے وہ کچھ بولنے کے لیے لب وا کرتی وہ بےدردی سے اپنا ہاتھ چھڑواتا بہرام کو اشارہ کرتا باہر نکل گیا تھا
“دیکھ رہے ہیں آپ۔۔۔۔”
“تمہارا غلطی بھی تو سنگین ہے بچہ۔۔۔۔”
بہرام نے اسے کندھوں سے تھامے کہا تو وہ شکوہ کناہ نظروں سے بہرام کو دیکھتی وہاں سے چلی گئی یقیناً اسے پٹھان کی سائیڈ لینا برا لگا تھا وہ چاہتی تھی کم از کم اس کا باپ ہی اس کا ساتھ دے لیکن اس نے بھی سیدھا اس کی ہی غلطی سنائی تو کوئی غلط بات بھی نہیں تھی حقیقت ہی تھا
………………………………
زوراشہ رات سات بجے تک حویلی آ گئی تھی وہ زویا کے ساتھ ہوئی ناانصافی کا سنتی صدمے میں چلی گئی تھی اسے بھی باقی سب کی طرح یقین نہیں آرہا تھا وہ اپنا غم بھولے اسے حوصلہ ہمت دینے لگی تھی داود زوراشہ کو اس کا خاص خیال رکھنے کا کہتا خود بھی حویلی سے نکل گیا تھا جبکہ اتنے عرصے بعد آفشاں سے ملتے دونوں کی آنکھیں اشکوں سے بھر گئیں تھی وہ آفشاں سے ملتی واپس زویا کے پاس آگئی تھی اور زبردستی کھانے کے چند نوالے کھلاتی اسے میڈسن دیتی سلا چکی تھی اور پھر کمرے سے نکلتی دروازے کو اچھے سے لاک کیا تھا اور شیطانی مسکراہٹ لبوں پر سجائے قدم نیچے کی جانب بڑھائے تھے
………………………………
زربینہ نے اس وقت کے بعد سے خود کو کمرے میں بند کیا ہوا تھا بھوک سے اس کی جان جا رہی تھی اگلا دن چڑھ گیا تھا لیکن اس نے کمرے سے نکلی کی سنگین غلطی نہیں کی تھی اسے معلوم تھا وہ لوگ اس کی جان لے لیں گے حسد اور جلن میں وہ جو کر چکی تھی اس کے بعد اسے اچھی خبر محسوس نہیں ہو رہی تھی لیکن آخر وہ کب تک یہاں بند رہتی وہ لوگ نہ سہی بھوک سے مر جائے گی اگر یہاں رہے گی
ہمت جمع کرتے اس نے دروازے کی جانب قدم لیے لیکن واپس پلٹی تھی اسے معلوم تھا داود کل ہی خبر ملتے آ گیا ہو گا اور اب تو بہروز اور دلاور خان بھی نہیں تھے جو اسے بچا سکتے اس نے خود ہی خود کے سر عذاب مسلط کر لیا تھا
“زربینہ ہمت کر بس نکلنا ہو گا تمہیں کمرے سے۔۔۔”
زربینہ خود سے بڑبڑاتی دھیرے سے دروازے کا لاک اس سے پہلے کھولتی وہ خود کھلا تھا وہ دروازہ کھلا تو زربینہ سامنے دروازے کو دیکھتی اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا تھا اسے لگا آج اس کا اس دنیا میں آخری دن ہے اور شاید یہ بات درست بھی تھی
……………………………..
